Tuesday, 30 June 2026

اردو کا فرزند: فاروق سید

 اردو کا فرزند: فاروق سید 


 سر کاری و غیر سرکاری ادارے وکسی تنظیم کی معاونت کے بغیر تن تنہاتیس برسوں تک بچوں کا رسالہ ’گل بوٹے ‘ کو مقبول عام و خاص بنانے میں فاروق سید کا عزم وحوصلہ اورمحنت و لگن شامل تھا ۔ ان کی فطرت میں یہ بات داخل تھی کہ جس کام کو وہ ٹھان لیتے تھے وہ کر گزرتے تھے ۔ سادگی بھری زندگی بسر کرنے والے فاروق سید نے گل بوٹے کے وہ کہکشاں سجائے کہ ہم سبھی کو ان پر رشک آتا ہے ۔ شاید ہی کوئی ایسا رسالہ ہے جو بغیر کسی مالی معاونت کے ربع صدی تک اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ اپنے قارئین کے اذہان میں انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہو ۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، چلنا پھر نا ، سوچ بچار سبھی کچھ اردو کے بچوں کے لیے تھا ۔ جس طرح وہ خود پوری زندگی بچوں کے خادم کی طرح گزارے ویسے ہی ان کا عزم تھا کہ کاش سبھی ان کے سفر میں ہمسفر ہوں ۔ پوری اردو برادری کو ساتھ لانے کے لیے موقع بموقع قسم قسم کے پروگرام کرتے رہتے تھے ۔ یہ پروگرام محض محفل آرائی کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ اس سے سوچنے اور آگے بڑھنے کاایک منشور لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی ادبی سرگرمیوں کے چراغ کو روشن کرنے میں ان کے فکر و عمل کا بہت ہی زیادہ دخل رہا ہے۔ 

فکر و عمل اس بنا پر کہ جب ہمار ی دانست میں کسی بھی لسانی میلے کا تصور نہیں ابھرا تھا اسی وقت انہوں نے اپنے آبائی شہر شولا پور مہاراشٹرا کواردو میلہ کے لیے منتخب کیاجس میں اس وقت کی اہم شخصیات میں سے کالی داس گپتا رضا اور سردار جعفری نے شرکت کی ۔اسی میلے میں فاروق سید کوکالی داس گپتا رضا نے ’ اردو کا فرزند‘ کے لقب سے نوازاتھا ، تب سے لے کے کر آخر ی سانس تک انہوں نے اس قول کا پاس رکھا اور بطور فرزند ، فرزندانِ اردو کی خدمت کرتے رہے ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک دہائی کے بعد اردو میلوں کا رواج پاگیا اوراب یہ کاروباری شکل میں کمرشیل بھی ہوچکا ہے۔لیکن فاروق سید نے اس کو ہمیشہ طلبہ مرکوز رکھا ۔اسی پروگرام میں کالیداس گپتا رضا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ میں شولا پور میں پہلی بار حاضر ہوا لیکن میرا یہاں آنے کا بہت ہی نقصان ہوا ۔ نقصان یہ ہوا کہ مجھے آپ لوگوں نے قطعی طور پر لوٹ لیا ، میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا ، اب میں ممبئی جاکر اردو والوں کو کیا منھ دکھاؤں گا ، کہ آپ لوگ کوئی میلہ نہیں کرتے ، چھوٹا سا کوئی مشاعرہ کرلیا ، کوئی نشست کرلی بس اسی میں خوش ہیں ، آپ اسی پر نا ز کرتے رہیں مہینوں ، لیکن ملنے جلنے کا کوئی سامان نہیں ، اس اردو میلے سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ہم اکثر دیکھتے رہتے ہیں کہ ہماری مدد گورنمنٹ ،سرکاری محکموں، اسکولوں اور کالجوں نے نہیں کہ ہماری مدد خود اردو والوں نے کی ۔ جس کا آغاز شولا پور سے ہوا ہے ۔ شولا پور زندہ باد ۔‘‘ اس گفتگو میں ’’ایک نئے دور کاآغاز ‘ ‘ اس وقت شاید کسی کو سمجھ میں نہیں آیا ہو لیکن آج تیس بر س بعد آج اردو میلوں میں جب لاکھوں دیوانے نظر آرہے ہیںتب سمجھ میں آتا ہے کہ فاروق سید اردووراثت کے اولین محافظ تھے ۔ یقینا اس فکر کی بنیاد فاروق سید نے رکھی تھی ۔ اسی پر وگرام میں سردار جعفری مختصر جملوں میں کچھ یوں فرماتے ہیں : ’’ the flame of freedom the flame of Urdu the flame of democarcy the flame of future of india the flame of digniti of man"

اس موقع پر سجاد ظہیر کی صاحبزادی نادرہ ببر بھی موجود تھیں۔ اس پروگرام میں فاروق سید نے جن افراد کو مدعو کیا تھا اور پیش کش کا جو انداز تھا اب کے میلوں میں وہی عکس نظر آتا ہے ۔اس پروگرام میں اس وقت کے جید ادبا وشعرا کے ساتھ کثیر تعداد میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے اور بچوں کے ادبا شریک تھے ۔ ملک بھر سے دو سو سے زائدادیبوں کو انھوں نے ایک شہر میں جمع کیا تھا ۔ یہ سہ روزہ میلہ مارچ 1999 میں منعقد ہواتھا ۔

 فاروق سید وژن کا پروردہ تھے ۔ انھوں نے جو بھی پروگرام کیا تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ کہاں کسی کے تصور میں تھا کہ اردو جلوس کا انعقاد کیا جائے اور حکومت کو اردو کے لیے بہتر کام کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اپنا سب کچھ گل بوٹے کے لیے نچھاور کرنے کے بعد 15 فروری2000 کو مدن پورہ کے جھولا میدان سے ناگپاڑہ کے مستان تالاب تک اردو جلوس کا انعقاد کرتے ہیں جس میں اس وقت کے مشہور و معروف ادبا، شعرا ، اساتذہ اور صحافیوں کے ساتھ ہزاروں طلبہ بھی شریک ہوئے جن کی کل تعدا د پچیس ہزار تک بتائی گئی ہے ۔ اس جلوس کی قیادت پدم شری علی سردار جعفری اور افتتاح کالی داس گپتا رضا کر تے ہیں ۔ اس جلوس میں کیفی اعظمی ، ندافاضلی ، عبدالستا ر دلوی، افتحار امام صدیقی ، یوسف ناظم ، حسن کمال ، ودیگر مشاہیر شریک تھے ۔ اس کے بعد ایک وفد عارف نسیم خاں (وزیر مملکت) کی قیادت میں اس کے وقت کے وزیر اعلی مہاراشٹر ولاس راو دیشمکھ سے ملاقات بھی کرتا ہے اور ڈیڑھ لاکھ دستخطوں پر مشتمل ایک ممورنڈم بھی پیش کرتا ہے جس میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ، اساتذہ کی تقرری، مختلف شہروں میں اردو گھر کا قیام کے ساتھ کئی دیگر مطالبات پیش کیا گیا تھا ۔ جس کا اثر اسی وقت سے نظر آنے لگا ہے اور آج جو مہاراشٹر کے کئی شہرو ں اردو گھر کا قیام دیکھ رہے ہیں یہ انہی کی دور اندیشی تھی جسے کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ 

مہاراشٹرا میں آئڈیل ٹیچر ایوارڈ بہت ہی زیادہ مشہور و مقبول تھا اسی طر ز پر فاروق سید’ گل بوٹے مثالی استادایوارڈ‘ 1998 سے ہی یوم اساتذہ کے موقع پر شروع کیا گیا ، یہ مکمل بارہ سال جاری رہا، اس ایوارڈ کی بہت ہی زیادہ مقبولیت تھی اردو اساتذہ کوبہت زیادہ حوصلہ ملتا تھا نیز ان سب سے گل بوٹے کی مقبولیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا ۔

انہی سب کے درمیان فاروق سید کا ایک خواب تھا جو شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ۔ وہ اساتذہ و طلبہ کو مساوی طور پر اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے تھے ، بلکہ اساتذہ سے کچھ زیادہ ہی انسیت تھی۔ ان کے لیے طرح طرح کے پروگرام منعقد کرنے کے ساتھ ان کو تخلیق کار بنانے میں اہم رول ادا کرتے تھے ۔لیکن ان کا ایک خواب یہ تھا کہ مثالی اساتذہ کومشرق وسطی کی سیر کرائی جائے جس سے تعلیمی میدان میں شراکت داری بھی ہو اور وہ اساتذہ طلبہ میں نئی روح پھونک سکیں۔ 

جس گل بوٹے کی محبت میں انہوں نے عظیم کارنا مے انجام دیے اس متعلق تھوڑی سی روداد بھی سامنے آجائے ۔ فاروق سید مکتبہ جامعہ لمیٹڈممبئی میں سیلس مین تھے ۔ اس زمانے میںمکتبہ علمی و ادبی سر گرمیوں کا مرکز تھا ، ادیبوں او ر صحافیوں کی مجلسیں سجا کرتی تھیں۔ وہیں پر ان کی ملاقات انجم رومانی سے ہوئی اپنے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ مجھ سے انجم رومانی صاحب نے پوچھا کہ تم یہاں کب تک رہوگے ؟ اس پر فاروق سید نے جواب دیا کہ جب تک قسمت  ہے۔ اسی وقت انجم رومانی نے کہا کہ اردو ٹائمز میں کام کروگے ؟ جواب تھا ہاں بالکل کریںگے ، تووہاں انھوں نے داخلہ دلوایا اور وہاں سے باضابطہ میری صحافت کا آغاز ہوا ۔اردوٹائمز میں بچوں کا ایک صفحہ گل بوٹے کے نام سے تھا ، پانچ سے سات برس اس کی ترتیب و تہذیب کی ذمہ داری نبھا تے رہے ۔اچانک انتظامیہ نے کہا کہ ’گل بوٹے ‘ کی جگہ اب ’ گھر آنگن ‘ نکالا جائے گا ۔ اس پر انھوں نے کہ کہا کہ آپ گھر آنگن نکالیے لیکن گل بوٹے بھی رہنے دیجیے۔ اس پر بات نہیں بنی تو انھوں نے اسی’گل بوٹے ‘ کو میگزین کی صورت میں 1995 میں شر وع کیا ، اکتوبر میں پہلا شمارہ پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوا ۔ اردو ٹائمز میں رہتے ہوئے وہ اس میگزین کو بطور شوق شروع کیا اس پر آفس کے دوست احباب کی شکایت رہی کہ وقت اور کام کی پابندی نہیں رہتی ہے اس بنا پر انہیں کہا گیا کہ آپ دونوں نہیں کرسکتے ہیں اس وقت فاروق سید نے اپنا تاریخی جملہ کہ تھا ’ ار دو ٹائمز ‘ میری روزی روٹی ہے اور ’گل بوٹے ‘ میرا شوق ہے ۔ ‘‘ بالآخر 1997 کو انھوں نے ملازمت کو خیر باد کہہ کر شوق کو گلے لگایا اور ادب اطفال کی آبیاری کی۔ 

ادب اطفال کی آبیاری کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہوئے ہیں لیکن جنہوں نے بچوں کے ادب کو ہر ماہ ہزاروں بچوں تک پہنچایا اور انہیں ان کا خوگر بنایا، وہ اصل میں اس کے خادم ہیں۔ جس وقت گل بوٹے کا آغاز ہوا اس وقت ملک میں کئی بچوں کے رسائل تھے لیکن ’ماہنا مہ کھلونا ‘ کی کمی کوئی پوری نہیں کرپارہا تھا ۔ ویسے کوئی بھی رسالہ کسی دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا ہے کیونکہ ہر رسالے سے قارئین کا قلبی لگاؤ ہوجاتا ہے ۔ کھلونا اگر چہ بچوں کا رسالہ تھا لیکن وہ بڑوں کی پہلی پسند رہا ہے، اس کا اندازہ آپ ’ماہنامہ کھلونا ‘ کے مشمولات سے بھی لگاسکتے ہیں ۔ لیکن فاروق سید نے اسے مکمل طور پر بچوں کی پسند بنایا  ۔ اس میں وہ مکمل طور پر کامیاب ہی نہیں بلکہ چراغ راہ بھی ثابت ہوئے کیونکہ انھوںنے دیگر بچوں کے رسائل کے لیے مزاج و منہاج پیدا کیا ۔ ایسے میںیہ کہنا کہ اب کوئی رسالہ ’ماہنامہ کھلونا ‘ جیسا نہیں ہوسکتا اس کی کوئی معنویت نہیں رہتی ، کیونکہ ہر رسالہ اپنے وقت کا عکاس ہوتا ہے اورہر رسالہ اپنے میں منفر د بھی ہوتا ہے ۔ ایسے میں گل بوٹے کی یہ خاصیت رہی کہ وہ طلبہ کی جملہ سرگرمیوں کو مد نظر رکھ کر اپنی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھاتے تھے ۔ اس کے لیے انہوں نے زمینی سطح پر اتر کر کام کیاکیا اور وقت کے ساتھ رسالہ کو ماحول کے ہموار کیا ، جب ڈیجیٹل دور آیا توگل بوٹے کو یونی کوڈ میں وائس ایمبیڈڈپیش کیا گیا، مصنوعی ذہانت سے اسے جوڑا گیا ۔ ڈاکٹر آصف اقبال نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ آزادی کے بعد یہ اردو میں بچوں کا پہلا رسالہ ہے جو آر این آئی میں رجسٹر ڈ ہوا ہے ۔ اسی طریقے سے یہ پہلا ایپ بیسڈ بھی رسالہ ہے ۔ 

 کسی بھی میگزین کو بغیر کسی مالی تعاون کے لگاتار جاری رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔یہ محض ان کا عشق تھا کہ اس کے لیے وہ دردر بھٹکتے تھے ، اشتہارات کے لیے منتیں کرتے ، سبسکرپشن کے لیے اسکول انتظامیہ کے سامنے اردو کی دہائی دیتے تھے لیکن اکثر انہیں ناکامی ہی ہاتھ لگتی تھی، پھر بھی فاروق سید جس سچے دل کے ساتھ لگے رہے نیز انہیں چند مخلص دوست بھی ملے جن کا تعاون انہیں مستقل ملتا رہا ۔ یہی وجہ رہی کہ اس کے سلسلہ اشاعت میں کبھی انعقطاع عمل میں نہیں آیا۔ مالی پریشانیوں سے متعلق جنوری 2009 کے اداریے میں تحریر فرماتے ہیں : 

’’رسالے کی پابندی سے اشاعت صرف خریداری کے بل بوتے بہت مشکل ہے ۔ اس کے لیے سر کار سر پرستی ، اشتہارات کا سہارایا پھر بہت بڑے سرمائے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ تینوں چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں تو کوئی ایسا کام کیجئے جس کی آمدنی سے رسالہ چھپتا رہے۔ گل بوٹے کی اشاعت اسی طریقے سے ممکن ہوپارہی ہے ۔لیکن مہنگائی کے پر نکل آئے ہیں اورمہنگائی پر قابو پانے کا کوئی آلہ اب تک ایجاد نہیں ہوا ہے اس لیے آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔

کاغذاور پرنٹنگ کی قیمتوں میں روز اضافہ ہورہا ہے ۔ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے رنگین صفحات کی قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔ اس کے با وجود ایک شمارہ پر 15 روپے خرچ ہورہے ہیں ۔ دوسری طرف گل بوٹے تم تک پہنچانے میں جو رکاوٹیں اور دوشواریاں پیش آتی ہیں اللہ کی پنا ہ … اساتذہ ، ہیڈ ماسٹر کو رکاوٹ بتاتے ہیں اور ہیڈ ماسٹر اساتذہ پر الزام دھرتے ہیں ۔ ان دونوں کے علاوہ اسکول کا انتظامیہ بھی اپنی ’موجودگی ‘ کا ثبوت فراہم کرتا رہتا ہے ۔ کہیں انتظامیہ کر اردو نوازی ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کے ’اگر مگر ‘کی نذر ہوجاتی ہے تو کہیں ان دونوں کا جوش انتظامیہ کے ’’ ایسے ویسے‘ ریمارکس سے سر د پڑ جاتا ہے ۔

پیارے بچو…اردو والوی کی سر د مہری کی وجہ سے بچوں کے کئی معیاری اور خوبصورت رسائل خاموشی سے ایک کے بعد ایک دم توڑتے گئے ۔ ’پھول‘ نے مہکنا بند کردیا ۔’ کلیاں‘ نے چہکنااور’ غنچہ ‘نے چٹخنا چھوڑ دیا ۔ بچوں کا خوبصورت’ کھلونا‘ ٹوٹ کر بکھر گیا ۔ بچوں کے ہاتھوں سے’ ٹافی‘ چھن کر بچوں کی’ نرالی دنیا‘ اجاڑ دی گئی پھر بھی اردو والے خاموش تماشائی بنے رہے ۔ وہ اتنے سخت جان ثابت ہوئے کہ کسی نے ایک دن کا سوگ تک نہیں منایا ۔ اس کے باوجود ارو کے سوداگر آج بھی اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر اپنی حیثیت کے مطابق ’’ اردو ‘‘کی بولی لگارہے ہیں ۔ ایسے ماحول میں گل بوٹے گھٹن محسوس کررہا ہے ۔ اسے کھلی فضا کی تلاش ہے ۔ اس لیے معصوم بچوں سے ، معصوم دلوں سے ، معصوم ہاتھ اٹھا کر ،معصوم زبان سے دعا کرنے کی درخواست کررہا ہے ۔دعا کرو کہ گل بوٹے پر غیر یقینی کے سائے چھٹ جائیں اور بچوں کی صحیح ذہنی آبیاری کا اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے ادا کرتا رہے ۔ ‘‘ 

چار پیرگراف کے اداریے میں تین پیراگراف بہت مجبوری میں پیش کیا گیاہے۔ اس میں فاروق سید جس درد و کرب کا اظہار کررہے ہیں اس کا احساس کیا جاسکتا ہے ۔ اسلوب ایسا ہے کہ بچوں پر گراں نہ گزرے اور ’گل بوٹے ‘ کے تئیں مزید محبت پیدا ہو۔ یہاں پر کسی بھی قسم کی تعاون کی اپیل نہیں ہے محض دعا کی درخواست کرتے ہیں ۔ آخری پیراگراف میں اگر ہم ان کے نثر ی اسلوب کی بات کریں تو مجھے خوبصورت سادہ اور سلیس اسلوب ملتا ہے۔ واقعی میں یہ گل بوٹے سے مزین اردو ہے ۔ فاروق سید اپنا اداریہ ’چھوٹی سی بات‘ کے عنوان سے لکھا کرتے تھے جس میں بچوں کے لیے بہت ہی قیمتی باتیں ہوا کرتی تھیں ۔ مارچ 2009 کے اداریہ میں لکھتے ہیں:

’’ اندھیری رات میں جنگل سے گزرنے کے لیے پورے جنگل میں روشنی بکھیرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف ایک لالٹین ہا ٹارچ ہی کافی ہے ۔ جس طرح تمہارے قدم آگے بڑھتے رہیں گے لالٹین کی روشنی سے راستہ روشن ہوتاجائے گا ۔ بالکل اسی طرح زندگی کے خاردار ، حوصلہ شکن اورسخت راستوں کو پاٹنے کے لیے دل کے چراغ کو ’حوصلے ‘ کے ایندھن سے جلانا ہوگا ۔بہت خود اعتمادی کے ساتھ حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر توازن برقرار رکھتے ہوئے وقت کی نازک رسی پر آگے بڑھتے رہنا ہے ۔ تمھارا حوصلہ تمھیں طاقت دے گا اور اور تمھاری بے تھکان کوشش دھنک رنگ خواب کی تعبیر ہوںگی ۔‘‘ 

 ان جملوں سے اس جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گل بوٹے کا مشن محض زبان و ادب کی خدمت نہیں تھا بلکہ طلبہ کے اندر خواب کو پروان چڑھانے کا ایک پلیٹ فارم تھا جس سے ان کا مستقبل تابناک ہو ۔ اس لیے یہ چند جملے اہداف کو حوصلے کی ایندھن سے طے کرنے کے لیے لکھے گئے ہیں ۔ ان جملوں نے طلبہ کے اذہان میں جو اثر پیدا کیا ہے وہ آج پندرہ برس بعد ان کے قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ آج مہاراشٹرا میں اردو میڈیم کے طلبہ شان کے ساتھ انگریزی میڈم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ محض گل بوٹے کی تربیت نہیں بلکہ گل بوٹے کی پوری ٹیم کی محنت ہے جس میں صنعت کا ر ، تعلیمی میدان کے خدمت گزار اور ہر ماہ تعلیمی مجلسیں منعقد کرنے والے علم دوست شخصیات ہیں ۔ کتابی ماحول پیدا کرنے کے لیے انہوں نے صر ف اسٹیج سے تقریریں نہیں کیں بلکہ اس کے لیے کتاب میلے بھی منعقد کیے اور اداریوں میں بھی اس جانب تو جہ دلاتے رہے ، دسمبر 2009 کے اداریے میں لکھتے ہیں :

’’ ہم چاہتے ہیں کہ تم اپنے گھر میں کسی کونے میں اپنی ایک ذاتی لائبری قائم کرو ۔ کہا جاتاہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ۔ جب گھر میں درسگاہ موجود ہے تو پھر کتب خانہ کیوں نہیں ؟ تم جانتے ہو کہ ہر اسکول میں ایک کتب خانہ ہوتا ہے …دنیا کے تمام اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا تصورکتب خانے کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ہمارا گھر جو ہمارا پہلا مدرسہ ہے اس میں کتب خانے کے قیام کے بارے میں آج تک نہیں سوچا گیا ہے ۔‘‘ کتاب دوستی کے بارے میں ایسی باتیں کرنے والے فاروق سید نہ تو کسی کتب خانہ کے مالک تھے اور نہ ہی ان کا کوئی ایسا بزنس تھا ، وہ تو محض تعلیم کی باتیں کرتے تھے اور تعلیم محض ڈگریوں کا حصول کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ تعلیم دلوں کی تبدیلی سے سماج کی ترقی کی باتیں کرتا ہے نہ کہ حصول روز گارکی ۔ 

 گل بوٹے کے قلمکاروں کی فہرست بہت ہی طویل ہے سبھی کا نام شمار کرنا یہاں ناممکن ہے لیکن جب آپ اس کا از سر نو مطالعہ کریں گے تو احساس ہوگا کہ جس طرح کھلونا میں اس وقت کے اہم قلمکاروں کی تحریریں شائع ہوتی تھیں اس طرح گل بوٹے کوسنوارنے میں بھی اہم ادبا نے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے کئی گوشے بہت ہی اہمیت کے حامل تھے ۔ گزشتہ صدی میں ادیب اطفال کی تصویر بہت ہی زیادہ واضح نہیں تھی لیکن اس صدی میں درجنوں ایسے قلمکار ہیں جن کو گل بوٹے نے ادیب اطفال کے طور پر متعارف کرایا ۔ درسیات میں رسائل کا کیا کردا ر ہوتا ہے اس متعلق بس اتنا جان لیں کہ ڈاکٹر خان نویدالحق کہتے ہیں کہ بال بھارتی کے نصاب کی تیاری میں اسی فیصد تحریریں گل بوٹے سے مل جاتی تھیں ۔ 

فاروق سید سے میرا محض کچھ مہینوں کا تعلق تھا ، گل بوٹے کے پچیسویں سالگر ہ کے موقع پر چار روزہ(23-26ستمبر 2019) عظیم الشان عالمی سمینار کے تعلق سے ہی ان سے باتیں رہیں ۔اس درمیان گل بوٹے کے ایک رکن کے طور میرا کام رہا ۔ دہلی سے سراج عظیم صاحب کی رہنمائی انہیں حاصل تھی جب کہ میں دیگر ساتھیوں کی طرح محض ایک معاون تھا ۔ اگرچہ پروگرام صرف چار دن کا تھا لیکن اس کی تیاریاں مہینوں پہلے سے چل رہی تھیں اس درمیان میری باتیں ان سے ہوتی رہیں۔ لیکن آخر ی وقت تک پروگرام کی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا جب شہزاد صاحب کے ہاتھوں کارڈ چھپ کر آیا تب پتہ چلاکہ فاروق سید دہلی والوں اپنی صلاحیت سے متحیر کررہے ہیں ۔دہلی کے عالمی سمینار اور فاروق سید کے عالمی سمینار میں چند چیزوں میں اختلاف کے باوجود ایک تفوق تھا۔ تفوق بائیں طور تھا کہ انھوں نے بچوں کے ادیبوں کو زیادہ فوقیت دیا تھا۔فاروق سید کی ایک سادگی میں سے ایک چیز جو میں نے محسوس کی کہ وہ بہت ہی جلد عہدیداروں کی باتوں کو مان لیتے تھے ، فائدہ کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن مجھے علمی و مالی نقصان کا بخوبی احساس ہے ۔

وہ بذات خود اردو کا قافلہ تھے اس کے باوجود جب گل بوٹے کے دیوانے ممبئی سے دہلی تشریف لائے تو اس میں دس پندرہ نہیں بلکہ دوبڑی بسوں کا کا رواں تھا جو دہلی میں بقول اختر الواسع’’ تازیانہ بن کر دہلی والوں کو جگانے کے لیے آئے ہیں‘‘ ۔ اس پروگرام میں مشہور صنعت کار سمیت اس وقت کے دہلی سرکار کے وزیر اور نمائندے بھی تھے ۔ مشہور ہیئر اسٹائلسٹ جاوید حبیب کو پہلی بارکسی ادبی محفل میں دیکھا گیا ، اس میں ہندوستان کے جتنے بھی اردو کے ادارے تھے سبھی کے عہدیداران کی شرکت رہی اس کے علاوہ ملک بھر سے بچوں کے ادیبوں کی بھر پور شرکت رہی ۔ جس طر ف بھی ذہن جاتا ہے سبھی اس سمینار میں نظرآتے ہیں ۔ ادبی تاریخ میں ادب اطفال کاچار روزہ بھرپور پر وگرام شاید ہی کبھی ہوا ہو ۔ پہلے دن غالب انسٹی ٹیوٹ میں عظیم الشان افتتاح ہوا جس میں کلیدی خطبہ پروفیسر اختر الواسع کا تھا ، اس افتتاحی پروگرام میں چھبیس کتابوں کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا ۔ ان کتابوں کی کہانی اور فاروق سید کی دیوانگی بھی قابل رشک ہے ۔ بزم صدف انٹرنیشنل  کے افتتاح اور گل بوٹے کے چوبیسویں سالگرہ کے موقع پر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا تھا کہ نئی چیزیں بہت زیادہ لکھی جارہی ہیںلیکن ہمیں اپنے قدیم سرمائے کو بھی سامنے رکھنا ہے ۔ اسی موقع پر فاروق سید نے کہا تھا کہ انشاء اللہ وہ کام بھی ہوجائے گا اور دلی جذبہ کے ساتھ فاروق سید کے بہی خواہوں نے اس کام کو انجام بھی دیا ۔پھر لگاتار تین دنوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونی ورسٹی اور جواہر لال یونی ورسٹی میں عالمی سمینار کا انعقاد عمل میں آیا ۔ ہر سیشن الگ تھیم پر تھا ، بھر پور مقالات پیش کیے گئے ۔ جب کہ اختتامی اجلاس اردو اکادمی دہلی میں منعقد ہوا جس میں اس وقت کے دہلی کے وزیر تعلیم نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر ادب اطفال پر اردو والوں کے ذہن سے پرے ہٹ کر تجرباتی ادب پر بھر پور گفتگو کی۔ اردو اکادمی دہلی نے تمام مہمانوں کو استقبالیہ بھی پیش کیا تھا اور اکادمی نے مومینٹوبھی پیش کیا تھا ۔ الغر ض ادب اطفال پر ایک عظیم الشان سمینار کا سہرا بھی فاروق سید کے سر ہی جاتا ہے ۔ سمینار کے بعد جب میں ان سے ملنے بستی حضرت نظام الدین کے سنٹرل گیسٹ ہاؤس میں گیا تو وہ بہت ہی زیادہ خوش نظر آرہے تھے ۔ اسی وقت میں نے ان سے درخواست کیا کہ اس سمینار میں جو تقریبا پچاس مقالات پیش کیے گئے اسے کتابی شکل میں لانے کی میں خواہش رکھتا ہوں جس کی اشاعت گل بوٹے کے زیر اہتمام ہی ہوگی ۔ لیکن انھوں نے مسکرا کرکہا کہ یہ کام ان کے یار غار کریںگے ۔ لیکن افسوس کہ اب تک یہ کام منظر عام پر نہیںآسکا ،امید کہ ان کے قریبی دوست جن پر انھوں نے بھروسہ کیا تھا اس کام کو جلدہی مکمل کریںگے ۔

آخر میں گل بوٹے کے ترانے سے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا جس کا اجرا دہلی کے عالمی میں ہی ہوا تھا ۔اس ترانہ کے خالق عرفان شاہ نوری اور موسیقار گوری پاٹل ہیں ۔

باغ ادب کا ایک شگوفہ گل بوٹے 

ننھے فرشتوں کا ہے صحیفہ گل بوٹے 


امن کے پنچھی علم کی کلیاں آنگن میں 

نظمیں غزلیں گیت ہمارے دامن میں 

تونے سمٹیے غالب سودا گل بوٹے 

باغِ ادب کا ایک شگوفہ گل بوٹے 

(اس مضمون میں تاریخی رہنمائی ڈاکٹر آصف اقبال نے کی ہے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں )


Dr Amir Hamza


Thursday, 9 April 2026

زبان ،ادب اور اسکرین

 

زبان ،ادب اور اسکرین


انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ہر فرد اور ہر معاشرہ اپنی وسعت اور مزاج کے مطابق مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں جب علوم و فنون کا باقاعدہ تبادلہ نہیں ہوتا تھا، تب بھی ہر قبیلہ اپنی سطح پر جمالیاتی حس کو اپناتے ہوئے فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر فنون تحریری یا تقریری صورت میں تھے تو آج وہ کلاسیکی متون کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کا تعلق موسیقی یا مصوری سے تھا تو وہ آج بنیاد اور روایت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی درجے میں فنون سے دلچسپی کا عنصر موجود رہتا ہے اور ہر دور میں جو فن زیادہ مقبول ہوا، وہی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا۔ یہاں فنونِ لطیفہ کی ایک جامع تعریف پیش کرنا مناسب ہوگا۔ تعریف میں قدرِ مشترک الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جا سکتا ہےکے ’’فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جو انسانی جذبات، ذوقِ حسن اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ فنون نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ ثقافت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔‘‘اس تعریف میں ’نہ صرف‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عمومی طور پر فنون تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کے اندر انسانی جذبات، معاشرت، اخلاق اور فلسفہ جیسے عناصر بھی شامل رہتے ہیں۔ کوئی فن جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور کوئی پیغام رسانی کا وسیلہ بنتا ہے، لیکن تفریح بہرحال سب کا بنیادی عنصر ہے۔

آج ادب نے بے حد ترقی کر لی ہے اور ادبی فلسفوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مگر اب بھی ادب کی شناخت عموماً دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک وہ ادب جو تسکین ذات اور تفریحِ طبع کا ذریعہ ہو، دوسرا وہ جو معاشرے کو اخلاقی اقدار کا پابند بنانے کا فریضہ انجام دے۔ اکثر صورتوں میں ذاتی تسکین کا پہلو غالب رہتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طویل بحث ہے، لیکن خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ادبی فن پارہ صالح قدروں کا حامل ہو، لوازمِ فن کو پورا کرتا ہو اور قاری کو جمالیاتی حظ اور مسرت بھی عطا کرے۔

یہ تو ادب کی داخلی بحث ہوئی، لیکن اب ہم ذرائع کی بات کرنا چاہیں گے کہ ادب ہم تک کن زاویوں اور راستوں سے پہنچتا ہے۔ ہر دور میں ذرائع کی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ اگر ذرائع پر اختیار حاصل ہو جائے تو اثر و نفوذ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ابتدا میں ادب ہر ایک کی دسترس میں نہیں تھا۔ عوام زیادہ تر عوامی محفلوں کے ذریعے ہی ادب سے محظوظ ہو پاتے تھے۔ عرب معاشرے میں عوامی محفلوں کی روایت قدیم رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں ادبی محفلیں عموماً بادشاہوں، سلاطین اور امرا کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں۔ وہیں سے ادب کی ترسیل ہوتی اور وہی معیارِ ادب قرار پاتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں موجود ادبی ذخیرے کو ایک طویل عرصے تک سنجیدہ ادب کا درجہ نہیں دیا گیا۔چھاپہ خانے کی عدم موجودگی میں مخطوطات کی تیاری ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے علمی و ادبی سرمایہ زیادہ تر صاحبِ ثروت طبقے تک محدود رہتا تھا۔ جب چھاپہ خانوں کا رواج ہوا اور کتابیں عام ہوئیں، تب بھی وہ فوری طور پر عام گھروں تک نہ پہنچ سکیں۔ گویا جس طرح ادب سے زیادہ تر باوقار اور متمول طبقہ ہی لطف اندوز ہوتا تھا، اسی طرح اس تک رسائی بھی محدود تھی۔بیسویں صدی میں علمی تحریکوں نے کتابوں اور رسائل کو گھر گھر پہنچایا، جس سے عوام میں ادبی ذوق کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ادب کی عام رسائی ہی ادبی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ ادب کتابوں کی زینت بنا اور کتابیں ترسیل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس کے بعد ریڈیو کا دور آیا۔ ادب نے وہاں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، مگر ریڈیو بھی ابتدا میں ہر ایک کی پہنچ میں نہ تھا۔ کتابیں اپنے مخصوص دائرے میں قاری کو ایک تہذیبی فضا سے وابستہ رکھتی تھیں، جب کہ ریڈیو نے دلچسپی کا دائرہ وسیع کیا، تاہم اس میں ادب کا حصہ نسبتاً کم ہوتا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن اسکرین نے گھروں میں جگہ بنانا شروع کی۔ ابتدا میں یہ بھی کتابوں کی طرح صاحبِ حیثیت گھروں تک محدود تھا اور اس کے ساتھ مہذب و غیر مہذب کی بحث نے جنم لیا۔ خاص طور پر نوّے کی دہائی میں مسلم معاشرے میں ٹی وی کے خلاف خاصی تنقید کی گئی، مگر اس کے باوجود ٹیلی ویژن کا چلن عام ہوتا گیا اور لوگ تفریح کے نئے ذرائع سے وابستہ ہونے لگے۔ ریڈیو کی طرح یہاں بھی ادب موجود تھا، لیکن اس وقت تک ادب کی تعریف بدل چکی تھی۔ یہ تصور ابھرنے لگا کہ جو کچھ کتابوں اور رسائل کے اوراق میں ہو، وہی حقیقی اور مہذب ادب ہے؛ باقی مواد ادب تو ہو سکتا ہے، مگر اسے معیاری ادب نہیں سمجھا جاتا۔رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ریڈیو اور ٹی وی میں نہ صرف ادب کا حصہ کم ہوتا گیا بلکہ زبان کا معیار بھی متاثر ہوا، اور یوں یہ دونوں ذرائع اپنی سابقہ ادبی و تہذیبی کشش کھو بیٹھےاور ادب یہاں بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا ۔

بیسویں صدی کی اہم ایجادات میں موبائل فون نمایاں حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے مؤثر اور مہلک دونوںپہلو اکیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں پوری طرح سامنے آئے، جب ضروریات سے لے کر تفریح تک ہر چیز موبائل میں سمٹ گئی۔ بڑے، بوڑھے اور بچے سب کی دلچسپی اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی، اور یہ محض ضرورت نہیں بلکہ حد سے بڑھتی ہوئی لت کی صورت اختیار کر گئی۔

جب ہم سوشل میڈیا سے منسلک ہوئے تو ہماری توجہ بھی کاغذ کے بجائے اسکرین پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں دلچسپی کے معیارات بھی بدلنے لگے۔ سوشل میڈیا پر کون سی تحریر پڑھی جائے گی اور کون سی اسکرول کرکے آگے بڑھا دی جائے گی، اس کا فیصلہ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ محض عنوان میں نیا پن ہو تو تحریر پڑھی ہی جائے؛ یہ گمان درست نہیں۔ نہ ہی محض تصویری بنیاد (امیج بیسڈ) پر مبنی مواد لازماً توجہ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہی تحریر پڑھی جاتی ہے جو ایک نظر میں قاری کی گرفت میں آ جائے۔یہاں طویل تمہیدات کی گنجائش کم ہوتی ہے اور براہِ راست نفسِ مسئلہ پر گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عموماً مضامین میں ایک ہی موضوع کے متعدد پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کی اسکرین پر انہی میں سے کسی ایک نکتے کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح اخبارات میں مختصر مضامین پڑھے جاتے ہیں اور رسائل و کتب میں طویل تحریروں کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا مختصر اور جامع تحریروں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی دلچسپی کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بیشتر دلچسپیاں سمٹ کر موبائل تک محدود ہو گئی ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر توجہ ویڈیوز پر مرکوز ہے۔ یہ صرف ہمارے معاشرے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عمومی صورتِ حال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ہم کتابی ذوق کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے لیے محض فرد کو نہیں بلکہ پوری فضا کو بدلنا ہوگا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی مواد بڑی حد تک ویڈیوز کی صورت میں بچوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ کلاس کے نام پر زیادہ تر حصہ بصری مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ڈیجیٹل لرننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ سوچیں کہ اسکرین کی عادت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی تو یہ عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ بچے اور بڑے اب روایتی ٹیلی ویژن اسکرین سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کے دیوانے ہوتے تھے، مگر اب وہ اس سے ہٹ کر موبائل اور خاص طور پر مختصر ویڈیوز کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ’کنٹرول‘ معلوم ہوتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اسکرین پر اپنی مرضی اور اختیار چاہتے ہیں،کیا دیکھنا ہے، کب دیکھنا ہے اور کتنی دیر دیکھنا ہے،یہ فیصلہ وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہی اختیار انہیں موبائل کے ذریعے میسر آتا ہے۔

اب جب یہ نفسیاتی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ حکومتی سطح پر فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فون کے استعمال کو کسی نہ کسی درجے میں قبول کر لیا گیا ہے۔ وہاں بچے وقتی طور پر اسکرین کی دنیا سے باہر ہوتے ہیں، لیکن گھر پہنچتے ہی انہیں ایسا ہوم ورک ملتا ہے جو موبائل یا انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ الغرض ہر طرف موبائل کی یلغار ہے اور دلچسپی کا سارا سامان اسی میں مہیا ہے۔ گویا ہماری بیشتر ضروریات اسی ایک آلے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں اور انسان ایک غیر فطری اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ جب تک ہم سنبھلنے کی کوشش کریں گے، تب تک ہمارے اذہان کن سانچوں میں ڈھل چکے ہوں گے، اس کا ہمیں خود بھی احساس نہ ہوگا۔

اس ڈیجیٹل دور میں ادبِ عالیہ اور دیگر ادبی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جو کچھ اسکرین پر مقبول ہے، ادبی میدان کی معروف شخصیات بھی اسی طرز کو اپنانے لگی ہیں۔ اصل محرک اب بھی ’دلچسپی‘ ہے۔ جو مواد زیادہ توجہ حاصل کرے گا، وہی رواج پائے گا۔ چنانچہ معیار بدل گئے ہیں؛ میگی سے لے کر رِیل تک ہر چیز کم وقتی اور فوری اثر کی حامل ہو گئی ہے۔

جب ہم نفسیاتی پہلو سے بچوں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنی مفید ہے، اتنی ہی تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں،یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تفصیلی جائزہ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب بھی برقرار ہے کہ کسی بھی فن کی بنیادی شرط جاذبیت ہے۔ اسی لیے اردو ادب میں عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کو بیان کیا گیا اور دلچسپ حکایات و واقعات کے ذریعے فلسفہ اور اخلاق کی بات سمجھائی گئی، تاکہ ذہن پہلے متوجہ ہو اور پھر معانی کی گہرائی تک رسائی حاصل کرے۔

آج بھی ہم فنون کو وقت دیتے ہیں، مگر فن کا معیار اور اسلوب بدل چکا ہے۔ ’کنٹنٹ‘ آج بھی اہم ہے اور مختلف النوع دلچسپ مواد کے ذریعے فنکار عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب میں موضوعات کی مؤثر اور دلکش پیشکش میں کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ہمارا رجحان کم ہو رہا ہے؟ کہانیوں میں زبان و بیان کا سطحی پن کب تک جاری رہے گا؟ اشعار میں حقیقی شعریت اور تغزل کی تلاش کب تک باقی رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بچوں کو ایسی معیاری اور دلکش تخلیقات کیوں فراہم نہیں کر پا رہے جن کی طرف وہ خود بخود راغب ہوں؟

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ بے شمار افراد اس کے ذریعے اپنا کیریئر بنا رہے ہیں، مگر خالص اردو سے وابستہ حلقے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسکرین کی دنیا حقیقی کتابی دنیا کا بدل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’’ریختہ‘‘ ہے، جس نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا کر دنیا بھر میں اردو سیکھنے کا رجحان پیدا کیا اور ہزاروں افراد کو اردو سے جوڑا۔

تاہم یہ فائدہ زیادہ تر بالغ افراد تک محدود ہے۔ بچوں کے لیے اسکرین کا بے جا استعمال نہایت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو اسکرین کی دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے، ورنہ کئی ایسی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

آج کل آٹزم کا ذکر عام ہو چکا ہے۔ 2020ء کی بعض تحقیقات کے مطابق ایک سال یا اس سے کم عمر بچوں میں موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال بعد کی عمر میں نشوونما سے متعلق مسائل کے خطرات بڑھا سکتا ہے، جو عموماً تین سال کی عمر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نتیجتاً بعض بچے ہم جماعتوں سے الجھتے ہیں، توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں کمزور یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضدی پن اور چڑچڑے پن جیسے رویے بھی اس صورتِ حال سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موبائل اسکرین استعمال کرتے وقت آنکھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں خشکی اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اسکرین کی روشنی دماغی نظامِ نیند کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح طویل وقت تک موبائل پر جھکے رہنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن اور کمر درد یا جسمانی انداز میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے والے بچے سماجی میل جول میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے رویوں اور جذبات کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

2019ء میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں پر زور دیا گیا اور پانچ سال تک کی عمر میں اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود رکھنے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 18 ماہ سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ابتدائی عمر ہی میں احتیاط برتی جائے تو بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو بہلانے یا چپ کروانے کے لیے موبائل کا سہارا نہ لیا جائے، خاص طور پر اگر وہ دو سال سے کم عمر ہو۔ اس عمر کے بچے عموماً توجہ چاہتے ہیں، اس لیے انہیں وقت اور محبت دی جائے، اسکرین نہیں۔

اگر بچہ کچھ بڑا ہو تو اس کے اسکرین ٹائم کو باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ اس کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کا جسم اور ذہن متحرک رہیں اور توجہ اسکرین کی طرف کم ہو۔ والدین اگر شعوری طور پر بچوں کو ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف راغب کریں یا ان میں کسی مثبت مشغلے کا شوق پیدا کریں تو اسکرین کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً، ڈیجیٹل دنیا کے فوائد اپنی جگہ، لیکن توازن اور شعوری نگرانی ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی ضمانت ہے۔


از ڈاکٹر امیر حمزہ 

نائب مدیر سہ ماہی مژگاں کوکاتا 

www.mizgaan.in


اردو کا فرزند: فاروق سید

 اردو کا فرزند: فاروق سید   سر کاری و غیر سرکاری ادارے وکسی تنظیم کی معاونت کے بغیر تن تنہاتیس برسوں تک بچوں کا رسالہ ’گل بوٹے ‘ کو مقبول عا...