Thursday, 9 April 2026

زبان ،ادب اور اسکرین

 

زبان ،ادب اور اسکرین


انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ہر فرد اور ہر معاشرہ اپنی وسعت اور مزاج کے مطابق مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں جب علوم و فنون کا باقاعدہ تبادلہ نہیں ہوتا تھا، تب بھی ہر قبیلہ اپنی سطح پر جمالیاتی حس کو اپناتے ہوئے فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر فنون تحریری یا تقریری صورت میں تھے تو آج وہ کلاسیکی متون کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کا تعلق موسیقی یا مصوری سے تھا تو وہ آج بنیاد اور روایت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی درجے میں فنون سے دلچسپی کا عنصر موجود رہتا ہے اور ہر دور میں جو فن زیادہ مقبول ہوا، وہی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا۔ یہاں فنونِ لطیفہ کی ایک جامع تعریف پیش کرنا مناسب ہوگا۔ تعریف میں قدرِ مشترک الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جا سکتا ہےکے ’’فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جو انسانی جذبات، ذوقِ حسن اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ فنون نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ ثقافت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔‘‘اس تعریف میں ’نہ صرف‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عمومی طور پر فنون تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کے اندر انسانی جذبات، معاشرت، اخلاق اور فلسفہ جیسے عناصر بھی شامل رہتے ہیں۔ کوئی فن جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور کوئی پیغام رسانی کا وسیلہ بنتا ہے، لیکن تفریح بہرحال سب کا بنیادی عنصر ہے۔

آج ادب نے بے حد ترقی کر لی ہے اور ادبی فلسفوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مگر اب بھی ادب کی شناخت عموماً دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک وہ ادب جو تسکین ذات اور تفریحِ طبع کا ذریعہ ہو، دوسرا وہ جو معاشرے کو اخلاقی اقدار کا پابند بنانے کا فریضہ انجام دے۔ اکثر صورتوں میں ذاتی تسکین کا پہلو غالب رہتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طویل بحث ہے، لیکن خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ادبی فن پارہ صالح قدروں کا حامل ہو، لوازمِ فن کو پورا کرتا ہو اور قاری کو جمالیاتی حظ اور مسرت بھی عطا کرے۔

یہ تو ادب کی داخلی بحث ہوئی، لیکن اب ہم ذرائع کی بات کرنا چاہیں گے کہ ادب ہم تک کن زاویوں اور راستوں سے پہنچتا ہے۔ ہر دور میں ذرائع کی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ اگر ذرائع پر اختیار حاصل ہو جائے تو اثر و نفوذ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ابتدا میں ادب ہر ایک کی دسترس میں نہیں تھا۔ عوام زیادہ تر عوامی محفلوں کے ذریعے ہی ادب سے محظوظ ہو پاتے تھے۔ عرب معاشرے میں عوامی محفلوں کی روایت قدیم رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں ادبی محفلیں عموماً بادشاہوں، سلاطین اور امرا کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں۔ وہیں سے ادب کی ترسیل ہوتی اور وہی معیارِ ادب قرار پاتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں موجود ادبی ذخیرے کو ایک طویل عرصے تک سنجیدہ ادب کا درجہ نہیں دیا گیا۔چھاپہ خانے کی عدم موجودگی میں مخطوطات کی تیاری ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے علمی و ادبی سرمایہ زیادہ تر صاحبِ ثروت طبقے تک محدود رہتا تھا۔ جب چھاپہ خانوں کا رواج ہوا اور کتابیں عام ہوئیں، تب بھی وہ فوری طور پر عام گھروں تک نہ پہنچ سکیں۔ گویا جس طرح ادب سے زیادہ تر باوقار اور متمول طبقہ ہی لطف اندوز ہوتا تھا، اسی طرح اس تک رسائی بھی محدود تھی۔بیسویں صدی میں علمی تحریکوں نے کتابوں اور رسائل کو گھر گھر پہنچایا، جس سے عوام میں ادبی ذوق کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ادب کی عام رسائی ہی ادبی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ ادب کتابوں کی زینت بنا اور کتابیں ترسیل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس کے بعد ریڈیو کا دور آیا۔ ادب نے وہاں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، مگر ریڈیو بھی ابتدا میں ہر ایک کی پہنچ میں نہ تھا۔ کتابیں اپنے مخصوص دائرے میں قاری کو ایک تہذیبی فضا سے وابستہ رکھتی تھیں، جب کہ ریڈیو نے دلچسپی کا دائرہ وسیع کیا، تاہم اس میں ادب کا حصہ نسبتاً کم ہوتا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن اسکرین نے گھروں میں جگہ بنانا شروع کی۔ ابتدا میں یہ بھی کتابوں کی طرح صاحبِ حیثیت گھروں تک محدود تھا اور اس کے ساتھ مہذب و غیر مہذب کی بحث نے جنم لیا۔ خاص طور پر نوّے کی دہائی میں مسلم معاشرے میں ٹی وی کے خلاف خاصی تنقید کی گئی، مگر اس کے باوجود ٹیلی ویژن کا چلن عام ہوتا گیا اور لوگ تفریح کے نئے ذرائع سے وابستہ ہونے لگے۔ ریڈیو کی طرح یہاں بھی ادب موجود تھا، لیکن اس وقت تک ادب کی تعریف بدل چکی تھی۔ یہ تصور ابھرنے لگا کہ جو کچھ کتابوں اور رسائل کے اوراق میں ہو، وہی حقیقی اور مہذب ادب ہے؛ باقی مواد ادب تو ہو سکتا ہے، مگر اسے معیاری ادب نہیں سمجھا جاتا۔رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ریڈیو اور ٹی وی میں نہ صرف ادب کا حصہ کم ہوتا گیا بلکہ زبان کا معیار بھی متاثر ہوا، اور یوں یہ دونوں ذرائع اپنی سابقہ ادبی و تہذیبی کشش کھو بیٹھےاور ادب یہاں بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا ۔

بیسویں صدی کی اہم ایجادات میں موبائل فون نمایاں حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے مؤثر اور مہلک دونوںپہلو اکیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں پوری طرح سامنے آئے، جب ضروریات سے لے کر تفریح تک ہر چیز موبائل میں سمٹ گئی۔ بڑے، بوڑھے اور بچے سب کی دلچسپی اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی، اور یہ محض ضرورت نہیں بلکہ حد سے بڑھتی ہوئی لت کی صورت اختیار کر گئی۔

جب ہم سوشل میڈیا سے منسلک ہوئے تو ہماری توجہ بھی کاغذ کے بجائے اسکرین پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں دلچسپی کے معیارات بھی بدلنے لگے۔ سوشل میڈیا پر کون سی تحریر پڑھی جائے گی اور کون سی اسکرول کرکے آگے بڑھا دی جائے گی، اس کا فیصلہ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ محض عنوان میں نیا پن ہو تو تحریر پڑھی ہی جائے؛ یہ گمان درست نہیں۔ نہ ہی محض تصویری بنیاد (امیج بیسڈ) پر مبنی مواد لازماً توجہ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہی تحریر پڑھی جاتی ہے جو ایک نظر میں قاری کی گرفت میں آ جائے۔یہاں طویل تمہیدات کی گنجائش کم ہوتی ہے اور براہِ راست نفسِ مسئلہ پر گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عموماً مضامین میں ایک ہی موضوع کے متعدد پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کی اسکرین پر انہی میں سے کسی ایک نکتے کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح اخبارات میں مختصر مضامین پڑھے جاتے ہیں اور رسائل و کتب میں طویل تحریروں کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا مختصر اور جامع تحریروں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی دلچسپی کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بیشتر دلچسپیاں سمٹ کر موبائل تک محدود ہو گئی ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر توجہ ویڈیوز پر مرکوز ہے۔ یہ صرف ہمارے معاشرے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عمومی صورتِ حال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ہم کتابی ذوق کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے لیے محض فرد کو نہیں بلکہ پوری فضا کو بدلنا ہوگا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی مواد بڑی حد تک ویڈیوز کی صورت میں بچوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ کلاس کے نام پر زیادہ تر حصہ بصری مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ڈیجیٹل لرننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ سوچیں کہ اسکرین کی عادت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی تو یہ عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ بچے اور بڑے اب روایتی ٹیلی ویژن اسکرین سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کے دیوانے ہوتے تھے، مگر اب وہ اس سے ہٹ کر موبائل اور خاص طور پر مختصر ویڈیوز کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ’کنٹرول‘ معلوم ہوتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اسکرین پر اپنی مرضی اور اختیار چاہتے ہیں،کیا دیکھنا ہے، کب دیکھنا ہے اور کتنی دیر دیکھنا ہے،یہ فیصلہ وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہی اختیار انہیں موبائل کے ذریعے میسر آتا ہے۔

اب جب یہ نفسیاتی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ حکومتی سطح پر فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فون کے استعمال کو کسی نہ کسی درجے میں قبول کر لیا گیا ہے۔ وہاں بچے وقتی طور پر اسکرین کی دنیا سے باہر ہوتے ہیں، لیکن گھر پہنچتے ہی انہیں ایسا ہوم ورک ملتا ہے جو موبائل یا انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ الغرض ہر طرف موبائل کی یلغار ہے اور دلچسپی کا سارا سامان اسی میں مہیا ہے۔ گویا ہماری بیشتر ضروریات اسی ایک آلے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں اور انسان ایک غیر فطری اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ جب تک ہم سنبھلنے کی کوشش کریں گے، تب تک ہمارے اذہان کن سانچوں میں ڈھل چکے ہوں گے، اس کا ہمیں خود بھی احساس نہ ہوگا۔

اس ڈیجیٹل دور میں ادبِ عالیہ اور دیگر ادبی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جو کچھ اسکرین پر مقبول ہے، ادبی میدان کی معروف شخصیات بھی اسی طرز کو اپنانے لگی ہیں۔ اصل محرک اب بھی ’دلچسپی‘ ہے۔ جو مواد زیادہ توجہ حاصل کرے گا، وہی رواج پائے گا۔ چنانچہ معیار بدل گئے ہیں؛ میگی سے لے کر رِیل تک ہر چیز کم وقتی اور فوری اثر کی حامل ہو گئی ہے۔

جب ہم نفسیاتی پہلو سے بچوں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنی مفید ہے، اتنی ہی تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں،یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تفصیلی جائزہ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب بھی برقرار ہے کہ کسی بھی فن کی بنیادی شرط جاذبیت ہے۔ اسی لیے اردو ادب میں عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کو بیان کیا گیا اور دلچسپ حکایات و واقعات کے ذریعے فلسفہ اور اخلاق کی بات سمجھائی گئی، تاکہ ذہن پہلے متوجہ ہو اور پھر معانی کی گہرائی تک رسائی حاصل کرے۔

آج بھی ہم فنون کو وقت دیتے ہیں، مگر فن کا معیار اور اسلوب بدل چکا ہے۔ ’کنٹنٹ‘ آج بھی اہم ہے اور مختلف النوع دلچسپ مواد کے ذریعے فنکار عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب میں موضوعات کی مؤثر اور دلکش پیشکش میں کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ہمارا رجحان کم ہو رہا ہے؟ کہانیوں میں زبان و بیان کا سطحی پن کب تک جاری رہے گا؟ اشعار میں حقیقی شعریت اور تغزل کی تلاش کب تک باقی رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بچوں کو ایسی معیاری اور دلکش تخلیقات کیوں فراہم نہیں کر پا رہے جن کی طرف وہ خود بخود راغب ہوں؟

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ بے شمار افراد اس کے ذریعے اپنا کیریئر بنا رہے ہیں، مگر خالص اردو سے وابستہ حلقے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسکرین کی دنیا حقیقی کتابی دنیا کا بدل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’’ریختہ‘‘ ہے، جس نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا کر دنیا بھر میں اردو سیکھنے کا رجحان پیدا کیا اور ہزاروں افراد کو اردو سے جوڑا۔

تاہم یہ فائدہ زیادہ تر بالغ افراد تک محدود ہے۔ بچوں کے لیے اسکرین کا بے جا استعمال نہایت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو اسکرین کی دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے، ورنہ کئی ایسی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

آج کل آٹزم کا ذکر عام ہو چکا ہے۔ 2020ء کی بعض تحقیقات کے مطابق ایک سال یا اس سے کم عمر بچوں میں موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال بعد کی عمر میں نشوونما سے متعلق مسائل کے خطرات بڑھا سکتا ہے، جو عموماً تین سال کی عمر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نتیجتاً بعض بچے ہم جماعتوں سے الجھتے ہیں، توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں کمزور یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضدی پن اور چڑچڑے پن جیسے رویے بھی اس صورتِ حال سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موبائل اسکرین استعمال کرتے وقت آنکھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں خشکی اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اسکرین کی روشنی دماغی نظامِ نیند کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح طویل وقت تک موبائل پر جھکے رہنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن اور کمر درد یا جسمانی انداز میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے والے بچے سماجی میل جول میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے رویوں اور جذبات کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

2019ء میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں پر زور دیا گیا اور پانچ سال تک کی عمر میں اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود رکھنے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 18 ماہ سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ابتدائی عمر ہی میں احتیاط برتی جائے تو بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو بہلانے یا چپ کروانے کے لیے موبائل کا سہارا نہ لیا جائے، خاص طور پر اگر وہ دو سال سے کم عمر ہو۔ اس عمر کے بچے عموماً توجہ چاہتے ہیں، اس لیے انہیں وقت اور محبت دی جائے، اسکرین نہیں۔

اگر بچہ کچھ بڑا ہو تو اس کے اسکرین ٹائم کو باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ اس کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کا جسم اور ذہن متحرک رہیں اور توجہ اسکرین کی طرف کم ہو۔ والدین اگر شعوری طور پر بچوں کو ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف راغب کریں یا ان میں کسی مثبت مشغلے کا شوق پیدا کریں تو اسکرین کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً، ڈیجیٹل دنیا کے فوائد اپنی جگہ، لیکن توازن اور شعوری نگرانی ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی ضمانت ہے۔


از ڈاکٹر امیر حمزہ 

نائب مدیر سہ ماہی مژگاں کوکاتا 

www.mizgaan.in


زبان ،ادب اور اسکرین

  زبان ،ادب اور اسکرین انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہی...