Tuesday, 30 June 2026

اردو کا فرزند: فاروق سید

 اردو کا فرزند: فاروق سید 


 سر کاری و غیر سرکاری ادارے وکسی تنظیم کی معاونت کے بغیر تن تنہاتیس برسوں تک بچوں کا رسالہ ’گل بوٹے ‘ کو مقبول عام و خاص بنانے میں فاروق سید کا عزم وحوصلہ اورمحنت و لگن شامل تھا ۔ ان کی فطرت میں یہ بات داخل تھی کہ جس کام کو وہ ٹھان لیتے تھے وہ کر گزرتے تھے ۔ سادگی بھری زندگی بسر کرنے والے فاروق سید نے گل بوٹے کے وہ کہکشاں سجائے کہ ہم سبھی کو ان پر رشک آتا ہے ۔ شاید ہی کوئی ایسا رسالہ ہے جو بغیر کسی مالی معاونت کے ربع صدی تک اپنی جملہ تابانیوں کے ساتھ اپنے قارئین کے اذہان میں انمٹ نقوش چھوڑ گیا ہو ۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، چلنا پھر نا ، سوچ بچار سبھی کچھ اردو کے بچوں کے لیے تھا ۔ جس طرح وہ خود پوری زندگی بچوں کے خادم کی طرح گزارے ویسے ہی ان کا عزم تھا کہ کاش سبھی ان کے سفر میں ہمسفر ہوں ۔ پوری اردو برادری کو ساتھ لانے کے لیے موقع بموقع قسم قسم کے پروگرام کرتے رہتے تھے ۔ یہ پروگرام محض محفل آرائی کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ اس سے سوچنے اور آگے بڑھنے کاایک منشور لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی ادبی سرگرمیوں کے چراغ کو روشن کرنے میں ان کے فکر و عمل کا بہت ہی زیادہ دخل رہا ہے۔ 

فکر و عمل اس بنا پر کہ جب ہمار ی دانست میں کسی بھی لسانی میلے کا تصور نہیں ابھرا تھا اسی وقت انہوں نے اپنے آبائی شہر شولا پور مہاراشٹرا کواردو میلہ کے لیے منتخب کیاجس میں اس وقت کی اہم شخصیات میں سے کالی داس گپتا رضا اور سردار جعفری نے شرکت کی ۔اسی میلے میں فاروق سید کوکالی داس گپتا رضا نے ’ اردو کا فرزند‘ کے لقب سے نوازاتھا ، تب سے لے کے کر آخر ی سانس تک انہوں نے اس قول کا پاس رکھا اور بطور فرزند ، فرزندانِ اردو کی خدمت کرتے رہے ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک دہائی کے بعد اردو میلوں کا رواج پاگیا اوراب یہ کاروباری شکل میں کمرشیل بھی ہوچکا ہے۔لیکن فاروق سید نے اس کو ہمیشہ طلبہ مرکوز رکھا ۔اسی پروگرام میں کالیداس گپتا رضا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ میں شولا پور میں پہلی بار حاضر ہوا لیکن میرا یہاں آنے کا بہت ہی نقصان ہوا ۔ نقصان یہ ہوا کہ مجھے آپ لوگوں نے قطعی طور پر لوٹ لیا ، میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا ، اب میں ممبئی جاکر اردو والوں کو کیا منھ دکھاؤں گا ، کہ آپ لوگ کوئی میلہ نہیں کرتے ، چھوٹا سا کوئی مشاعرہ کرلیا ، کوئی نشست کرلی بس اسی میں خوش ہیں ، آپ اسی پر نا ز کرتے رہیں مہینوں ، لیکن ملنے جلنے کا کوئی سامان نہیں ، اس اردو میلے سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ہم اکثر دیکھتے رہتے ہیں کہ ہماری مدد گورنمنٹ ،سرکاری محکموں، اسکولوں اور کالجوں نے نہیں کہ ہماری مدد خود اردو والوں نے کی ۔ جس کا آغاز شولا پور سے ہوا ہے ۔ شولا پور زندہ باد ۔‘‘ اس گفتگو میں ’’ایک نئے دور کاآغاز ‘ ‘ اس وقت شاید کسی کو سمجھ میں نہیں آیا ہو لیکن آج تیس بر س بعد آج اردو میلوں میں جب لاکھوں دیوانے نظر آرہے ہیںتب سمجھ میں آتا ہے کہ فاروق سید اردووراثت کے اولین محافظ تھے ۔ یقینا اس فکر کی بنیاد فاروق سید نے رکھی تھی ۔ اسی پر وگرام میں سردار جعفری مختصر جملوں میں کچھ یوں فرماتے ہیں : ’’ the flame of freedom the flame of Urdu the flame of democarcy the flame of future of india the flame of digniti of man"

اس موقع پر سجاد ظہیر کی صاحبزادی نادرہ ببر بھی موجود تھیں۔ اس پروگرام میں فاروق سید نے جن افراد کو مدعو کیا تھا اور پیش کش کا جو انداز تھا اب کے میلوں میں وہی عکس نظر آتا ہے ۔اس پروگرام میں اس وقت کے جید ادبا وشعرا کے ساتھ کثیر تعداد میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے اور بچوں کے ادبا شریک تھے ۔ ملک بھر سے دو سو سے زائدادیبوں کو انھوں نے ایک شہر میں جمع کیا تھا ۔ یہ سہ روزہ میلہ مارچ 1999 میں منعقد ہواتھا ۔

 فاروق سید وژن کا پروردہ تھے ۔ انھوں نے جو بھی پروگرام کیا تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ کہاں کسی کے تصور میں تھا کہ اردو جلوس کا انعقاد کیا جائے اور حکومت کو اردو کے لیے بہتر کام کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اپنا سب کچھ گل بوٹے کے لیے نچھاور کرنے کے بعد 15 فروری2000 کو مدن پورہ کے جھولا میدان سے ناگپاڑہ کے مستان تالاب تک اردو جلوس کا انعقاد کرتے ہیں جس میں اس وقت کے مشہور و معروف ادبا، شعرا ، اساتذہ اور صحافیوں کے ساتھ ہزاروں طلبہ بھی شریک ہوئے جن کی کل تعدا د پچیس ہزار تک بتائی گئی ہے ۔ اس جلوس کی قیادت پدم شری علی سردار جعفری اور افتتاح کالی داس گپتا رضا کر تے ہیں ۔ اس جلوس میں کیفی اعظمی ، ندافاضلی ، عبدالستا ر دلوی، افتحار امام صدیقی ، یوسف ناظم ، حسن کمال ، ودیگر مشاہیر شریک تھے ۔ اس کے بعد ایک وفد عارف نسیم خاں (وزیر مملکت) کی قیادت میں اس کے وقت کے وزیر اعلی مہاراشٹر ولاس راو دیشمکھ سے ملاقات بھی کرتا ہے اور ڈیڑھ لاکھ دستخطوں پر مشتمل ایک ممورنڈم بھی پیش کرتا ہے جس میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ، اساتذہ کی تقرری، مختلف شہروں میں اردو گھر کا قیام کے ساتھ کئی دیگر مطالبات پیش کیا گیا تھا ۔ جس کا اثر اسی وقت سے نظر آنے لگا ہے اور آج جو مہاراشٹر کے کئی شہرو ں اردو گھر کا قیام دیکھ رہے ہیں یہ انہی کی دور اندیشی تھی جسے کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ 

مہاراشٹرا میں آئڈیل ٹیچر ایوارڈ بہت ہی زیادہ مشہور و مقبول تھا اسی طر ز پر فاروق سید’ گل بوٹے مثالی استادایوارڈ‘ 1998 سے ہی یوم اساتذہ کے موقع پر شروع کیا گیا ، یہ مکمل بارہ سال جاری رہا، اس ایوارڈ کی بہت ہی زیادہ مقبولیت تھی اردو اساتذہ کوبہت زیادہ حوصلہ ملتا تھا نیز ان سب سے گل بوٹے کی مقبولیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا ۔

انہی سب کے درمیان فاروق سید کا ایک خواب تھا جو شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ۔ وہ اساتذہ و طلبہ کو مساوی طور پر اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے تھے ، بلکہ اساتذہ سے کچھ زیادہ ہی انسیت تھی۔ ان کے لیے طرح طرح کے پروگرام منعقد کرنے کے ساتھ ان کو تخلیق کار بنانے میں اہم رول ادا کرتے تھے ۔لیکن ان کا ایک خواب یہ تھا کہ مثالی اساتذہ کومشرق وسطی کی سیر کرائی جائے جس سے تعلیمی میدان میں شراکت داری بھی ہو اور وہ اساتذہ طلبہ میں نئی روح پھونک سکیں۔ 

جس گل بوٹے کی محبت میں انہوں نے عظیم کارنا مے انجام دیے اس متعلق تھوڑی سی روداد بھی سامنے آجائے ۔ فاروق سید مکتبہ جامعہ لمیٹڈممبئی میں سیلس مین تھے ۔ اس زمانے میںمکتبہ علمی و ادبی سر گرمیوں کا مرکز تھا ، ادیبوں او ر صحافیوں کی مجلسیں سجا کرتی تھیں۔ وہیں پر ان کی ملاقات انجم رومانی سے ہوئی اپنے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ مجھ سے انجم رومانی صاحب نے پوچھا کہ تم یہاں کب تک رہوگے ؟ اس پر فاروق سید نے جواب دیا کہ جب تک قسمت  ہے۔ اسی وقت انجم رومانی نے کہا کہ اردو ٹائمز میں کام کروگے ؟ جواب تھا ہاں بالکل کریںگے ، تووہاں انھوں نے داخلہ دلوایا اور وہاں سے باضابطہ میری صحافت کا آغاز ہوا ۔اردوٹائمز میں بچوں کا ایک صفحہ گل بوٹے کے نام سے تھا ، پانچ سے سات برس اس کی ترتیب و تہذیب کی ذمہ داری نبھا تے رہے ۔اچانک انتظامیہ نے کہا کہ ’گل بوٹے ‘ کی جگہ اب ’ گھر آنگن ‘ نکالا جائے گا ۔ اس پر انھوں نے کہ کہا کہ آپ گھر آنگن نکالیے لیکن گل بوٹے بھی رہنے دیجیے۔ اس پر بات نہیں بنی تو انھوں نے اسی’گل بوٹے ‘ کو میگزین کی صورت میں 1995 میں شر وع کیا ، اکتوبر میں پہلا شمارہ پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوا ۔ اردو ٹائمز میں رہتے ہوئے وہ اس میگزین کو بطور شوق شروع کیا اس پر آفس کے دوست احباب کی شکایت رہی کہ وقت اور کام کی پابندی نہیں رہتی ہے اس بنا پر انہیں کہا گیا کہ آپ دونوں نہیں کرسکتے ہیں اس وقت فاروق سید نے اپنا تاریخی جملہ کہ تھا ’ ار دو ٹائمز ‘ میری روزی روٹی ہے اور ’گل بوٹے ‘ میرا شوق ہے ۔ ‘‘ بالآخر 1997 کو انھوں نے ملازمت کو خیر باد کہہ کر شوق کو گلے لگایا اور ادب اطفال کی آبیاری کی۔ 

ادب اطفال کی آبیاری کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہوئے ہیں لیکن جنہوں نے بچوں کے ادب کو ہر ماہ ہزاروں بچوں تک پہنچایا اور انہیں ان کا خوگر بنایا، وہ اصل میں اس کے خادم ہیں۔ جس وقت گل بوٹے کا آغاز ہوا اس وقت ملک میں کئی بچوں کے رسائل تھے لیکن ’ماہنا مہ کھلونا ‘ کی کمی کوئی پوری نہیں کرپارہا تھا ۔ ویسے کوئی بھی رسالہ کسی دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا ہے کیونکہ ہر رسالے سے قارئین کا قلبی لگاؤ ہوجاتا ہے ۔ کھلونا اگر چہ بچوں کا رسالہ تھا لیکن وہ بڑوں کی پہلی پسند رہا ہے، اس کا اندازہ آپ ’ماہنامہ کھلونا ‘ کے مشمولات سے بھی لگاسکتے ہیں ۔ لیکن فاروق سید نے اسے مکمل طور پر بچوں کی پسند بنایا  ۔ اس میں وہ مکمل طور پر کامیاب ہی نہیں بلکہ چراغ راہ بھی ثابت ہوئے کیونکہ انھوںنے دیگر بچوں کے رسائل کے لیے مزاج و منہاج پیدا کیا ۔ ایسے میںیہ کہنا کہ اب کوئی رسالہ ’ماہنامہ کھلونا ‘ جیسا نہیں ہوسکتا اس کی کوئی معنویت نہیں رہتی ، کیونکہ ہر رسالہ اپنے وقت کا عکاس ہوتا ہے اورہر رسالہ اپنے میں منفر د بھی ہوتا ہے ۔ ایسے میں گل بوٹے کی یہ خاصیت رہی کہ وہ طلبہ کی جملہ سرگرمیوں کو مد نظر رکھ کر اپنی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھاتے تھے ۔ اس کے لیے انہوں نے زمینی سطح پر اتر کر کام کیاکیا اور وقت کے ساتھ رسالہ کو ماحول کے ہموار کیا ، جب ڈیجیٹل دور آیا توگل بوٹے کو یونی کوڈ میں وائس ایمبیڈڈپیش کیا گیا، مصنوعی ذہانت سے اسے جوڑا گیا ۔ ڈاکٹر آصف اقبال نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ آزادی کے بعد یہ اردو میں بچوں کا پہلا رسالہ ہے جو آر این آئی میں رجسٹر ڈ ہوا ہے ۔ اسی طریقے سے یہ پہلا ایپ بیسڈ بھی رسالہ ہے ۔ 

 کسی بھی میگزین کو بغیر کسی مالی تعاون کے لگاتار جاری رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔یہ محض ان کا عشق تھا کہ اس کے لیے وہ دردر بھٹکتے تھے ، اشتہارات کے لیے منتیں کرتے ، سبسکرپشن کے لیے اسکول انتظامیہ کے سامنے اردو کی دہائی دیتے تھے لیکن اکثر انہیں ناکامی ہی ہاتھ لگتی تھی، پھر بھی فاروق سید جس سچے دل کے ساتھ لگے رہے نیز انہیں چند مخلص دوست بھی ملے جن کا تعاون انہیں مستقل ملتا رہا ۔ یہی وجہ رہی کہ اس کے سلسلہ اشاعت میں کبھی انعقطاع عمل میں نہیں آیا۔ مالی پریشانیوں سے متعلق جنوری 2009 کے اداریے میں تحریر فرماتے ہیں : 

’’رسالے کی پابندی سے اشاعت صرف خریداری کے بل بوتے بہت مشکل ہے ۔ اس کے لیے سر کار سر پرستی ، اشتہارات کا سہارایا پھر بہت بڑے سرمائے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ تینوں چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں تو کوئی ایسا کام کیجئے جس کی آمدنی سے رسالہ چھپتا رہے۔ گل بوٹے کی اشاعت اسی طریقے سے ممکن ہوپارہی ہے ۔لیکن مہنگائی کے پر نکل آئے ہیں اورمہنگائی پر قابو پانے کا کوئی آلہ اب تک ایجاد نہیں ہوا ہے اس لیے آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔

کاغذاور پرنٹنگ کی قیمتوں میں روز اضافہ ہورہا ہے ۔ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے رنگین صفحات کی قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔ اس کے با وجود ایک شمارہ پر 15 روپے خرچ ہورہے ہیں ۔ دوسری طرف گل بوٹے تم تک پہنچانے میں جو رکاوٹیں اور دوشواریاں پیش آتی ہیں اللہ کی پنا ہ … اساتذہ ، ہیڈ ماسٹر کو رکاوٹ بتاتے ہیں اور ہیڈ ماسٹر اساتذہ پر الزام دھرتے ہیں ۔ ان دونوں کے علاوہ اسکول کا انتظامیہ بھی اپنی ’موجودگی ‘ کا ثبوت فراہم کرتا رہتا ہے ۔ کہیں انتظامیہ کر اردو نوازی ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کے ’اگر مگر ‘کی نذر ہوجاتی ہے تو کہیں ان دونوں کا جوش انتظامیہ کے ’’ ایسے ویسے‘ ریمارکس سے سر د پڑ جاتا ہے ۔

پیارے بچو…اردو والوی کی سر د مہری کی وجہ سے بچوں کے کئی معیاری اور خوبصورت رسائل خاموشی سے ایک کے بعد ایک دم توڑتے گئے ۔ ’پھول‘ نے مہکنا بند کردیا ۔’ کلیاں‘ نے چہکنااور’ غنچہ ‘نے چٹخنا چھوڑ دیا ۔ بچوں کا خوبصورت’ کھلونا‘ ٹوٹ کر بکھر گیا ۔ بچوں کے ہاتھوں سے’ ٹافی‘ چھن کر بچوں کی’ نرالی دنیا‘ اجاڑ دی گئی پھر بھی اردو والے خاموش تماشائی بنے رہے ۔ وہ اتنے سخت جان ثابت ہوئے کہ کسی نے ایک دن کا سوگ تک نہیں منایا ۔ اس کے باوجود ارو کے سوداگر آج بھی اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر اپنی حیثیت کے مطابق ’’ اردو ‘‘کی بولی لگارہے ہیں ۔ ایسے ماحول میں گل بوٹے گھٹن محسوس کررہا ہے ۔ اسے کھلی فضا کی تلاش ہے ۔ اس لیے معصوم بچوں سے ، معصوم دلوں سے ، معصوم ہاتھ اٹھا کر ،معصوم زبان سے دعا کرنے کی درخواست کررہا ہے ۔دعا کرو کہ گل بوٹے پر غیر یقینی کے سائے چھٹ جائیں اور بچوں کی صحیح ذہنی آبیاری کا اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے ادا کرتا رہے ۔ ‘‘ 

چار پیرگراف کے اداریے میں تین پیراگراف بہت مجبوری میں پیش کیا گیاہے۔ اس میں فاروق سید جس درد و کرب کا اظہار کررہے ہیں اس کا احساس کیا جاسکتا ہے ۔ اسلوب ایسا ہے کہ بچوں پر گراں نہ گزرے اور ’گل بوٹے ‘ کے تئیں مزید محبت پیدا ہو۔ یہاں پر کسی بھی قسم کی تعاون کی اپیل نہیں ہے محض دعا کی درخواست کرتے ہیں ۔ آخری پیراگراف میں اگر ہم ان کے نثر ی اسلوب کی بات کریں تو مجھے خوبصورت سادہ اور سلیس اسلوب ملتا ہے۔ واقعی میں یہ گل بوٹے سے مزین اردو ہے ۔ فاروق سید اپنا اداریہ ’چھوٹی سی بات‘ کے عنوان سے لکھا کرتے تھے جس میں بچوں کے لیے بہت ہی قیمتی باتیں ہوا کرتی تھیں ۔ مارچ 2009 کے اداریہ میں لکھتے ہیں:

’’ اندھیری رات میں جنگل سے گزرنے کے لیے پورے جنگل میں روشنی بکھیرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف ایک لالٹین ہا ٹارچ ہی کافی ہے ۔ جس طرح تمہارے قدم آگے بڑھتے رہیں گے لالٹین کی روشنی سے راستہ روشن ہوتاجائے گا ۔ بالکل اسی طرح زندگی کے خاردار ، حوصلہ شکن اورسخت راستوں کو پاٹنے کے لیے دل کے چراغ کو ’حوصلے ‘ کے ایندھن سے جلانا ہوگا ۔بہت خود اعتمادی کے ساتھ حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر توازن برقرار رکھتے ہوئے وقت کی نازک رسی پر آگے بڑھتے رہنا ہے ۔ تمھارا حوصلہ تمھیں طاقت دے گا اور اور تمھاری بے تھکان کوشش دھنک رنگ خواب کی تعبیر ہوںگی ۔‘‘ 

 ان جملوں سے اس جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گل بوٹے کا مشن محض زبان و ادب کی خدمت نہیں تھا بلکہ طلبہ کے اندر خواب کو پروان چڑھانے کا ایک پلیٹ فارم تھا جس سے ان کا مستقبل تابناک ہو ۔ اس لیے یہ چند جملے اہداف کو حوصلے کی ایندھن سے طے کرنے کے لیے لکھے گئے ہیں ۔ ان جملوں نے طلبہ کے اذہان میں جو اثر پیدا کیا ہے وہ آج پندرہ برس بعد ان کے قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ آج مہاراشٹرا میں اردو میڈیم کے طلبہ شان کے ساتھ انگریزی میڈم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ محض گل بوٹے کی تربیت نہیں بلکہ گل بوٹے کی پوری ٹیم کی محنت ہے جس میں صنعت کا ر ، تعلیمی میدان کے خدمت گزار اور ہر ماہ تعلیمی مجلسیں منعقد کرنے والے علم دوست شخصیات ہیں ۔ کتابی ماحول پیدا کرنے کے لیے انہوں نے صر ف اسٹیج سے تقریریں نہیں کیں بلکہ اس کے لیے کتاب میلے بھی منعقد کیے اور اداریوں میں بھی اس جانب تو جہ دلاتے رہے ، دسمبر 2009 کے اداریے میں لکھتے ہیں :

’’ ہم چاہتے ہیں کہ تم اپنے گھر میں کسی کونے میں اپنی ایک ذاتی لائبری قائم کرو ۔ کہا جاتاہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ۔ جب گھر میں درسگاہ موجود ہے تو پھر کتب خانہ کیوں نہیں ؟ تم جانتے ہو کہ ہر اسکول میں ایک کتب خانہ ہوتا ہے …دنیا کے تمام اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا تصورکتب خانے کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ہمارا گھر جو ہمارا پہلا مدرسہ ہے اس میں کتب خانے کے قیام کے بارے میں آج تک نہیں سوچا گیا ہے ۔‘‘ کتاب دوستی کے بارے میں ایسی باتیں کرنے والے فاروق سید نہ تو کسی کتب خانہ کے مالک تھے اور نہ ہی ان کا کوئی ایسا بزنس تھا ، وہ تو محض تعلیم کی باتیں کرتے تھے اور تعلیم محض ڈگریوں کا حصول کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ تعلیم دلوں کی تبدیلی سے سماج کی ترقی کی باتیں کرتا ہے نہ کہ حصول روز گارکی ۔ 

 گل بوٹے کے قلمکاروں کی فہرست بہت ہی طویل ہے سبھی کا نام شمار کرنا یہاں ناممکن ہے لیکن جب آپ اس کا از سر نو مطالعہ کریں گے تو احساس ہوگا کہ جس طرح کھلونا میں اس وقت کے اہم قلمکاروں کی تحریریں شائع ہوتی تھیں اس طرح گل بوٹے کوسنوارنے میں بھی اہم ادبا نے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے کئی گوشے بہت ہی اہمیت کے حامل تھے ۔ گزشتہ صدی میں ادیب اطفال کی تصویر بہت ہی زیادہ واضح نہیں تھی لیکن اس صدی میں درجنوں ایسے قلمکار ہیں جن کو گل بوٹے نے ادیب اطفال کے طور پر متعارف کرایا ۔ درسیات میں رسائل کا کیا کردا ر ہوتا ہے اس متعلق بس اتنا جان لیں کہ ڈاکٹر خان نویدالحق کہتے ہیں کہ بال بھارتی کے نصاب کی تیاری میں اسی فیصد تحریریں گل بوٹے سے مل جاتی تھیں ۔ 

فاروق سید سے میرا محض کچھ مہینوں کا تعلق تھا ، گل بوٹے کے پچیسویں سالگر ہ کے موقع پر چار روزہ(23-26ستمبر 2019) عظیم الشان عالمی سمینار کے تعلق سے ہی ان سے باتیں رہیں ۔اس درمیان گل بوٹے کے ایک رکن کے طور میرا کام رہا ۔ دہلی سے سراج عظیم صاحب کی رہنمائی انہیں حاصل تھی جب کہ میں دیگر ساتھیوں کی طرح محض ایک معاون تھا ۔ اگرچہ پروگرام صرف چار دن کا تھا لیکن اس کی تیاریاں مہینوں پہلے سے چل رہی تھیں اس درمیان میری باتیں ان سے ہوتی رہیں۔ لیکن آخر ی وقت تک پروگرام کی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا جب شہزاد صاحب کے ہاتھوں کارڈ چھپ کر آیا تب پتہ چلاکہ فاروق سید دہلی والوں اپنی صلاحیت سے متحیر کررہے ہیں ۔دہلی کے عالمی سمینار اور فاروق سید کے عالمی سمینار میں چند چیزوں میں اختلاف کے باوجود ایک تفوق تھا۔ تفوق بائیں طور تھا کہ انھوں نے بچوں کے ادیبوں کو زیادہ فوقیت دیا تھا۔فاروق سید کی ایک سادگی میں سے ایک چیز جو میں نے محسوس کی کہ وہ بہت ہی جلد عہدیداروں کی باتوں کو مان لیتے تھے ، فائدہ کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن مجھے علمی و مالی نقصان کا بخوبی احساس ہے ۔

وہ بذات خود اردو کا قافلہ تھے اس کے باوجود جب گل بوٹے کے دیوانے ممبئی سے دہلی تشریف لائے تو اس میں دس پندرہ نہیں بلکہ دوبڑی بسوں کا کا رواں تھا جو دہلی میں بقول اختر الواسع’’ تازیانہ بن کر دہلی والوں کو جگانے کے لیے آئے ہیں‘‘ ۔ اس پروگرام میں مشہور صنعت کار سمیت اس وقت کے دہلی سرکار کے وزیر اور نمائندے بھی تھے ۔ مشہور ہیئر اسٹائلسٹ جاوید حبیب کو پہلی بارکسی ادبی محفل میں دیکھا گیا ، اس میں ہندوستان کے جتنے بھی اردو کے ادارے تھے سبھی کے عہدیداران کی شرکت رہی اس کے علاوہ ملک بھر سے بچوں کے ادیبوں کی بھر پور شرکت رہی ۔ جس طر ف بھی ذہن جاتا ہے سبھی اس سمینار میں نظرآتے ہیں ۔ ادبی تاریخ میں ادب اطفال کاچار روزہ بھرپور پر وگرام شاید ہی کبھی ہوا ہو ۔ پہلے دن غالب انسٹی ٹیوٹ میں عظیم الشان افتتاح ہوا جس میں کلیدی خطبہ پروفیسر اختر الواسع کا تھا ، اس افتتاحی پروگرام میں چھبیس کتابوں کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا ۔ ان کتابوں کی کہانی اور فاروق سید کی دیوانگی بھی قابل رشک ہے ۔ بزم صدف انٹرنیشنل  کے افتتاح اور گل بوٹے کے چوبیسویں سالگرہ کے موقع پر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا تھا کہ نئی چیزیں بہت زیادہ لکھی جارہی ہیںلیکن ہمیں اپنے قدیم سرمائے کو بھی سامنے رکھنا ہے ۔ اسی موقع پر فاروق سید نے کہا تھا کہ انشاء اللہ وہ کام بھی ہوجائے گا اور دلی جذبہ کے ساتھ فاروق سید کے بہی خواہوں نے اس کام کو انجام بھی دیا ۔پھر لگاتار تین دنوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونی ورسٹی اور جواہر لال یونی ورسٹی میں عالمی سمینار کا انعقاد عمل میں آیا ۔ ہر سیشن الگ تھیم پر تھا ، بھر پور مقالات پیش کیے گئے ۔ جب کہ اختتامی اجلاس اردو اکادمی دہلی میں منعقد ہوا جس میں اس وقت کے دہلی کے وزیر تعلیم نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر ادب اطفال پر اردو والوں کے ذہن سے پرے ہٹ کر تجرباتی ادب پر بھر پور گفتگو کی۔ اردو اکادمی دہلی نے تمام مہمانوں کو استقبالیہ بھی پیش کیا تھا اور اکادمی نے مومینٹوبھی پیش کیا تھا ۔ الغر ض ادب اطفال پر ایک عظیم الشان سمینار کا سہرا بھی فاروق سید کے سر ہی جاتا ہے ۔ سمینار کے بعد جب میں ان سے ملنے بستی حضرت نظام الدین کے سنٹرل گیسٹ ہاؤس میں گیا تو وہ بہت ہی زیادہ خوش نظر آرہے تھے ۔ اسی وقت میں نے ان سے درخواست کیا کہ اس سمینار میں جو تقریبا پچاس مقالات پیش کیے گئے اسے کتابی شکل میں لانے کی میں خواہش رکھتا ہوں جس کی اشاعت گل بوٹے کے زیر اہتمام ہی ہوگی ۔ لیکن انھوں نے مسکرا کرکہا کہ یہ کام ان کے یار غار کریںگے ۔ لیکن افسوس کہ اب تک یہ کام منظر عام پر نہیںآسکا ،امید کہ ان کے قریبی دوست جن پر انھوں نے بھروسہ کیا تھا اس کام کو جلدہی مکمل کریںگے ۔

آخر میں گل بوٹے کے ترانے سے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا جس کا اجرا دہلی کے عالمی میں ہی ہوا تھا ۔اس ترانہ کے خالق عرفان شاہ نوری اور موسیقار گوری پاٹل ہیں ۔

باغ ادب کا ایک شگوفہ گل بوٹے 

ننھے فرشتوں کا ہے صحیفہ گل بوٹے 


امن کے پنچھی علم کی کلیاں آنگن میں 

نظمیں غزلیں گیت ہمارے دامن میں 

تونے سمٹیے غالب سودا گل بوٹے 

باغِ ادب کا ایک شگوفہ گل بوٹے 

(اس مضمون میں تاریخی رہنمائی ڈاکٹر آصف اقبال نے کی ہے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں )


Dr Amir Hamza


Thursday, 9 April 2026

زبان ،ادب اور اسکرین

 

زبان ،ادب اور اسکرین


انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ہر فرد اور ہر معاشرہ اپنی وسعت اور مزاج کے مطابق مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں جب علوم و فنون کا باقاعدہ تبادلہ نہیں ہوتا تھا، تب بھی ہر قبیلہ اپنی سطح پر جمالیاتی حس کو اپناتے ہوئے فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر فنون تحریری یا تقریری صورت میں تھے تو آج وہ کلاسیکی متون کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کا تعلق موسیقی یا مصوری سے تھا تو وہ آج بنیاد اور روایت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی درجے میں فنون سے دلچسپی کا عنصر موجود رہتا ہے اور ہر دور میں جو فن زیادہ مقبول ہوا، وہی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا۔ یہاں فنونِ لطیفہ کی ایک جامع تعریف پیش کرنا مناسب ہوگا۔ تعریف میں قدرِ مشترک الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جا سکتا ہےکے ’’فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جو انسانی جذبات، ذوقِ حسن اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ فنون نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ ثقافت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔‘‘اس تعریف میں ’نہ صرف‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عمومی طور پر فنون تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کے اندر انسانی جذبات، معاشرت، اخلاق اور فلسفہ جیسے عناصر بھی شامل رہتے ہیں۔ کوئی فن جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور کوئی پیغام رسانی کا وسیلہ بنتا ہے، لیکن تفریح بہرحال سب کا بنیادی عنصر ہے۔

آج ادب نے بے حد ترقی کر لی ہے اور ادبی فلسفوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مگر اب بھی ادب کی شناخت عموماً دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک وہ ادب جو تسکین ذات اور تفریحِ طبع کا ذریعہ ہو، دوسرا وہ جو معاشرے کو اخلاقی اقدار کا پابند بنانے کا فریضہ انجام دے۔ اکثر صورتوں میں ذاتی تسکین کا پہلو غالب رہتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طویل بحث ہے، لیکن خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ادبی فن پارہ صالح قدروں کا حامل ہو، لوازمِ فن کو پورا کرتا ہو اور قاری کو جمالیاتی حظ اور مسرت بھی عطا کرے۔

یہ تو ادب کی داخلی بحث ہوئی، لیکن اب ہم ذرائع کی بات کرنا چاہیں گے کہ ادب ہم تک کن زاویوں اور راستوں سے پہنچتا ہے۔ ہر دور میں ذرائع کی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ اگر ذرائع پر اختیار حاصل ہو جائے تو اثر و نفوذ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ابتدا میں ادب ہر ایک کی دسترس میں نہیں تھا۔ عوام زیادہ تر عوامی محفلوں کے ذریعے ہی ادب سے محظوظ ہو پاتے تھے۔ عرب معاشرے میں عوامی محفلوں کی روایت قدیم رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں ادبی محفلیں عموماً بادشاہوں، سلاطین اور امرا کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں۔ وہیں سے ادب کی ترسیل ہوتی اور وہی معیارِ ادب قرار پاتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں موجود ادبی ذخیرے کو ایک طویل عرصے تک سنجیدہ ادب کا درجہ نہیں دیا گیا۔چھاپہ خانے کی عدم موجودگی میں مخطوطات کی تیاری ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے علمی و ادبی سرمایہ زیادہ تر صاحبِ ثروت طبقے تک محدود رہتا تھا۔ جب چھاپہ خانوں کا رواج ہوا اور کتابیں عام ہوئیں، تب بھی وہ فوری طور پر عام گھروں تک نہ پہنچ سکیں۔ گویا جس طرح ادب سے زیادہ تر باوقار اور متمول طبقہ ہی لطف اندوز ہوتا تھا، اسی طرح اس تک رسائی بھی محدود تھی۔بیسویں صدی میں علمی تحریکوں نے کتابوں اور رسائل کو گھر گھر پہنچایا، جس سے عوام میں ادبی ذوق کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ادب کی عام رسائی ہی ادبی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ ادب کتابوں کی زینت بنا اور کتابیں ترسیل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس کے بعد ریڈیو کا دور آیا۔ ادب نے وہاں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، مگر ریڈیو بھی ابتدا میں ہر ایک کی پہنچ میں نہ تھا۔ کتابیں اپنے مخصوص دائرے میں قاری کو ایک تہذیبی فضا سے وابستہ رکھتی تھیں، جب کہ ریڈیو نے دلچسپی کا دائرہ وسیع کیا، تاہم اس میں ادب کا حصہ نسبتاً کم ہوتا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن اسکرین نے گھروں میں جگہ بنانا شروع کی۔ ابتدا میں یہ بھی کتابوں کی طرح صاحبِ حیثیت گھروں تک محدود تھا اور اس کے ساتھ مہذب و غیر مہذب کی بحث نے جنم لیا۔ خاص طور پر نوّے کی دہائی میں مسلم معاشرے میں ٹی وی کے خلاف خاصی تنقید کی گئی، مگر اس کے باوجود ٹیلی ویژن کا چلن عام ہوتا گیا اور لوگ تفریح کے نئے ذرائع سے وابستہ ہونے لگے۔ ریڈیو کی طرح یہاں بھی ادب موجود تھا، لیکن اس وقت تک ادب کی تعریف بدل چکی تھی۔ یہ تصور ابھرنے لگا کہ جو کچھ کتابوں اور رسائل کے اوراق میں ہو، وہی حقیقی اور مہذب ادب ہے؛ باقی مواد ادب تو ہو سکتا ہے، مگر اسے معیاری ادب نہیں سمجھا جاتا۔رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ریڈیو اور ٹی وی میں نہ صرف ادب کا حصہ کم ہوتا گیا بلکہ زبان کا معیار بھی متاثر ہوا، اور یوں یہ دونوں ذرائع اپنی سابقہ ادبی و تہذیبی کشش کھو بیٹھےاور ادب یہاں بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا ۔

بیسویں صدی کی اہم ایجادات میں موبائل فون نمایاں حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے مؤثر اور مہلک دونوںپہلو اکیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں پوری طرح سامنے آئے، جب ضروریات سے لے کر تفریح تک ہر چیز موبائل میں سمٹ گئی۔ بڑے، بوڑھے اور بچے سب کی دلچسپی اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی، اور یہ محض ضرورت نہیں بلکہ حد سے بڑھتی ہوئی لت کی صورت اختیار کر گئی۔

جب ہم سوشل میڈیا سے منسلک ہوئے تو ہماری توجہ بھی کاغذ کے بجائے اسکرین پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں دلچسپی کے معیارات بھی بدلنے لگے۔ سوشل میڈیا پر کون سی تحریر پڑھی جائے گی اور کون سی اسکرول کرکے آگے بڑھا دی جائے گی، اس کا فیصلہ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ محض عنوان میں نیا پن ہو تو تحریر پڑھی ہی جائے؛ یہ گمان درست نہیں۔ نہ ہی محض تصویری بنیاد (امیج بیسڈ) پر مبنی مواد لازماً توجہ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہی تحریر پڑھی جاتی ہے جو ایک نظر میں قاری کی گرفت میں آ جائے۔یہاں طویل تمہیدات کی گنجائش کم ہوتی ہے اور براہِ راست نفسِ مسئلہ پر گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عموماً مضامین میں ایک ہی موضوع کے متعدد پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کی اسکرین پر انہی میں سے کسی ایک نکتے کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح اخبارات میں مختصر مضامین پڑھے جاتے ہیں اور رسائل و کتب میں طویل تحریروں کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا مختصر اور جامع تحریروں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی دلچسپی کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بیشتر دلچسپیاں سمٹ کر موبائل تک محدود ہو گئی ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر توجہ ویڈیوز پر مرکوز ہے۔ یہ صرف ہمارے معاشرے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عمومی صورتِ حال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ہم کتابی ذوق کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے لیے محض فرد کو نہیں بلکہ پوری فضا کو بدلنا ہوگا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی مواد بڑی حد تک ویڈیوز کی صورت میں بچوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ کلاس کے نام پر زیادہ تر حصہ بصری مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ڈیجیٹل لرننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ سوچیں کہ اسکرین کی عادت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی تو یہ عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ بچے اور بڑے اب روایتی ٹیلی ویژن اسکرین سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کے دیوانے ہوتے تھے، مگر اب وہ اس سے ہٹ کر موبائل اور خاص طور پر مختصر ویڈیوز کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ’کنٹرول‘ معلوم ہوتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اسکرین پر اپنی مرضی اور اختیار چاہتے ہیں،کیا دیکھنا ہے، کب دیکھنا ہے اور کتنی دیر دیکھنا ہے،یہ فیصلہ وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہی اختیار انہیں موبائل کے ذریعے میسر آتا ہے۔

اب جب یہ نفسیاتی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ حکومتی سطح پر فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فون کے استعمال کو کسی نہ کسی درجے میں قبول کر لیا گیا ہے۔ وہاں بچے وقتی طور پر اسکرین کی دنیا سے باہر ہوتے ہیں، لیکن گھر پہنچتے ہی انہیں ایسا ہوم ورک ملتا ہے جو موبائل یا انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ الغرض ہر طرف موبائل کی یلغار ہے اور دلچسپی کا سارا سامان اسی میں مہیا ہے۔ گویا ہماری بیشتر ضروریات اسی ایک آلے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں اور انسان ایک غیر فطری اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ جب تک ہم سنبھلنے کی کوشش کریں گے، تب تک ہمارے اذہان کن سانچوں میں ڈھل چکے ہوں گے، اس کا ہمیں خود بھی احساس نہ ہوگا۔

اس ڈیجیٹل دور میں ادبِ عالیہ اور دیگر ادبی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جو کچھ اسکرین پر مقبول ہے، ادبی میدان کی معروف شخصیات بھی اسی طرز کو اپنانے لگی ہیں۔ اصل محرک اب بھی ’دلچسپی‘ ہے۔ جو مواد زیادہ توجہ حاصل کرے گا، وہی رواج پائے گا۔ چنانچہ معیار بدل گئے ہیں؛ میگی سے لے کر رِیل تک ہر چیز کم وقتی اور فوری اثر کی حامل ہو گئی ہے۔

جب ہم نفسیاتی پہلو سے بچوں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنی مفید ہے، اتنی ہی تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں،یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تفصیلی جائزہ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب بھی برقرار ہے کہ کسی بھی فن کی بنیادی شرط جاذبیت ہے۔ اسی لیے اردو ادب میں عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کو بیان کیا گیا اور دلچسپ حکایات و واقعات کے ذریعے فلسفہ اور اخلاق کی بات سمجھائی گئی، تاکہ ذہن پہلے متوجہ ہو اور پھر معانی کی گہرائی تک رسائی حاصل کرے۔

آج بھی ہم فنون کو وقت دیتے ہیں، مگر فن کا معیار اور اسلوب بدل چکا ہے۔ ’کنٹنٹ‘ آج بھی اہم ہے اور مختلف النوع دلچسپ مواد کے ذریعے فنکار عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب میں موضوعات کی مؤثر اور دلکش پیشکش میں کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ہمارا رجحان کم ہو رہا ہے؟ کہانیوں میں زبان و بیان کا سطحی پن کب تک جاری رہے گا؟ اشعار میں حقیقی شعریت اور تغزل کی تلاش کب تک باقی رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بچوں کو ایسی معیاری اور دلکش تخلیقات کیوں فراہم نہیں کر پا رہے جن کی طرف وہ خود بخود راغب ہوں؟

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ بے شمار افراد اس کے ذریعے اپنا کیریئر بنا رہے ہیں، مگر خالص اردو سے وابستہ حلقے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسکرین کی دنیا حقیقی کتابی دنیا کا بدل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’’ریختہ‘‘ ہے، جس نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا کر دنیا بھر میں اردو سیکھنے کا رجحان پیدا کیا اور ہزاروں افراد کو اردو سے جوڑا۔

تاہم یہ فائدہ زیادہ تر بالغ افراد تک محدود ہے۔ بچوں کے لیے اسکرین کا بے جا استعمال نہایت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو اسکرین کی دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے، ورنہ کئی ایسی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

آج کل آٹزم کا ذکر عام ہو چکا ہے۔ 2020ء کی بعض تحقیقات کے مطابق ایک سال یا اس سے کم عمر بچوں میں موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال بعد کی عمر میں نشوونما سے متعلق مسائل کے خطرات بڑھا سکتا ہے، جو عموماً تین سال کی عمر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نتیجتاً بعض بچے ہم جماعتوں سے الجھتے ہیں، توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں کمزور یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضدی پن اور چڑچڑے پن جیسے رویے بھی اس صورتِ حال سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موبائل اسکرین استعمال کرتے وقت آنکھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں خشکی اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اسکرین کی روشنی دماغی نظامِ نیند کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح طویل وقت تک موبائل پر جھکے رہنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن اور کمر درد یا جسمانی انداز میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے والے بچے سماجی میل جول میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے رویوں اور جذبات کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

2019ء میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں پر زور دیا گیا اور پانچ سال تک کی عمر میں اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود رکھنے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 18 ماہ سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ابتدائی عمر ہی میں احتیاط برتی جائے تو بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو بہلانے یا چپ کروانے کے لیے موبائل کا سہارا نہ لیا جائے، خاص طور پر اگر وہ دو سال سے کم عمر ہو۔ اس عمر کے بچے عموماً توجہ چاہتے ہیں، اس لیے انہیں وقت اور محبت دی جائے، اسکرین نہیں۔

اگر بچہ کچھ بڑا ہو تو اس کے اسکرین ٹائم کو باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ اس کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کا جسم اور ذہن متحرک رہیں اور توجہ اسکرین کی طرف کم ہو۔ والدین اگر شعوری طور پر بچوں کو ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف راغب کریں یا ان میں کسی مثبت مشغلے کا شوق پیدا کریں تو اسکرین کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً، ڈیجیٹل دنیا کے فوائد اپنی جگہ، لیکن توازن اور شعوری نگرانی ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی ضمانت ہے۔


از ڈاکٹر امیر حمزہ 

نائب مدیر سہ ماہی مژگاں کوکاتا 

www.mizgaan.in


Thursday, 31 July 2025

یائے مجہول: لفظ ، حرف یا علامت

 یائے مجہول: لفظ ، حرف یا علامت 

ڈاکٹر امیر حمزہ


جس طرح کوئی زبان اچانک وجود میں نہیں آتی ہے اسی طرح سے کسی بھی زبان کا رسم الخط بھی اچانک وجود میں نہیںآتا ۔ پہلے زبان اپنا تشکیلی دور طے کرتی ہے ، اسی دورمیں وہ کسی رسم الخط میں ڈھلنا ہونا شروع ہوتی ہے اور اسی تشکیلی دور میں حروف تہجی کی بھی تشکیل  شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ کسی بھی زبان میں لازمی نہیں کہ وہ زبان جن اصوات کی نمائندگی کرتی ہے اس کے حروف تہجی بھی انہی اصوات کی نمائندگی کو مد نظر رکھ کر تشکیل دیے جائیں ۔ ایک ہی صوت کے لیے کئی حروف بنتے ہیں یابن سکتے ہیں ، جبکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی صوت کے لیے کوئی ایک تنہا حرف بھی نہیں ملتا تو اس کے لیے مرکب حروف کی مدد لینی پڑتی ہے ۔یہ کہانی ہر زبان کی ہے ۔ اردو میں بھی یہی صورت حال ہے جہاں حروف تہجی کی دنیا الگ اور اصوات کی دنیا الگ ہے ۔ اردو زبان کی یہ خوش نصیبی رہی ہے کہ اسے اکثر حروف عربی اور فارسی سے مل گئے ۔ عربی سے ا، اب ، ت ، ث ، ج ، ح ، خ ،د ، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک، ل، م ، ن ، و، ہ، ی۔ اٹھائیس حروف عربی سے مل گئے۔ فارسی سے چار حروف پ، چ ، ژاور گ مل گئے ۔ ہمزہ مختلف فیہ ہے ،لیکن میں اسے حر وف تہجی میں شکلا و صوتاً دونوں اعتبار سے شامل مانتا ہوں، تو کل تینتیس حروف تو ماقبل کی زبانوں سے ہی مل گئے ۔ باقی تین حروف ہم نے تین مقامی آوازوں کے لیے ٹ، ڈاورڑ تشکیل دیے۔ کل ہوگئے چھتیس حروف تہجی ۔ اب بھی ایک حرف باقی ہے جو ’ے‘ ہے ،یہ ہمارے یہاں بہت بعد میں ابتدائی قواعد کی کتابوں میں شامل ہوا ۔بقول محمد انصاراللہ 

’’یاے معرو ف اور مجہول کا مسئلہ بھی عربی اورفارسی میں اس طور پر نہیں ہے جس طرح اردو میں ہے ۔ انیسویں صدی کے وسط تک اردو میں بھی ان کو الگ الگ حرف کی حیثیت حاصل نہ تھی البتہ قرائن اس بات کے ملتے ہیں کہ اُس وقت اِن دونوں میں فرق کا احساس عام طور سے پیدا ہوچکا تھا ۔اُس صدی کے ربع ثالث میں ان کوالگ الگ حرف کی حیثیت حاصل ہوگیی تھی ۔‘‘(اردو کے حروف تہجی ، محمد انصاراللہ ، 1972 ،ص:36)

اس اقتباس سے واضح ہورہا ہے کہ 1860-70 میں اسے حروف تہجی کے طور استعمال میں لایا گیا ۔ لیکن میں جس بحث کی جانب بڑھ رہا ہوں وہ کچھ مختلف ہے ، میں اس سوال کوحل کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ جب تمام حروف صوتی طور مصمت ہوتے ہیں اور ہرحروف کی اپنی الگ اور منفر دشناخت ہوتی ہے تو  یائے مجہول کس شناخت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے اور جب وہ اپنی شناخت میں گم ہو جاتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یائے مجہول بطور حرف تہجی کوئی حرف ہے ، بطور لفظ کوئی لفظ ہے یا بطورعلامت کوئی حرکت ہے ؟ ان تینون کی بنیادی باتیں پہلے جان لیتے ہیں ۔ لفظ وہ ہوتا ہے جو اپنے اندر معنی رکھتا ہے ، جیسے آنا سے آ بھی ایک لفظ ہے ۔ حرکت زبر زیر اور پیش کو کہتے ہیں یہ کسی نہ کسی حرف پر ہی آتی ہیں یہ تنہا کبھی بھی عمل نہیں کرتیں ۔ علامت اس میں جزم ، مد، کھڑا زبر اور کھڑی زیر الٹا پیش اور تنوین وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بھی کسی نہ کسی حرف پر ہی آتے ہیں ۔ ان سے یہ واضح ہوگیا کہ حر کات اور علامات حرف پر ہی آتی ہیں ۔ 

اس بحث کی جانب بڑھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب اردو کے مختلف دانشوروں کے یہاں ’ ے‘ پرمختلف تجربات دیکھے تو مجھے تشویش ہوئی کہ ضرور کسی زمانے میں اس پر آفت آئی ہوگی۔ اس لیے ’ے ‘ اپنی شناخت کے لیے آج بھی پر یشان حال ہے۔اس مسئلہ کی تلاش کے لیے سب سے پہلے بچوں کے قاعدے کی تقریبا پندرہ کتابوں پر نظر ڈالی تو سبھی جگہ پریہ اپنی شکل میں’ے‘ ی کے بعد موجود ہے ۔ہمارے یہاں کے جتنے بھی لسانی علماء گزرے ہیں اتفاق سے ان سبھی کے یہاں یہ حروف تہجی میں شامل ہے ۔کسی نے بھی اسے حروف تہجی سے خارج نہیں کیا ہے ۔ لیکن میری پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب اسے حرف، لفظ اور علامت (حرکت )تینوں صورتوں میں مختلف مقامات پر مستعمل پایا۔ حرف کے طور پر آپ جانتے ہی ہیں جیسے آئے ، گئے وغیرہ میں ’ے ‘ہے۔

بطور لفظ اس کا استعمال اب تک کہیں بھی میری نظر سے نہیں گزرا تھا لیکن ظفرکمالی نے اپنی رباعیوں کے دیوان میں خطاب کے لیے ’اے ‘ لفظ/ حرف مخاطب کے لیے صرف ’ ے ‘ لکھا ہے ۔’’ے موت بتاوفات کیا ہوتی ہے ‘‘ (خاک جستجو، ظفرکمالی ، عرشیہ پلی کیشنز،ص:231) اب تک میری دانست کے مطابق اردو کا سب سے چوٹا لفظ ’ ’آ‘ ‘ تھا ۔ (اگرچہ مہذب زبان میں آؤ، آئیے اور آئیں استعمال ہوتا ہے )لیکن یہ ’ ے‘  میرے لیے سراسرچونکانے والا معاملہ تھا کہ اسے بطور لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے ۔

یائے مجہول حرف کے طور پر جس طرح استعمال ہوتا ہے اس تعلق سے ہم سبھی جانتے ہیں ۔یعنی جب ہمیں آئے، گئے ، جیسے ، کے لیے اور کیلے لکھنا بولنا ہوتا ہے تو ہم یائے مجہول استعمال کر تے ہیں۔ سبھی میں یائے مجہول بطور شکل واضح طور پر نظر آتی ہے لیکن آخری مثال ’کیلے ‘ میں دو یائے مجہول لفظاً ہیں مگر شکلاً ایک ہی نظر آتی ہے ۔ یہاں پر یہی دھیان میں رکھنا ہے کہ ایک ہی لفظ میں دو یائے مجہول استعمال ہوئی ہیں لیکن پہلے کی شکل محض’ ی‘ کی ہے جبکہ دوسرے میں یائے مجہول ہی ہے۔یہاں واو کی طرح ایک ہی شکل مجہول و معروف دونوں کے لیے مستعمل نظر آرہی ہے ۔

یائے مجہول علامت اضافت کے طور پر بھی مستعمل ہوتا ہے اور یہ ان لفظوں میں آتا ہے جن کے آخر میں الف ہواو ر اس لفظ میں اضافت کی ضرورت پیش آجائے تو درمیان میں یائے مجہول لکھتے ہیں جیسے ، رہنمائے دکن‘  تو اس تعلق سے اکابرین ادب کے کیا نظر یات ہیں اس پر نظر ڈالتے ہیں : 

غالب یائے تحتانی کے سلسلے میں مرزا تفتہ کو ایک خط میں تین قاعدے لکھتے ہیں، جن میں سے پہلا وہ یائے مجہول ہے جو جزو لفظ ہے۔ جب کہ دوسرا وہ ہے جو اضافت میں استعما ل ہوتا ہے۔ اسی میں وہ یائے مجہول کی حقیقت بیان کرتے ہیں میں یہاں وہی حصہ پیش کرنا چاہوں گا ۔ غالب لکھتے ہیں:

(ب)  دوسری یا تحتانی مضاف ہے۔ صرف اضافت کا کسرہ ہے۔ ہمزہ وہاں بھی منحل ہے، جیسے آسیاے چرخ یا آشناے قدیم - توصیفی، اضافی، بیانی، کسی طرح کا کسرہ ہو ہمزہ نہیں چاہتا۔ فداے تو شوم، رہنماے تو شوم، یہ بھی اسی قبیل سے ہے۔‘‘ (بحوالہ ، حروف تہجی : تشکیل و ردتشکیل ، صباح الدین احمد ،ص: ۸۔عرشیہ پلی کیشنز ، دہلی ) 

اس اقتباس میں ایک جملہ ’’ صرف اضافت کا کسرہ ہے ‘‘ بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔یہا ں غالب صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ اضافت میں یائے مجہول محض کسرہ کے مقام پر فائز ہے ۔ لیکن سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ جب حرکات کا اطلاق حرف کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے تو پھر یہاں یائے مجہول اگر اضافت کا کسرہ ہے تو وہ کسرہ کس حرف کا ہے ؟ یا اسے قدیم املا پر محمول کریں جہاں پر پیش کے لیے کہیں کہیں واو لکھا جاتا تھا۔ اگر ایسا ہے تواس کے لیے بھی ماقبل میں کوئی حرف درکار ہوگا۔ جیسے اُس کا قدیم املا اوس تھا جس میں واو الف کے تابع تھا ۔ایسے میں اس یائے مجہول کو کس کے تابع رکھیں گے ۔

اردو لغت بورڈ کا فیصلہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ یائے مجہول پر کس نوعیت کا تجربہ روا رکھتے ہیں :

’’(ک) الف یا واؤ پر ختم ہونے والے عربی اور فارسی الفاظ کے مضاف ہونے کی حالت میں جو بڑی ’ے‘ علامت اضافت کے طور پر آتی ہے اس پر ہمزہ نہیں بنایا گیا، جیسے: ’ابتداے کار‘،’عدوے حق‘،’ سراے فانی‘، ’جوے خوں‘ وغیرہ۔‘‘(اردو لغت ، تاریخی اصول پر ،ترقی اردو بورڈ کراچی ، ص: ذ)۔

یہاں انھوں نے صاف لکھ دیا کہ ’ے ‘ علامت اضافت طور پر آتی ہے ۔ گویا یہ علامت ہے ۔ لیکن اردو میں تو علامت اضاف صرف اور صرف زیر ہی ہے اور یہ بھی ہم نے بعینہ فارسی سے لیا ہے ، پھر یہ فیصلہ کب صادر ہوا کہ اردو میں زیر کے علاوہ یائے مجہول بھی علامت اضافت ہے ۔ ہاں ہمارے یہاں جملوں کے لیے حرف علامت کا ، کے اور کی ہیں۔

گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں :

’’ اگر مضاف کے آخر میں الف، واویا یائے مجہول ہے تو اضافت ئے سے ظاہر کرنی چاہیے: صدائے دل، نوائے ادب‘‘ (املا نامہ ۸۶: )

یہاں ہمزہ اور یائے مجہول دونوں علامت اضافت کے لیے استعمال ہورہے ۔آخر کیوں ؟ دو حرف ایک ہی کام کے لیے کیوں استعمال کیے جائیں ؟پھر یہ سوچنا ہوگا کہ یہاں کون سا حرف ہے اور علامت اضافت کے متبادل کے طور پر کسے استعمال کیا گیا ہے ۔ اس سے ہمارا سوال تو قائم ہوتا ہے، لیکن اس سوال کا جواب گوپی چند نارنگ اسی کتاب کے اسی صفحہ پر کچھ یوں دیتے ہیں: ’’ اگر مضاف کے آخر میں ہائے خفی ہے تو اضافت ہمزہ سے ظاہر کرنی چاہیے : خانۂ خدا ، جذبہ ٔ دل ‘‘ ۔ ان دونوں سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ دونوں میں قدر مشترک ہمزہ ہے تویہاں معلوم ہوا کے اضافت کا عمل ہمزہ سے ہورہا ہے ۔ گویا اس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ یائے مجہول اور ہائے خفی علامت اضافت نہیں ہیں ۔

اردو املا کے مسائل کا حل میں غلام رسول املا کے مسائل کا سوال و جواب کے انداز میں تحریر فرماتے ہوئے گیارہواں سوال اس طرح قائم کرتے ہیں.

سوال: آیا اضافت کے وقت ان الفاظ کے بعد جن کے آخر میں الف یا واد ہے، بڑی (ے) کے بغیر ہمزہ لکھنا چاہیے؟ مثلاً: داناے روزگار، خوے دوست، علماے کرام (واضح رہے کہ اکثر اہل علم عربی کے ان الفاظ میں جن میں ہمزہ پایا جاتا ہے، ہمزہ کے نیچے کسرہ دے دیتے ہیں۔ جیسے: علماء کرام، ابتداء آفرینش وغیرہ)۔

جواب : ایسے الفاظ، جن کے آخر میں الف یا و او آئے، ان کو اضافت کی صورت میں ہمزے کے ساتھ بڑی (ے) بڑھا کر لکھنا چاہیے۔ اس کے برخلاف جو عمل ہے وہ بے قاعدہ ہے۔ صحیح املایوں ہے، جیسے: دانائے روزگار، خوئے دوست علمائے کرام اور ابتدائے آفرینش وغیرہ۔ (بحوالہ ، حروف تہجی : تشکیل و ردتشکیل ، صباح الدین احمد ،ص:۳۰۔عرشیہ پلی کیشنز، دہلی) 

محولہ بالا عبارت میں قوسین میں جو عبارت لکھی ہوئی ہے وہ عربی علما کے طبقے کے املا کی نمائندگی کرتی ہے ۔انھوں نے یہاں عربی علما محض اختصاص کے لیے لکھا ہے جب کہ جس زمانے میں غلام رسول اپنی کتاب لکھ رہے ہیں وہی لوگ فارسی علما بھی تھے اور جس طریقے سے آج کے زمانے میں ترسیلی زبان اردو ہے ، اس زمانے میں کسی حد تک فارسی تھی تو وہ فارسی علمابھی تھے ۔ یقینا فارسی میں اضافت میں ہمزہ اور ے ساتھ لکھنے کا رواج رہا ہے لیکن علما نے چند میں اختصاص بھی رکھا تھا جہاں اضافت ہمزہ کے نیچے صرف زیر سے اداکی جاتی ہے اور’ ابتداء زمانہ‘ آج بھی مستعمل ملتا ہے ، علماء کرام و ابتداء زمانہ جیسی بہت سی تراکیب ایسی ہی لکھی جاتی ہیں ۔ مجھے جہاں تک سمجھ میں آتا ہے کہ جیسے آج کل جہلا اضافت میں جشن اردو کو ’ جشنے اردو ‘ لکھنے لگے ہیں ویسے ہی یائے مجہول کی شروعات ہوئی ہوگی جو اب مستند ہوچکی ہے ۔ لیکن خیال رہے کہ یہاں بھی اضافت ہمز پر ہی عمل میں آرہا ہے خواہ وہ زیر سے ہویا ’ے ‘ سے ۔ 

یائے مجہول کے استعمال میں رشید حسن خاں کی راے کچھ اس طر ح ہے :

’’ جب ایسے لفظ مضاف یا موصوف ہوں ، اس صورت میں بھی ہمزہ نہیں آسکتا ۔ جس طرح زندگی کی یاے معرو ف پر اضافت کا زیر آتا ہے اور ’’زندگیِ ‘‘ پڑھا جاتاہے ، اس طرح راے کی یاے مجہول مکسور فر ض کر لی جائے گی ،ہمزہ نہ یاے معروف پر آئے گا نہ یا ے مجہول پر ۔ ہاں، اس یاے مجہول کے آگے زیر لگانے کی ضرورت نہیں ۔ جیسے راے عالی ، براے خدا…‘ ‘  (اردو املا، ص : ۴۰۶) 

اس پورے اقتباس میں اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ یائے معروف میں اضافت کے لیے زیر کا حکم ہے اور مجہول میں یائے مجہول کو زیر فرض کرلینے کو کہا جارہا ہے ۔یعنی اضافت کی علامت زیر ہی ہے اور زیر حرکت ہے ، حرکات حرف میں عمل کرتی ہیں پھر معروف میں ی پر عمل کررہا ہے اور مجہول کو اگر زیر ہی فرض کرلیتے ہیں تو وہ پھر وہ زیر کس حرف پر لگا ہوا ہے ۔ یہ ایک تکنیکی سوال تو قائم ہو ہی ہورہا ہے ۔ 

یائے مجہول پر عمل در آمد میں شمس الرحمن فاروقی کا نظریہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے: 

’’جن لفظوں کے آخر میں الف ہے، ان کے لیے علامت اضافت بڑی ے ہے۔ اس بڑی ے پر ہمزہ لگانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس سے کام بڑھتا ہے اور کوئی خاص مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ آج کل چوں کہ دونوں طرح رائج ہے (یعنی بڑی ے سے بلا ہمزہ بھی لکھتے ہیں اور مع ہمزہ بھی لکھتے ہیں)، اس لیے دونوں صورتیں درست ہیں۔ لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ پوری عبارت میں اس التزام کو برقرار رکھا جائے۔ یہ غلط ہے کہ کہیں بڑی ے بلا ہمزہ لکھیں اور کہیں مع ہمزہ لکھیں۔ لہذا یہ دونوں صورتیں درست ہیں لیکن پوری تحریر میں ایک ہی طرز کی پابندی کریں‘‘ (سہ ماہی اردو ادب ، اپر یل ۲۰۱۶)

فاروقی صاحب صرف روایت کی بات کرر ہے ہیں کوئی قاعدہ ٔکلیہ نہ نافذ کررہے ہیں اور نہ ہی اس جانب اشارہ کررہے ہیں ۔ 

یہاں تک کے اقتباسات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ہمارے اکابرین زبان و ادب نے یائے مجہول کو حالت اضافت میں محض علامت اضافت کے طور پر ہی دیکھا ہے ۔ اس بات سے میں بھی متفق ہوں کہ یہ علامت اضافت کے بدل کے طور پر کام کر تا ہے اور ہم سبھی جانتے ہیں کہ علامت اضافت زیر ہی ہے زیر کے سوا ہمارے یہاں اردو کے لیے کا کے اور کی علامت اضافت ہیں۔  علامت اضافت زیر کی اسی وقت ضرورت پڑتی ہے جب ہم جملو ں کو فارسی ترکیب کے اعتبار سے برتتے ہیں ۔ تو زیر محض ایک حرکت ہو تی ہے اور حرکت ہمیشہ حروف پر عمل کرتی ہے ، لیکن ماقبل کے سارے مقامات پر جہاں بھی یائے مجہول کو علامت اضافت ماناگیا ہے اس پر کون سی حرکت ہے جو عمل میںآرہی ہے ، آپ کہیں گے کوئی بھی حرکت نہیں ہے کیونکہ وہ تو خود ہی حرکت کے مقام پر قائم ہے ۔ بالکل بات درست ہے ۔ اب سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ جب ہم نے اسے حرکت مان ہی لیا ہے تو پھر کون سا حرف ہے جس پر حرکت عمل میں آرہی ہے ۔ ماقبل کا الف(داناے روزگار ) اور واو (بوے گل ) پر تو حرکت ہے ہی نہیں، پھر یائے مجہول بطور حرکت کس پر قائم ہے ؟ کسی پر بھی نہیں ۔ چلیے اب یائے مجہول کو حرف مان لیتے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر یہ علامت کی صف میں  کیوں قائم رہے گا ۔ کیا کوئی حرف ہے جو بطور علامت استعمال ہوتا ہے ؟ چلو ہم اسے حرف مان ہی لیتے ہیں تو ضرور اس پر حرکت عمل پیرا ہوگی کیونکہ الف سے لے کر ی تک سبھی حرف حرکت قبول کرتے ہیں الف ، واو اور یا بھی بطور مصمتہ تینوں حرکت قبول کرتے ہیں ، ایسے میں اگر ہم یائے مجہول کو حرف مان لیتے ہیں تو ضرور یہ بھی حرکت قبول کرے گی ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ یائے مجہول پر کہیں زبر زیر یا پیش دیکھا ہے ۔ پھر یہ کو ن سا حرف تہجی ہے جو حرکت ہی قبول نہیں کرتا ہے جبکہ ہمزہ جسے بہت سارے ہمارے پیش رو حرف تہجی ماننے کو تیار نہیں وہ تینوں حرکت قبول کرتا ہے ۔ ماقبل کے تمام مثالوں میں جہاں بھی یائے مجہول پر  ہمزہ  قائم ہے وہاں وہ زائد نہیں ہے بلکہ ایک حرف کے طور پر اپنی موجودگی درج کرارہا ہے اور اس کے نیچے یائے مجہول بطور حرکت زیر کا کام کررہا ہے ۔ اس لیے الف یا واو کے بعد اضافت میں ہمزہ پر زیر اصل ہے اب وہ زیر (اضافت کے موقعوںپر) ’ے ‘ سے بدل گیا ہے ۔ 

اب ایک نئی بحث کی جانب بڑھتے ہیں جس تعلق سے مجھے کہیں بھی پڑھنے کو نہیں ملا وہ یہ ہے کہ اردو کے حروف تہجی کی فطری حرکت کیا ہے ۔ آپ اس کو دوسری زبانوں کے مقابلے میں دیکھیں گے تو پائیں گے کہ جس طرح عربی و فارسی کے حروف کی کوئی فطری حرکت نہیں ہے اسی طرح اردو کی بھی نہیں ہے ۔ یہی حال انگریزی کا بھی ہے۔ وہاںبھی حرکات کی ادائیگی واویل سے کی جاتی ہے لیکن دیوناگری میں حروف تہجی کی فطری حرکت آپ کو دیکھنے کو ملتی ہے جیسے قلم لکھیں گے تو آپ کو ق اور نہ ہی ل کے لیے کسی ماترا کی ضرورت ہوگی جب کہ مِلن میں آپ کو م کے لیے چھوٹی ماترا کی ضرورت پڑے گی ۔ اسی طریقے سے پین کے لیے ہم ی لکھتے ہیں جو ’ے‘ کی مصوتہ کی نمائندگی کرتا ہے ۔ یہاں تو آپ سمجھ رہے ہیں کہ اردو میں کسی بھی حرف کی کوئی فطری آواز نہیں ہے لیکن ’ے‘ کو ایک ایسا حرف مانا جارہا ہے جس کی فطری کیفیت ادائیگی(مصوتہ) بھی ہے اور وہ ’اے ‘ ہے ۔نیز آپ کو معلوم ہے کہ مصوتہ کی شناخت و ادائیگی حرکات اورحروف علت سے ہوتی ہے اور اردو میں حروف علت’ ’ ا، و، ی ‘‘ ہیں ۔الف کی دو کیفیت ہیں ، امن ، آم۔ واو کی تین آوازیں ہیں ، دو، دوڑ، دور۔ ی کی بھی تین آوازیں ہیں عینک ، ایڑ ی ، اینٹ ۔تینوں میں ی درمیانی حرف ہیں اگر آخری حرف کے طور پر دیکھیں تو اس کی صورت یوں بنتی ہے ’ درپَے، کیلے ‘ تو پھر یہ دوحرف نہیں بلکہ ایک ہی ہوئے جن کی مختلف مقامات میں مختلف شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد انصار اللہ اپنی کتاب ’’ اردو کے حروف تہجی میں ‘ یائے مجہول کو انیسویں صدی کے وسط میں استعمال میں لایا گیا حروف تہجی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی کتاب میں جب وہ ہندی کے بالمقابل ماتراؤں کا ذکر کرتے ہیں تو ’اِے اور اَے ‘ کو بھی شمار کرتے ہیں ۔ان تمام مباحث کے بعد ’ے‘ کواگر ہم نو ن غنہ کی نوعیت میں لائیں تو زیادہ واضح ہوجائے گا کہ آخری لفظ میں نون غنہ اپنی الگ شکل رکھتا ہے اور درمیان میں ن ہوتا ہے ۔ باکل یہی حال ’ے ‘ کا ہے کہ درمیان میں ی سے بدل جاتی ہے اور آخر میں اپنی ایک الگ شکل رکھتی ہے ۔ میرے خیال میں جس طرح نون غنہ کوئی حر ف نہیں صرف ایک کیفیت صوت کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح ’ ے ‘ بھی کوئی حرف نہیں ہے بلکہ محض ایک کیفیت صوت کی عکاسی کرنے والی صورت ہے جو مجہو ل زیر ِطویل و زیر خفیف کی نمائندگی کرتی ہے ۔



Monday, 5 May 2025

چارباغ (مجموعہ ٔ رباعیات)

  نام کتاب : چارباغ (مجموعہ ٔ رباعیات)



شاعر :ظفر انصاری ظفرؔ   - صفحات :۱۶۸ -   اشاعت: ۲۰۲۳-    ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 

مبصر : ڈاکٹر امیر حمزہ 

 ڈاکٹر ظفر انصاری ظفرؔ ایک عرصے سے در س وتدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ ان چنندہ افراد میں سے ہیں جو تخلیقی جوہر سے بھی مزین ہیں ۔ شاعری ان کا تخلیقی میدان ہے اب تک ان کے سات شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں، اس سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بسیار گو اور زود گو بھی ہیں ۔ درس و تدریس میں تنقید کی دنیا سے وابستہ ہونے کے باوجود جہاں کمیت سے زیادہ کیفیت کو فوقیت دی جاتی ہے پھربھی انہوںنے اپنے لیے تخلیقی وفور میں کوئی کمی نہیںآنے دی نیز رباعی جیسی اہم صنف سخن میں مشق کی اور ایک مجموعہ بھی شائع ہوا ۔ اس صنف سخن کو اکثر ادیب اور شعرا نے بہت ہی پیچیدہ سمجھا ہے، جوش تو عمر پیغمبر ی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اکیسویں صدی میں کئی نوعمر و تازہ کار ایسے شعرا ملے جو رباعی میں اپنی پہچان بنارہے ہیں، بلکہ ان کا پہلا مجموعہ بھی رباعی کا ہی ہے۔ ایسے میں کہاجاسکتا ہے کہ رباعی کا شمار آج کے دور میں مشکل اصناف میں نہیں ہوتا ۔ غزلوں کے بعد ظفر انصاری نے رباعی کی جانب بالقصد ارادہ کیا ۔ اس کتاب کے حرف تشکر میں انہوں نے خود ہی لکھا ہے کہ کورونا کے دور میں رباعی کے فن سے آگاہی حاصل کی اور رباعیاں بھی تخلیق کیں، صرف تین سال کی مدت میں ان کا یہ رباعیوں کا مجموعہ شائع بھی ہوا ۔ کتاب کے دونوں فلیپ میں ڈاکٹر جاوید رحمانی کی تاثراتی تحریر ہے۔ مجموعے کے شروع میں بطور تقریظ ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی کی ایک تنقیدی تحریر بعنوان ’’ باغ رباعی کا دیدہ ور شاعر : ظفر انصاری ظفر ‘‘ اس مجموعے کی اہمیت میں اضافہ کررہا ہے ۔اس مضمون میں انھوں نے ’چار باغ ‘ پر جو رائے قائم کی ہے وہ کچھ اس طرح ہے ’’ چار باغ ظفر انصاری کی رباعیات کا اولین نقش ہے جس کے محتویات دلکش اور پرکشش ہیں۔ رباعیات میں مختلف و متفرق نوعیت کے شعور و آگہی کو کچھ اس طرح ہم آمیز کیا ہے کہ یہ رباعیاں فکرو احساس ، تہذیبی و ثقافتی وراثت اور تخلیقی وژن کی نمائندگی کرتی نظرآتی ہیں ۔ انہوں نے ذات و کائنات کے بیشتر تجربات کو اپنی رباعیات کا حصہ بنایا ہے ۔ادب و فلسفہ ، سیاست و حکمت ، اخلاق و ایثار رومان و حکمت ، ساقی و شراب ، مذہب و تصوف اور حمد و نعت وغیر ہ جیسے موضوعات کو …شعری فراست و دانائی ا ظہار یہ بنا دیا ہے ۔ سادگی و پر کاری اور جوش و جذبہ دونوں کی عکاسی کی ہے ۔ سر شاری و مستی کے ساتھ ساتھ بے ساختگی کی کیفیت بھی جا بجا نظرآتی ہے ۔ ‘‘ اس کے علاوہ بھی اس مجموعے میں شامل رباعیوں کے متعلق کئی باتیں تحریر کی گئی ہیں ۔ اگر عاصم شہنواز شبلی کے مذکورہ بالادعوں پر استشہادی گفتگو کی جائے تو یہ تبصرہ نہ ہوکر ایک طویل مقالہ ہوجائے گا ۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ کتاب میں شامل ایسی تحریریں کتاب یا فن پارہ کی اہمیت و افادیت میں اضافہ کرتی ہیں ۔ اب نفس متن پر نظر ڈالتے ہیں ۔شروع میں راویت کے مطابق حمدیہ رباعیات ہیں جس میں خدائے بزرگ و برتر کی شان کریمی ، شان رحیمی اور دعا بھی ہے ۔ پھر نعتیہ رباعیاں ہیں اس میں حدیث کا مضمون اور دیگر نعتیہ مضامین بھی ہیں ۔ نعتیہ رباعیوں کی تعداد حمدیہ رباعیوںسے کافی زیادہ ہے ۔ اس کے بعد منقبتی رباعیات میں صدیق اکبر پر دورباعیاں ، عمر و عثمان پر ایک ایک رباعی ، حضرت علی پر کئی رباعیاں ، امیر معاویہ پر دورباعیاں حضرت عائشہ اور حضر ت حسین پر بھی رباعیاں ہیں ۔ ان سب پر کوئی عنوان نہیں ہے، اسی وجہ سے ایک ہی موضوع کی رباعیاں مختلف مقامات پر بھی نظر آجاتی ہیں ۔ان موضوعات کے بعد جو رباعی رقم ہے وہ کچھ اس طرح ہے :

 کچھ لطف نہ باقی زندگانی میں ہے 

دل مضمحل اس دار ِ فانی میں ہے 

کر سکتا نہیں جس کو بیاں میں تجھ سے

وہ حال مرا عہدگرانی میں ہے 

 مذکورہ بالا رباعی عام موضوعات پر پہلی رباعی ہے جو یاسیت کی کیفیت سے بھرپور ہے لیکن اس کے بعد امید کی فضا قائم کرتے ہیں اور کئی عمدہ رباعیاں یکے بعد دیگرے پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ یہاں میں ایک اور رباعی نقل کرنا چاہتا ہوں جو عمومی موضوعات کی دوسری رباعی ہے اور ایک انوکھے موضوع پرہے ۔ رباعی ملاحظہ فرمائیں:

یہ قصہ غم ناک سنانے دے اسے 

یہ زخم تمنا تو دکھانے دے اسے 

اے موت ! تجھے اتنی بھی جلدی کیا ہے 

رک ، بہر عیادت ذرا آنے دے اسے

موضوعات پر نظرڈالتے ہیں تواس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں وسعت کے ساتھ تازگی اور حسن بھی نظر آتاہے ۔ حسن و عشق میں سراپا نگاری کے ساتھ جزئیات کی عکاسی بھی خوب ملتی ہے ۔ محبوبہ کا ستم ہے تو اس کی عنایات کا ذکر بھی ہے ۔بدلتی ہوئی انسانی فطرت ہے تو ماں کی بے محابہ محبت بھی ہے ۔ خوبصورت امیجری دیکھنے کو ملتی ہے تو محبوبہ کی پرستم آنکھیں بھی نظر آتی ہیں ۔روز بروز بگڑتے ہوئے حالات ہیں تو عدلیہ کا موجودہ رویہ بھی نظر آتا ہے ۔تہذیب کی نمائندگی ہے تو کہیں کہیں فلسفہ کی عکاسی بھی نظر آتی ہے ۔ الغرض اس ’ چار باغ ‘ میں موضوعا ت کی کہکشاں نظرآتی ہے جو یقینا رباعی کے لیے خوش کن ہے۔ اس کا دوسرا حصہ شخصی رباعیات پر مشتمل ہے ۔چند برسوں سے اس جانب زیادہ رغبت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ کہاجا تا ہے کہ شخصی رباعیات تخلیق کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے ۔لیکن یہ بھی سبھی کے علم میں ہے کہ رباعی وہی اچھی ہوتی ہے جس میں صرف ایک ہی موضوع کی عکاسی کی گئی ہو ۔ رباعی خاکہ نگاری کا نام نہیں بلکہ کسی ایک نکتہ کو بیان کرنے کا نام ہے ۔ عمدہ رباعیوں کے خالق ظفر انصاری ظفر یقینا مبارکباد کے حقدار ہیں کہ وہ اس صنف خاص سے اردو ادب کو سیراب کررہے ہیں۔ اگر وہ اسی جانب مزید سنجیدگی سے سوچیں تو یقینا نتائج بہت ہی عمدہ ہوں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعے میں املا نے مجھے خاصا پریشان کیا ، اکثر مقامات پر مرکب الفاظ کو مفرد بناکر (توڑ کر ) لکھا گیا ہے ۔ جب کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی رباعی میں دو مرکب الفاظ میں سے ایک کو توڑکر تو دوسرے کو مرکب لکھا گیا ہے۔ جبکہ مرکب لفظ کہتے ہی اسے ہیں جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہو۔ دوسرا یہ کہ اگر موضوعات کے اعتبار سے اس مجموعے کو ترتیب دیتے تو معنویت میں مزید اضافہ ہوتا ۔   


Friday, 25 April 2025

اردو کا ڈیجیٹل ارتقا اور مصنوعی ذہانت

 

اردو کا ڈیجیٹل ارتقا اور مصنوعی ذہانت 

ڈاکٹر امیر حمزہ 

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں جب ہم نے آنکھیں کھولیں تو زبان و ادب کے لیے مواصلات کے متعدد ذرائع ہمارے سامنے موجود تھے۔ دیہاتوں میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ریڈیو مواصلات کا سب سے اہم ذریعہ تھا جس کے ذریعہ خبریں، زبان و ادب سے متعلق پروگرامز اور مختلف قسم کے تبصرے لاکھوں سامعین تک پہنچتے تھے۔ اس کے بعد ٹیلی ویژن نے تیزی سے اپنی جگہ بنائی لیکن اُس دور میںریڈیو کو جو اہمیت اور وقار حاصل تھا، وہ ٹیلی ویژن کو نہ مل سکا کیونکہ ریڈیو پر زبان و ادب کو خاصی توجہ اور وقت دیا جاتا تھا، جبکہ ٹیلی ویژن کی دنیا میں، باوجود بصری سہولیات کے، ادبی مباحث کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ اس کا کمرشل ہونا ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ہم الیکٹرانک سے ڈیجیٹل مواصلات کی طرف منتقل ہوگئے اور ہمیں اس کا احساس تک نہ ہوا۔ آئیے، پہلے ان دونوں کے بنیادی فرق کو سمجھتے ہیں۔

الیکٹرانک کمیونیکیشن سے مراد معلومات (پیغامات، ڈیٹا، آواز یا تصاویر) کو الیکٹرانک آلات اور برقی سگنلز کے ذریعے منتقل کرنا ہے۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو ہر قسم کے برقی مواصلات کو شامل کرتی ہے، خواہ وہ اینالاگ ہوں یا ڈیجیٹل۔ تکنیکی طور پر، اس میں برقی سگنلز (الیکٹرک کرنٹ یا وولٹیج) کا استعمال ہوتا ہے جو معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ یہ سگنلز اینالاگ (مسلسل لہروں کی شکل میں) یا ڈیجیٹل (0 اور 1 کی شکل میں) ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات (جو پہلے اینالاگ تھیں، اب زیادہ تر ڈیجیٹل ہیں)۔

ٹیلی فون کالز (جو ابتدا میں اینالاگ سسٹم پر مبنی تھیں، اب موبائل فونز میں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں)۔

تار (ٹیلی گراف) جو خالص اینالاگ تھا، اس کی جدید شکل ای میل، واٹس ایپ یا دیگر انٹرنیٹ پر مبنی مواصلات ہیں جو ڈیجیٹل ہیں۔

الیکٹرانک کمیونیکیشن میں الیکٹرانک آلات جیسے تار، ٹرانسمیٹر، ریسیور، اور سرکٹس شامل ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر، یہ مواصلات کی ابتدائی شکل تھی، جیسے19ویں صدی کا ٹیلی گراف۔

ڈیجیٹل کمیونیکیشن الیکٹرانک کمیونیکیشن کا ایک مخصوص ذیلی حصہ ہے، جس میں معلومات کو بائنری کوڈ (0 اور 1) کی شکل میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ جدید مواصلاتی نظام کی بنیاد ہے۔ اس میں معلومات کو ڈیجیٹل سگنلز میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو متغیر  ہوتے ہیں، نہ کہ مسلسل جیسے اینالاگ سگنلز۔ اس کے لیے اینالاگ سے ڈیجیٹل کنورژن (ADC) اور ڈیجیٹل سے اینالاگ کنورژن (DAC) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جیسے انٹرنیٹ پر ای میل، ویڈیو کالز (جیسے زوم یا گوگل میٹ)۔موبائل فون کے ذریعے پیغامات (SMS، واٹس ایپ، ٹیلی گرام)۔ڈیجیٹل ٹیلی ویژن اور ریڈیو نشریات۔

ڈیجیٹل کمیونیکیشن کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ معلومات کو کمپریس کیا جا سکتا ہے جو اسے تیز اور موثر بناتا ہے۔ اس کے ذریعہ شور (noise) کے اثرات کم ہوتے ہیںکیونکہ ڈیجیٹل سگنلز کو دوبارہ بنایا (regenerate) جا سکتا ہے۔ جدید کمپیوٹرز، انٹرنیٹ، اور موبائل ٹیکنالوجی اس کی بنیادیں ہیں۔

الغرض ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ ہم کب الیکٹرانک سے ڈیجیٹل مواصلات کی طرف منتقل ہوگئے۔ جب ہم ڈیجیٹل کی طرف آئے تو روایتی ذرائع جیسے ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی ڈیجیٹل ہوگئے، لیکن اس سے زبان و ادب کے فروغ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا کیونکہ ان کا دائرہ کار محدود تھا اور ان میں ذاتی ترسیل کی سہولت موجود نہ تھی۔ تاہم، ذاتی کمپیوٹرکا استعمال زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک عظیم ذریعہ ثابت ہوا، جس کا تصور حدودِ امکان سے باہر تھا۔

جیسے ہی ذاتی کمپیوٹر کا دور شروع ہوا، ابتدائی طور پر ڈوس موڈ میں کام کیا گیا جو پرنٹنگ کے لیے موزوں نہ تھا لیکن جب ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کا دور آیا تو دنیا کی دیگر زبانوں کے ساتھ اردو نے بھی پیش رفت شروع کی اور اپنے لیے متعدد سافٹ ویئرز تیار کیے، جن میں سے ان پیج آج تک جاری ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ان پیج نے اشاعتی دنیا میں جو کامیابی حاصل کی، وہ اردو کے کسی دوسرے سافٹ ویئر کو نصیب نہ ہوئی۔ لفظوں کی ساخت کے اعتبار سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس نے بس اتنی ترقی کی کہ آج یونی کوڈ میں بھی موجود ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ جیسے جیسے کتابیں کمپیوٹرائزڈ ہوتی گئیں، وہ ڈیجیٹل دنیا کے لیے ایک ذخیرہ بنتی چلی گئیں۔ لیکن ڈیجیٹل دنیا میں اصل انقلاب اس وقت آیا جب ہم انٹرنیٹ کی دنیا سے روشناس ہوئے اور اس کا استعمال ہمارے لیے نہایت آسان ہوگیا۔

تاہم، اردو کے لیے ابتدائی مراحل ہرگز آسان نہ تھے۔ معلومات کے مطابق، 4 مئی 1994 کو سید ظفر کاظمی نے اردو شاعری کے لیے ایک نیوز گروپ شروع کیا، جس کا نام alt.language.urdu.poetry (ALUP) تھا۔ اس میں اردو سے متعلق بہت کچھ موجود تھا، سوائے اردو رسم الخط کے، کیونکہ اس وقت تک اردو یونی کوڈ وجود میں نہ آیا تھا۔ چار سال بعد، 1997 میں TrueType Font (TTF) تخلیق کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ اردو ویب سائٹس کو اس کے اصل رسم الخط میں پیش کیا جا سکے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ سید ظفر کاظمی کی ویب سائٹ میں صرف رومن رسم الخط استعمال ہوتا تھا۔ اسی سال عمیر خان نے اپنی ویب سائٹ Urduweb.comشروع کی، جس نے نہ صرف اردو فونٹ کا استعمال کیا بلکہ اردو میں ای میل لکھنے کے لیے ایک سافٹ ویئر بھی تیار کیا۔

1998 کے اوائل میں جرمنی کے علی حسنین شاہ نے ڈائنامک فونٹ ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات کیے تاکہ ایسی ویب سائٹس بنائی جائیں جن کے لیے اردو فونٹ انسٹال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ انہوں نے اردو خط نسخ فونٹ استعمال کیا۔ پاکستان میں ان کی ڈیٹا مینجمنٹ سروسز نے اس دور میں ایک ایسا فونٹ تیار کیا جو اردو نستعلیق کے بہت قریب تھا، جسے Urdu98 کہا گیا۔ یہ فونٹ کسی بھی ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر کام کرتا تھا اور ایک پلگ اِن کے طور پر استعمال ہوتا تھا، لیکن زیادہ قیمت کی وجہ سے عام استعمال میں نہ آسکا۔

اس کے بعد اردو ویب ٹیکنالوجی عام ہوئی، جس سے کئی ویب سائٹس وجود میں آئیں۔ اس دور تک ان فونٹس کو دیکھنے کے لیے مخصوص سافٹ ویئر یا فونٹس انسٹال کرنا پڑتا تھا۔ اردو کی دائیں سے بائیں تحریر اور نستعلیق فونٹ کو ڈیجیٹل طور پر پیش کرنا بھی مشکل تھا، کیونکہ اس وقت کے ویب براؤزرز اسے مکمل طور پر سپورٹ نہیں کرتے تھے۔

بالآخر، جولائی 2000 میں بی بی سی اردو سروس نے اپنی ویب سائٹ لانچ کی، جو اردو میں خبریں فراہم کرنے والی اولین بڑی ویب سائٹس میں سے ایک تھی۔ اسی سال پاکستانی اخبارات جنگ اور نوائے وقت نے اپنی ویب سائٹس پر اردو مواد شامل کرنا شروع کیا لیکن اکثر مواد تصاویر کی شکل میں ہوتا تھا، تحریری شکل میں نہیں۔

2000 ء اوائل میں یونی کوڈ کا وجود عمل میں آیا، جس نے اردو کے ڈیجیٹل استعمال میں انقلاب برپا کیا۔ اس سے ویب سائٹ بنانے والوں کے لیے اردو ویب سائٹس تیار کرنا آسان ہوگیا اور دیگر فونٹس انسٹال کرنے کی ضرورت ختم ہوگیٔ۔ جب یونی کوڈ کا مرحلہ آسان ہوا تو کئی فونٹس وجود میں آئے جو نسخ اور نستعلیق دونوں کو سپورٹ کرتے تھے، جیسے جمیل نوری نستعلیق، نفیس نستعلیق اور دیگر نستعلیق فونٹس۔ تاہم، اردو ویب سائٹس پر خط نسخ ہی زیادہ نظر آتا تھا۔

نستعلیق کی پیچیدہ خطاطی، جس میں حروف کا باہمی ربط، نقطوں کی مناسب جگہ اور فاصلوں کا درست ہونا ضروری ہے، جس کو یونی کوڈ میں پیش کرنا ایک دشوار مرحلہ تھا۔ اس کے لیے جدید رینڈرنگ انجن استعمال کیے گئے جو نستعلیق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ (رینڈرنگ انجن سافٹ ویئر کا وہ حصہ ہے جو ویب براؤزر میں CSS، HTML، اور JavaScript کو پروسیس کر کے ویب سائٹ کو دکھاتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، یہ ویب سائٹ کی کوڈنگ کو پڑھنے اور دیکھنے کی شکل میں تبدیل کرتا ہے جیسے گوگل کروم میں Blink استعمال ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے نوری نستعلیق فونٹ تیار کیا گیا، جو موبائل، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر تینوں کے لیے یکساں مفید ثابت ہوا اور آج بھی اسی کا استعمال جاری ہے۔ جب کسی ویب سائٹ کی کوڈنگ میں نوری نستعلیق شامل ہوتا ہے، تو وہ سب کو اسی فونٹ میں نظر آتا ہے اور موبائل میں فونٹ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس معاملے میں ایپل (iOS) منفرد ہے، جہاں اگر ترجیحی زبان اردو ہو تو تمام تحریریں نستعلیق میں نظر آتی ہیں۔ اس طرح، فونٹس کے اس مختصر سفر نے اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں آسان اور قابل رسائی بنا دیا ہے۔

آخر کار آج ہم ڈیجیٹل میڈیا میں اس مقام پر ہیں جہاں ہندوستان کی دیگر زبانیں ہمارے قریب بھی نہیں۔ وکی پیڈیا پر ہم ایک لاکھ سے زائد مضامین کے زمرے میں شامل ہیں اور ہندوستانی زبانوں میں مضامین کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہیں۔ تادم تحریر، وکی پیڈیا میں اردو مضامین کی تعداد 2,20,3821 ہے جبکہ ہندی دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے مضامین کی تعداد 1,65,2482 ہے۔ دیگر ہندوستانی زبانیں اس کے بعد آتی ہیں۔ یہ صرف ایک ویب سائٹ کی بات ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت 50 سے زائد ویب سائٹس ہیں جن پر اردو مضامین کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان میں سے 20 ایسی ہیں جو مسلسل فعال ہیں اور جہاں روزانہ ادبی و غیر ادبی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اگر اخباری ویب سائٹس کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو اردو صارفین کی سب سے زیادہ تعداد فیس بک پر ہے۔ جو کچھ بھی ویب سائٹس پر اپ لوڈ ہوتا ہے، اس کی جھلک فیس بک پر بھی نظر آتی ہے۔ اس اعتبار سے گزشتہ دس سالوں میں فیس بک نے اردو کو سوشل میڈیا میں مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اردو کا تناسب فیس بک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مراسلاتی میڈیا میں واٹس ایپ کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ وہاں اردو کا ذخیرہ بہت وسیع ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹیلی گرام پر یونی کوڈ اور پی ڈی ایف کی شکل میں اردو مواد کی مقدار حیران کن ہے۔ ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب مصنوعی ذہانت (AI) ہماری زبان کو بہتر انداز میں سمجھ رہی ہے اور فوری عمل کے معاملے میں بھی ہمیں متاثر کر رہی ہے۔ پہلے مصنوعی ذہانت اردو کے معاملے میں تسلی بخش نتائج فراہم نہیں کر پاتی تھی لیکن جب سے Grokنے کام شروع کیا ہے، اردو میں نتائج نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں کیونکہ اس کے جوابات درست، جامع اور حوالہ جات پر مبنی ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کی کئی اقسام ہیں۔ ہمارے یہاں یا زبانی سطح پر جس مصنوعی ذہانت کا ذکر ہوتا ہے، وہ چیٹ بوٹ کہلاتی ہے، جسے AI Assistants بھی کہا جاتا ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ چیٹ بوٹ کیا ہوتا ہے۔

چیٹ بوٹ ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جو انسانوں کی طرح گفتگو کرتا ہے۔ یہ مختلف موضوعات پر آپ سے بات چیت کر سکتا ہے اور کسی پیچیدہ مسئلے کے حل کی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ الغرض، آپ جیسے چاہیں، یہ ویسی ہی گفتگو کرتا ہے۔ تمام چیٹ بوٹس مصنوعی ذہانت سے لیس نہیں ہوتے، لیکن جدید چیٹ بوٹس نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کا استعمال کرتے ہیں تاکہ صارف کے سوالات کو سمجھیں اور ان کے جوابات خودکار طور پر تیار کریں۔ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ آئندہ چند سالوں میں کیا امکانات سامنے آئیں گے، اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ اس کے بنیادی اصول زبان کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معلومات اور شواہد کے ذخیرے تک رسائی کو بھی نہایت آسان بنا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت میں چیٹ بوٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ادب کو بھی اپنے سحر میں گرفتار کرلیا ہے ۔معلومات کی فراہمی سے لے کر متن کی تشکیل ،باز تشکیل اور ترجمے تک یہ ٹکنالوجی ہر سطح پر استعمال ہورہی ہے ۔

اگر ہم کسی چیٹ بوٹ سے متن کی تشکیل کی فرمائش کرتے ہیں تو وہ ہماری خواہش کی تکمیل ضرور کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر حال ہی میں میں نے ایک چیٹ بوٹ’گروک‘ سے سفر کی پریشانیوں پر ایک افسانہ لکھنے کی فرمائش کی تو اس نے فوراً تقریباً پانچ سو لفظوں پر مشتمل افسانہ پیش کردیا ، تاہم میری خواہش دوہزار لفظوں کی کہانی کی تھی۔ پھر میں نے دو بارہ درخواست کی تو اس نے اسی موضوع پر دوہزار سے زائد لفظوں کی کہانی پیش کردی۔ یہاں پر ہمیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ چیٹ بوٹ نے بیٹھے بٹھائے مجھے افسانہ نگار بنادیا ۔

اسی طرح، اگر کوئی تحریر درست کرنے کو دی جائے، تو یہ ہمیں عمدہ نثر نگار بنا دیتا ہے۔ تحریر، تصویر یا کسی فائل کا ترجمہ کرنے کی درخواست ہو، تو وہ بھی فوراً مکمل کر دیتا ہے۔ لیکن ان سہولتوںکے ساتھ ہماری ذاتی صلاحیتوں کو وہ نقصان ہوگا جس کا محاسبہ بھی مشکل ہوگا۔

جب ہم خود کوئی افسانہ تخلیق کرتے ہیں، تو اس میں مکالموں، منظر نگاری اور کرداروں کی گہرائی کے ذریعے ایک ایسی روح پھونکتے ہیں جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔ لفظوں کا انتخاب، جملوں کی ترتیب اور مکالموں کی برجستگی سے ہم تخلیقات کو منفرد بناتے ہیں جو ہماری تحریری شناخت کا اہم حصہ بھی ہوتا ہے۔ مشینی تخلیق چاہے کتنی ہی درست کیوں نہ ہو، اس میں وہ تاثیر نہیں آسکتی ۔ اس لیے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ آسانی کے لیے جن آلات کو ہم اپنا رہے ہیں، اس سے ہمارے فنون لطیفہ ختم ہورہے ہیں ۔ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ کیمرہ یقیناً ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے، لیکن اگر ہم اپنی کسی سوچ یا غم میں ڈوبی تصویر کیمرے سے بنائیں، تو وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو ایک تخلیقی مصور اپنے برش سے پیش کر سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح، ترجمہ نگاری لسانی فاصلوں کو کم کرتی ہے، لیکن اگر ہم مشین سے ترجمانی (یعنی اصل متن کی تاثیر کی منتقلی) کی توقع کریں، تو یہ ایک مشکل کام ہے۔جس طرح سے مشینی تخلیقات فنون لطیفہ میں نہیں آتی ، ویسے ہی مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ متن بھی فنون لطیفہ کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا ۔ 

یہی حال مشینی ترجمے کا ہے جس میں عموماً لفظوں اور معانی کی ترتیب پر توجہ دی جاتی ہے لیکن ترجمانی کے لیے ایک تیسری چیز، یعنی تاثیر، درکار ہوتی ہے۔ اصل متن سے حاصل ہونے والی تاثیر کو ترجمے میں منتقل کرنا ایک نازک عمل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مشینی ترجموں میں اکثر ایک روکھاپن اور بنجرپن نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلوبیاتی اور جمالیاتی سطح پر ہماری ادبی حس کو اب قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ نتیجتاً، ہماری زبان میں نئی تراکیب بننا بند ہو گئی ہیں۔ نثر ہو یا نظم، تخلیقی تراکیب کی کمی واضح ہے۔

زبان کا تعلق فوری تاثرات سے ہے۔ جیسے ہی الفاظ سامع یا قاری کے کانوں سے ٹکراتے ہیں یا ہماری نظروں کے سامنے آتے ہیں تو قاری یا سامع فوراً متاثر ہوتا ہے لیکن مشینی تحریروں میں یہ فوری تاثیر پیدا کرنا مشکل ہے۔

مصنوعی ذہانت نے اوریجنلٹی کے سوال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ماضی میں، بعض اوقات قلمکار کے فرضی ہونے کا شبہ ہوتا تھا، یعنی تحریر تو اصلی ہوتی تھی، لیکن مصنف کا وجود مشکوک ہوتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مصنف تو اصلی ہوگا، لیکن تحریر اوریجنل نہیں ہوگی۔ اس سے ہمارا پورا تخلیقی اور تحریری نظام متاثر ہو رہا ہے اور تخلیقیت کا وجود خطرے میں ہے۔

حال ہی میں کیے گئے ایک تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ میں نے ایک چیٹ بوٹ سے مضمون لکھوایا اور پھر اسی چیٹ بوٹ سے پوچھا کہ کیا یہ مضمون اس نے لکھا ہے۔ اس نے انکار کر دیا۔ حیران کن طور پر، Plagiarismکے ٹولز بھی اسے ٹریک نہیں کر سکے۔ ایسی صورتحال میں تخلیقی صلاحیتوں کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟ ویسے ہی تحریری صلاحیتوں کا فقدان ہے اور اگر اس صورتحال میں مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا گیا، تو مستقبل میں شاید ہی کوئی اصلی تحریر قاری کے سامنے آسکے۔

یہاں تک پہنچ کر یہ بات واضح ہوگئی کہ اب تحریروں کی بھی دو قسمیں ہوجائیںگی اول وہ جو اوریجنل ہوتی ہیں اوران کا تعلق فنون لطیفہ سے ہوتا ہے دوم وہ جو مشینی ہوںگی اور کیمرے کی تصویروں کی طرح ان کا فنون لطیفہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔


Monday, 7 April 2025

مجھے کچھ کہنا ہے

  زندگی دراصل تجربات و حوادث کا نام ہے جہاں ہر وقت انسان نئے حالات و کیفیات سے دو چار ہوتا ہے اور اس کے اذہان میں نئے تصورات گردش کرتے رہتے ہیں ،جن میں سے کچھ کو پختگی ملتی ہے اور کچھ لمحات میں زائل ہوجاتے ہیں۔ ایک ادیب کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نئے تصورات و افکار کو فن کے دائرے میں پروکر کسی صنف کا جامہ عطاکردے۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری میں ایک ہی خیال کو مختلف انداز میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے اور فکشن میں ایک ہی مرکزی واقعے کو مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے، جس میں انسانی ذہنی کشمکش کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ جس کے لیے بہت سے تخلیق کار کے فن پارے منظر عام پرآتے ہیں جن میں سے کچھ کو مقبولیت ملتی ہے اور کچھ گمنامی کے شکارہوجاتے ہیں۔دراصل اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اکثر تخلیق کار اپنے قلمی سفر کی شروعات زندگی کی دوسری دہائی میں کرتے ہیں جن میں سے چند کو مقبولیت مل جاتی ہے اور کچھ مختصر مدت کے بعد ماند پڑجاتے ہیں۔ 

یہی حالت ہم ساتھیوں کی بھی ہے جو تحقیقی و تنقیدی دنیا میں قدم رکھتے ہیں لیکن ہمارے سامنے لکھنے کے لیے نیا کچھ نہیں ہوتاہے۔ایسا اس وجہ سے کہ وہ ان ہی راستوں پر چلنے کو فوقیت دیتے ہیں جہاں پہلے سے ہی راستے ہموار ہوچکے ہوتے ہیں اور اس موضوع پر خاطرخواہ تحریریں منظر عام پر آچکی ہوتی ہیں۔ جس سے اس موضوع پر تجزیہ در تجزیہ کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ جن گوشوں میں بہت ہی کم لوگوں نے قدم رکھا یا ایسے گوشے جو بالکل گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں، وہا ں شاید و باید ہی کوئی ریسرچ اسکالر قدم رکھنا چاہتا ہے۔ ا یسے حالات میں موضوعات میں تکر ار بہت ہی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اسے اکثر یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ ابھی تو آموزش کا مرحلہ ہے، بعد میں اکتسابی مرحلہ آئے گا تب نئے زاویوں کی تلاش و جستجو اور پیش کش پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن اس تیز رفتار زندگی میں جب وقت قلیل سے قلیل تر ہوتا چلا جارہا ہے ایسے میں کیا ضروری ہے کہ کسی کو بعد میں اتنا موقع ملے کہ وہ کسی بھی موضوع پر اتنا وقت دے سکے جتنا اسے ریسرچ کے درمیان موقع مل رہا ہے۔ یقیناً بہت ہی کم ملتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے تجربات کے تحت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریسرچ کے بعد جن ساتھیوں نے نوکری حاصل کی ہے ان میں سے اکثر کے یہاں قلم کی دھار کمزور پڑگئی ہے۔ پتہ نہیں آخر ایسا کیوں ہوتاہے۔ ان حالات کے مدنظر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریسرچ کے دوران جو بھی ہمیں موقع مل رہا ہے اسی میں اپنی شناخت بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔ ایسے میں ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم  ادب میں ان گوشوں کو نمایاں کریں جن پر اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔

 موجودہ وقت میں دو بنیادی موضوعات بہت ہی عام ہیں شاعری میں غزل و نظم اور نثر میں افسانہ و ناول۔ سندی ریسر چ کا اسی فیصد حصہ انہیں موضوعات کو محیط ہے اور اس میں بھی محض تجزیاتی اور تاثراتی تحریر ہی پڑھنے کو ملتی ہے۔ شاعری میں شاعر نے فن کو کس طرح برتا ہے اس پر توجہ نہ دے کر سارازور صرف موضوعات پر رہتا ہے۔یہی حال ناول اور افسانہ کا بھی ہے جہاں محض کہانی کا تجزیہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ، فن کا ر نے فن سے کس قدر انصاف کیا ہے ، زبان و بیان میں کیا اختراعات دیکھنے کو مل رہے ہیں ، کیا انہوں نے کسی فلسفہ کو کردار کے ذریعہ پیش کرنے کوشش کی ہے تو اس فلسفہ سے تحقیق کار کس قدر واقف ہے اور اس کے تجزیہ کا کتنا حق ادا کرسکتا ہے ۔ کہانی کا ر کا اپنا عکس کس قدر حاوی ہے ، کیا واقعی میں وہ فن پارہ ہے؟ یا فن پارہ کا نام دے کر تخلیق کار نے اپنی بھڑا س نکالی ہے ، ان گوشوں پر بہت ہی کم واضح انداز میں گفتگو کی جاتی ہے ۔ اکثر تو تعریف میں قلم اٹھاتے ہیں۔ جب تعریف ہی تنقید کا مقصد رہ گیا ہے تو پھر تنقید کو دفن کردینا چاہیے ۔ویسے اس معاملے میں جدید وقدیم سارے قلم کار یکسا ں ہیں ، وجہ نوکری اور معاملات کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اگر یہ مجبوریاں حائل نہیں ہوتیں تومیرا خیال ہے کہ ماضی سے بہتر معرکے آج کے زمانے میں دیکھنے کو ملتے ۔ معرکوں سے زبان توترقی کرتی ہی ہے ساتھ ہی قاری میں بے تحاشہ اضافہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ حالات بدل چکے ہیں اور وسعت نظری تنگ نظر ی میں بدل چکی ہے ۔ اس لیے تنقید میں تعریف کے سوا کچھ نہیں بچتا اور اگر کسی نے لکھنے کی ہمت بھی دکھائی تو انجام کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ 

 موضوعات کے حوالے سے میرے ہم درس دوست سے ایک بڑی یونی ورسٹی کے سینئر استاد جو اّب ریٹائر ہوچکے ہیں انہوں نے صاف طور پر کہا کہ سندی تحقیق کے لیے کبھی بھی مشکل موضوع کاانتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ یقیناً انہوں نے تجربات کی بنیاد پر ہی یہ بات کہی ہوگی کیونکہ ریسرچ کے پانچ برسوں میں بہت ہی کم ریسرچ اسکالرز ایسے ہوتے ہیں جو یکسوئی کے ساتھ کام کو انجام دیتے ہیں، عموماً عمر کے اس پڑاؤ میں یہ مرحلہ آتا ہے جب بہت ساری ذمہ داریوں کی بنیاد ڈالی جارہی ہوتی ہے۔ ایسے میں دو تین سال ہر ایک کے یونہی محض سوچنے میں گز ر جاتے ہیں اور جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو بہت جلد بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جس بنا پر سنجیدہ تحقیق و تنقید کی امید نہیں کی جاسکتی۔علاوہ ازیں میں ایسے ساتھیوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے مسلسل چار سال تحقیق کو دیے اور ہر روز کچھ نہ کچھ لکھا پھر جب ان کا تحقیقی مقالہ سامنے آیا تو وہ بہت ہی عمدہ قسم کا کام تھا، لیکن چونکہ ان کے نگراں کو وہ کام بہت زیادہ بھاری لگ رہا تھا تو ان میں سے بہت کچھ حذف بھی کروا دیا گیا جس سے یقیناً ان کی بہت زیادہ دل شکنی ہوئی۔ چند ہمارے ایسے بھی ساتھی ہیں جنہوں نے صر ف چند دنوں میں اپنا تحقیقی مقالہ تیار کرلیا اور جب مجھے برسوں بعد ان کے مقالے کادیدار ہوا تو میں دنگ رہ گیا کیونکہ پندرہ سطور سے کم کا صفحہ اور وہ بھی صر ف دو سو پچاس صفحات۔ ایسے میں ہم UGC کی گائڈ لائن کی جانب رخ کرتے ہیں تو وہاں پر ہمیں انگلش کے متعلق صاف طور پر لکھا ہوا ملتا ہے کہ A4 میں متن کا سائز 12 ہو اور سطرو ں کے درمیان کا فاصلہ 1.5 ہو۔ اس اعتبار سے تیس سے زیادہ سطریں ایک صفحہ میں آجاتی ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی ہے کہ جو اسٹنڈرڈ سائز ہے اسی میں تحریر کرنا ہے یعنی جس فونٹ سائز میں عموماً کتابیں بازار میں ملتی ہیں وہی فونٹ سائز آپ کو بھی استعمال کرنا ہے۔ لیکن نہیں معلوم اردو میں یہ روایت کہاں سے آگئی ہے کہ آپ کو 18 فونٹ سائز میں ہی مقالہ تیار کرنا ہے۔ اس فونٹ سائزسے عموما 23 سطریں ایک صفحہ میں آتی ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے لیکن بہت سارے ایسے مقالے دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن میں 20 یا اس سے بھی زیادہ فونٹ سائز مستعمل ملتا ہے اور سطروں کا فاصلہ بہت ہی زیادہ رکھا جاتا ہے۔ جب کہ سبھی کو معلوم ہے کہ نستعلیق کا اسٹنڈرڈ سائز15 اور 16 ہے لیکن شاید ہی کو ئی مقالہ اس فونٹ سائز میں آپ کو مل جائے۔ اس جانب بھی متفقہ طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فونٹ سائز بڑا کرکے صفحات میں اضافہ کی نوبت اس وقت ہمارے سامنے آتی ہے جب ہمارے پاس مطالعہ کی کمی ہوتی ہے، جب مطالعہ کم ہوگا تو کسی بھی موضوع پر لکھنے کے لیے بھی کم مواد جنریٹ ہوگا۔ان تمام باتوں کے مدنظر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریسرچ اسکالر متعلقہ مضمون میں مطالعہ کو ٹھیک ڈھنگ سے ترتیب نہیں دے پاتا جس سے نتائج بھی محدود ہی سامنے آتے ہیں۔

ان سب کے باوجود ہمارے یہاں خاطرخواہ تعداد میں اچھے ریسرچ اسکالروں کی کھیپ تیار ہورہی ہے جنھوں نے اپنے قلم سے نہ صرف اساتذہ کو چونکایا ہے بلکہ انھیں بہت زیادہ متاثر بھی کیا ہے۔ تحقیق و تنقید نیز تخلیقات میں وہ اپنی شناخت قائم کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ ان پر مباحث قائم نہیں ہوتے ہیں۔ اگر کسی نے تحقیق سے نئی چیز سامنے لائی ہے تو اس کے ردو قبول پر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بات کر نا اور مباحثہ قائم کرنا تو بعید تبصروں میں بھی ان عناصر کو نمایا ں نہیں کیا جاتا بلکہ یہ سوچ کر کہ اس موضوع پر ایک اور نئی کتاب آگئی ہے اس کو طاق نسیاں کردیا جاتا ہے۔ یقیناً یہ نئے اور محنتی طلبہ کے لیے حوصلہ شکنی کی بات ہوتی ہے۔ ایسے میں جب وہ اپنے ساتھ یہ رویہ دیکھتے ہیں تو آگے انہیں مزید کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں سنجیدہ قرات میں کمی آئی ہے۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرے رخ میں ہمارے وہ اساتذہ بھی شامل ہیں جو صلاحیت مند نوواردین کو بھر پورموقع دیتے ہیں اورمختلف پلیٹ فارمس سے ان کی صلاحیتوں کو ابھارتے بھی رہتے ہیں اور تقرریوں میں ان کا بھر پور تعاون بھی کرتے ہیں۔ 

اس کے بعد ایک مرحلہ اور آتا ہے جہاں معاملات دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک خادم ادب دوسرا محض خادم۔ دوسرا فرد کسی کا بھی خادم ہوسکتا ہے، خواہ وہ فرد کا خادم ہو یا ادارے کا، عارضی اور وقتی ہو یا دائمی۔ پہلا اپنی تمام تر محنتوں کے باوجود در بدر بھٹکتا رہتا ہے اور دوسرے کی قسمت بہت ہی جلد سنور جاتی ہے۔ یہ معاملہ ادب میں نئے داخل ہونے والوں کو بہت ہی زیادہ پریشان کررہا ہے۔ گزشتہ دنو ں بانگ درا کے سو سال مکمل ہونے پر اردو اکادمی دہلی نے ایک سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا جس کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے تھے۔ اس سمینار کے کلمات تشکر میں انہوں نے ’دوسرے خادم‘ کے حوالے سے چند سخت کلمات کہے تھے جو اتفاق سے اخبارات میں اور ایوان اردو میں بھی شائع ہوئے وہ میں یہا ں ہو بہو نقل کرنا چاہتا ہوں۔’’سمینار میں مقالہ نگاران کی فہرست میں شمولیت کے حوالے سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتفاق سے چار روز قبل کسی صاحب کا ایک نوجوان کے حوالے سے فون آیا کہ آپ انہیں مقالہ نگاروں کی فہرست میں شامل کرلیں، میں نے انہیں فون پر ہی خفگی کا اظہار کیا کہ آپ نے اس حوالے سے فون کیسے کردیا،پھر اسی نوجوان کا فون آیا تو میں نے اسے بھی سختی سے منع کردیا، لیکن یہ معاملہ جاری رہا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے ایک وزیر سے فون کروایا۔یہ رویہ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔سارے اداروں اور یونیورسٹیز کو بھی اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔‘‘(ایوان اردو، فروری2025) ایسی چیزیں عموماً تحریر کا حصہ نہیں بنتیں اس لیے وہ تاریخ کا بھی حصہ نہیں بن پاتی ہیں۔ پھر بعد والوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ادب میں کجروی لانے میں کس کی غلطی تھی اوراس کا ذمہ دار کون ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح ابھی اردو کے حالات بد سے بدتر نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے قارئین کی تعداد میں یقیناً کمی آئی ہے بالخصوص سندی طلبہ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن اگر حالات فطری طور پر چل پڑیں اور عدل و مساوات کو اپنایا جائے تو انشاء اللہ نتیجہ ثمر آور ہوگا۔

Thursday, 6 March 2025

مٹتے ہوئے نقوش کے عمدہ نقاش شفیق رائے پوری

 مٹتے ہوئے نقوش کے عمدہ نقاش شفیق رائے پوری 

ڈاکٹر امیر حمزہ 

NCERT، اربندو مارگ ، نئی دہلی ۔۱۶


’’چھتیس گڑھ کے اردو مصنفین و شعرا ‘‘ کا مسودہ جب مصنف محترم شفیق رائے پوری کے واٹس ایپ کے ذریعہ مجھ تک پہنچا تو سرسری نظر میں مجھے بہت ہی زیادہ حیر ت ہوئی کہ جو کام ایک ادارہ کو کرنا چاہیے تھا وہ ذمہ داری شفیق رائے پوری صاحب نے خود اٹھائی اور بہت ہی درک و انہماک کے ساتھ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا ۔ اس سے پہلے مصنف محتر م سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی لیکن جب انہو ں نے اگلا  پیغام یہ بھیجا کہ آپ کو اس تحقیقی کاوش پر کچھ لکھنا ہے تو مجھے خیال آیا کہ میرے بارے میں کسی نے ضرور غلو سے کام لیا ہے ، ورنہ فی زمانہ بڑے بڑے دانشوروں سے ہی تحریریں لکھوائی جاتی ہیں ۔ خیر اپنے آپ کو اس ذمہ داری کے لیے تیار کیا اور ذہن نے جو کچھ ساتھ دیا وہ آپ کے سامنے ہے ۔

عنوان میں نقوش اور نقاش کے دو لفظ میں نے عمداً مصنف کی اس تحقیقی کا وش کو سامنے رکھتے ہوئے استعمال کیے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک اس پر کوئی تفصیلی کام سامنے نہیں آیا تھا اور چھتیس گڑھ میں اردو شعرا و ادبا کا جو ایک لمبا سلسلہ رہا ہے وہ محض چند مقالوں میں مشاہیر کے ساتھ ہی ختم ہوا ہے ۔ وہاں کے اکثر شعرا جو شروع میں دبستان لکھنؤ کے شعرا کے شاگر دتھے جیسا کہ تفصیلی ذکر مصنف محتر م نے خود اس کتاب کے مقدمہ میں کیا ہے انہیں پردہ ٔخفا میں ہی رکھا گیا تھا ۔ اس کے بعد کے اکابرین زبان و ادب نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جن کے سبب چھتیس گڑھ میں اٹھارہ سو ستاون کے بعد اردو کی نئی آبادیاں وجود میں آئیں انہیں بھی بھلا دیا گیا، ایسے میں ان مٹتے ہوئے نقوش کی جو بازیافت ہوئی ہے ان کے نقاش یقینا شفیق رائے پوری ہی ہیں ۔

اس اہم کام کو انجام دینے میں یقینا ایک طویل عرصہ لگا ہوگا۔ سب سے پہلے انہوں نے خود کو ذہنی طور پر تیار کیا ہوگا ، پھر آثار و اسانید کی تلاش میں لگ گئے ہوں گے ،اس درمیان انھیں ہزاروں نئی چیزوں کا علم ہوا ہوگا پھر ان سب میں سے چھانٹ پھٹک کر کار آمد چیزوں سے اپنی اس کتاب کو مزین کیا ہوگا۔ اس کے لیے یقینا قدیم ترین رسائل و جرائد کو کھنگالا ہوگا جس میں چھتیس گڑھ کے گمنام اور اوراق میں دفن شدہ قلم کاروں سے ملاقات ہوئی ہوگی پھر ان کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ان کے وارثین تک پہنچے ہوں گے ، حالات بدلنے کے بعد وہاں سے بھی زیادہ تر خالی ہاتھ واپس آنا پڑا ہوگا ، پھر ان کی تحریروں کے سہارے ملے بہت سارے اشارات سے بات مکمل کرنی پڑی ہوگی ۔ مجھے علم ہے کہ تحقیق کے میدا ن میں ایک ایک لفظ کے حوالے کے لیے کئی کئی کتابوں کی روق گردانی کرنی پڑتی ہے ۔ 

 جب سے تذکرہ و تنقید کی کتابیں لکھی جارہی ہیں تبھی سے اردو ادب کی علاقائی خدمات پر مشتمل آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تذکروں میں دکن کی حالت بخوبی بیان کی گئی ہے پھر بعد میں لکھنؤسمیت دوسرے شہر وں کے شعرا بھی شامل ہونے لگے ۔ بعد میں جب تاریخ لکھی جانے لگی تب اس میں دبستانوں کے عناوین سے باضابطہ ابواب بندی کی جانے لگی ، اس سے وہاں کی لسانی اسلوبیاتی و شعری خصوصیات کو اجاگر کیا جانے لگا ، اس لیے آپ کو تاریخ کی تمام کتابوں میں دکن ، دہلی اور لکھنؤ مل جائیں گے ، بعد میں جب اس پر اضافہ ہوا تو رامپور ، عظیم آباد اور مرشدآباد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ، لیکن پھر بھی اہم کتابوں میں دیگر شہروں کی ادبی فضا کوجگہ نہیں ملی تب ایک ضخیم ’’تاریخ ادب اردو‘‘ (گیان چند جین ، سیدہ جعفر) مرتب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس میں شہروں کے اعتبار سے اردو زبان و ادب کی تاریخ کو محفوظ کیا گیا ۔ 

اردو زبان وادب کی ضخیم سے ضخیم اور مختصر سے مختصر کئی تاریخیں لکھی گئی ہیں، ہر ایک میں آپ کو ایک ہی نوعیت کی ترتیب ملے گی ۔قدیم اردو ، دکن کے سارے ادوار ، پھر دہلی ،لکھنؤ اس کے بعدتحریکات ، ایسے میں بہت سی ذیلی چیزیں چھوٹ جاتی ہیں ، یقینا سبھی کا احاطہ کسی کے یہاں بھی ممکن نہیں ہے ۔ البتہ جمیل جالبی نے اس جانب قدم اٹھا یا اور علاقائی سطح پر روہیل کھنڈ اور بندیل کھنڈ کا خصوصی ذکرکیا۔اس کے بعد تاریخ ادب اردو کا جو سلسلہ گیان چند جین اورسیدہ جعفر کے ذریعہ شروع ہوا اس میں بعد میں جاکر شہر کے پیمانہ پر تاریخ ادب اردو کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ آزادی کے بعد جب تحقیقی مقالات میں اضافہ ہوا تو علاقائی سطح پر اردو ادب کا بھی جائزہ لیا گیا ، شروع میں دبستانوں کی تاریخ کو یکجا کیا گیا پھر صوبائی سطح پر اس میں کام ہوا، اس کے بعد شہروں کی اردو  زبان و ادب کی خدمات پر کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ 

ابھی کے موجودہ منظر نامے میں صوبائی سطح پر اردو زبان و ادب کی بات کی جائے تو اردو ہندوستان کے کم وبیش تمام صوبوں میں بولی، سمجھی اور پڑ ھی جاتی ہے ۔ کچھ صوبے ایسے بھی ہیں جہاں ہر طبقہ کے لوگ اس زبان کو لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ جنوبی ہند کے چند صوبے ایسے ہیں جہاں اردو پہلے تو مضبوط حالت میں تھی تاہم درمیان میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ اب جب تعلیم کے فروغ میں اضافہ ہوا ہے تو اردو کی تعلیم میں بھی اضافہ دیکھنے کوملا ہے تاہم جدید اسکولی تعلیم سے اردو کا بھا ری نقصان ہوا ہے ،لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اب کیر ل جیسے صوبے میں بھی اردو کے طلبا نظر آنے لگے ہیں ۔ نارتھ ایسٹ میں کم ازکم ایک حلقہ کے افرا د تو اردو پڑھتے ہی ہیں ۔ہر یانہ ، ہماچل اورچھتیس گڑھ کی بات کی جائے توان تینوں صوبوں میں اردو کی یکساں صورت حال نظرآئے گی ۔ یہ اچانک ابھی کی بات نہیں ہے بلکہ شروع سے ہی ان علاقوں میں اردو کی نمائندگی کم رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں علاقائی ادب کی تاریخ نگاری پرنظرڈالی جائے تو ان علاقوں سے کوئی خاطر خواہ کام سامنے نہیں آتا ہے ۔ ایسے میں کچھ دنوں قبل تک چھتیس گڑھ کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ، کم ازکم ہمیں تو وہاں کی لسانی اور ادبی صور ت حا ل واضح نظرنہیں آتی تھی، لیکن اس کتاب کو دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ صوبہ چھتیس گڑھ کے غیر معروف شہروں میں بھی اردو زبان و ادب کی شمع روشن کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جناب شفیق رائے پوری نے ڈیڑھ سو ایسے قدیم و جدید ادبا، تخلیق کار اور ناقدین کو اس کتاب میں جمع کیا ہے جنہوں نے اپنی سطح پر اردو کا چراغ خوب روشن کیا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے اکثر کو باہر کی اردو دنیا نہیں جانتی ہے، لیکن ان میں سے دو نام ایسے بھی ہیں جنہیں اردو زبان و ادب کا جاننے والا ہر فرد جانتا ہے جن کا تعلق چھتیس گڑھ سے ہی تھا اور وہ تھے اختر حسین رائے پوری اور حبیب تنویر۔ اگرچہ ہم میں سے اکثر انہیں وہاں کی ادبی صورتحال کے نمائندہ ادیب کے طور پر نہیں دیکھتے پھر بھی بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی جڑیں چھتیس گڑھ سے تھیں تو وہاں کی ادبی صورتحال کس قدر پختہ تھی ۔

 پچھلے پانچ برسوں میں دو عمدہ کتابیں چھتیس گڑ ھ سے تعلق رکھنے والے جس مصنف و شاعر کی پڑھنے کو ملیں ا س کا نام حنیف نجمی تھا ، تنقید و تحقیق پر جو کتاب تھی یقینا وہ لاجواب تھی ، شاعری میں بھی انھوں نے عالمی سطح پر اپنی انفرادیت کی چھاپ چھوڑی ہے ، ان کی تحریروں میں کمال کی حد تک دانشوری اور تخلیق میں اعلیٰ درجے کی فنکاری نظر آئی تھی وہ بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ اسی طرح خورشید حیات جنہوں نے افسانوی ادب میں گہری چھاپ چھوڑی ہے، نئے طرز کے موجد ہوئے، نیا افسانوی بیانیہ تخلیق کیا ، ان کے بغیر افسانوی ادب کی کوئی بھی فہرست مکمل نہیں ہوگی وہ بھی اس کتاب میں جلوہ افروز ہیں۔ مثال پیش کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ اردو کے لحاظ سے اس پسماندہ صوبہ سے بھی اعلیٰ درجہ کے ادیب و شاعر تعلق رکھتے ہیں ،لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب مرکزی دھارے میں ان کا شمار نہیں ہوتا ہے ۔ الغرض میں نے یہ بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ ایسے کئی شعرا وادبا ہوں گے جنہیں شہرت تو دور کی بات ہے وہ صرف ایک مخصوص حلقے تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں ،ان کے لیے ایسی کتابیں آب حیات ثابت ہوتی ہیں جن میں ان کا اجمالی ذکر کر کے رہتی دنیا تک انہیں زندہ کردیا جاتا ہے ۔ 

’’چھتیس گڑھ کے اردو مصنفین و شعرا ‘‘ کو شفیق رائے پوری نے بہت ہی محنت و دیدہ ریزی کے ساتھ تیا ر کیا ہے ۔پہلے باب میں انہوں نے ان شعرا و ادبا کو شامل کیا ہے جنہوںنے اس علاقہ میں اردو کی پود لگائی اور ایک ثمر آور باغ تیار کیا۔ یقینا ان کا شمار متقدمین میں ہوتا ہے ، ان کا ذکر کہیں اور شاید و باید ہی نظر آتا ہے یہاں انہوں نے تحقیق کا اعلیٰ معیار پیش کرکے حتی الامکان چھتیس گڑھ کے سبھی ادبا و شعرا کو جمع کیا ہے ۔ اس فہرست میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ادب کا ستارہ ابھی بھی جگمگا رہا ہے ۔ اس کے بعد پیشکش میں انہوںنے کئی درجہ بندی کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ جن ادبا کی پیدائش کہیں اور کی ہے لیکن چھتیس گڑھ میں سکونت کے دوران انہوںنے اردو زبان و ادب کی خوب خدمت کی ہے اس میں بھی دس سے زیادہ افراد شامل کتب ہیں ، ایسے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ باہر سے جاکر وہاں عارضی قیام کرنے والوں نے وہا ں کی ادبی فضا میں کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا ہے۔ تذکرہ و تاریخ نگاری میں اکثر ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ مجہول الاحوال اشخاص کا ذکر ضمناً آگیا ہو تو اسی سے تحقیق کا راستہ آگے کو نکلتا ہے لیکن اس کتاب کے چوتھے باب میں مصنف محترم نے ان اشخاص کو شامل کیا ہے جن کے زیادہ احوال و کوائف نہیں مل سکے ۔ اس طریقے سے دیکھا جائے تو اس کتاب کو تحقیق و تدوین کے ساتھ تذکرہ نگاری کی عمدہ مثال میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔

میں محتر م مصنف کا بہت ہی زیادہ ممنون و مشکور ہوں بلکہ اردو دنیا کو بھی ممنون و مشکور ہونا چاہیے کہ انہوں نے ایک ایسے علاقے کی کاوشوں کو منظر عام پر لادیا جن کے متعلق یا اس علاقے کے متعلق عموما لوگ سوچا نہیں کرتے، نہ وہاں سے کوئی ادبی خبر سامنے آتی ہے نہ ہی رسائل و جرائد میں بہت کچھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے ، وہاں جس سطح پر بھی کام ہو رہا ہے وہ قابل ستائش ہے، وہاں کے مصنفین، ناقدین ،شعراو ادبا اردو لکھنے پڑھنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اردو زبان وادب کی شمع کو روشن رکھا ہوا ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ چھتیس گڑھ میں ادب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوگا اور اس کتاب سے روشنی حاصل کرتے ہوئے مزیدتحقیقی کام سامنے آئیں گے ۔


Tuesday, 17 December 2024

قاری کا فقدان


دریچہ 

ڈاکٹر امیرحمزہ 

 اردو معاشرہ میں ابھی جس چیز کا مرثیہ سب سے زیادہ پڑھا جارہا ہے وہ ہے قاری کا فقدان۔ جس محفل میں بھی جائیے اور جس یونی ورسٹی میں بھی قدم رکھیے آپ کو یہ سننے کوضرور ملے گاکہ اب قاری نہیں رہے ۔ لیکن یہ صورتحال کوئی اچانک سامنے نہیں آئی بلکہ برسوں سے خارجی و داخلی عوامل ایسے سا منے آئے کہ اب اردو معاشرے میں آپ کو خال خال ہی یہ دیکھنے کو ملے گا کہ قاری پیدا ہورہے ہیں ۔ مصنف ومرتب ، شاعر و تخلیق کار بہت ہی زیادہ سامنے آرہے ہیں لیکن قاری پیدا کرنے کی جانب پیش رفت بہت ہی کم کی جارہی ہے ۔ اس اہم مسئلہ کو ابھی ہم دو حصوں تقسیم کرتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس جانب قاری کا فقدان ہے۔اول تعلیمی اداروں میں ؟ دوم معاشرہ میں ؟ جواب آئے گا دونوں جگہ قاری کا فقدان ہے۔ پہلے تعلیمی اداروں کی بات کرلیتے ہیں کہ آخرتعلیمی نظام میں کیا تبدیلیاں آئیں کہ وہ تخلیق کار و قلم کار تو دور کی بات ہے اب قاری بھی پیدا نہیں کرپارہے ہیں ۔ آپ میرے اس جملے سے ضرور چونک گئے ہوں گے۔ ہاں یہی حقیقت ہے ۔ اب آپ خود ہی سوچیے کہ آپ کے گریجویشن اور ماسٹر میں کتنے درسی ساتھی تھے اور ابھی ان میں سے کتنے ہیں جو باضابطہ قاری ہیں یا ان میں مطالعہ کا شوق ہے ۔ آپ کہیں گے وہ تو سبھی تجارتی اور روزگا ر کا ستم جھیل رہے ہیں۔ ان کے پاس کہاں وقت کہ وہ کتب بینی میں اپنا وقت صرف کریں ۔ آپ کا جواب بالکل درست ہے کہ روزگار کے آلام میں فرصت کے اوقات کہاں سے نکلیںگے ۔ پھر سوال قائم ہوتا ہے کہ جس اسٹریم سے ہماری تعلیم ہوئی ہے ا س کے کیا مقاصد ہیں ۔وہ ووکیشنل اور پرفیشنل تو نہیں ہے کہ جہاں متن سے زیادہ تجربات کی اہمیت ہوتی ہے ۔ کیونکہ سائنس والوں کی عملی زندگی تجربات کے سہارے آگے بڑھتی ہے اور جہاں سند کے حصول کے بعد انسان اپنی زندگی مشینوں کے حوالے کردیتا ہے اور فنون سے اپنی روزی روٹی کے لیے جدو جہد کرتا ہے ۔ لیکن آرٹ جس میں علوم وفنون دونوں ایک دسرے کے ساتھ شیر شکر ہوجاتے ہیں وہاں کیا مقاصد ہوتے ہیں ؟ سوچیے ذرا ! اگر ذرا بھی سوچیں گے تواحساس ہوگا کہ ملک و ملت فنون و ثقافت کی تعلیم سے تعمیر معاشرہ کے لیے فکری قوت کو پروان چڑھاتی ہے اور ان میں متون کوفروغ دیا جاتا ہے اور جہاں متون کا فروغ ہوتا ہے وہاں بنیادی عنصر انہیں متون سے آشنا کرکے سماج میں فکری قوت کا فروغ دینا ہوتا ہے جس کے لیے ملک و ملت کا بنیادی مقصد قاری پیدا کرکے سماج میں تعلیم کو عام کرنا ہوتاہے ۔

یہ توایک نظریہ ہوسکتا ہے ۔ لیکن اصل سوال اب بھی قائم ہے کہ اب قاری کیسے پیدا کیے جائیں ۔ اس کے لیے ہمیں وجوہات پر غور کرنے ہوں گے اور تعلیم گاہوں کی جانب رخ کرنا ہوگا اور جہاں تعلیمی مدارج کے ماحول کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔ پہلی سے پانچویں کلاس تک میں غور کرتے ہیں ۔ یہاں پر بچوں کی عمر دس برس ہوتی ہے اور پانچوں سال میں بچے بارہ سے پندرہ درسی کتابیں پڑھ چکے ہوتے ہیں ۔یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بچے اس لائق ہوجاتے ہیں  کہ متن کی قرات کرسکیں ۔ لیکن آپ کو یہاں رزلٹ نہیں ملے گا ۔( لیکن ہمارے یہاں ابھی بھی کچھ ایسے اردو کے نامور ادیب زندہ ہیں جن کی اردو کی تعلیم محض پانچویں درجہ تک ہوئی ہے ۔) ابھی ایسا اس لیے ممکن نہیں ہوپارہا ہے کہ اسکولی نظام تعلیم میں متن کی قرات میں آموختہ کا مفہوم ہی نہیں رہا ۔ نیز طلبہ کی کثرت اور اردو کے لیے اساتذہ کی قلت اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ میں پانچویں کے بعد بھی یہ صلاحیت نہیں رہتی ہے کہ وہ متن کی بخوبی قرات کرسکیں ۔ اس کے بالمقابل میں دہلی کے انگلش میڈیم نامی گرامی اسکولوں کے بچوں کی جانب رخ کرتا ہوں تو وہاں معاملات برعکس ملتے ہیں ۔ وہاں کے کئی بچوں اور ان کے والدین سے بات کرکے پتہ چلا کہ والدین کو بچوں کے لیے اضافی چلڈرنس لٹریچرہر ماہ ہزاروں روپے کے خریدنے پڑتے ہیں ۔ ایک ماں کہنا تھا کہ مجھے کم اس لیے خریدنا پڑتا ہے کیونکہ میری دو جڑواں بیٹیا ں ہیں، انہیں اسکول کی لائبریری سے ہفتے میں دو کتابیں مل جاتی ہیں ،تواس طرح سے ہمارے دونوں بچے چار کتابیں پڑھ لیتے ہیں باقی چھٹیوں کے دنوں میں پریشانی ہوتی ہے ۔ آپ کے ذہن میں ضرور سوال آرہا ہوگا کہ چوتھی کلاس کی بچیاں ہیں اور وہ ہفتے میں چارکتابیں ۔ جی ہاں میں اس کا شاہد ہوں ۔ آخر ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان میں قرات کی صلاحیت کو بہت ہی زیادہ پروان چڑھایا جاتا ہے ، وہ متن کی قرات میں پریشانیاں نہیں محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ ہمارے یہاں سرکاری نیز پرائیویٹ اسکولوں میں تو بچوں کو سبق ہی یاد نہیں ہوتا ہے ۔دوسری بات یہ کہ ہمارے معاشرے کے جو بچے ان اعلیٰ اسکولو ں میں پڑھتے ہیں ان کی ترجیح کبھی بھی اردو نہیں ہوتی ہے ۔ اگر بچوں کا اردو متن خوانی بہتر ہو بھی جائے تو کتابوں کی فراہمی ان کے لیے مشکل ہوجاتی ہے ۔ جہاں پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے شوق ہونے کے باوجود وہ اپنی دلچسپیاں کہیں اور تلاشنے لگتے ہیں ۔

دوسرا دو رسکنڈری اسکولوں کا ہوتا ہے ،جہاںسے تیسری زبان والے بچے بھی اردو میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ان کی لرننگ صلاحیت تیز ہوتی ہے وہ تیزی سے چیزوں کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں ۔وہاں بچوں کو خارجی کتابوں میں دلچسپی بھی بڑھتی ہے جو ں جوں ان کے موضوعات میں اضافہ ہوتا ہے ان کی دلچسپیاں مزید بڑھنے لگتی ہے ۔ یہا ں پر بھی وہی آگے ہوتے ہیں جو پرائمری میں بہتر ہوتے ہیں ۔ یہاں قرات کا مسئلہ قدرے بہتر ہوجاتا ہے لیکن سسٹم کی مجبوری کے تحت اکثر میں مطالعہ کا شوق نہیں پیدا ہوپاتا ہے ۔ جبکہ انہیں میں سے چند فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں جن کی دلچسپی کتابوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔ اب یہاں پر اردو برادری کا امتحان ہوتا ہے کہ کیا انہیں ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کتابیں فراہم ہوجاتی ہیں ؟بالکل بھی نہیں ! چنداردو کے رسالے جن کی فخریہ اشاعت ہندوستان میں ہوتی ہے ان کے قاری اکثر ثانوی درجات کے ہی بچے ہوتے ہیں ۔ ایسے میں انہیں مستقبل کے لیے بنا کر رکھنا اساتذہ اور سماج کی ذمہ داری ہوتی ہے جبکہ ان دنوں ہماری آج کی زندگی میں تنہائی پسند نے گرہن لگا کر رکھ دیا ہے ۔ اساتذہ بس کلاس روم تک رہ گئے ہیں اور ماحول میں اجتماعیت کے فقدان نے بڑا نقصان کیا ہے، جس سے کوئی بھی طالب علم کسی دوسرے طالب علم کی اکٹویٹی پر نظر نہیں رکھتا ہے ۔ اس لیے اب دوست کم اور فالور زیادہ بنتے ہیں اوراگر اس بڑھتی ہوئی عمر میں گھر کا ماحول کتاب دوست ہے تو کتاب دوست ماحول بچے پر اثر کرتا ہے ورنہ وہ محض درسیات تک محدود رہتا ہے ۔ بور ڈ امتحانات کے بعد دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعلیمی سلسلے منقطع ہوجاتے ہیںبچیاں گھرگرہستی میں اور بچے روزی روٹی میں لگ جاتے ہیں ۔ یہاں پر ایک اچھا موقع ہاتھ آتا ہے کہ وہ بچیوں میں مطالعہ کو فروغ دیں لیکن اب تک میری نظر میں کوئی بھی آرگنائزیشن ایسی نہیں ملی جو اس جہت میں کام کررہی ہو۔ لڑکے تو پردیس چلے جاتے ہیں یا گھر کے کاروبار میں ساتھ نبھاتے ہیں ۔ بورڈ کے بعد ذمہ داری اعلی تعلیمی اداروں کی جانب رخ کرنے والوں پر آجاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر درس و تدریس میں تبدیلیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ وہاں کتابیں نہیں بلکہ لکچرس کا ماحول ملتا ہے ۔ وہاں متن پر کم اور نظریاتی تقاریر پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ کالجز میں جو بھی طلبہ کلاس کے لیے جاتے ہیں وہ پاس کے نہیں ہوتے ہیں بلکہ کالج تک باضابطہ ایک سفر طے کر کے جانا ہوتا ہے ۔ وہاں لائبریری کا انتظام بھی کسی منتظم کے انتظار میں ہوتا ہے ، نیز لائبریری سے استفادہ کا فیصد نکالا جائے تو بہت ہی کم آئے گا۔ اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ۔صاف وجہ ہے تدریس میں متن سے دوری ۔ اگر ایک موضوع پر دس سے زیادہ کتابوں کی سفارشیں نصاب تعلیم میں کئی گئی ہیں، ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان سبھی کتابوں سے سبھی طلبہ بخوبی واقف ہوتے لیکن اس کے بجائے نوٹ سازی کا رجحان اصل روح کو متاثر کرتا ہے۔ نوٹ سازی اگرطلبہ خود دسیوں کتابوں سے کریں تو یہ کچھ بہتر بات ہوسکتی تھی لیکن فوٹو کاپی کے رجحان نے ذوق مطالعہ کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے ۔ ایسے میں دیکھیں تو کل تین سمسٹر س اور سولہ پرچوں میںسفارش شدہ کتب کی تعداد ہر یونی ورسٹی میں سو سے ایک سو بیس تک ہوتی ہے لیکن اس کے لیے ابھی کا جو ماحول ہے وہ یہ ہے کہ بس اس کے لیے سو لہ نوٹس کافی ہیں ۔ اس صورتحال میں سبھی شامل نہیں ہیں یقینا کئی طلبہ ایسے بھی ہیں جن کے مطالعہ کی استعداد پر داددینی پڑتی ہے ۔ البتہ نوے فیصد میں یہی حال آپ کو دیکھنے کو ملے گا ۔ایسے میں جہاں سے قاری نکلتے وہاں سے کتب بیزار طلبہ نکلتے ہیں ۔کالج کیمپس میں رہ کر پڑھنے والے طلبہ کی کیفیت دوسری ہے ۔ اس کے بعد کچھ طلبہ ماسٹرس کی جانب سفر کرتے ہیں ۔ گریجویشن میں جن موضوعات سے تعارف ہوا تھا اب ان میں درک حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ طلبہ کے درمیان آگے ریسر چ کے لیے ماحول تیار کرتا ہے ۔ یہاں اب تک چار سمسٹرس ہوا کرتے تھے جن میں سولہ پیپرس خالص اردو کے ہوتے ہیں۔ جن میں جدید و قدیم موضوعات کے ساتھ صحافت ، ڈرامہ اور فلم بھی پڑھنے کو ملتا ہے ۔ یہاں تو یہی امید ہوتی ہے کہ جو بھی ماسٹرس میں داخلہ لیتا ہے ان کا کتابوں سے گہرا رشتہ رہتا ہے ۔ لیکن دسری طرف نظر ڈالیں تو یہاں نوٹس سے بھی بڑی برائی معروضی سوالات کا ہوتا ہے ۔ اب تو ایم اے میں بھی بچے معروضی کی راہ سے آتے ہیں ،دوم یہ ہے کہ نیٹ اور جے آر ایف کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ معروضی کتابوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور موضوعات پر سنجیدہ مطالعہ ان کے نصیب میں نہیں ہوتا ہے ۔معروضی کتابوں سے ان کا مقصد تو حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ نیٹ اور فیلوشپ کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ کا سفر ان کے لیے آسان ہوجاتا ہے ، لیکن ماسٹرس میں کتابوں کی دنیا میں کھو کر چند مخصوص موضوعات میں قاری اپنا رجحان پیدا کرنا چاہتا ہے وہ نہیں ہوپاتا ہے اور بالآخر پی ایچ ڈی میں جیسا بھی موضوع تھوپ دیا جائے کام کردیا جاتا ہے اور تمام تعلیمی سال میں ماحول ایسا بنادیا جاتا ہے کہ کتابیں قاری کی تلاش میںتر س کر رہ جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر یت میں ذوق مطالعہ پیدا ہی نہیں ہو پاتا ہے ۔ 

یہاں تک اسکولی سسٹم کی بات ہوئی ۔ مدارس کی بھی بات ہونی چاہیے جہاں سے قوم وملت کے چند فیصد ہی بچے مستفید ہوتے ہیں اور یہ نظر یہ بھی پھیل گیا ہے کہ اردو کا تحفظ مدارس سے ہی ہورہی ہے ۔ تو میں یہاں کہہ دوں کہ اردو کے حوالے سے مدارس کی بات کرنا بے سود ہے اور آپ کو مدارس سے امید رکھنا بھی بے سود ہے ۔ کیونکہ وہاں اردو زبان بالکل بنیادی سطح پر سکھائی جاتی ہے تاکہ مافی الضمیر کی ادائیگی ہوسکے اور وہ بھی اس لیے کہ عوام کی زبان اردو ہے۔ مدارس نے اس زبان کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رکھی ہے۔ البتہ دنیا کے اکثر مدارس میں عربی کے بعد دوسری زبان اردو ہی ہے اس کی وجہ ہے کہ اکابر کی اکثر تصنیفات اردو میں ہی ہیں جن سے وہ مستفید ہوتے ہیں ۔ مدارس میں بچے ابتدائی پرائمری اور اعدادیہ میں ہی کچھ اردو کی کتابیں پڑھتے ہیں وہیں سے وہ نقل اور املا سیکھتے ہیں ، یہی سلسلہ حفظ میں بھی جاری رہتا ہے ، ان کتابوں کی نوعیت ادبی کم اور مذہبی زیادہ ہوتی ہے ۔اب تو فارسی درجات بھی ختم ہوگئے تو پھر اس کے بعد اردو کتابیں درس سے خارج اور مطالعہ میں داخل ہوجاتی ہیں ۔ اب کوئی بھی طالب علم بغیر شروحات کے درسی سفر طے کرتا ہی نہیں ہے ،خواہ کسی  بھی ادارہ کا بچہ ہو ۔ ہر عربی کتاب کے ساتھ عبار ت خوانی اور ترجمہ لازمی ہوتا ہے ۔ ترجمہ کے بعد تشریح اساتذہ بیان کرتے ہی ہیں ساتھ ہی اعادہ کے لیے وہ شروحات کی بھی مدد لیتے ہیں ۔ ایسے میں وہ مطالعہ کے عادی تو ہوجاتے ہیں لیکن خارجی کتابیں ان کے لیے شجر ممنوعہ ہوتی ہے ، کیونکہ نصاب اتنا بسیط ہوتا ہے کہ اسی کا احاطہ ممکن نہیں ہو پاتا ہے تو پھر کہاں وقت کہ وہ کچھ خارجی مطالعہ کرسکیں، پھر بھی اساتذہ کی تلقین اور مختلف کتب کے حوالہ جات ان کے اندر کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ وہ ان کتابوں سے مستفید ہوں تو ایسے میں آپ پائیںگے کہ وہ چنندہ ادیبوں کی کتابوں کے شیدائی ہوتے ہیں ۔ البتہ ابھی بھی وہاں سے صاحب ذوق قاری اور عمدہ شعری و نثری تخلیق کارپیدا ہورہے جو مشرقی لسانی جمالیات کی بھرپورنمائندگی بھی کررہے ہیں اور اتفاق سے زبان کی نوک پلک سنوارنے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ 


اردو کا فرزند: فاروق سید

 اردو کا فرزند: فاروق سید   سر کاری و غیر سرکاری ادارے وکسی تنظیم کی معاونت کے بغیر تن تنہاتیس برسوں تک بچوں کا رسالہ ’گل بوٹے ‘ کو مقبول عا...