Saturday, 5 September 2026

بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

 بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

علمِ تشریعیات میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، جو اب محاورے کی طرح مستعمل ہے۔ اس سے مراد کسی فن یا موضوع میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز ہے۔ علامہ اقبال کی نو نظموں کے حوالے سے میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بچوں کی تمام نظموں میں یہ نو نظمیں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ محض دعویٰ نہیں، بلکہ اس کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔

اردو میں بچوں کے لیے نظمیں لکھنے کا رواج بہت قدیم ہے۔ امیر خسرو سے لے کر علامہ اقبال تک، متعدد شعرا نے اس صنف میں طبع آزمائی کی۔ تاہم، جب اقبال نے 1901ء اور بعد کے برسوں میں بچوں کے لیے نظمیں لکھیں، جو متعدد رسائل میں شائع ہوئیں، تو غیر شعوری طور پر ادبِ اطفال کی تاریخ میں ایک سنگِ میل رقم ہوگیا۔ اقبال کے بغیر اردو ادبِ اطفال نہ صرف نامکمل ہے، بلکہ ان کی یہ نظمیں اس فن میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادبِ اطفال کی جو بھی تاریخ لکھی گئی، اس میں اقبال کا تذکرہ لازمی طور پر موجود ہوتا ہے۔

علامہ اقبال کی نو نظموں کا کیا سحر تھا کہ وہ سر چڑھ کر بولیں اور آج تک ان کی روشنی مدھم نہیں پڑی۔ حالانکہ اسی عہد میں بچوں کے لیے بہترین نظمیں لکھی جا رہی تھیں، لیکن اقبال کی نظموں کا تقابل تو درکنار، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہرا۔ جب درسی کتابوں کے لیے نظمیں لکھنے کا رواج شروع ہوا، تو محمد حسین آزاد اس میدان میں سرخیل بن کر سامنے آئے۔ انھوں نے اردو کی درسی کتابوں کے لیے پانچویں جماعت تک کے پانچ حصوں میں کتابیں لکھیں۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی اس سلسلے میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اتفاق سے دونوں کی کتابیں ’’بانگِ درا‘‘ کی اشاعت سے پہلے ہی نصاب کا حصہ بن چکی تھیں۔ جب ہم مولوی اسماعیل میرٹھی کی پانچوں کتابوں کی نظموں پر نظر ڈالتے ہیں، تو شعرا کا ایک جمِ غفیر نظر آتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اقبال نے اپنی نظمیں پیش کیں، ان میں ایسی کشش اور جاذبیت سامنے آئی کہ ان کے شیرین الفاظ کی تاثیر کبھی کم نہ ہوئی۔

’’بانگِ درا‘‘ میں اقبال نے ابتدائی عمر کے بچوں کے لیے نو نظمیں شامل کیں، جو کلیاتِ اقبال کے مطابق ترتیب وار یہ ہیں:

1 ایک مکڑا اور مکھی

2 ایک پہاڑ اور گلہری

3 ایک گائے اور بکری

4 بچے کی دعا

5 ہمدردی

6 ماں کا خواب

7 پرندے کی فریاد

8 ترانہ ہندی

9 ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

گیان چند جین کی تحقیق کے مطابق، ان نظموں کی زمانی ترتیب کچھ یوں ہے:

ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، بچے کی دعا، ہمدردی، ماں کا خواب (نومبر 1901ء)

پرندے کی فریاد (مارچ 1903ء)

ترانہ ہندی (اگست 1904ء)

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت (فروری 1905ء)

ان میں سے ابتدائی چھ نظمیں، جو 1901ء میں لکھی گئیں، اتفاق سے کسی نہ کسی ماخذ سے ماخوذ ہیں۔

ایک مکڑا اور مکھی

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ میری ہاوٹ (Mary Howitt) کی نظم The Spider and the Fly سے ماخوذ ہے، اور عنوان کا ترجمہ لفظ بہ لفظ ہے۔ میری ہاوٹ نے اس نظم کو سات بندوں میں لکھا، جبکہ اقبال نے اسے چودہ اشعار میں نظم کیا ہے۔ دونوں نظموں کی جزئیات تقریباً یکساں ہیں، لیکن میری ہاوٹ نے اختتامی سطور میں نصیحت شامل کی، جبکہ اقبال نے صرف انجام بیان کر کے نظم کو نظم ہی رہنے دیا۔

دونوں نظموں کا تقابل کریں تو زبان کی سادگی دونوں میں نمایاں ہے۔ بچوں کے لیے ان کی دلچسپی بھی یکساں نظر آتی ہے، کیونکہ مکڑے کی مکھی کے پروں، آنکھوں اور سر کی خوبصورتی کی تعریفیں کر کے اسے جال میں پھنسانے کی کوشش دونوں نظموں میں ایک جیسی ہے۔ تاہم، میری ہاوٹ آخری سطور میں بچوں کو نصیحت کرتی ہیں کہ چاپلوسوں کے جال سے دور رہنا چاہیے، جبکہ اقبال کا اختتام زیادہ دلچسپ ہے۔ وہ تین اشعار میں واقعے کو سمیٹتے ہیں اور ماقبل کی تفصیلات کو چست رکھتے ہیں:

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں

سچ یہ ہے کہ دل کو توڑنا اچھا نہیں ہوتا

یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے

پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

بھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی

آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا


ایک پہاڑ اور گلہری

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ رالف والڈو ایمرسن (Ralph Waldo Emerson) کی نظم The Mountain and the Squirrel سے ماخوذ ہے۔ عنوان کا ترجمہ لفظ بہ لفظ بغیر کسی تبدیلی کے ہے۔ ایمرسن کی نظم 20 سطروں پر مشتمل ہے، جبکہ اقبال نے اسے 12 اشعار میں سمیٹا۔ دونوں نظموں کے بیانیے میں واضح فرق ہے۔ ایمرسن نظم کی ابتدا پہاڑ اور گلہری کے جھگڑے سے کرتے ہیں، جبکہ اقبال کے ابتدائی پانچ اشعار میں پہاڑ اپنی عظمت و کبر کا اظہار کرتا ہے۔

گلہری کا جواب ایمرسن کی نظم میں نرم لہجے میں ہے:

You are doubtless very big

لیکن اقبال کی نظم میں پہاڑ کے طنزیہ انداز کی وجہ سے گلہری کا لہجہ قدرے تیز ہے:

کہا یہ سن کے گلہری نے منھ سنبھال ذرا

یہ بچوں والی باتیں ہیں، دل سے انہیں نکال ذرا

اس کے بعد گلہری چھ اشعار میں اپنی اہمیت بیان کرتی ہے۔ دونوں نظموں کا نقطہِ امتزاج ایک مقام پر یوں ملتا ہے:

  If I cannot carry forests on my back,

Neither can you crack a nut.

اقبال پہلی سطر کو نظرانداز کرتے ہیں، لیکن دوسری سطر کو شعرمیں یوں ڈھالتے ہیں:

جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو

یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

ایمرسن کی نظم یہاں ختم ہو جاتی ہے، لیکن اقبال ایک اضافی شعر شامل کرتے ہیں جو نظم کا نچوڑ اور ضرب المثل بن جاتا ہے:

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

اس شعر نے ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ کو اردو ادب میں لازوال شہرت عطا کی، جیسے کوئی مشہور مصرع پوری غزل کو عظمت بخشتا ہے۔

ایک گائے اور بکری

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک گائے اور بکری‘‘ جان ٹیلر (Jane Taylor) کی نظم The Cow and the Ass سے ماخوذ ہے۔ انگریزی نظم 14 بندوں (stanzas) پر مشتمل ہے، جبکہ اقبال کی نظم 29 اشعار پر محیط ہے، لیکن دونوں میں مصرعوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ دونوں نظموں کا مضمون یکساں ہے، البتہ کرداروں میں فرق ہے۔ انگریزی نظم میں بکری کی جگہ گدھا ہے۔ دونوں نظموں کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے اور خود پر عائد پابندیوں کو کبھی سزا نہ سمجھنا چاہیے۔ ساتھ ہی، یہ نظم چھوٹے اور بڑے کے مابین نفسیاتی برتری کے تصور کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اقبال نظم کا اختتام اس شعر سے کرتے ہیں:

یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

اسی مقام پر جان ٹیلر یوں تحریر کرتی ہیں:

Not pleased to be schooled in this way by an ass;

'Yet," said she to herself, 'though he's not very bright,

I really believe that the fellow is right

یعنی: ’’گدھے سے اس طرح سے درس حاصل کرنے پر میں خوش تو نہیں، لیکن وہ زیادہ ذہین نہ ہونے کے باوجود درست کہتا ہے۔‘‘

اس نظم کے متعلق 1966ء کے سہ ماہی ’’اردو‘‘ (کراچی، ص 7) میں ڈاکٹر اکرم حسین لکھتے ہیں:

’’اقبال کی یہ نظم نہ صرف ماخوذ ہے بلکہ اس کا کامیاب ترجمہ بھی ہے۔ جان ٹیلر کے ہاں نظم کا عنوان مرکزی خیال کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ گدھا انسان کی تاریخ میں مظلوم ترین مخلوق ہے۔ اگر وہ اس کے باوجود انسان میں خیر کا پہلو تلاش کر سکتا ہے، تو یہ شاعر کے انسانی خیر پر یقین کی دلیل ہے۔ البتہ اقبال نے نظم کے ماحول کو مقامی رنگ دینے کی کامیاب کوشش کی اور مقامی روایات کے احترام میں عنوان کو بھی تبدیل کیا۔‘‘

یہ بات درست ہے کہ اقبال نے نظم کو مقامی رنگ دے کر بچوں کے لیے دلچسپ بنایا۔ مکالموں کو پرکشش اور منظرنگاری کو خوبصورت بنایا گیا، جو نظم کی ابتدا سے ہی بچوں میں تجسس پیدا کرتی ہے۔

بچے کی دعا

نظم ’’بچے کی دعا‘‘ کے نیچے انھوں نے ’’ماخوذ بچوں کے لیے‘‘ لکھا ہے۔ یہ نظم میٹلڈا باربرا بیتھم ایڈورڈز (Matilda Barbara Betham-Edwards) کی نظم سے ماخوذ ہے، جس کا کوئی رسمی عنوان نہیں، بلکہ غزل کی طرح اس کی پہلی سطر ہی عنوان ہے:

God make my life a little light

اقبال کی کلیات میں ’’ماخوذ‘‘ کا ذکر ہے، لیکن یہ نظم اردو کی درسی کتابوں، کاپیوں کے پچھلے صفحات اور دیگر مقامات پر اتنی عام ہوئی کہ لفظ ’’ماخوذ‘‘ گویا معدوم ہو گیا۔ اکثر لوگوں، حتیٰ کہ ہم جیسوں کو بھی، یہ وہم نہیں ہوتا کہ اقبال کی یہ مقبول ترین نظم ماخوذ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معاملہ صرف اس نظم تک محدود نہیں۔ دنیا میں کئی تخلیقات ایسی ہیں جو ترجمے کی زبان میں اپنی اصل زبان سے زیادہ مقبول ہوئیں اور اقبال کی نظمیں اس کی واضح مثال ہیں۔ ایک بڑی زبان (انگریزی) کی تخلیق کو اردو میں جو شہرت ملی، وہ اسے اپنی زبان میں نہ مل سکی۔ یہ تو محض اقبال کا کرشمہ ہے۔

انگریزی نظم کے چند بند ملاحظہ کریں:

1. God make my life a little light

Within the world to glow;

A little flame that burneth bright

Wherever I may go.

2. God make my life a little flower

That giveth joy to all,

Content to bloom in native bower

Although the place be small.

3. God make my life a little song

That comforteth the sad,

That helpeth others to be strong,

And makes the singer glad.

4. God make my life a little staff

Whereon the weak may rest,

That so what strength and health I have

May serve my neighbours best.

5. God make my life a little hymn

Of tenderness and praise;

Of faith—that never waxeth dim,

In all His wondrous ways.

انگریزی نظم کے الفاظ جیسے little light to glow, little flame burneth bright, little flower, اور that helpeth others to be strong  سے ماخوذ ہونے کی کیفیت واضح ہوتی ہے۔ اقبال نے شاعر کا نام شاید اس لیے نہیں لکھا کہ یہ محض ایک خیال کا اخذ تھا۔ ’’بچے کی دعا‘‘ میں فنی تخلیقیت کی جو خوبصورتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف خیال کے خطوط کو طے کرتے ہیں، بلکہ اسے کندن بنانے کے فن میں یکتا ہیں۔

نظم کا پہلا مصرع ہی لیجیے:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

یہ دعا بھی ہے اور تمنا بھی۔ بچوں کی نفسیات میں تمنا گہرا اثر رکھتی ہے اور جب یہ دعا سے ملتی ہے، تو اس میں جو یقین پیدا ہوتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ اقبال کی نظم کی ساری کیفیات میٹلڈا کی نظم سے ماخوذ ہیں، حتیٰ کہ آخری بند تک۔ لیکن اقبال نے اسے اپنے اشعار میں جس قالب میں ڈھالا، اس میں وسعت، اجتماعیت اور قرآنی دعا ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمْ‘‘ کا ترجمہ بھی جھلکتا ہے:

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو، اس راہ پہ چلانا مجھ کو

میں دونوں زبانوں کے ادب کا ماہر تو نہیں، لیکن جتنا سمجھ پایا ہوں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کی زبان سازی اور اشعار میں وسعت لانے کا فن اقبال کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔

ماں کا خواب

خرم علی شفیق اپنی کتاب اقبال ابتدائی دور میں ’’ماں کا خواب‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مخزن میں قصور کے صدرالدین کی اسی موضوع پر ایک نظم شائع ہوئی تھی، اور اتفاق سے اس سے ملتی جلتی ایک انگریزی نظم The Mother’s Dream ولیم بارنس (William Barnes) کی تھی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ معلوم نہیں کہ اقبال نے یہ نظم کب لکھی۔ کتاب میں یہ بحث بھی ملتی ہے کہ آیا اقبال نے یہ نظم پہلے لکھی یا صدرالدین نے، اور کیا اقبال نے صدرالدین سے خیال لے کر ’’ماخوذ‘‘ لکھا، کیونکہ ’’ماخوذ از‘‘ کا کوئی واضح ذکر نہیں۔

تاہم، اس نظم کی اصل اہمیت اس کے بیانیے میں ہے۔ انگریزی نظم میں ماں خواب سنانے سے پہلے بتاتی ہے کہ اس کا بیٹا مر چکا ہے (of little lad)، جبکہ صدرالدین کی نظم میں یہ بات درمیان میں آتی ہے (میرا بچہ بھی جو زندہ تھا)۔ اقبال کا بیانیہ خواب سے شروع ہوتا ہے، جس میں ماں اور بچے کے زندہ ہونے کا احساس یکساں ہے۔ یہ خواب گویا بچے کے ذریعے ماں کو سمجھانے یا خبردار کرنے کی کوشش ہے کہ اگر کچھ ہوا تو کیا ہوگا، یا یہ کہ بچے کے ساتھ ہونے والے واقعات زمین سے متعلق ہیں۔

خرم علی شفیق اقبال کی بچوں کی نظموں میں تدریجی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اقبال کے ہاں روشنی علم کا استعارہ تھی، جو انسان کی شخصیت کو بدل دیتی ہے، بلکہ تصوف کی رو سے ایک طرح کی فنا سے ہمکنار کر کے نئی شخصیت عطا کرتی ہے۔ بچے کا ان مراحل سے گزرنا ماں کے خواب میں موت کے استعارے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وہ دیا جو بچے کے ہاتھوں میں روشن نہیں تھا، کیا وہی نہیں جس کی دعا ’’بچے کی دعا‘‘ میں مانگی گئی، اور جس کی بدولت ’’ہمدردی‘‘ میں جگنو نے بلبل کی رہنمائی کی؟‘‘ 

(اقبال ابتدائی دور، خرم علی شفیق، اقبال اکیڈمی پاکستان، ص 290)

روشنی کا استعارہ ’’بچے کی دعا‘‘ کے پہلے، دوسرے اور چوتھے شعر میں براہ راست موجود ہے، جبکہ ’’ہمدردی‘‘ میں شمع اور جگنو کی شکل میں اس کی مکمل تفسیر ملتی ہے، جو بچوں کے لیے سمجھنے میں آسان ہے۔

ہمدردی

اقبال کی اس مختصر نظم پر ’’ماخوذ از ولیم کوپر‘‘ لکھا ہے، لیکن یہ ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ یہ ولیم کوپر (William Cowper) کی کس نظم سے ماخوذ ہے۔ کیا یہ The Nightingale and Glow-Worm سے لی گئی ہے؟ تاہم، اس نظم کا مطالعہ کرنے پر یہ خیال ابھرتا ہے کہ یہ ’’پرندے کی فریاد‘‘ سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ دونوں میں جگنو موضوعِ سخن ہے۔ اگر اقبال نے دونوں نظمیں اسی انگریزی نظم سے اخذ کیں، تو یہ ممکن ہے۔ لیکن ’’پرندے کی فریاد‘‘ میں ’’ماخوذ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ شاید یہ نظم ابتدائی اشاعت میں ’’ماخوذ از انگریزی‘‘ کے ساتھ شائع ہوئی ہو، لیکن موجودہ کلیات میں ایسی کوئی نشاندہی نہیں۔

ایک نوجوان اسکالر ابن منیب نے اشارہ کیا ہے کہ ولیم بلیک (William Blake) کی نظم The Dream سے ’’ہمدردی‘‘ کے مضمون کا میل ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ شروع میں بلیک کی جگہ کوپر کا ذکر غلطی سے ہوا ہو، جو آج تک چلا آرہا ہے۔ دونوں نظموں میں بیانیہ یکساں ہے: ایک پرندہ رات کے اندھیرے میں پھنس جاتا ہے، اور بلبل اس کی مدد کی پیشکش کرتا ہے۔

پرندے کی فریاد

یہ 11 اشعار کی نظم ہے، جس کے ساتھ اقبال نے ’’بچوں کے لیے‘‘ لکھا ہے۔ اس کا اسلوب اور انداز بتاتا ہے کہ یہ بھی کسی انگریزی نظم سے ماخوذ ہے۔ ایک زمانے میں یہ بات عام تھی کہ اقبال ولیم کوپر سے بہت متاثر تھے اور ان کی نظموں کو اردو میں زندہ جاوید کیا۔ اسی بنا پر شبہ ہوتا ہے کہ یہ نظم بھی ماخوذ ہے۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ ضرور کسی نہ کسی محقق نے اس جانب اشارہ کیا ہوگا کیونکہ مضمون بھی کچھ اس جانب اشارہ کر رہا تھا۔ تو مجھے گیان چند جین کی کتاب ’’ابتدائی کلام اقبال بہ ترتیب مہ و سال میں ایک جملہ لکھا ہو املا ’’ڈاکٹر سید حامد حسین لکھتے ہیں کہ یہ اٹھارہویں صدی کے انگریزی شاعر ولیم کو پر کی نظم on a gold pinch straced to dath in hi cage سے ماخوذ ہے، لیکن جب میں نے یہ نظم تلاش کی تو مجھے اول pinch کے مقام پر finch ملا اور اس میں خیال کچھ اس طرح ہے کہ اس میں وہ آزادی کا زمانہ یاد کر رہا ہے۔ یہاں پر بھی اقبال اس کو اردو میں بچوں کے ماحول میں ڈھال کر کے پیش کر رہے ہیں۔ تو گویا کہا جا سکتا ہے کہ اس تھیم کو بھی اقبال نے ولیم کو پر سے حاصل کیا ہے۔ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

اس نظم کا پرانا عنوان ’’میرا وطن‘‘ تھا۔ یہ چار بندوں پر مشتمل ہے، جن میں سے پہلے تین بند یکساں ہیں، لیکن کلیات میں شامل کرتے وقت چوتھے بند میں نمایاں تبدیلی کی گئی۔ موازنہ ملاحظہ کریں:

پرانا مصرع: گوتم کا جو وطن ہے، جاپان کا حرم ہے

نیا مصرع: بندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سینہ

قدیم مصرع میں انفرادیت جھلکتی ہے، جبکہ جدید مصرع اجتماعیت کی عکاسی کرتا ہے۔

پرانا مصرع: عیسیٰ کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے

نیا مصرع: نوح نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینہ

قدیم مصرع مخصوص مذہب کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو محدود دائرے اور تفریق کی بو دیتا ہے۔ جدید مصرع میں اقبال ہند کی عظمت کو آدم ثانی تک لے جاتے ہیں، اور تفریق کی کیفیت ختم کرتے ہیں۔

پرانا مصرع: مدفون جس زمیں میں اسلام کا ختم ہے

نیا مصرع: رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینہ

یہاں اقبال ماضی سے حال کی طرف لوٹتے ہیں اور ہمالہ کی عکاسی کرتے ہیں، جو قومی گیت کے مضمون کے لیے موزوں ہے۔

پرانا مصرع: ہر پھول جس چمن کا فردوس ہے، ارم ہے

نیا مصرع: جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

یہ آخری مصرع نظم کا نچوڑ ہے اور اسے نظم کا حاصل کہنا بجا ہے۔

ترانہ ہندی اور مذکورہ بالا نظم ہندوستانی بچوں کا قومی گیت بظاہر ایک ہی موضوع پر لکھی گئی دو نظمیں ہیں جن میں سے آ ایک کو یقینی طور پر ترانہ کا درجہ ملا جسے بلا تفریق مذہب وملت پورا ہندوستان ایک لے میں گاتا ہے۔ جبکہ قومی گیت کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا جبکہ اس میں اشعار کی تعداد صرف آٹھ ہیں۔ اس کے لیے جب ہم اسلوب میں پہنچ کر بات کریں گے تو احساس ہوگا کہ اس میں اسباب و عوامل پر بات نہیں ہوتی ہے بلکہ اس میں اختصاصات پر بات صلہ و موصول کے بغیر ہوتی ہے اسی وجہ سے یہ ترانہ کے بجائے قومی گیت بن کر رہ گیا ہے اور اس کی وجہ لفظ جس ہے۔ ورنہ ترانہ کی بنیادی خصوصیت جوش و ولولہ اور آہنگ ہے۔ باقی واللہ اعلم۔ 

میں نے یہاں پر نظموں کا تجزیہ پیش نہیں کیا ہیبلکہ صرف اس جانب اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کسی بھی خیال کو کسی طرح اعلی تخلیق مثال بنا کر پیش کرتے ہیں۔

پروفیسرعبدالستار دلوی کی مقدمہ نگاری

  پروفیسر دلوی کی مقدمہ نگاری 

پروفیسر عبدالستار دلوی کا شمار عہدِ حاضر کے ان اساطینِ ادب میں ہوتا ہے جنہوں نے زبان و ادب کے نشیب و فراز کو عہدِ ترقی پسند سے لے کر اب تک دیکھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ممبئی کی ادبی محفلوں میں اہم ادیبوں کے ساتھ وقت گزارا، بلکہ تمام ادبی و تحقیقی خدمات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اپنی بے باک رائے سے بھی نوازا۔ ان کی کسی ایک کتاب پر لکھنا خود ایک مشکل مرحلہ ہے اور ان کی تمام ادبی خدمات پر گفتگو کرنا گویا ایک امرِ محال ہے۔ گو کہ یہ ایک باضابطہ پروجیکٹ کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی کتابوں کے مقدمات، پیش لفظ اور ابتدائی کلمات پر نظر ڈال کر ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے اور اسی دریچے سے ان پر گفتگو کی جائے ،لیکن جب اس حوالے سے تلاش و جستجو کی تو مجھے ڈاکٹر رئیسہ ناز کا ایک مضمون اسی عنوان سے ملا۔ میں نے اسے بغور پڑھا، مگر پھر بھی میری تمنا رہی کہ اسی موضوع پر کچھ میں بھی لکھوں۔ شاید عمومی تاثرات سے کچھ خصوصی باتیں سامنے آجائیں۔ چنانچہ مطالعے کے دوران مجھے بخوبی احساس ہوا کہ انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’انتخابِ کلامِ مصحفی‘‘ سے جو پیغام دینے کی کوشش کی، وہ آخر تک قائم رہا۔ دلوی صاحب کا شمار عہدِ حاضر کے اہم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ وہ محقق، ناقد، مرتب، مؤلف اور مدون بھی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی تحریروں کا بے باک اسلوب انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ عہدِ حاضر کے مروجہ ناقدین کی فہرست سے الگ ہیں، کیونکہ ان کے تنقیدی افکار میں وہ دائروی اسلوب نہیں جو رائج ہے، جس کی وجہ سے قاری واضح پیغام حاصل نہیں کر پاتا۔

یہاں پر میں مقدمہ نگاری کے اصول کی جانب نہیں جاتا ہوں ،ان اصول کو دیکھنے کے ہر ایک کے انداز الگ الگ ہیں ۔ ہم جب ماضی میں دیکھتے ہیں تو مشرقی علو م کی کتب میں بہت ہی اہم مقدمے ملتے ہیں جہاں مقدمہ نگاری باضابطہ اپنی ایک الگ انسائیکلو پیڈیا قائم کرتا ہے۔ اردو کے مشہور مقدموں میں  مقدمۂ شعر و شاعری:حالی، مقدمہ ٔتاریخ زبان اردو :مسعود حسین خاں ،مقدمہ ٔکلام آتش : خلیل الرحمن اعظمی اور محاسن کلام غالب ، ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری  کے وہ مقدمے ہیں جو اتنے مشہور ہوئے کہ باضابطہ کتابی شکل میں شائع ہورہے ہیں ۔ اردو کے دیگر اہم مقدمہ نگاروں میں مولوی عبدالحق ، رشید حسن خاں ، مالک رام اور قاضی عبدالودود ہیں ۔دیگر زبانوںکا علم نہیں لیکن عربی میں مقدمہ نگاری کی بہت ہی مضبوط روایت رہی ہے ، مقدمہ ابن خلدو ن تو سب سے زیادہ مشہور ہے ہی لیکن وہاں کی کتب میں آپ کے ایسے مقدمے ملیں گے جو مابعد کے لیے علم کی دھارا طے کرتے ہیں ۔ علم حدیث میں صحیح مسلم کا مقدمہ ، 

مقدمہ بذل ا لمجہود : شیخ خلیل احمد سہارنپور ی، فتح الملہم :شبیر احمد عثمانی ، مقدمہ نخبۃ الفکر۔ یاقوت حموی کا معجم الأدبا اور معجم البلدان کے مقدمے ۔ علم لغت میں ہمارے ہندوستانی عالم سید محمد مرتضی الحسین الزبیدی کا تاج العروس کا مقدمہ ۔جاحظ کی کتابوں کے مقدمے۔ العقد الفرید ، مرو ج الذہب ، الوافی بالوفیات اور دلائل النبوۃ میں شامل مقدمے۔ المفصل کا مقدمۂ زمخشری اور حاجی خلیفہ کا کشف الظنون کا مقدمہ اور نہ جانے کتنے مقدمے ہیں جن کی علمی شناخت اصل کتب سے بھی زائد ہیں ۔ 

خیر، اصل متون کی جانب بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دلوی صاحب اپنے مقدمات کے ذریعے قاری کو اپنی کتب کی اہمیت پر کس طرح قائل کرتے ہیں۔

ان کی پہلی کتاب ’’انتخابِ کلامِ مصحفی‘‘ 1960ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب انہوں نے محض تیئس برس کی عمر میں مرتب کی، جب وہ ماسٹرز کے طالب علم تھے۔ یہ یقیناً ان کی خداداد صلاحیت کا ثبوت ہے کہ اس کم عمری میں وہ کلاسیکی ادب سے مکمل ہم آہنگ ہوئے اور مصحفی کے کلام کے انتخاب کے ذریعے نہ صرف اردو دنیا میں مصحفی کو نئے سرے سے متعارف کرایا، بلکہ خود کو بھی ایک معتبر ادیب کے طور پر منوایا۔ یہ کتاب محض ایک مقدمے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے چار صفحات اور چند سطروں کے مختصر پیش لفظ میں انہوں نے مصحفی کے کلام کی اہمیت کو نہایت خوبی سے واضح کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کئی نئے نظریات پیش کیے جن کے ذریعے انہیں فکری اولیت کا مقام حاصل ہوا۔

مصحفی کے کلام کے رنگ کو جب الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:

’’ہر شاعر اپنے پیش روؤں کے جذبات و محسوسات سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، اور پھر اسی کوشش کے تحت اس کا اپنا رنگ نکھر آتا ہے۔ مصحفی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘‘

اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ مصحفی کا جو جداگانہ رنگ نظر آتا ہے، وہ اچانک وجود میں نہیں آیا، بلکہ یہ ایک تدریجی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مصحفی کے کلام میں ’’میر کا سوز، سودا کا ساز، درد کا تصوف، اور جرأت و انشا کی رنگینی و معاملہ بندی‘‘ رچی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اگر اسے مزید مختصر کیا جائے، تو دلوی صاحب اس طرح لکھتے ہیں:

 ’’میر، سودا، اور درد کی شاعرانہ خصوصیات کو یکجا کیا جائے، تو مصحفی کا اپنا رنگ نکھر آتا ہے۔‘‘ 

دلوی صاحب کے ان جملوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے مصحفی کی شاعری کی اہمیت کو کس خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ مصحفی یقیناً ہمارے بہت اہم شاعر ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کی تمام روایات کے ساتھ مستقبل کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی فکر کے ساتھ ایک منفرد آہنگ بھی سامنے لاتے ہیں۔ بقول دلوی:

 ’’مصحفی کے قدیم و جدید رنگ کے پیش نظر ہم انہیں دلی اور لکھنؤکی درمیانی کڑی کہہ سکتے ہیں، جو بعد میں ایک دبستان کی صورت اختیار کر گئی۔‘‘

یہ دبستان ان کے شاگردوں کی صورت میں نظر آتا ہے، جہاں سے ان کا رنگ اردو شاعری میں مزید چھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تائید فراق بھی کرتے ہیں اور اس کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں: 

’’اگر میر کے ہاں آفتابِ نصف النہار کی پگھلا دینے والی گرمی ہے، تو سودا کے ہاں اس کی عالمگیر روشنی ہے۔ لیکن جب آفتاب ڈھل جاتا ہے، تو سہ پہر کو گرمی اور روشنی میں جو اعتدال پیدا ہوجاتا ہے، وہ مصحفی کے کلام کی خصوصیت ہے۔‘‘

ان جملوں کی بندش سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالستار دلوی اپنی پہلی کتاب سے ہی نہایت جامع تحریر کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔لیکن اسی مقدمے میں ایک جملہ ملتا ہے:

’’میر و سودا کا زمانہ سیاسی اور معاشی اعتبار سے تاریخِ ہند کا سخت ترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اسی بدحالی کے دور میں تصوف پرورش پاتا ہے تاکہ سیاسی دستبرد سے بچ کر مذہب کے سائے میں پناہ لی جا سکے۔‘‘ 

یہ ایک خاص جملہ ہے، جو کسی عمل کے ردعمل کے طور پر ایک کلیہ صادق کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر درست نہیں، کیونکہ اس عہد کے بعد حالات مزید خراب ہوئے، لیکن تصوف اور کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ غالب اور داغ تک آتے آتے تصوف کی شدت نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ دراصل، جیسے جیسے مادی دور کا اثر بڑھتا گیا، روحانی معاملات کمزور پڑتے گئے۔ تاہم، یہ حقیقت ہے کہ مصحفی کی شاعری میں تصوف بہت گہرائی سے نظر آتا ہے۔

عبدالستار دلوی کا علمی سفر انتخاب مصحفی کی اشاعت سے شروع ہوتا ہے، جس میں انہوں نے ایک جامع اور پرمغز مقدمہ تحریر کیا ہے۔ یہ سفر آگے بڑھتا ہے اور صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں ان کا دوسرا انتخاب ’’انتخاب چکبست‘‘ اگست 1960ء میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا مقدمہ انتخاب مصحفی کے مقدمے کی طرح مختصر نہیں بلکہ تفصیلی ہے۔ مصحفی کے مقدمے میں انہوں نے مثالیں پیش نہیں کیں، جبکہ اس مقدمے میں ہر دعوے کے لیے مثال دی گئی ہے۔ ان کے شستہ جملے آج بھی اپنی رونق سے چکبست کی شاعری کو نمایاں کرتے ہیں۔

سب کو معلوم ہے کہ چکبست لکھنوی شاعر تھے، جہاں کی شاعری کی خصوصیت خارجیت تھی۔ تاہم، آتش نے لکھنوی شاعری کو خارجیت سے داخلیت کی طرف موڑا اور اردو شاعری کی مختلف جہتوں کو اپنے کلام میں سمو دیا۔ یہ یقیناً آتش کا اختصاص تھا، لیکن چکبست نے بھی اسی روش کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی شاعری میں موضوعاتی تنوع پیدا کیا، جو لکھنوی شاعری کو ایک نئی شناخت دیتا ہے۔

چکبست کے عہد میں شاعری کا منظرنامہ بدل گیا تھا۔ گل و بلبل کی شاعری سے ہٹ کر موضوعاتی اور زندگی سے قریب شاعری میں سب اپنا ہنر آزما رہے تھے۔ دلوی لکھتے ہیں: 

’’چکبست چونکہ اپنے ماحول کی پیداوار تھے، وہ عصری، سیاسی و سماجی اثرات سے متاثر ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری جنگ آزادی، قومی تصورات، حب الوطنی، تعلیم نسواں، اور پردے سے عبارت ہے۔‘‘

یہ اس عہد کے اہم موضوعات تھے، جن پر سماجی اصلاح کے لیے کافی طبع آزمائی کی گئی۔ لکھنوی شاعری کا روایتی رنگ زائل ہو چکا تھا اور نئی شاعری رائج ہو رہی تھی۔

دلوی صاحب کا یہ کہنا :

 ’’چکبست نے لکھنؤ کی خارجیت سے ہٹ کر داخلیت کو رواج دیا اور شاعری میں چونچلوں اور معاملہ بندیوں کو کم کر کے حیات و کائنات کے مسائل کو اپنے ملک و سماج کی دردمندانہ کیفیت کے ساتھ الم آگیں داستانیں سنائیں‘‘

 جزوی طور پر درست ہے۔ اقتباس کا دوسرا حصہ درست ہے، لیکن پہلا جملہ اس لیے مناسب نہیں کہ اس سے دیگر شعرا، جنہوں نے اٹھارہویں صدی سے لکھنؤ میں داخلیت کو فروغ دیا، کی نفی ہوتی ہے۔

دلوی صاحب کے مقدمے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی شاعر کو نمایاں کرنے کے لیے ایک منفرد انداز اپناتے ہیں، جس میں وہ ماقبل شعرا کی خصوصیات کو ممدوح میں مرکب انداز سے پیش کرتے ہیں، جیسا کہ مصحفی کے مقدمے میں دیکھا گیا۔ یہاں بھی وہی انداز نظر آتا ہے:

 ’’چکبست کی غزلوں میں آتش، غالب، اور حالی کے اثرات نمایاں طور پر موجود ہیں۔‘‘

 وہ چکبست کے کلام میں آتش کی مرصع کاری، غالب کی اثر انگیزی، اور حالی کی اصلاح کی جھلک دیکھتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ وہ حب الوطنی کے معاملے میں اقبال کا اثر بھی ظاہر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: 

’’اقبال کے بعد چکبست وہ نمایاں شاعر ہیں جن کے کلام میں حب الوطنی کے عناصر سب سے زیادہ رچے ہوئے ہیں۔‘‘

چکبست کے عہد تک ماحول کافی بدل چکا تھا۔ اقبال جہان بینی اور مشرقی اقدار کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ اکبر مغرب کی اندھی تقلید کی طنزیہ انداز میں مخالفت کرتے ہیں، لیکن چکبست کے ہاں اعتدال نمایاں ہے۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:

 ’’چکبست اسی اعتدال پسند گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اکبر کی طرح سائنس کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کی افادیت پر غور کرتے تھے۔‘‘

 اسی وجہ سے ان کے ہاں یہ شعر ملتا ہے:

رخ سے پردہ کو اٹھایا تو بہت خوب کیا

پردۂ شرم کو دل سے نہ اٹھانا ہرگز

مقدمے کا اہم حصہ وجہ تصنیف ہوتا ہے، لیکن بہت سے مصنفین اس لازمی عنصر پر توجہ نہیں دیتے۔ انتخاب مصحفی میں انہوں نے مصحفی کی شاعری کے بارے میں کیے گئے دعووں کے مطابق ان کے ہر رنگ کے اشعار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتخاب چکبست میں وجہ تالیف یہ بیان کی گئی ہے: 

’’چکبست کا یہ انتخاب ’صبح وطن‘ کی کمیابی اور ادب کے طالب علموں کی ضرورتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کوشش کی گئی ہے کہ چکبست کے ہر رنگ کے شعر ایک جگہ پر جمع ہوں تاکہ شاعر کے مطالعہ و میلان طبع کو سمجھنے کے لیے مواد میسر ہو۔‘‘

الغرض اس مقدمے میں انہوں نے مصحفی کے مقدمے کے برخلاف تفصیل سے کام لیا ہے۔ جہاں مصحفی کے مقدمے میں مثالوں سے پرہیز کیا گیا تھا، وہیں اس میں دیگر شعرا کے تقابل کے ساتھ تفصیلی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے بخوبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ چکبست کے بغیر اساتذہ اور شعرا کی فہرست نامکمل رہتی ہے۔

’’اردو میں لسانیاتی تحقیق ‘‘عبدالستار دلوی کی اہم کتب میں سے ایک ہے، جو 1971ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کا پیش لفظ ماہر لسانیات پروفیسر مسعود حسین خاں نے لکھا، جس میں انہوں نے دلوی کی پیش رفت کو بہت سراہا ہے۔ انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ دلوی سے پہلے جن لوگوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا، ان کا ذکر کتاب میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا: 

’’نئی نسل، جس نے لسانیات کے توضیحی اور تاریخی دونوں پہلوؤں پر لکھا، ان کے نام ڈاکٹر عبدالستار دلوی کی اس تالیف میں شامل ہیں۔‘‘ 

یہ کتاب اس وقت کے اہم محققین اور دانشوروں کے مضامین پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا مقدمہ نہایت علمی ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں انہوں نے سات نکات کی جانب توجہ دلائی ہے، جن پر باضابطہ کام کرنے اور ماسٹرز کی سطح پر تعلیم دینے کی ضرورت ہے:۱۔اردو کا صوتی تجزیہ، ۲۔اردو کا صرفی و نحوی مطالعہ،۳۔اردو کی مختلف بولیوں کا جائزہ، ۴۔اردو زبان کی تدریس کا مسئلہ،۵۔اردو کے سماجی و ثقافتی پہلو،۶۔ذو لسانیات اور اردو،۷۔اردو لغت کی تدوین۔

واضح رہے کہ۵۵برس قبل انہوں نے یہ کتاب ترتیب دی، جس میں ان عناصر کی جانب توجہ دلائی گئی۔ یقیناً اس کے بعد اردو لسانیات میں کافی ترقی ہوئی، لیکن دلوی کی اس وقت کی شکایت درست تھی کہ ’’اردو میں لغت کی تدوین بنیادی اور اہم ضرورت ہے۔ گو اردو میں لغتوں کی کمی نہیں، لیکن مشکل سے کوئی ایسی لغت ملتی ہے جو تمام ضروریات پوری کرے۔‘‘ انہوں نے تفصیل دی کہ لغت کیسی ہونی چاہیے اور بطور مثال آکسفورڈ انگلش ڈکشنری پیش کی۔یہ حقیقت ہے کہ آج بھی کوئی ایسی لغت ترتیب نہیں دی گئی جس میں ایک لفظ کی تمام مشتقات (اسم، فعل، صفت وغیرہ) کا ذکر ہو۔ آج کل موبائل ایپلیکیشنز کی صورت میں موجود لغات میں بہت ترقی ہوئی ہے، لیکن وہ مشتقات سے خالی ہیں۔ بعد میں اردو لغت بورڈ کراچی نے ’’اردو لغت: تاریخی اصولوں پر‘‘ بائیس جلدوں میں ترتیب دی، جس میں بہت سا مواد شامل کیا گیا اور یہ اب تک کی سب سے ضخیم اردو لغت ہے۔ میرے خیال میں کئی دیگر عالمی زبانوں کے مقابلے میں اردو کا یہ اہم کام انجام پایا ہے۔اس کے علاوہ جن نکات کی جانب دلوی نے اشارہ کیا، ان میں سے ایک لسانیاتی تحقیق ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ جب سے لسانیات ایک باضابطہ شعبہ بنا، تب سے اردو کے کورسز میں لسانیات برائے نام رہ گئی ہے، حتیٰ کہ صرفی و نحوی موضوعات بھی نہیں پڑھائے جاتے۔ بہت سے طلبا جو گریجویشن میں اردو لیتے ہیں، صرفی و نحوی معاملات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایم اے کی سطح پر لسانیات کی تعلیم کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟ یہ اردو شعبوں کے لیے ایک تشنہ طلب موضوع ہے۔الغرض، جب وہ یہ کتاب ترتیب دے رہے تھے، اس وقت کے ماہرین کی تحریریں ان کی اجازت سے شامل کی گئیں، اور مقدمے میں ان کا پرخلوص شکریہ ادا کیا گیا۔ ساتھ ہی مقدمے میں لسانیات کی تعلیم کے حوالے سے جو فکر اس زمانے میں کی گئی تھی، وہ آج بھی موجود ہے۔

’’رانی کیتیکی کی کہانی‘‘۱۹۷۲ء میں منظر عام پر آتی ہے، جس میں پروفیسر عبدالستار دلوی ایک مدون کی حیثیت سے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ اس کتاب کا مقدمہ سترہ صفحات پر مشتمل اور طویل ہے۔ اب تک کی روایت کے مطابق مقدمات کے صفحات مسلسل بڑھ رہے ہیں، پھر بھی اس مقدمے میں انشاء اللہ خاں انشاء سے متعلق تقریباً سب کچھ اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔

ابتدا میں فورٹ ولیم کالج کا ذکر ہے، جہاں سے اردو نثر نے نیا موڑ لے کر باضابطہ سہل اور سلیس شکل اختیار کی۔ رانی کیتکی کی نثر کا معیار اسی تجربے سے ملتا جلتا، بلکہ اس سے بڑھ کر ہے، کیونکہ انہوں نے خالص دیسی الفاظ کے استعمال کا دعویٰ کیا ہے۔ اس میں انشاء کی دیگر تصنیفات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جب رانی کیتکی تک بات پہنچتی ہے تو ہندوستانی زبان کی ایک نئی بحث شروع ہوتی ہے، لیکن اسے جلد موقوف کر کے کہانی کی طرف آگے بڑھا جاتا ہے۔ اس کے بعد انشاء کے اس دعوے پر بات کی گئی کہ یہ کہانی خالص ہندی ہے۔ حالانکہ ہندی کی ’’یائے نسبتی‘‘ ہندی نہیں، ’’بے‘‘ کا سابقہ ہندی نہیں، ’’طبلہ‘‘ ہندی نہیں، اور ’’لالٹین‘‘ بھی ہندی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بہت کچھ ہے، جس کا تعلق دیگر زبانوں سے ہے۔ الغرض وہ تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کتاب کو مولوی عبدالحق نے بڑی محنت سے تدوین کیا تھا، تو پھر ایسی کیا نئی بات سامنے آئی کہ دلوی کو تدوین کرنی پڑی؟ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: 

’’اس کہانی کا یہ نیا روپ ڈاکٹر مولوی عبدالحق اور شام سندر داس کے اردو اور ناگری نسخوں کا موازنہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ بنیادی اہمیت ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے نسخے کو دی گئی ہے، کیونکہ اسے زیادہ نسخوں کو سامنے رکھ کر ایڈٹ کیا گیا تھا۔ شام سندر داس کے نسخے میں موجود اضافی مواد کو اس نئے نسخے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس طرح امید ہے کہ ہندوستانی کہانی رانی کیتکی زیادہ مکمل صورت میں سامنے آئی ہوگی۔‘‘

وجہ تدوین واضح ہو جاتی ہے۔اس مقدمے میں اسلوبیاتی سطح پر ایک نئی بات نظر آئی کہ انہوں نے ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال کیا ہے۔ اس وقت ان کے ذہن میں اردو سے زیادہ ہندوستانی زبان کا تصور تھا، اس لیے شاید ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ ساہتیک، سیوائیں، لیکھک، گدھ، راج نیتیک جیسے الفاظ پرتکلف اسلوب میں ملتے ہیں۔ جیسے ایک جملہ یوں ہے: 

’’انشاء اللہ خاں انشاء اردو کے مشہور شاعر اور ہندوستانی کے ابتدائی ادیب یا لیکھک ہیں۔‘‘ 

یہاں انہوں نے اردو کے ساتھ ’’شاعر‘‘ اور ہندوستانی کے ساتھ ’’لیکھک‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس پر مزید بحث آئندہ مقدمات میں ملے گی۔

’’امرت بانی ‘‘ہندوستانی رنگ کی شاعری کا انتخاب ہے، جو ۱۹۷۵ء میں منظر عام پر آیا، لیکن اس کے مقدمے میں ۱۸ اگست۱۹۷۶ء کی تاریخ درج ہے۔ سب سے پہلے اس کتاب کی وجہ تالیف پر غور کرتے ہیں۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:

 ’’اردو اور ہندی شاعروں سے ہندوستانی شاعری کا یہ انتخاب تیار کرتے وقت یہ خیال رکھا گیا کہ اس میں جہاں تک ممکن ہو، ایسی کویتائیں اور غزلیں شامل کی جائیں جو ملی جلی ہندی اور اردو کا نمونہ ہوں اور گنگا جمنی زبان کی عکاسی کریں، جو گاندھی جی کے ہندوستانی نظریے کے مطابق ہو۔‘‘

یعنی اس کتاب میں انہوں نے ایسی شاعری کو جگہ دی ہے، جس میں ہندوستانی رنگ بھرپور نظر آئے۔

اس انتخاب پر یہ بحث نہیں کہ آیا وہ واقعی ہندوستانی زبان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ رانی کیتکی کے بعد اگر دیکھا جائے تو کیا اس میں دیسی الفاظ کا بھرپور استعمال ہوا؟ یہ تجزیے کا ایک الگ موضوع ہو سکتا ہے۔ یہاں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس مقدمے سے دلوی کا کیا نظریہ سامنے آتا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر گاندھی جی کی لسانی پالیسی کے تحت ہندوستانی کو اپنایا جائے تو اس زبان میں بہت وسعت آ سکتی ہے لیکن اس کتاب کی اشاعت کو تقریباً پچاس برس ہو چکے ہیں اور ہندوستانی کا نظریہ تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔

اردو اور ہندی میں ادبی طور پر کافی فاصلہ نظر آتا ہے۔ دونوں کی لسانی خصوصیات الگ ہیں، لیکن بول چال کی سطح پر وہ تقریباً ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ لیکن اس تناظر میں ہندوستانی نامی کوئی زبان آج تک منظر عام پر نہیں آ سکی۔ اگرچہ اس سلسلے میں بہت کوششیں کی گئیں۔ گاندھی جی ۱۹۴۵ء میں لکھتے ہیں:

 ’’یہ زمانہ ہندی اور اردو کا ہے۔ یہ دونوں نڈیاں ہیں۔ ان سے ہندوستانی کی تیسری ندی ظاہر ہونے والی ہے۔‘‘ 

لیکن آج تک یہ تیسری ندی ظاہر نہیں ہو سکی۔ البتہ، بول چال کی زبان میں بار بار کہا جاتا ہے کہ ہم جو زبان بولتے ہیں، وہ ہندوستانی ہے۔ لیکن اردو والے اسے اردو اور ہندی والے اسے ہندی کہتے ہیں۔

اسلوبیاتی طور پر امرت بانی کی زبان ماقبل کے مقدمے کی طرح ہے، اور متعدد مقامات پر ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال ملتا ہے۔ اس کی مثال ایک جملے میں ملاحظہ کیجیے: 

’’ہندوستانی کی بھاشک پرمپرا سے سمبندھت شاعری کے نمونے شمالی ہندوستان میں خسرو اور دکنی کے دور کے درمیان بہت کم ملتے ہیں۔ لیکن بول چال کی زبان کی حیثیت سے اس کا اپیوگ برابر ہوتا تھا۔‘‘

الغرض اس کتاب سے گاندھی جی کے ہندوستانی نظریے کو فروغ دیا گیا ہے لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر اردو والے آگے بڑھ رہے ہیں تو ہندی والے اس سلسلے میں کیا پیش قدمی کر رہے ہیں؟ جس طرح ہم نے اردو کے اکثر شعرا کو ہندوستانی کے خانے میں پیش کیا اور چند ہندی شعرا کو بھی شامل کیا، کیا ہندی والے بھی ہمارے شعرا کو اپنے ہندوستانی نظریے کے تحت شامل کریں گے؟ ایسا ہونا اب ناممکنات میں سے لگتا ہے۔

’’گھر آنگن‘‘ جاں نثار اختر کی رباعیوں کا مجموعہ ہے، جس کی دوسری اشاعت دیوناگری اور نسخ رسم الخط میں پروفیسر عبدالستار دلوی کی ترتیب سے مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام شائع ہوئی۔ یہ مجموعہ اپنے اندر وہی انفرادیت رکھتا ہے جو فراق گورکھپوری کے روپ میں پائی جاتی ہے۔ تاہم، بنیادی فرق یہ ہے کہ روپ میں مرداساس فکر کی نمائندگی کی گئی ہے، جبکہ گھر آنگن میں مشرقی عورت کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ دلوی صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں: 

’’گھر آنگن کی رباعیوں میں ہندوستانی عورت کا وہ روپ نظر آتا ہے، جسے اپنے گھر کے ہر کام کرنے میں روحانی مسرت اور تسکین ملتی ہے۔…  گھر آنگن ہمارے گھروں میں پائے جانے والے جذبات کے ساتھ ساتھ گھر وں میں بولی جانے والی ہندوستانی زبان کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔‘‘

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ اردو شاعری کی روایت میں گھر آنگن اپنی ایک نمایاں شان رکھتا ہے۔ اس کا مقدمہ نہایت علمی ہے۔ رباعیوں کے موضوعات کے سلسلے میں اردو شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں اور فراق سے جاں نثار اختر تک کے سفر کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔ فراق کے ہاں رس کی جو کیفیت نظر آتی ہے، وہ مردانہ تناظر سے ہے، جبکہ جاں نثار اختر عورت کے تناظر سے جذبات پیش کرتے ہیں۔ پورا مجموعہ پتی ورتا کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اسلوبیاتی اعتبار سے اس مقدمے میں بھی دلوی ہندوستانی زبان کو فوقیت دیتے ہیں اور چند خالص ہندی الفاظ، جو اردو جملوں میں عام نہیں، استعمال کر کے ہندوستانی کی مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بطور مثال ایک جملہ ملاحظہ کیجیے:

 ’’جا ں نثارر اختر نے دونوں زبانوں کے کومل، سرل اور پربھاوی شبدوں کے استعمال سے اپنی شاعری اور جذبات کو سجایا ہے۔‘‘

’’ادبی اور لسانی تحقیق اصول اور طریقہ کار‘‘ ’’اردو نامہ سیریز کی پہلی کتاب‘‘ ہے، جو مارچ ۱۹۸۴ء میں شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی کے تحت منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کے پورے مقدمے میں دلوی نے شعبہ اردو کی ابتدا اور اس کے ابتدائی برسوں کی ادبی کارگزاریوں کو پیش کیا ہے۔ کسی بھی ادبی مبحث پر کوئی تفصیلی گفتگو نظر نہیں آتی، لیکن اس زمانے میں سب سے بڑی بحث یہی تھی کہ تحقیق میں نوواردین کے لیے کوئی ایسی جامع کتاب تیار کی جائے جو ان کی تحقیق میں ’’بہت ہی زیادہ ممدو معاون ہو‘‘۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے دلوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس کتاب میں ادب کے مضامین جمع کیے ہیں۔

یقیناً اس وقت سے لے کر آج تک یہ کتاب سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے کئی برس بعد گیان چند جین کی ’’تحقیق کا فن‘‘ منظر عام پر آئی۔ جس طرح دلوی نے ’’اردو نامہ سیریز‘‘ کے تحت اس کتاب کو شائع کیا، اسی طرح پروفیسر ابن کنول نے ’’اردوئے معلی‘‘ سیریز کے تحت ’’تحقیق و تدوین‘‘ شائع کی۔ بہرحال اولیت دلوی کو حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اس جانب قدم اٹھایا اور باضابطہ تحقیقی نصاب کے تحت اس کتاب کو مرتب کیا۔

’’دکنی اردو‘‘ دکنی اردو کا تہذیبی، ادبی اور لسانی مطالعہ ہے، جو ۱۹۸۷ء میں منظر عام پر آئی۔ کتاب کی اہمیت کی بات کی جائے تو دکنیات پر ایک بہت ہی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے مقدمے میں دکنی اردو کی لسانی حیثیت پر سلسلہ وار مدلل گفتگو کرتے ہوئے دلوی نے لکھا ہے کہ دکنی اردو کسی طور پر ہندی روایت کی ابتدا نہیں، کیونکہ یہ ایک بالکل الگ منظرنامے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اس بحث میں انہوں نے بابو رام جی کے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔ بابو رام جی کا اعتراض تھا کہ اردو شاعری میں ہندوستانی چھاپ بہت کم نظر آتی ہے۔ دلوی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے، کیونکہ اردو جیسی سیکولر زبان ہندوستان میں کوئی اور نہیں۔ اس میں ہندوستان کے مذہبی مقامات، تہوار، رسم و رواج جس طرح پیش کیے گئے ہیں، وہ شاید ہی کسی اور زبان کے ادب میں نظر آئیں۔ یہ ہندوستانیت بعد کی بات نہیں، بلکہ ابتدا سے ہی اس کی خصوصیت رہی ہے۔

یہ بات اردو کے لیے نہایت واضح ہے، لیکن دلوی نے اسے مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ آخر میں وہ نتیجے کے طور پر لکھتے ہیں: ’’جدید اردو شاعری کی ہندوستانی فضا اور دکنی کی ہندوستانی فضا میں، جدید اردو شاعری کے طرز فکر اور طرز اسلوب میں اور دکنی کے طرز فکر اور اسلوب میں پچھلے ساڑھے چار سو سال کی تاریخ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ بلکہ یہ زبان اور ادب اپنے طرز فکر اور مزاج کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ سیکولر اور سماج وادی رہا ہے۔‘‘

’’کرشن چندر: شخص اور ادیب‘‘ پروفیسر عبدالستار دلوی کی مرتب کردہ کتاب ہے۔ اس کا مقدمہ دیگر کتب کے مقابلے میں مختصر ہے۔ مقدمے میں اردو افسانے پر بات کی گئی ہے، پھر کرشن چندر کی ادبی حیثیت پر ایک مختصر نوٹ شامل ہے۔ کرشن چندر اس وقت اردو کے ایک مجاہد کی حیثیت سے سامنے آئے، جب اس زبان کے خلاف شدید مخالفت کی ہوائیں چل رہی تھیں۔ ان کی اسی کاوش کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی میں ’’کرشن چندر چیئر‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اسی مناسبت سے کرشن چندر پر ایک سمینار منعقد کیا گیا، جس میں ان کے معاصرین نے مقالات پیش کیے۔ اس کے نتیجے میں یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ دلوی کی دیگر اولیات میں سے یہ کتاب بھی ان کی ایک اہم اولیت ہے۔

’’نوائے سروش (محمود سروش، شخصیت، شاعری اور خدمات)‘‘ کو پروفیسر عبدالستار دلوی نے ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی کے ساتھ مل کر ترتیب دیا ہے۔ اس کا ابتدائیہ دلوی نے خود لکھا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے دلوی نے محمود سروش کی ادبی حیثیت کو ادب کی دنیا میں متعارف کرایا۔ محمود سروش آرزو لکھنوی کے دبستان سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔

مقدمے میں دلوی نے محمود سروش کا بھرپور علمی تعارف پیش کیا ہے۔ وہ نہ صرف ادب نواز تھے بلکہ علم دوست بھی تھے۔ اس زمانے میں مکتبہ جامعہ، ممبئی کی ادبی بیٹھکوں کا حال بھی دلوی نے تحریر کیا ہے۔ جب ہفتہ کی شام کو علی سردار جعفری، سکندر علی وجد، جاں نثار اختر، ساحر لدھیانوی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، کیفی اعظمی، اور ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی جیسے ارباب فن جمع ہوتے، تو ان میں محمود سروش بھی شامل ہوتے تھے۔ دلوی لکھتے ہیں کہ وہ بطور طالب علم ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے اور سروش اپنی کتاب بینی اور وسعت مطالعہ کی وجہ سے ہمیشہ اپنی جگہ بناتے تھے۔

’’علی سردار جعفری (شخص، شاعر اور ادیب)‘‘ ایک مرتب شدہ کتاب ہے، جو ۲۰۰۲ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کا مقدمہ، جو ’’حرف اول‘‘ کے نام سے دلوی نے لکھا، سردار جعفری کی شاعری کا ایک خوبصورت تنقیدی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ سردار جعفری اگرچہ دلوی کے بزرگ تھے، لیکن ان سے ان کا علم و ادب کا گہرا رشتہ تھا۔ شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی کے قیام میں ان کا اہم کردار رہا۔ ان کے انتقال کے بعد شعبہ میں کوئی پروگرام نہ ہونے پر دلوی نے اپنے رنج کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعظم ٹرسٹ، پونے کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے سردار جعفری پر ایک علمی سمینار کا انعقاد کیا، جس کے مضامین اور دیگر مقالات کو اس کتاب میں ترتیب دیا گیا۔

ممبئی میں ہونے کی وجہ سے دلوی نے سردار جعفری اور ترقی پسند تحریک کے عروج کے زمانے کو بخوبی دیکھا۔ اس معاملے میں ان کی ژرف نگاہی نے جو کچھ محسوس کیا، اسے عالمانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ اگر اس مقدمے کا تجزیہ کیا جائے تو ایک الگ مقالہ تیار ہو سکتا ہے، لیکن چند اہم نکات، جو تجزیے اور محاکمے کے طور پر نمایاں ہیں، ان کی جانب اشارہ ضروری ہے۔ سردار جعفری کے اختصاص کے بارے میں دلوی لکھتے ہیں:

 ’’ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور میں جوش ملیح آبادی اردو شاعری کے سربراہ تھے اور اقبال اردو شاعری کے بدلتے ہوئے ماحول میں ایک اہم اور چونکادینے والی آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ سردار جعفری نے ان دونوں بزرگوں کے اثرات بڑی حد تک قبول کیے ہیں اور ان کی شاعری میں انہی شعراء کی بلند آہنگی اور ذخیرۂ الفاظ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سردار جعفری کے یہاں ان کا اپنا لب و لہجہ، غنائت، دل سوزی اور درد مندی بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔‘‘

اس تحریر کا انداز بھی تقریبا وہی ہے جو دلوی نے شروع میں انشاء اور چکبست کی شاعری کے اختصاص کے لیے اپنایا۔ ماقبل شعرا سے فیض اٹھانا اور اپنے لیے ایک نیا رنگ اختیار کرنا، یہ محاکمہ گہرے مطالعے کا نتیجہ ہے، جو دلوی کے یہاں بخوبی پایا جاتا ہے۔ دلوی جب کسی تجزیے پر پہنچتے ہیں تو طویل مقدمہ قائم نہیں کرتے، بلکہ سادگی اور سلاست کے ساتھ اپنی بات کہہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سردار جعفری کی غزل گوئی پر وہ لکھتے ہیں:

 ’’مختصر الفاظ میں یوں کہیے کہ ان کی غزل کا دامن بہت وسیع ہے لیکن اس میں تغزل تلاش کے باوجود نہیں ملتا۔ اور اس طرح ان کی ’غزل‘ جو ایک لطیف پیرایۂ بیان، خوش آہنگ خوبصورت دلآویز اور پر کشش صنف ادب کے بجائے قدرے خشک الفاظ کا مجموعہ نظر آتی ہے یا یوں کہیے کہ ان کی غزل پر نظم کا لہجہ غالب ہے۔ یا پھر اقبال کی غزل کے ایک ناکام لہجے کا روپ دھار لیتی ہے۔‘‘

یہ محاکمہ نہ صرف سردار جعفری کی غزل کے لیے ہے بلکہ ہر اس مقام پر صادق آتا ہے جہاں تغزل غائب ہو۔ اگر تغزل کی بحث کی جائے تو ہمیں غزل کے اساتذہ کی جانب جانا ہوگا، جنہوں نے اپنے کلام میں تغزل کے لیے الفاظ اور تراکیب تلاش کیں۔ اس جانب دلوی آگے جا کر اشارہ کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

 ’’میرے خیال میں غزل کی شاعری دل کی شاعری ہوتی ہے۔ لیکن سردار جعفری کی غزلیں ان کی ذہن کی پیدا وار ہیں۔ اسی لیے ان میں وہ رومانی سوز و گداز اور پیار و محبت کے نازک اور لطیف تر جذبات کا رچا ؤنہیں ملتا جو اردو غزل کی روح ہے۔‘‘ 

یہ بات واضح کرتی ہے کہ غزل کو تغزل کیا چیز بناتا ہے۔

سردار جعفری کا اردو ادب میں مقام بیان کرتے ہوئے دلوی صاحب لکھتے ہیں:

 ’’سردار جعفری اردو میں دانشوری کی شاید آخری مثال تھے۔ علمی، ادبی، فلسفیانہ، سیاسی اور سماجی موضوعات پر ماہرانہ انداز سے گفتگو کرتے تھے۔ وہ اردو کے قومی اور بین الاقوامی سفیر بھی تھے۔‘‘

 الغرض، دلوی نے اس مقدمے میں سردار جعفری کی ادبی خدمات کو ہر سطح پر تنقیدی نظر کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

’’جنوبی ہند میں اردو زبان و ادب کی تدریس کے مسائل‘‘۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آئی۔ اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ دکن میں اردو اور دکنی ادب کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ گزشتہ برس اردو اکادمی، دہلی میں دکن میں اردو کے حوالے سے ایک سمینار منعقد ہوا، جس میں تدریس کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا، لیکن وہ ادبیات عالیہ کے تناظر میں تھا اور اتفاق سے اس کے تمام مقالہ نگار شمالی ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم، اسکول کی سطح پر دکن میں اردو تعلیم کے مسائل کے بارے میں اس کتاب میں بہت کچھ شامل ہے۔

کتاب کی ضرورت کے حوالے سے دلوی لکھتے ہیں: ’’چنانچہ اس کثیر لسانی ماحول میں جب بچہ کی تعلیم ہوتی ہے اور وہ شمالی ہندوستان کی اردو کے مقابلے میں جسے معیاری زبان کہا جاتا ہے، صوتی، صرفی یا اور اسی طرح لفظی سطح پر جنوبی ہندوستان میں اردو کی تعلیم و تدریس میں چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل کیا ہیں اور ان کا لسانی پس منظر اور تدارک کیسے ہو سکتا ہے، اسی طرح آج کی بہت تیزی سے بدلتی ہوئی لسانی صورت حال میں اردو ذریعہ تعلیم کے مسائل پر غور و خوض کرنا ضروری ہے۔‘‘

شمالی ہندوستان والوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ دکن میں کیا غور و خوض کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دکن کے رہنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ دکنی اردو بولتے ہیں، لیکن تعلیم کے وقت انہیں اپنی زبان سے بالکل مختلف تجربے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اورنگ آباد سے لے کر میل و شارم تک زبان مختلف لہجوں اور قواعد میں بدلتی رہتی ہے، حتیٰ کہ اعلام بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دکن میں تدریس کے مسائل شمالی ہندوستان سے بہت مختلف ہیں۔

دلوی اس مقدمے میں ایک اور اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’اُدھر تاریخی اعتبار اردو کی علمی و ادبی اہمیت کے ساتھ فارسی اور عربی کی تعلیم بھی عام تھی جس کی وجہ سے اس کا معیار برقرار تھا لیکن اب جب کہ فارسی/عربی کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہے اور بعض حالات میں یہ بالکل مفقود ہے، اردو زبان کا معیار متاثر ہوا ہے۔ فارسی و عربی کی تعلیم کی جو اردو کے لیے ایک لسانی طاقت تھی اب علاقائی زبانیں اردو پر حاوی ہو رہی ہیں اور ان علاقائی اثرات کی وجہ سے اردو کی تدریس میں کئی سطحوں پر مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں میری رائے ہے کہ زبانوں کے الفاظ سفر کرتے رہتے ہیں۔ کچھ الفاظ صدیوں کا سفر کرتے ہیں، جبکہ کچھ چند برسوں میں استعمال سے باہر ہو جاتے ہیں، اور کچھ دو تین نسلوں تک چلتے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت ہے کہ عربی و فارسی کی بنیادی تعلیم نہ ہونے سے اردو کا معیار متاثر ہوا ہے۔ اگر معیار کی بات کریں تو ہر زمانے کے معیار مختلف رہے ہیں۔ اگر آج ہم سو برس پرانی نثر لکھیں تو وہ طبیعت پر گراں گزرے گی۔ اسی طرح اگر عوامی گفتگو کو تحریر میں روا رکھیں تو وہ بھی گراں گزرے گی۔ بس یہی کہوں گا کہ زبان ایک ذوق ہے، جس کا جیسا ذوق ہوتا ہے، وہ ویسی ہی زبان کا دلدادہ ہوتا ہے۔ اگر ذوق ہی نہیں تو پھر زبان کیسی؟

’’دوزبانیں دو ادب (اردو اور ہندی کے تناظر میں)‘‘پروفیسر عبدالستار دلوی کی تصنیف کردہ کتاب ہے، جو فروری ۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب دراصل پروفیسر گیان چند جین کی کتاب ’’ایک بھاشا: دو لکھاوٹ، دو ادب‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ ۲۳۸؍ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دلوی نے بھرپور جواب دیا ہے۔ مقدمے میں وہ اپنے دل کی باتیں کہتے ہیں اور اپنا مدعا واضح انداز میں پیش کرتے ہیں، جس کے بعد کتاب میں دلائل و شواہد کے ساتھ بات کی گئی ہے۔گیان چند جین کی کتاب کے متعلق دلوی صاحب لکھتے ہیں: 

’’گیان چند جین کی یہ کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سالہا سال ڈھکے چھپے طریقے سے وہ قطرہ قطرہ زہر جمع کر رہے تھے۔ شاگردوں سے گفتگو، معاصرین سے مکالمہ برسوں کرتے رہے ہوں گے۔ غیر سنجیدہ گفتگو کے نوٹ لیے ہوں گے تب اس کے بعد یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ ان کی ساری غلط بیانیوں کا جواب دینے کے لیے دو ایک سال کا عرصہ ضروری ہے مگر دوستوں کے اصرار پر صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

اس مختصر عرصے میں ایک کتاب کا دس ابواب میں علمی انداز سے جواب دینا دلوی کی دراک ذہن اور لسانی اعتبار سے امتیازی شان کی دلیل ہے۔ انہوں نے مقدمے میں وضاحت کی کہ اردو اور ہندی میں توضیحی لسانیات کے اعتبار سے مماثلت کے باوجود صوتی، لفظی، اور صرفی امتیازات ہیں۔ اس کے علاوہ، سماجی، اسلوبیاتی، اور لسانی جمالیات کے اعتبار سے دونوں الگ الگ زبانیں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اردو ہندو اور مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ ہے۔ یہ ایک مشترکہ قومی میراث ہے جسے ہندوو?ں اور مسلمانوں نے اور اسی طرح سکھوں، زرتشتیوں اور عیسائیوں نے اپنے خون سے سینچا اور اردو رسم الخط میں ہی سنوارا۔‘‘

اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی اردو تاریخ کا مطالعہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ اس زبان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس لیے اس کے سیکولر کردار پر کوئی شک نہیں۔ اس کے برعکس، وہ لکھتے ہیں: ’’ہندی اس کے برعکس صرف ہندو مذہب اور تہذیب کی علامت ہے۔‘‘ یعنی ہندی کی ترقی میں دوسرے مذاہب کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ ہندی کا ارتقا اردو سے ہی ہوا ہے۔

’’حضرت مخدوم علی مہائمی (تین تحقیق مقالات)‘‘مخدوم علی مہائمی کی زندگی اور خدمات پر مبنی کتاب ہے، جن کا تعلق آٹھویں صدی ہجری سے ہے۔ انہیں قطب کوکن بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے وقت کے جید عالم، صوفی، اور فقیہ تھے۔ مقدمے میں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ شروع سے لے کر اب تک جن تذکروں اور کتابوں میں مخدوم علی مہائمی کا ذکر ملتا ہے، ان سب پر گفتگو کی گئی ہے۔ انگریزی، عربی، فارسی، اور اردو آثار کا بھی بھرپور ذکر ہے۔چھ سو برسوں سے ان کا مزار مرجع خلائق ہے۔ اس دوران مزار میں ہونے والی تعمیراتی تبدیلیوں اور ترقی کا تفصیلی ذکر کتاب میں شامل ہے۔ سوا سو سال سے یہ مزار ایک ٹرسٹ کے ماتحت ہے، جس کے تحت کئی کام انجام پا رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ کتاب شائع کرنا بھی ہے۔ ٹرسٹ کا عزم ہے کہ مخدوم علی مہائمی پر مکمل تحقیق کی جائے، ان کی کتابوں کو تلاش کیا جائے، انہیں مرتب کر کے اردو ترجموں کے ساتھ شائع کیا جائے۔اس کتاب کا مقدمہ نہ صرف مخدوم علی مہائمی کی ذاتی شخصیت اور علمی کمالات کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ وہاں کی تاریخ اور جغرافیہ کا بھی بھرپور ذکر کرتا ہے۔

مقالات پروفیسر سید نجیب اشرف ندوی کو پروفیسر عبدالستار دلوی نے ۲۰۱۳ء میں ترتیب دے کر منظر عام پر لایا۔ پروفیسر ندوی دلوی کے مخلص اساتذہ میں سے تھے۔ مقدمے میں ندوی کے تعلیمی سفر اور اسماعیل کالج کا ذکر ہے۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:

 ’’اس زمانے میں ریاست ممبئی میں اسماعیل کالج کی وہی حیثیت تھی جو ہندوستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کی تھی۔‘‘

اس مقالے میں ندوی کے عادات و اطوار کا ذکر نہایت عمدہ طریقے سے کیا گیا ہے، جس سے ان کی شخصیت کا خاکہ بھی ابھرتا ہے۔ ندوی اپنے مضامین ’’سنان‘‘ کے نام سے شائع کراتے تھے، جو ان کے نام (سید نجیب اشرف ندوی) کا مخفف ہے۔ ان کے اکثر مضامین معارف (اعظم گڑھ)، ہندوستانی (الہ آباد)، اور نوائے ادب (ممبئی) میں شائع ہوئے۔ ان کے علمی مضامین اور تبصروں کی تعداد تقریباً چالیس ہے، جن میں سے بیس کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ندوی ایک بہترین استاد کے طور پر مشہور تھے۔ انہوں نے کئی قابل شاگرد تیار کیے، جن میں سے ایک دلوی خود بھی ہیں۔

’’مولانا ابوالکلام آزاد: ایک مطالعہ ‘‘ایک مرتب شدہ کتاب ہے، جو ۲۰۱۵ء میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہوئی۔ مقدمہ نگاری کے اعتبار سے اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت ہے، جو دیگر کتب میں نظر نہیں آتی۔ کتاب ایک طویل و مبسوط مقدمے سے شروع ہوتی ہے، اور اس کے چار ابواب میں سے ہر ایک کے لیے دلوی نے الگ ابتدائیہ تحریر کیا ہے۔مقدمے میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی، علمی، اور ثقافتی خدمات پر عمدہ پیشکش کی گئی ہے۔ مقدمے کی غالب خصوصیت یہ ہے کہ مولانا ہندو-مسلم اتحاد کے کس قدر حامی تھے اور کسی قیمت پر اس کے خلاف نہیں گئے۔ اس حوالے سے دلوی  صاحب نے مولانا کے خطبات کے کئی اقتباسات پیش کیے ہیں۔ ساتھ ہی، مولانا کی ہندوستان کی تعمیر نو کے لیے اہم خدمات کا بھی ذکر ہے۔کتاب کی ترتیب میں اس کی انفرادی د حیثیت کویوں بیان کیا ہے کہ اس میں مولانا آزاد کے معاصرین یا ان لوگوں کے مضامین شامل ہیں جنہوں نے مولانا کو دیکھا تھا۔ یہ خصوصیت اسے مولانا پر لکھی گئی دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہے۔

اس سلسلہ کو یہیں منقطع کیا جاتاہے ان کی دیگر کتابوں کے مقدموں کو انہی پر قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اس مطالعہ سے یہ واضح ہوگیا کہ دلوی صاحب نے انتخاب ، تدوین ، تحقیق اور ترتیب پر جس قسم کے بھی مقدمے لکھے سبھی اصول نگار کے پیمانے پر مکمل اتر تے ہیں ۔ شروع میں تو میں نے اصول نگار پر بات نہیں کی تھی تو اب دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وضاحت ور وانی سبھی تحریر وں میں بخوبی موجود ہے ۔جامعیت کا بھر پور خیال رکھا ہے ۔ تحریروں میں وہ اخلاص پن ہے کہ قاری اس کوخاص اسی کے لیے لکھا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ ہر ایک مقدمے میں مقصدیت واضح ہے ۔موضوع پر بھر پور تنقیدی جائزہ ہے ۔جس مبحث پر بھی قلم اٹھا رہے ہیں اس کو واضح اندا ز میں بیان کررہے ہیں ۔کتاب کی اہمیت پر زور ہے اور مشورے بھی ہیں ۔ یہی مقدمہ نگاری کو جامع بناتی ہیں ۔ 


ناول: مانجھی ، ناول نگار: پروفیسر غضنفر

 ’مانجھی‘ کی کہانیوں کے

 درونِ متن کا مطالعہ 

(ناول: مانجھی ، ناول نگار: پروفیسر غضنفر )


 ناول انسانی زندگی کو دیکھنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے کا ایک وسیلہ ہے ۔

یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ناول کے مالہٗ و ماعلیہ پر محیط ہے ، وہ خواہ داستانوی ، جاسوسی، سیاسی، سماجی ، سائنسی ، تاریخی یا پھر بچوں کے ناول ہوں سب میں زندگی کو دیکھنا سمجھنا اور محسوس کرنا ہی بنیادی مقصد ہوتا ہے ۔ کوئی بھی ناول نگار جب اپنے ناول کا خاکہ تیار کرتا ہے تو اس کے ذہن میں کوئی بنیادی سوال یا منظر نامہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے ناول میں پیش کر نا چاہتا ہے ۔ ناول نگار اس پیش کش کو اپنی الگ الگ تکنیک، بیانیہ اور اسلوب سے میں پیش کر نے کی کوشش کر تا ہے ۔واقعہ کسی بھی ناول کا مرکزی عنصر ہوتا ہے۔ واقعہ کی پیشکش میں ہی ناول نگاراپنے فلسفے کو قاری کے سامنے رکھتا ہے ۔ داستان کی طرح ناول میں بھی کہانیا ں آتی رہتی ہیں لیکن مربوط انداز میں ۔ ان کہانیوں میں ناول نگار کی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کے پہلو کو مقدم رکھا جائے اور زندگی سے دورنظر آنے والی باتوں سے پر ہیز کیا جائے۔ ایسے میں ناول نگار کی سو چ بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں جھلک جاتی ہے ۔ ان واقعات کی پیشکش میں سب سے زیادہ دخل محسوسات کا ہوتا ہے ۔ کیا ناول نگار قاری کے محسوسا ت کو جگانا چاہتا ہے یا پھر واقعات میں محسوسات کو دفن کر کے سادگی کو پیش کرتا ہے۔ کینویس کا رول بھی ناول میں بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ یا تو قاری کو محد ود کینویس میں مقید رہنا پڑتا ہے یا پھر محدو د میں ہی لامحدودوی کو نبھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ناول میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ناول متحدالمکان میں مضبوط جڑوں کے ساتھ ٹکی ہوئی ہے اور اس پر کہانیوں کی مختلف عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں جس میں بنیادی طور پر عورت کے تشکیلی دور کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس ناول کا پلاٹ بہت ہی مضبوط ہے اور کہانیاں ایک دوسرے سے کہانی در کہانی کی شکل میں منسلک نظرآتی ہے ۔

اس نال میں مکان تو سنگم ہے اور بطور راوی پروفیسر وی این راے اور مانجھی شروع سے آخر تک نظر آتے ہیں ۔ واقعات کا پیشکش دونوں طر ف سے برابر ہوتا ہے اس معاملہ میں پروفیسر اور مانجھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں ۔ واقعات بہت ہی رونماہوتے ہیں لیکن جس میں کہانی بننے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ اس کہانی کا آڈنیس یا قاری ہوتا ہے، کہ وہ آس پڑوس کی ہزار کہانیوں سے خود کو ممتاز ثابت کیسے ثابت کرتی ہے یاتخلیق کار اس میں امتیازانہ کیفیت پیدا کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس ناول میں راوی اسی جداگانہ مانجھی کو ہائر کرتا ہے جس کا ریٹ دیگرمانجھیوں سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ جداگانہ واقعات کا سلسلہ ’’انسانی زندگی کو دیکھنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے ‘‘ کے لیے شروع ہوجاتا ہے ۔

کہانی آہستہ آہستہ پروفیسر وی این راے اور مانجھی کے درمیان تعارفی گفتگو سے آگے بڑھتی ہے ۔ جس میں پہلی گفتگوسامنے نظر آنے والی پرندوںکی جھنڈ پر ہوتی ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور سے ہندوستان میں قلابازیاں اور زندگی(آب و دانہ) کی تلا ش میں آتی ہیں۔ اس کے پیش کش میں محض ایک مسافر پرندہ کا عکس نظرنہیں آتا ہے بلکہ اس کی تہہ میں فراق گورکھپوری کا یہ شعر: 

سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ

قافلے بستے گئے ہندوستا ں بنتا گیا 

بخوبی نظر آتا ہے جس کی بحث ان دنوںہر عام خاص کے ذہن میں ہلچل مچائی ہوئی ہے کہ ہندو ستان ہمیشہ سے پور ی دنیا کے لیے اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہے کبھی بھی اس ملک میں وہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی ہے جو دنیا کے دیگر ملکوں کی تاریخ میں ملتی ہے ۔ پروفیسر وی این راؤ جب پرندوں کی جانب دانہ اچھالتا ہے تو مانجھی کو یہ منظر دیکھ کر بڑا ہی قلبی اطمینان ہوتا ہے ۔اطمینا ن کا جواب ان جملوں میں ملتا ہے

’’ اس لیے کہ اس دھرتی پر کچھ ایسے بھی دیس ہیں جن کے بھوکے پنچھی اپنا پیٹ بھر نے ہمارے یہاں آتے ہیں۔‘‘ گویا پیٹ بھرنے کے لیے ہجر ت کرتے ہیں۔ اسی کی اگلی کڑی وہ ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر کے شعر میں کیا گیا ۔ اس جملہ سے تین واقعات پروفیسر وی این راو کے ذہن میں ابھر تے ہیں ایک توقیرعلی کا جوبیرون ملک کام کے سلسلے میں جاتا ہے لیکن جلد ہی واپس ہوجاتا ،دوسراانٹر نیشنل شوٹر عمران حسین کا واقعہ جسے انٹرنیشنل شوٹنگ مقابلہ میں نام کی وجہ سے ہی نہیں جانے دیا جاتا ہے اورتیسرا سید محمد اشرف کا جن کے نام میں محمد ہونے کی وجہ سے ویزا نہیں ملتا ہے ۔کہانی کار کے ذہن میں یہ کہانیا ں جو ابھر تی ہیں اس میں اور پر ندو کی مہاجرت میں یکسانیت بہت کم نظر آتی ہے۔ساتھ ہی پروفیسر وی این راؤ کے ذہن میں یہ تین نام ابھر نا اچنبھت کر سکتا ہے لیکن تخلیق کار اپنی تخلیق میں جو عکس چھوڑتا ہے وہ اس میں آپ بخوبی دیکھ سکتے ہیں ،اسے خوبی سمجھی جائے یا خامی یہ تنقید کے بدلتے زاویہ پر منحصر ہے ۔

اگلے قصے کی جانب بڑھنے سے پہلے زبان و بیان کی خوبصورتی پر نظر ڈالتے ہیں توسنگم کی منظر کشی میں ایک قسم کی صنعت لسانی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ناول نگار لکھتا ہے :

’’ جگہ جگہ شر دھالوؤں کی بھیڑ 

کہیں کہیں پرسادھو سنتو ں کا جمگھٹ 

کہیں کسی مداری کا مجمع ‘‘ 

پہلے جملے میں ’’ جگہ جگہ‘ ‘ کثیر کو بیان کرتا ہے ۔ دوسرے جملے میں ’’کہیں کہیں ‘‘ قلیل کو بیان کر تا ہے اور تیسرے جملے میں ’’کہیں کسی ‘‘ کے لفظ سے اقل کی جانب اشارہ ہوتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ شروع کے پانچ صفحات میں ہی چار مقامات مجھے ایسے نظر آتے ہیں جہاں زبردستی کا پیراگراف بنا کر گفتگو کے وزن کو ہلکا گیا ہے ۔ ان میں سے شروع کے دو مقامات جو صفحہ اول میں ہی ہیں جہاں ناقص جملوں کو کئی سطور میں لکھنے کی کوشش کی گئی ، گویا نثر ی نظم کی کیفیت پیدا کر نے کی کوشش کی جارہی ہو ۔ مان بھی لیتا ہوں کہ نثر ی ہی ہے لیکن مصنف کا تین سطر کے بعد بریک کرنا احساس دلاتا ہے کہ مصنف گفتگو طویل کرنے سے زیادہ صفحات طویل کرنے کی فکر میں ہیں ۔

اب آگے بڑھتے ہیں اس ناول کی طویل کہانی کی جانب جو مانجھی کی زبان سے ادا ہوتی ہے ۔اور یہ کہانی مکمل طور پر ’’ دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھا جائے۔‘‘ پر منحصرہے ۔یہ جملہ راج کمار کے کان سے ٹکراتا ہے اور اس کی مردانگی و انا جاگ جاتی ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے ’’ میں چندن پور کے گھسیارے گھسیٹے رام کی بیٹی سے وواہ کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ خیر شادی ہوجاتی ہے راج کمار کا رعب بھی پروان چڑھنے لگتا ہے اور سوامی ہونے کے ناطے دھمکی بھرے انداز میں تین کام سونپتا ہے کہ اگر یہ کام پورے نہیں ہوئے تو میں تمہیں مار دوں گا ۔اول یہ کہ ’’ ہمارے خزانے سے ایک پیسہ خرچ ہوئے بنا میرے لیے ایک محل بنوانا ہوگا ‘‘ دوم یہ کہ’’ تم سے میرا کام نہیں چلے گا میرے لیے ایک راج کماری کا پربندھ کرنا ہوگا ‘‘ اور تیسرا یہ ’’ کہ میں تم سے دور رہوں گا مگر میرا بچہ تمہارے پاس ہونا چاہیے ‘‘ ۔ لڑکی نے ان تینوں کاموں کے لیے حامی بھر دی ۔پھر شروع ہوتا ہے ان تینوں امور کو بخوبی انجام دینے والا نیم داستانوی قصہ ۔

قصہ شروع ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ کہانی مونو لاگ میں چلے گی لیکن کہانی میں ہر ایک ٹاسک کے بعد پروفیسر وی این رائے کا رد عمل بھی مختصر گفتگو کی صورت میں سامنے آتا ہے جس سے مانجھی کو حوصلہ ملتا ہے اور’’ اور پھر ‘ ‘ سے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ تیرے ٹاسک کے بعد جب راجکمار کی کہانی ختم ہوتی ہے تو پروفیسر وی این را ئے کے ذہن میں کئی سوال ابھر نے لگتے ہیںمگر ان سوالات سے پہلے میرے ذہن میں جو ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ راج کماری نے اس کے تینوں سوالات کے جوابات پورے کر دیے لیکن عورت کے عزم و حوصلہ اور کردار کی جانب آگے بڑھنے کے بجائے وہ دوسرے ٹاسک میں مکمل شدہ راج کماری کی جانب بڑھ جاتا ہے اور لڑکی راج کمار کو کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھتے رہ جاتی ہے…………اور سنگم میں ناؤ کے سامنے لال جوڑے میں لپٹی ہوئی سہاگن کی لاش آجاتی ہے جس سے ناو بھی ہلکو رے کھانے لگتا ہے ۔اس کے دفعۃ ًبعد مانجھی جس حواس باختگی کو کہانی سننے والے کے چہرے میں دیکھنا چاہتا ہے وہ قاری کے ذہن میں بھی کوندنے لگتا ہے یعنی جسم پرستی ۔راجکمار کے بچے کی ماں بننے والی عورت نتیجہ کے طور پر لال جوڑے میں لپٹی ہوئی لاش کی صورت میں سامنے آجاتی ہے جس میں کہانی کار کی بڑی چابکدستی نظر آتی ہے ۔ اس کے بعد عورت کو جس طر ح سے ٹیلی ویزن کی روشنی اور زرق بر ق روشنیوں کے بیچ صارفیت میں اسٹیٹس کے نام پر گھسیٹا گیا ہے یا مرد کی نظروں کو ہوسناک کیا گیا ہے اس سے یہ سوال ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے کہ ’’ کیا عورت صدیاں گزرنے کے بعد بھی اپنے تشکیلی دور میں ہے ؟‘‘ 

یہ کہانی اگرچہ ایک بہادر اور عقلمند لڑکی کی ہے اور اس میں جرأت کے اظہار میں مبالغہ سے کام نہیں لیا گیا ہے جیسا کہ عموماداستانوں میں ہوتا ہے البتہ اس میں عصمت کو محفوظ دکھانے کے لیے ڈبیا میں ایک پھول کا استعمال کیا جاتا ہے جو داستانوں سے ماخوذ ہے ۔ پہلے ٹاسک کے مکمل ہونے کے بعد راجہ یہ سمجھتا ہے کہ راجکمار کی بیوی سے ہمبستری کے بعد ڈبیہ کا پھول مرجھا گیا ہوگا تو ایک اسٹیٹ سے دوسرے اسٹیٹ کا فاصلہ ان لفظو ں میں کچھ عجیب سا لگتا ہے ’’ دوسرے دن راجہ نے اپنے سائس کو بلا کر پوچھا : ’بتا آج ترے پھول کا کیا رنگ ڈھنگ ہے ؟ تازہ ہے یا مرجھا گیا ؟‘‘ ۔یہ الفاظ عجیب بایں معنی بھی لگتے ہیں کہ ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ کی جانب گریز کرنا کے عمل سے گریز نظر آتا ہے ۔

دوسرے ٹاسک میں باغ و بہار کی وزیر کی بیٹی کا عکس نظرآتا ہے جہاں وہ مرد سپاہی کے ڈریس میں رہتی ہے یہا ں بھی وہ مرد سپاہی کے ڈریس میں بادشاہ کو مرعوب کر تی ہے اور اپنے شوہر کے لیے دوسرا ٹاسک (دوسری راج کماری کو حاصل کرنا ) پورا کر تی ہے ۔

تیسرے ٹاسک ( راجکمار سے ملے بغیر ہی اس کا بچہ پیداکرنا ) کے بیان کے وقت ہلکا سا تفاوت نظر آتا ہے ۔گھسیارن کی بیٹی جو بہادر سپاہی کی شکل میں راجہ کے پاس ہوتی ہے۔وہ راجہ سے ایک سائیس ( اصطبل سنبھالنے والا ) کا مطالبہ کر تی ہے جس سے اس کو اس کا شوہر ہی مل جاتا ہے اور گھوڑے کی مالش میں لگ جاتا ہے ۔ یہاں دو منظر دیکھئے جو چندسطروں کے فاصلے پر ہی درج ہیں ۔ اول : باہر اس کے گھوڑے کے پاس اس کا سائیس کھڑا گھوڑے کی مالش میں جٹا ہوا تھا ۔‘‘

وہ وہاں پہنچ کر اپنی ناز و ادااور میٹھی میٹھی باتو ں اور نینوں کی اٹکھیلیوں سے اس کو چت کر دیتی ہے تو یہ دو سرا منظر سامنے آتا ہے ’’ بان چلتے ہی وہ گھوڑے سے گرکر چاروں خانے چت ہوگیا ۔‘‘ یہاں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ سائیس جب گھوڑے پر سوار تھا ہی نہیں تو گرا کیسے؟ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہاں ’’ گھوڑے سے گر کر ‘‘ زائد ہے جس سے صورت حال میں تضاد پیدا ہورہا ہے ۔

اس کے بعد گفتگو مانجھی اور پروفیسر کے مابین چل نکلتی ہے جس میں گفتگو کا مرکز پرندوں کو کھلایا جانے والا دانہ اور پرندے ہیں ہوتے ہیں جس کے تحت سلب حقوق کی باتیں سامنے آتے ہی پروفیسر کے سامنے دو منظر ابھر تے ہیں ایک میں پانی اپنے طوفان سے بھکمری لاتا ہے اور سب کچھ تباہ کردیتا ہے دوسرے میں پانی ناراض ہو کر پاتا ل میں چلاجاتا ہے اور پیٹ کی بھوک کی تکمیل کے لیے تمام قسم کی سودا بازی شروع ہوجاتی ہے ۔جس کے تحت ایک کہانی پروفیسر کے ذہن میں ابھر تی ہے جس میں ماں بھوک کی حِدت کے باوجود اپنے لاڈلے کو خود سے الگ نہیں کر پاتی ہے تو اس کا شوہر اس کے سامنے ایک قصہ سنانے لگتا ہے جس میں ایک درویش اپنے مر ید کو بتاتا ہے کہ دین کے چھ فرائض ہیں اور چھٹا بھوک ہے جس کو محفل میں بیٹھا عالم دین ماننے سے انکار کردیتا ہے ۔ ایک بحر ی سفر میں اس عالم کا سامنا بھوک کی حالت میں اسی درویش سے ہوتا ہے تو درویش ایک روٹی کو ایک نیکی بدلے میں بیچتا ہے ۔ بھوکا عالم روٹی نہیں لیتا ہے ۔ دوسرے دن عالِم کی بھوک کا عالم بڑھ جاتا ہے پھر وہی درویش نظرآتا ہے اور آج وہ تمام نیکیوں کے عوض ایک روٹی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ لیکن عالم دین کہتا ہے کہ اگلی پچھلی تمام نیکیاں لے لو لیکن دے دو ۔اس کہانی سے ماں کی باہیں ڈھیلی ہوگئیں اور بچہ ماں کی آغوش سے تاجر کے مال گاڑی میں پہنچ گیا ۔ یہ بہت ہی مختصر کہانی صرف دو صفحے کی ہے لیکن کئی سوال وجواب قاری کے ذہن میں چھوڑ جاتی ہے۔ ایک یہ کہ عورت کے یہاں مذہب کے لبادے میں فقیری کا رنگ بہت ہی زیادہ گہرا ہے اور اعتقادی معاملات میں عالم کے مقابلے فقیر زیادہ پر اثر ہوتا ہے ۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ فقیری  میں جہاں پیٹ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے اسی کو استعمال کرکے سب سے بڑا مسئلہ بھوک کو پیش کیا گیا ہے ۔ تیسر ی بات یہ کہ ایک لطیف اور پاکیزہ اشارہ بھی اس طرح سامنے آتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے انتظام کا معاملہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور اسی کی تحریک پر یہاں یہ کام انجام کو پاتا ہے ۔ بھوک کو یہاں دین کے فرائض میں اس طر ح شامل کیا گیا ہے کہ اس کا انکار کرنا عام انسا ن کے لیے بہت ہی مشکل ہوجاتا ۔ جب کہ ناول نگار نے یہاں بہت ہی چالاکی سے جو چیز زندگی کے لیے لازم ہے اس کو دین کے لیے لازم قرار دیا ہے ۔ ساتھ ہی یہاں احساس ہوتا ہے کہ دین کو زندگی سے اہم پیش کیا جارہا ہے لیکن ماں کے آغوش سے بچہ کے نکلتے ہی یہ احساس ختم ہوجاتا ہے ۔عالم اور فقیر کے معاملے میں بظاہر فقیر کی جیت سامنے آتی ہے اور عام قاری کے ساتھ ماں کے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کھانا ایما ن کاحصہ ہے لیکن کہانی میں یہ ایقان کی حدتک میں نہیں داخل ہوتا ہے بلکہ عمل کی حد میں چلا جاتا ہے اور وہ عمل جان کی تجارت کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جودین کے منافی ہوجاتا ہے ۔ کہانی کار نے اس میں لفظ فرائض کا استعمال کیا ہے جبکہ وہ ’ارکان ‘ ہوتے ہیں ۔مزید یہ کہ اس کہانی میں فقیرسے متاثر ہونے کی شکل میں عورت کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔ نیکیاں   بظاہر جس کے اعداد و شمار نہیں ، یعنی اس کا کسی کے بھی بیت الثواب میں کوئی ڈِجٹ سامنے نہیںآتا ہے اور نہ ہی اس کا آن لائن یا روحانی ٹرانزیکشن ہوسکتا ہے ایسے میں یہاں ایک محسوس کا ایک غیر محسوس سے تجارتی عمل سامنے آتا ہے جبکہ بچے کے معاملے میں یکطرفہ بیع ہے اور اشترا کاعمل سامنے نہیں آتا ہے ۔دوسری طرف یہ بھی اس کہانی میں پوشیدہ ہے کہ بھکمری سے امیروں کا فائدہ ہوتا ہے جبکہ غریب مارا جاتا ہے ۔ اس کے چپیٹ میں امیرو غریب دونوں نے نہیں آتے ہیں ۔ 

شر وع میں پروفیسر وی این راے مانجھی سے متعارف ہورہے تھے اس وقت کہانی کی آمد کے لیے کہتے ہیں ’’ کیا ان میں سے کوئی کہانی سنانا پسند کر و گے؟‘‘ اس کے بعدلازمی ہے کہ دونوں کے درمیان گفتکو سے بے تکلفی آہی جائے گی اور اور زبان کا اسلوب بھی بدل جائے گا ۔ لیکن دونوں کہانیوں کے مابین چھوٹے چھوٹے کئی قصے پروفیسر کے ذہن میں جنم لتے ہیں اور گفتگو بھی جاری رہتی ہے تو مقام کی مناسبت سے پروفیسر وی این رائے کہتے ہیں’’ تو اسی خوشی میں کوئی کہانی سنا دو۔‘‘ یہ الفاظ اس وقت آرہے ہیں جب پروفیسر وی این رائے نے بیچ ندی میں مانجھی کو چائے پیش کی اس کے بعد اس کے بد ن میں چستی اور پھرتی کا احساس ہو ا تو مانجھی سے رنگین کہانی سنانے کی حاکمانہ درخواست کرتے ہیں۔اس کے بعد مانجھی ایک طویل کہانی سناتاہے جس میں راجہ کے بڑے بیٹے کی کوئی اولاد نہیں ہوتی ہے ایسے میں راجہ اپنے بیٹے کے لیے دوسری شادی کا سوچتا ہے تو بہو اس پورے معاملے کو کس طرح انجام دیتی ہے کہ بچہ بھی ہوجائے اور رجواڑے کا خون بھی اس میں ہو ۔اس کے لیے بہو کے سخت کلمات راجہ کے کان سے ٹکراتے ہیں کہ ’’ ید ی گھر میں سوتن لائی گئی تو سب کے سامنے بھانڈا پھوڑ دوں گی۔‘‘ اس جملہ پر کہانی کھڑی کی گئی ہے ۔ ماقبل میں بھی گھسیارے کی بیٹی کی کہانی ’’ دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھا جائے‘‘ پر مبنی تھی ۔دونوں کہانیوں میں نسوانی قول سے ہی کہانی بنی جارہی ہے جس میں عزم او ر حوصلہ کی مکمل عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔تو راجہ کی بہو کی کہانی راجہ کے ارادے کو مات دینے سے شروع ہوتی ہے۔ سب سے پہلے راجہ بہو کو راستے سے ہٹا نا چاہتا ہے وہ اس لیے کہ راجہ ( مرد ، یااوپر ذات کا کوئی بھی آدمی ) یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ اس کے خون میں خرابی ہوسکتی ہے۔ ماضی قریب کے عام معاشرہ کی طرح اس کے دماغ میں بھی یہ بات آتی ہے کہ خرابی عورت میں ہی ہے ۔بہو کو پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ اگر سوتن آبھی گئی تب بھی ونش آگے بڑھنے والا نہیں ہے ۔اس کے بعد بہو کے دل میں ان حالات سے نکلنے کے لیے کئی خیالات آتے ہیں لیکن کسی میں بھی اس کا دل ہاں نہیں کہتا ہے ، وہ چاہتی تھی تھی کم از کم بچہ اسی کے کوکھ سے پیدا ہو کسی دوسرے کے کوکھ سے پیدا شدہ بچہ کو قبول کرنے کے لیے اس کا ذہن تیار نہیں ہورہا تھا ۔اصل مسئلہ بھید کا تھا جس کو بھید ہی رہنے دینا ہے ۔ اس کے لیے اس کے ذہن میں ایک ہی آدمی آرہا تھا جس میں رجواڑے کا خون بھی ہوگا اور بچہ بھی اسی کے گود کا ہوگا اس کے لیے اس کی نظر راجہ (سسر ) پر پڑتی ہے ۔بہو اس مہم میں لگ جاتی ہے کہ سسر سے ہی ونش پانا ہے اور راز کو بھی راز ہی رہنا ہے ۔ وہ راجہ کے پاس جاتی ہے اور مضبوط انداز میں یہ باتیں کہتی ہیں:

 ’’ وہ دُوشِت ہے ۔ اس میں کداپی وہ دم نہیں کہ وہ آپ کو اس راج کا وارث دے سکے ۔ یدی اب بھی آپ کو وشواس نہیں ہے تو لائیے مجھے وش دے دیجیے ۔ میں وِش کھا کر اپنی جیون لیلا سماپت کر دیتی ہوں ۔ اور آپ شوق سے ان کی دوسری شادی رچا دیجیے ۔پرنتو ایک بات میری یاد رکھیے کہ ایک کیا، آپ اپنے بیٹے کی سو شادیاں کردیجیے ۔ ا ن کے بستر پر سو راج کماریوں کو لا کر سلا دیجیے ۔ پھر بھی کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔پچھتاوے کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آنا ہے ۔‘‘ 

راجہ پریشان ہوجاتا ہے اور اس کی حیرانی بڑھتی رہتی ہے کہ آخر کیسے ہوگا کہ راج ونش چل جائے ۔ اس کے لیے بہو اس کو وچن در وچن دیتی ہے کہ آپ کو اس کے لیے بڑی قیمت چکانی پڑے گی اور آپ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ راجہ مان لیتا ہے ۔ لیکن بہو کے اندر کا عورت جاگ جاتا ہے او ر وہ بات نہیں کہہ پاتی ہے لیکن کچھ لمحوں کے بعد ساری کوشش کے بعد ایک ہی سانس میں کہہ جاتی ہے کہ’’ وار ث کو پانے کے لیے … آپ کو میرے ساتھ سمپر ک استھاپت کر نا ہوگا۔‘‘ راجہ اس بات سے لرز جاتا ہے لیکن نارمل ہوتے ہوئے ساری کارروائی اور آشنکاؤں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور اس کام کو انجام دے دیتی ہے ۔ 

اس کہانی اور سابق میں پیش کر دہ کہانی کی پیش کش میں فرق یہ ہے کہ وہاں راجکمار کی تمام خواہشات کی تکمیل ہوجاتی اور اس کہانی میںراجہ کی خواہش کی تکمیل کا پتہ نہیں چلتا ہے اور کہانی تکمیل کے دہانے پر ختم ہوجاتی ہے ۔سابقہ کہانی میں کہانی ختم ہونے کے بعد کہانی پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی ہے لیکن اس میں کہانی ختم ہوتے ہی کہانی پر گفتگو شروع ہوجاتی ہے اور نتائج اخذکیا جانے لگتا ہے ۔ ان نتائج میں مصنف کا تنقیدی بصیر ت بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ پروفیسر وی این راے کی زبان میں لکھتے ہیں ’’ اچھی ہے اور کافی meaningful بھی ۔ اس سے زندگی کے کئی اہم نکتوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ کچھ نفسیاتی گرہیں بھی کھلتی ہیں ۔‘‘ جس میں کہانی کے مقصد کو بتاتے ہوئے اس کی سب سے اہم بات کو کہتے ہیں کہ ’’ اقتدار یعنی ستا کی بھوک آچار وچار ، رشتہ ناطہ ، عزت آبرو کچھ نہیں دیکھتی ‘‘ ۔یہاں پر جو ستا کا لفظ 

آتا ہے اسی کی تفصیل آگے جاتی ہے اور کہانی کے مقصدکو بھی ’’ ستا ‘‘ میں ہی مرکزی طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔یہ لفظ ’’ستا ‘‘ پروفیسر وی این رائے کے ذہن میں اس طر ح بیٹھ جاتا ہے کہ چار صفحات تک مسلسل اقتداری محو ر اور اقتداری ٹاور کے دائرے ان کے ذہن میں گھومتے رہتے ہیں کہ اچانک یہ سطر نمودار ہوتا ہے ’’ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں صاحب ! یہ ستا کی ہی بھوک تھی جس نے بہو کو اتنا شڈینتر پر مجبور کردیا ۔‘‘ ا س سطر کے بعد وہ کچھ لمحہ کے لیے ٹھٹھک کر رہ جاتا ہے اور قاری کے ساتھ پر وفیسر رائے بھی اقتداری ٹاور کے دائروں سے باہر نکل جاتے ہیں ۔ 

اس پوری کہانی کو پروفیسر رائے ستا کی بھوک کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن مانجھی کی نظر جسمانی بھوک کی طرف رہتی ہے وہ کہتا ہے:

 ’’ یہ بھو ک جسم سے جسم کو ملانے کی بھوک ہے ۔یہ بھوک تن کی آگ کو تن سے بجھانے کی بھوک ہے ۔یہ بھوک بھی اندھی ہوتی ہے۔ کچھ نہیں دیکھتی۔ وہ اس بھوک سے بھی پریشان تھی ۔ وہ چاہتی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی یہ بھوک بھی مٹ جائے ۔‘‘

اب یہاں سمجھ و فہم کا ایک حد فاصل قائم کرنا ہوگا ۔ اول یہ کہ پروفیسرو مانجھی دونوں کی نظر میں یہ واقعہ نفسیاتی ہے لیکن پروفیسر اقتدار کی جانب جاتا ہے اور مانجھی جنسی تسکین کی جانب جب کہ اس کہانی میں جنسی تسکین کے پہلو کو ابھارا بھی نہیں گیا ہے اور دونوں کی نظر الگ الگ تقاضے پر ٹھہرتی ہے ۔لیکن پروفیسر خود کو اس جنسی فلسفہ کی جانب بہنے سے روک نہیں پاتے ہیں تعلق غیر کو بہت ہی مثبت انداز میں سامنے لے آتے ہیں اور بھی محض نئے قسم کے ذائقے کے لیے ۔ جس کی تا ئید ان کے ذہن میں ابھرتے ہوئے کئی واقعات کرتے ہیں۔مگر کئی دیگر عزت و عصمت کے واقعات سے اس کی نفی بھی کر دیتے ہیں ۔ اس کے بعد دو اور سوال مانجھی پروفیسر را ئے سے پوچھتا ہے جس کے بعد گفتگو برابری اور ناقص العقل کہی جانے والی مخلوق کے عقل پر چل نکلتی ہے ۔ برابر میں یہ بات ہوتی ہے کہ مرد نہیں چاہتا ہے کہ کرسی میں وہ’’ اس کے برابر بیٹھے کیونکہ بیٹھنے میں عورت دکھائی دیتی ہے اور لیٹنے میں دیکھائی نہیں دیتی ہے ‘‘یہ جبر تو عور ت پر مر د کی جانب سے ہوتا ہی رہتا ہے لیکن عورت بھی فطری طور پر خود کو بدلنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتی ہے کیونکہ آج کے زمانہ میںتو وہ عورت ہوناہی نہیں چاہتی ہے بلکہ ہر عمر میں وہ لڑکی ہی رہنا چاہتی ہے ، سترہ سال کی ، ستائیس سال کی ، سینتیس سال کی سینتالیس سال کی اور ستاون کی بھی لڑکی ہی ہونا چاہتی ہے کیونکہ سب کے فیشن ایک سے ہوگئے ہیں ، کپڑوں سے لے کر دیگر ملبوسات تک میں کم عمر اور زیادہ عمر کا فرق مٹ چکا ہے جس کو ناول نگار پرو فیسررائے کے مکالمے میں دوسرے پہلو سے پیش کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں : 

’’ عورت دماغ سے زیادہ اپنے جسم کو دیکھنا چاہتی ہے ۔وہ چاہتی ہے کہ لکیروں سے بھری پیشانی کے بجائے اس کی وہ پیشانی دکھائی دے جس پر ایک بھی لکیر نہ ہو۔ جو سپاٹ اور چوڑی ہو، سکڑی ہوئی نہ ہو ۔جس پر پونم کا چاند نظر آئے دوج کا نہیں ۔وہ اپنی آنکھوں کو پرفکر دیکھنے کے بجائے پرکشش دیکھنا چاہتی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ بھلے ہی اس کا بڑا دماغ نظر نہ آئے مگر اس کے جسم کا ایک ایک انگ اور اس کا چھوٹا سا چھوٹا حصہ بھی ضرور نظر آئے کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں ٹھہری رہ جائیں ۔ اس کا یہ جتن ہوتا ہے کہ اس کی جلد ہمیشہ نر م و نازک اور تر وتازہ بنی رہے ۔ اس کی رنگت اس کی چمک دمک کبھی ماند نہ پڑنے پائے ۔‘‘

 جبکہ وہ اپنے نفس دماغ کے ڈیولپ کے بارے میں وہ کبھی بھی اتنا نہیں سوچتی ہے ۔سابقہ میں بھی ہی بات اشارتاً آچکی ہے کہ اس کہانی کا جنسی پہلو بہت واضح نہیں تھا لیکن ناول نگار نے اس پہلو کو مانجھی کے سوال کے توسط متعلق کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کہانی کو میں سابقہ لڑکی کی کہانی سے جوڑ کر یو ں ہی نہیں دیکھ رہا ہوں بلکہ ناول نگار خود بھی عورت کی عقل پر گفتکو کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’ تم نے اس سے پہلے والی کہانی میں نہیں دیکھا کہ ایک گاؤں دیہات کی رہنے والی معمولی گھسیارے کی بیٹی نے اپنی بدھی اور سمجھدار ی کا کتنا بڑا ثبوت دیا تھا ۔‘‘ لیکن دونوں میں اتنا فرق ہے کہ وہاں صرف کہانی ہے جبکہ یہاں کہانی کے ساتھ ناول میں تجزیہ بھی رقم ہے جو ناول کے فن میں دلچسپ بھی ہے اور دوسری طرف ناول نگار کا عکس بھی نظر آتا ہے ۔ 

اس کے بعد آگے کی کہانی کی جانب بڑھتے ہیں جو ایک شادی شدہ جوڑے کی ہے اور لذت وصل سے محروم ہے ۔کہانی مختصر سی بس اتنی ہے کہ شادی کے بعد گھر کے ایک کمرے پر مشتمل ہونے اور مہمانوں کی وجہ سے انہیں موقع ہی نہیں ملتا ہے کہ وہ مل سکیں ۔ ہوٹل میں بھی جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہاں بھی مشکوک ہونے کی وجہ سے انٹری نہیں ملتی ہے تو مانجھی کی کشتی میں سوارے ہونے کے بعد مانجھی کی اجازت سے وصل سے آشنا ہوتے ہیں ۔ 

اس کہانی اور ماقبل کی کہانیوں میں فر ق کئی اعتبارسے فرق ہے ، اول یہ کہ یہ داستانوی اورسماعی نہیں ہے بلکہ بصری و تجرباتی ہے۔ دو م یہ کہ کہانی تسلسل کے ساتھ نہیںچلتی ہے بلکہ بیچ میں مکالمات کے مجموعے قاری کو کہانی سے دور لے جاتا ہے ۔پھر کہانی کی جانب مانجھی لوٹتا ہے اور خود ہی کہانی کو اپنی سہاگ رات کی کہانی کی جانب موڑدیتا ہے ۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ دونوں کہانی وصل کی ہوتی ہے تو قاری اسی احساس سے گزرتا ہے ۔مصنف نے جس طرح سے دوسری کہانیوں کو ناپ تو ل کر عبارت کی لڑی میں پرویا ہے وہ اس کہانی میں ہلکا سا مفقود نظر آتا ہے ۔ 

ملاح اپنی کہانی سنانے سے پہلے کہتا ہے ’’ صاحب ! میں نے اپنی آنکھیں تو بند کرلی تھی مگر ان میں میری اپنی سہاگ رات ابھر آئی تھی ۔ ‘‘ پھر کہانی ڈیڑھ صفحہ میں ان لفظوں سے ختم ہوتی ہے ’’ رات بھر ہم بنا جھجھک اور ڈر خوف کے اطمینان کے ساتھ پیار و محبت سے کھیلتے رہے ۔ ‘‘  اگلی سطر شروع ہوتی ہے’’ کچھ دیر بعد میرے کانوں میں لجائی لجائی سی آواز گونجی ’’ بھیا ، اپنی آنکھیں کھول لیجیے ۔‘‘ پہلی سطر کے مخاطب پر وفیسر رائے ہوتے ہیں اور دوسری سطر کے درمیان کا فاصلہ ’’ کچھ دیر بعد ‘‘ سے سامنے آجارہا ہے جو مضبوطی سے بنے گئے اس ناول کے پلاٹ میں اس سے پہلے نظر نہیں آیا ۔اس کہانی کا بھی تجزیہ موجو د ہے لیکن اس کا انداز یہاں فکر ی ہے مکالماتی و نظقی نہیں ، کہانی سنتے سنتے پروفیسر رائے مہانگروں کی کالی کوٹھریوں میں کھوجاتے ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے کمروں میں لوگ کسی طر ح سے جنسی زندگی سے پیٹ بھرتے ہیں ۔پروفیسر کے ذہنی طور پر کسی اور منظر نامے چلے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مقامات پر چاچکے ہیں لیکن ان مقامات پر اس کے لیے اقتباس کا پیرایہ نہیں اپنایا گیا تھا جبکہ یہاں اقتباسات کا پیرایہ استعمال ہوا ہے ۔اس سے پہلے جب اقتداری محور کی بات آئی تو وہاں بھی ذہن میں ابھرنے والے کلمات صفحات میں رقم ہورہے تھے لیکن اقتباس کا پیرایہ نہیں اپنا یا گیا ۔ 

اس کے بعد ایک کہانی ایک مدرسہ سے پڑھے لکھے شخص ہارون رشید کی سامنے آتی ہے ۔ جس کے تحت مدرسہ سے فارغین کے جو بھی مسائل ہوتے ہیں وہ سامنے آتے رہتے ہیں ساتھ ہی اردو کا مسئلہ بھی باعث ذکرہوجاتا ہے جس کو پکڑے رہنے سے معاشرہ پیچھے رہ جائے گا۔اس در میان پروفیسر قاضی افضال حسین کا نام بھی پڑھنے کو ملتا ہے ۔اس سے قبل سید محمد اشر ف کا بھی نام آیا تھا ۔ اِ س کہانی میں ناول نگار واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں اور ناول سوانح کی جانب سفر کرنے لگتا ہے ۔لیکن کہانی ختم ہوتے ہی پھر جمنا کی سطح پر ناؤ بہنے لگتی ہے اور پر وفیسرو مانجھی کے مکالمے ہوتے ہیں شام ہوجاتی ہے اور ناول بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ 


بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

 بانگ درا میں بچوں کی نظمیں علمِ تشریعیات میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، جو اب محاورے کی طرح مستعمل ہے۔ اس سے مراد کسی فن یا مو...