مرکب الفاظ اور املا
موجودہ دور میں اردو املا میں ایک نئی بلا یہ آن پڑی ہے کہ لفظوں کو توڑ کر لکھا جا رہا ہے۔ یہ بلا اگرچہ اب عام ہوئی ہے، لیکن بطورِ سفارش گزشتہ پچاس برسوں سے اردو اداروں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ سفارش نے غلط رخ اختیار کرکے اب وبا کی شکل کیوں اختیار کرلی ہے، اس بارے میں شاید اسلاف نے بھی نہ سوچا ہوگا۔ مشورہ اسی وقت تک کارگر رہتا ہے جب اس کے لیے کوئی جامع اور مانع قاعدہ بھی وضع کیا جائے، لیکن افسوس کہ املا کے جو بھی قواعد بنائے گئے، ان پر کبھی پوری طرح عمل نہ ہوسکا۔ پہلے ہم نے مرکب الفاظ کو توڑ کر لکھنے کا قاعدہ بنایا اور اس کے تحت ابتدا میں چند مرکب الفاظ کو مفرد صورت میں لکھا گیا۔ بعد میں متبعین اس میں مسلسل اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اب مفرد الفاظ بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔
مرکب الفاظ کو مفرد بنا کر لکھنے کا قاعدہ ہی سرے سے غلط ہے، کیونکہ مرکب شے وحدت کا درجہ اختیار کرلیتی ہے اور اپنے وجود میں ایک مکمل اکائی ہوتی ہے۔ لسانی اعتبار سے بھی یہ بات درست نہیں کہ اگر مرکبات سے کوئی نئی شناخت قائم ہوتی ہے تو اسے قائم نہ ہونے دیا جائے۔ ایک عام سی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ ’جانور‘ ایک مرکب لفظ ہے جو ’جان‘ اور ’ور‘ سے مل کر بنا ہے۔ ’ور‘ یہاں لاحقہ ہے، اور یہ ایک عمومی قاعدہ ہے کہ لاحقہ اور سابقہ دونوں متصل ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے دانشوروں نے اس قاعدے کو بھی توڑ دیا اور اب وہ خود کے لیے بھی ’دانش ور‘ لکھنے لگے ہیں۔ میری ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جب آپ ’دانش ور‘ لکھ سکتے ہیں تو پھر ’جان ور‘ بھی لکھیے، آخر اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ شاید نہیں!
اس معاملے میں پانی سر سے اس وقت گزرتا محسوس ہوا جب گزشتہ دنوں مجھے ’کیجیے‘ اور ’پینے‘ جیسے الفاظ بھی ’کی جئے‘ اور ’پی نے‘ لکھے ہوئے نظر آئے۔ یہ مثالیں اگرچہ شاذ و نادر ہیں، لیکن پہلے ایسا بھی نہیں تھا۔ جس طرح ’جانور‘ ایک مکمل اکائی ہے، اسی طرح ’دانشور‘ بھی مکمل اکائی ہے۔ اگر ایسی مثالیں مزید پیش کرنے لگوں تو یقیناً بہت سے لوگ شرمندگی محسوس کریں گے۔
اصل مسئلہ مرکب الفاظ کو توڑ کر لکھنے کا ہے۔ یہ کس حد تک جائز ہوسکتا ہے، اس پر ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا، کیونکہ ہم اپنی بات منوانے میں لگے ہوئے تھے۔ دراصل یہ ایک نفسیاتی عمل تھا جو ہمارے املا کے دانشوروں میں کام کر رہا تھا، اسی لیے انہوں نے بغیر کسی عملی تجربے کے اسے پوری قوت سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ صدی میں اس پر بہت کم عمل ہوا، بلکہ یوں کہیے کہ ان سفارشات کو عملاً رد کردیا گیا۔ تاہم ایک عجیب صورت یہ پیدا ہوئی کہ جن سفارشات کو رد کیا جا رہا تھا، انہی پر مبنی کتابیں بڑے اہتمام سے شائع بھی کی جا رہی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب املا میں بڑی تبدیلیاں نمایاں ہونے لگی ہیں۔
اگر کسی کا نام ’خوشبو‘، ’خوشنما‘ یا ’دلکش‘ ہو تو وہاں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، لیکن جیسے ہی یہی الفاظ بطورِ صفت استعمال ہوتے ہیں تو انہیں ’خوش بو‘، ’خوش نما‘ اور ’دل کش‘ لکھا جانے لگتا ہے، حالاں کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک ہی لفظ اسم بھی ہوسکتا ہے اور صفت بھی، لیکن دونوں صورتوں میں الگ الگ املا مناسب نہیں۔ بعض اوقات یہ طرزِ تحریر مضحکہ خیز حد تک معنی خیز بھی ہوجاتا ہے۔ مثلاً میری نظر ایک کتاب پر پڑی جس کا عنوان کچھ یوں تھا: ’’صاحبِ ذی شان: حیاتِ ذیشان‘‘۔ یہاں ’ذی شان‘ کو الگ لکھنے کا مقصد شاید تکرار سے بچنا تھا، لیکن یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بعض مخصوص مواقع پر معانی میں فرق پیدا کرنے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر ہر جگہ یہی طرز اختیار کرلی جائے تو قاری معروف معانی سے دور ہونے لگے گا۔
مثلاً آج کل ’پس ماندہ‘ کئی جگہ لکھا ہوا نظر آیا تو میرے ذہن میں فوراً اس کا لغوی معنی آیا، لیکن سیاق و سباق نے اسے قبول نہ کیا، کیونکہ وہاں مراد ’مسلم پسماندہ‘ یا ’پسماندگان‘ تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ لغوی معنی بھی لفظ کی ظاہری صورت ہی سے اخذ ہوتے ہیں، لہٰذا جیسا آپ لکھیں گے، معنی بھی ویسے ہی سامنے آئیں گے۔ اس نوعیت کے کئی الفاظ ہماری مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک اور لفظ ’شرمسار‘ دیکھیے، اسے بھی ’شرم سار‘ لکھا جا رہا ہے۔ اگر آپ اس حد تک جاسکتے ہیں تو پھر ’رخسار‘ کو بھی ’رخ سار‘ لکھیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بنیاد ہی غلط ہے۔
یہ طرزِ عمل آپ کسی دوسری زبان کے املا میں اختیار نہیں کرتے۔ کیا کبھی انگریزی میں Playground کو الگ کرکے Play ground لکھا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ وہاں آپ کی دانشوری محدود ہوجاتی ہے۔ اچھا، انگریزی کو چھوڑیے، اردو کی بہن ہندی ہی کی مثال لے لیجیے۔ وہاں بھی مرکب الفاظ کو توڑنے کا رجحان نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات مرکب بننے کی صورت میں حروف کی شکلیں تک بدل جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں الگ الگ لکھنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔ ہندی جیسی مثالیں تو اردو میں کم ہی ملتی ہیں۔ اردو میں مرکب بننے کے باوجود عموماً کسی حرف کا سقوط نہیں ہوتا، اگرچہ شاذ مواقع پر ایسا نظر آتا ہے، جیسے عظیم آباد، جلوہ آباد، حیدرآباد اور سکندرآباد میں ’آباد‘ اپنی اصل صورت میں موجود ہے، لیکن ’دریاباد‘ میں ’آ‘ ساقط ہوگیا ہے۔ اسی طرح اردو میں ادغام کی کوئی باقاعدہ صورت نہیں، اسی لیے ’بدتر‘ اردو میں مکمل لکھا جاتا ہے، جب کہ بعض فارسی کتب میں دال ساقط کرکے ’بتر‘ لکھا گیا ہے۔
خیر، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مرکب الفاظ کو کس حد تک مفرد بنا کر لکھا جائے۔ اردو میں بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو مرکب ہیں۔ اگر ان سب کو ایک ہی قاعدے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی تو پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا، جیسا کہ گزشتہ مثالوں سے واضح ہے۔ ویسے بھی جب مفرد ہی لکھنا ہے تو پھر انہیں مرکب الفاظ کیوں کہا جائے؟
لہٰذا ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ جو املا رائج اور مقبول ہوچکا ہے، اس پر مزید تجربات نہ کیے جائیں، ورنہ سابقے اور لاحقے دونوں انتشار کا شکار ہوجائیں گے اور ’کتابچہ‘، ’کتاب چہ‘ بن جائے گا، جب کہ ’بقید‘ اور ’بفرض‘ جیسے الفاظ ’بہ قید‘ اور ’بہ فرض‘ کی شکل اختیار کرلیں گے۔
ویسے ’ب‘ کا قاعدہ بھی بڑا عجیب ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی فارسی قواعد سے متعلق ایک کتاب میں مذکور ہے کہ ’ب‘ بطورِ حرفِ جر ہمیشہ زبر قبول کرتا ہے، اور جہاں اس کی گنجائش نہ ہو وہاں حرکت کو ہائے خفی سے بدل دیا جاتا ہے، کیونکہ ہائے خفی اکثر حرکت ہی کے قائم مقام ہوتی ہے۔ لیکن آج کل بعض لوگوں نے یہ کلیہ بنا لیا ہے کہ ’بہ‘ کو ہمیشہ الگ لکھا جائے، اسی لیے ’بوقت‘ کے بجائے ’بہ وقت‘ لکھتے ہیں، مگر وہیں ’بجائے‘ کو ’بہ جائے‘ نہیں لکھ سکتے۔ یہی دوہرا رویہ اصل مسئلہ ہے۔
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اردو املا کے لیے جو قواعد وضع کیے گئے ہیں، وہ صرف ناقص ہی نہیں بلکہ بعض اوقات گمراہ کن بھی ہیں۔ املا کا معاملہ بھی زبان ہی کی طرح رواج پر قائم ہوتا ہے، اور جب کوئی رواج مقبولِ عام ہوجائے تو وہی مستند قرار پاتا ہے۔
(نائب مدیر)