Showing posts with label اداریہ. Show all posts
Showing posts with label اداریہ. Show all posts

Thursday, 17 September 2026

تکلیف ہوتی ہے !

 تکلیف ہوتی ہے !
(اداریہ مژگاں اپریل ۔جون 2026)



اردو زبان وادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر بات کی جائے تو اس صدی کے آغاز سے ہی اس میں لگاتار کمی آرہی ہے۔ کتابی دنیا اب ویسی نہیں رہی جو پہلے تھی ۔ اشاعت کا ہر معاملہ اب کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے ۔ سیاسی و تفریحی جرائد اردو میں اب ناپید ہوچکے ہیں۔ ڈائجسٹ کی دنیا اب یاد پارینہ بن چکی ہے ۔ ادبی رسائل و جرائد میں پرائیویٹ ماہانہ جرائد چند ایک ہی بچے ہیں، دو چار سرکاری ماہانہ رسائل ہزار سے دو ہزار میں سمٹ کر رہ گئے ہیں ۔ کئی سہ ماہی رسائل اداروں سے اور ذاتی دلچسپی پر نکل رہے ہیں ہر ایک کی تعداد محض سیکڑوں میں ہے۔ دہلی کے ایک مشہور ادارے سے ایک معروف سہ ماہی رسالہ نکلتا ہے لیکن ان کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر آپ رسالہ جاری کروانا چاہیں گے تو وہ صاف منع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آن لائن مطالعہ کرلیجیے (یعنی طباعت کو محدود کردیا گیا ہے )یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ اب عمومی سطح پر مطالعہ کی کمی کس قدر ہوچکی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یونی ورسٹی کے طلبا میں بھی اب مطالعہ کا فقدان نظر آرہا ہے۔
کوئی بھی معاملہ کلیت کا نہیں ہوتا بلکہ جس طرح ہر میدان میں چند ایک ہی نمایاں ہوتے ہیںجو اپنی محنت ولگن سے جگہ بنانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ ایسے افراد یقینا دس ہی فیصد ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ تدریس سے وابستہ اعلی مناصب پر فائز سبھی مقبول و مستند ہوں، ان میں بھی صرف دس فیصد ایسے ہیں جن کے لکھنے پڑھنے کا مشغلہ جاری و ساری ہے، مرکزی سطح پر ان کی تحریروں کی مقبولیت بھی ہے اور وہ اردو ادب میں باضابطہ اپنی ایک رائے بھی رکھتے ہیں۔ ریسرچ اسکالر س میں بھی دس فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا کام منظر عام پر آتا ہے، وہ اپنی جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن حالات کا شکار ہوکر آہستہ آہستہ پڑھنے لکھنے سے بہت دور ہوجاتے ہیں اردو میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ سندی ریسرچ سے نکلے ہوئے اکثر افراد سسٹم کا شکار ہوکر راہ بدل لیتے ہیں لیکن ان میں بھی دس فیصد ایسے ہوتے ہیں جو لگاتار اپنی تحریروں سے نئی فکر اور تحقیق سامنے لاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں پوری اردو برادری کو ان دس فیصد کے متعلق فکر کرنا اہم ہوجاتا ہے کہ انہیں بہتر لکھنے پڑھنے کا ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ایک بہترین فصل کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے، لیکن افسوس کہ اس میںبھی کریم کے بجائے تلچھٹ کو فوقیت دی جاتی ہے ۔
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں نوٹ بندی اور لاک ڈاؤن کے بعد حالات بہت ہی زیادہ بدل چکے ہیں ۔ ریسر چ اسکالروں کی سہولیات میں بہت زیادہ کمی آگئی ہے ، دوسری دہائی کی ابتدا سے وظائف کے حصول میں آپشن کی کمی کی وجہ سے طلبہ کے لیے اعلی تعلیم حاصل کرنا آسان ہوگیا تھا اب سوائے جونئیر ریسرچ فیلوشپ کے سبھی اسکالرشپ بند ہوچکے ہیں، یسے میں ریسرچ سے دلچسپی رکھنے والوں کے سامنے معاشی پریشانی آن پڑی ہے جس سے اعلی تعلیم کی حصولیابی ایک متوسط طبقے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے ۔ کیونکہ جس عمر میں لوگ ریسرچ میں داخلہ لیتے ہے وہ زندگی کا بہت ہی نازک اور اہم موڑ ہوتا ہے ،یہ عمر عموماباضابطہ روزگار سے جڑکر نئی زندگی شروع کرنے کی ہوتی ہے اور اسی وقت پانچ سال ریسرچ میں بہتر مستقبل کی امید میں لگاتے ہیں ۔
اب حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ کسی بھی زاویے سے راہ آسان ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اعلی تعلیمی اداروں میں طلبہ کا فقدان ہوچکا ہے ، مطلوبہ نشستیں بھی خالی رہ رہی ہیں ضوابط کے خلاف جاکر داخلہ دینے کی کوشش دہلی جیسے شہر میں ہورہی ہے پھر بھی اردو ودیگر زبانوں کے طلبہ نہیں مل رہے ہیں ۔وجوہات اور نتائج کے طور پر ہم یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیں گے کہ زبانوں کو جب تک روزگار سے نہیں جوڑا جائے گا تب تک یہی حالت ہوگی۔ لیکن طلبہ کی کمی کا معاملہ صرف روزگار کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس میں ہماری بنیادی غلطی بھی شامل ہے کہ ہم اردو کے لیے کمزور سے کمزور تر اور نکمے لوگوں کو منتخب کرتے رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ جن کے یہاں صرف اردو کی ڈگریاں تھیں ، ان کے یہاں نہ اردو تعلیم تھی اور نہ ہی اردو کا شعوروہ سسٹم میں داخل ہوگئے ، ایسے میں وہ اردو کے لیے نئی کھیپ کس طرح تیار کرسکتے ہیں۔
تین بنیادی صلاحیتوں پر ملکہ حاصل ہونا کسی بھی زبان داں کے لیے بنیادی شرط ہے ۔ پڑھنا ، لکھنا اور سمجھنا ۔اگر ان تینوں میں مکمل قدرت نہ ہو تو وہ آگے طلبہ میں کیا پیش کریں گے۔ اگر متن کی قرات میں روانی اور صوتی معنوی عنصر شامل نہ ہوتوطلبہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اردو ایسی ہی اٹک اٹک کر پڑھی جانے والی اور تاثر سے عاری زبان ہے ۔ املا میں درستی اور رسم الخط میں خوبصورتی نہ پائی جائے، بورڈ پر ٹیڑھی میڑھی اور غلط املا ہی لکھا جائے تو طلبہ میں بھی وہی عادت ابھرتی ہے پھر ایسے میں آپ زبان سے رغبت کہاں تک دلا سکتے ہیں۔ معنوی بد حالی کا معاملہ ایسا ہے کہ اب محاوراتی زبان کا استعمال کرنا تو دور سمجھنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ ہم جب تک کسی بھی لفظ کے برمحل استعمال پر قادر نہیں ہوتے ہیں ایسے میں ہم کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم زبان داں ہیں اور لفظوں کے معنوی تاثر سے بھی واقف ہیں۔ جب تک ہم ان تینو ںچیز پر قادر نہیں ہوتے ہیں تب تک استادی کے پیشے سے ہم نسلوں کو برباد کررہے ہیں۔
پرائیویٹ اسکولوں کے پیٹرن نے اعلی درجات میں اردو زبان کی تعلیم کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں اردو برائے نمائش پڑھائی جاتی ہے ،الا ماشاءاللہ۔ اچھے اسکولوں میں اردو کو اسپیس تک نہیں دیا جاتا ہے، والدین بھی نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اردو پڑھیں۔ وہی بچے جب کالج پہنچتے ہیں تو ان کے لیے اردو کا آپشن بالکل بند ہوجاتا ہے ایسے میں چند ہی بچے ہوتے ہیں جو اردو کا پرچہ اختیار کرتے ہیں۔
ان سب سے پرے اس وقت کی معاشی صورتحال ایسی نہیں رہی کہ اسکولی تعلیم کے بعد چار سال کی ڈگری میں متوسط ادنی طبقہ کے بچے مہنگی فیس کے ساتھ ایک ڈگری کورس کریں۔ آج سے پانچ برس قبل جس کو رس کی فیس دہلی یونی ورسٹی میں پندرہ سے اٹھارہ ہزار تھی آج وہ چالیس ہزار کے قریب ہے ۔ ہر یونی ورسٹی میں تعلیم بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے ۔ ایسے میں موہوم مستقبل کے ساتھ اردو کی تعلیم جاری رکھنا عام گھروں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور بچیوں کے لیے ایک بوجھ ہی ہے ۔ جب کالج کی یہ صورتحال ہوگی تو آگے یونی ورسٹی سطح پر کیا نتیجہ ہوگا آپ سوچ ہی سکتے ہیں ۔ مجھے ایک یونی ورسٹی کا علم ہے جہاں پر ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو کی تعلیم ہے ، وہاں اردو میں صر ف ایک ہی مستقل استاد ہیں باقی دو گیسٹ ٹیچر ہیں ۔ اس یونی ورسٹی میں بچوں کو ایم اے میں یہ کہہ کر داخلہ دیا جاتا ہے کہ آپ کی تعلیمی فیس ہم اساتذہ ادا کر یں گے اور وہ اساتذہ ایسا کرتے بھی ہیں تب جاکر پانچ یا چھ بچے ایم اے میں داخل ہوتے ہیں ۔ جب کہ اس یونی ورسٹی کی ماضی میں اچھی روایت رہی ہے ۔
ہمارے یہاں یہ تنزلی کسی ایک جانب سے نہیں ہورہی ہے بلکہ ہر جانب سے کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔ زبان کی سطح پر کسی طور پر ہم مطمئن ہو بھی سکتے ہیں لیکن جہاں سے علم و دانش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے وہاں سے مصلحت پسندی کے نام پر زبان کے ساتھ ظلم بھی ہونے لگتا ہے ۔یونیورسٹیوں میں پرانے مکینوں نے جو شان پیدا کی تھی آج ان یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو میں سوائے نشانات کے کچھ بھی قابل ذکر نہیں رہ گیا ہے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ اردو زبان و ادب کی تنقید میں جو خطوط متعین ہونے تھے وہ ہوچکے ہیں اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ محض خط پر خط کھینچنے کے مماثل ہے ۔ یعنی ادبی اداروں کی حالت ایسی نظرنہیں آتی ہے کہ وہاں سے قابل استناد تحریروں کی اشاعت ہو رہی ہو ۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ شاذ و نادر ہی ایسی تحریریں شائع ہورہی ہیں جو بذات خود اپنے وجود پر قائم ہوں۔ عموماً ایسی تحریریں نظر آتی ہیں جس میں ماضی کی تحریروں سے ہی تحریریں آگے بڑھائی جارہی ہیں ۔ ایسے میں ہمیں ایک ہی خیال الگ الگ انداز میں بار بار پڑھنے کو ملتا ہے ۔ ہاں ایسی تحریریں بھی شائع ہورہی ہیں جس میں ماضی کی بنیاد کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہیں ۔ جیسے اکبر و حالی ، جوش وفراق ، اصغرو جگر اور حسر ت وفانی کو اس دور کے ناقدین نے جس سانچے میں بندکردیا بعد کے دانشور بھی اسی کو دہراتے رہتے ہیں ۔ لیکن کیا ایسا ہی ہے ؟کہ پرانے حدود میں ہی انھیں قید کرکے رکھا جائے ۔نہیں ! اب ہمیں روایتی نظریات کو متن کی سطح پر اتر کر نئے مباحث قائم کرنے ہوںگے ۔یقینا کچھ لوگ ہر زمانے میں ایسے ہوئے ہیں جو پرانی روش سے الگ اپنی راہ کا انتحاب کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ویسی تحریریں بہت ہی کم بطور استناد شامل کی جاتی ہیں۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ فاروقی و نارنگ اردو کے دو ستون تھے ۔ جبکہ ان کی تنقید و تحقیق سے اختلاف کرنے والے بھی بہت ہوئے ہیں لیکن جن لوگوں نے صحت مند اختلاف کیا ہے ان کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا ہے اور وہی غلط چیزیں رائج ہوجاتی ہیں جو یہ حضرات لکھ کر چلے گئے ۔ یہی حال رشید حسن خاں کے ساتھ بھی ہے کہ انھوں نے اردو املا پر جو لکھ دیا اب اسے اصول سمجھ لیا گیا ہے جب کہ ان سے اصولی بحث کرنے والوں کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا ہے ۔ یہ مثالیں صرف بطور مثال ہیں جبکہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ہم ہمیشہ یک جہتی رہتے ہیں دوسری جہت پر لکھنے والوں کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔
ہمارے یہاں ایک روایت یہ بھی در آئی ہے کہ جو بڑے نام ہیں ان ہی کی کتابوں سے اقتباسات در ج کیے جاسکتے ہیں ۔ اگر کسی نے عمدہ تحقیق کی ہو لیکن اس کو شہرت نصیب نہ ہوا ہو ، یا حالات کی ستم ظریفی سے کسی یونی ورسٹی میں استاد نہ بنا ہو تو پھر اس کے استناد میں شک کیا جاتا ہے اور عموما مقالات میں نگراں کی طرف سے اس کی شمولیت کی اجازت نہیں ملتی ہے ۔ اِلا یہ کہ اس ادبی ماحول میں ان کی گرفت مضبوط ہو۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک عجیب حادثہ سے دو چار ہوا ۔ دہلی کے ایک خود کفیل ادارے کے سہ ماہی رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا ۔ اس سے پہلے اس مضمون سے میں بذات خود واقف تھا ۔ اس مضمون کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی اس میں ایک مقام پر ایک نوجوان ریسرچ اسکالر کی کتاب بطور حوالہ درج تھی ۔ لیکن جب مضمون شائع ہوا تو اس میں نوجوان ریسرچ اسکالر کی کتاب کا ذکر حذف کر کے شائع کیا گیا ہے ۔ اس کواگرچہ ادارتی عمل کہہ کر ٹال دیا جائے گا لیکن حقیقت میں اس کو نام کاٹنا کہتے ہیں ۔ آپ جس کو پسند نہیں کرتے ہیں اگر اس کا نام کسی مضمون میں آئے تو ہٹا دو، ایسے میں اگر آپ نئی تحقیقات کو جگہ نہیں دیں گے تو پھر آپ ریسرچ کے دشمن ہیں ۔ آپ سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ وقت میں بہت ہی مشکل سے چند ہی یا دو چار کتابیں ہی ایسی منظر عام پر آرہی ہیں جو قابل توجہ ہوتی ہیں، اگر ان پر پھی آپ قدغن لگارہے ہیں تو پھر آپ تحقیق میں اپنی مرضی چلارہے ہیں ۔ جب کہ تحقیق اور تنقید میں بنیادی فرق یہی ہے کہ آپ تنقید میں اپنی مرضی کے اعتبار سے منزل طے کرسکتے ہیں لیکن تحقیق میں شواہد جدھر لے جائیں منزل ادھر ہی ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی ہم تحقیق سے کسی چیز کو رد کر نا چاہتے ہیں لیکن جب شواہد سے نتیجے تک پہنچتے ہیں تو ہم رد نہیں کر پاتے ہیں بلکہ کلی نہ سہی لیکن جزوی طور پر تسلیم کرہی لیتے ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی رسالہ تحقیقی مضامین کو شائع کررہا ہے اور مدیر یا مدیرہ اپنی مرضی سے کسی ثبوت پر قلم چلا دیتے ہیں تو یہ مدیر کی علمیت نہیں بلکہ اس کی جہالت ہوتی ہے ۔

Saturday, 5 September 2026

جدید ادب کیا ہے؟

 جدید ادب؟
تعرف الاشیاء باضدادہا  یہ علمِ منطق کا ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے جو تقریباً تمام چیزوں کی اصل ہیئت کی دریافت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تصوراتی دنیا میں کوئی ایسی شے نہیں جس کی تفریق و تعریف کے لیے یہ قاعدہ سامنے نہ آتا ہو۔ یہاں جدید ادب کے لیے مجھے اس قاعدہ کے ماتحت اس لیے آنا پڑا کہ اس سے قدیم ادب کو دائرہِ گفتگو میں شامل کیے بغیر بات نہیں بنتی۔ لیکن بنیادی طور پر ادب تو دائرہ میں ضرور آئے گا، اور موجودہ وقت میں ادب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ادب کا منظرنامہ بالکل بدل گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو زیرِ تحریر آ رہی ہے، اسے ادب کہا جا رہا ہے، سوائے خبر نویسی کے۔ آپ خود غور کریں تو احساس ہوگا کہ کوئی بھی تحریری شے اب ادب کے دائرے سے خارج نہیں ہو رہی۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ہے کہ جو کچھ لکھا جائے گا، وہ ادب ہی کہلائے گا۔
اس طرح کی صورتحال جب رو نما ہوتی ہے تو کوئی ایسی شخصیت سامنے آتی ہے جو ادب کی بازیافت کرتی ہے اور پھر ان مباحث کو ادب کے دائرہ کار میں لاتی ہے جو اصولی طور پر ادب کے زمرے میں آتے ہیں، ورنہ وہ محض ذاتی تسکین کا عمل قرار پاتا ہے۔ وہ وقت آ چکا ہے یا آنے والا ہے؟ یہ وہی بہتر جان سکتے ہیں جو قدیم و جدید دونوں اقسام کے ادب سے واقف ہ اور اصولی طور پر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کون سے عناصر تحریر میں شامل ہونے سے وہ ادب بن جاتی ہے، ورنہ وہ محض تحریر کہلاتی ہے۔ یقیناً آپ حیران ہو رہے ہوں گے، لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کے امکانات موجود ہیں۔ کیونکہ ہر چیز میں بازگشت کی صدا سنائی دیتی ہے۔ کوئی بھی چیز لیں، اس میں ترقی کے ساتھ اس کی اصل روح کی تلاش ضرور کی جا رہی ہے۔ موجودہ مشینی دور میں، جہاں سب کچھ مشینوں کے عمل سے گزر کر ہم تک پہنچ رہا ہے، وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو خالصیت کی تلاش میں ہیں اور اسے حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
ادب میں بھی کئی تجربے ہو چکے ہیں اور مزید ہوتے نظر آئیں گے۔ تاہم، دانشوروں کا ایک گروہ ایسا بھی ہوگا جو حالی کی سادگی، اصلیت، جوش، اور شبلی کے نظریہ ادب کی تلاش کرے گا۔ ہر عہد میں یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا، کیونکہ **کل شيء يعود إلى أصله**۔ مگر آج کی برق رفتار زندگی میں تخلیق کاروں نے فکری ابعاد کی ترسیل میں فنی سروکار سے بیزاری کو ایک فیشن کے طور پر اپنا لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ادبی فرد ہمیشہ فکری طبقے کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنے افکار سے معاشرے میں کسی نہ کسی سطح پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ شروع میں وہ ادب کے تابع رہتا ہے، لیکن جب اس کا وجود ادب میں استادی کے مقام پر فائز ہوجاتا ہے (یا اس پر منکشف ہوتا ہے کہ وہ اب ادب کا استاد بن گیا ہے)، تو وہ نئے تجربوں سے ادب کی فطرت میں تبدیلی لانے لگتا ہے۔ ان میں سے کچھ تجربات اس زبان سے منسلک معاشرے کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں، جبکہ کچھ کو اس کے خاص لسانی معاشرے میں کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس زبان میں ہونے کی وجہ سے وہ زبان ایک قسم کی مجروحیت کا شکار ہو جاتی ہے، اور ادب کے ساتھ زبان میں بھی بے اثری پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ ہوتا ہے کیسے؟ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ادب میں اصل جمال، حق، اور خیر ہوتا ہے۔ ادب انہی مقاصد کے لیے رقم ہوتا ہے۔ صرف جمال کے لیے ہی ہمیں علمِ زبان سے نحو، لغت، انشا، معانی و بیان، اور عروض کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہر ایک کو سمجھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زبان نحوی اعتبار سے درست ہو، لغت سے اس قسم کی زبان، ترکیب، اور محاوروں کا استعمال معلوم ہو،اس میں انشا کی کیفیت پائی جاتی ہو، ایسی سادگی نہ ہو کہ جمال کی عینک سے دیکھنے کے باوجود جمال نظر نہ آئے، معانی و بیان میں فصاحت و بلاغت کی کوشش ہو۔ یہ سب نظم و نثر دونوں کے لیے برابر ہے، اور شعر کے لیے عروض داخلی شرط ہے۔(جدید ادب میں اضافی ہوگیا ہے) مذاق کے طور پر ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں یہ سارے عناصر نہ  پائے جاتے ہوں در اصل وہی جدید ادب ہے۔ لیکن وہ کسی ادیب کا جدید ادب نہیں ہو سکتا۔
یہ تو ظاہری صورتحال کی بات تھی۔ اب داخلی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ادب ہمیشہ حق، خیر، اور جمال کے لیے لکھا جاتا رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ داخلی طور پر جدید ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ یقیناً آپ میری ان باتوں پر اندر ہی اندر قہقہے لگا رہے ہوں گے اور باہر سے مسکرا رہے ہوں گے، لیکن جب اسے ڈی کوڈ کرنے کو کہا جائے گا تو آپ کہیں گے کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ جب ہم جدیدیت سے لے کر جدید ادب تک کا تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ زبان و بیان اور پیش کش کی سطح پر اردو ادب کے مزاج و منہاج پر پورا نہیں اتر رہا۔
پھر بھی آج کے زمانے میں دیگر زبانوں کے مقابلے میں ہم اچھا ادب تخلیق کر رہے ہیں، اور بہترین نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ یہی سوال لے کر میں اپنے اساتذہ کے پاس گیا اور جدید ادب کے حوالے سے بنیادی باتوں پر کلام کیا۔ میں ضد کرتا رہا کہ آپ جس عہد میں لکھ رہے ہیں، وہ ہر اعتبار سے بہترین دور ہے، جہاں تخلیق و تنقید کا ایک چھتنار درخت اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ وہ مسکراتے ہیں اور ماضی میں چلے جاتےہیں۔ میں یاد دلاتا ہوںکہ ابھی کا دور ہی سب سے اہم ہے، کیونکہ ہم ماضی کی تمام تحریکوں اور تجربوں سے آزاد ہو کر ہر قسم کا آزاد ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ وہ پھر مسکراتے اور ماضی میں چلے جاتے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ وہیں لوٹ رہے ہیں جہاں اب تک اصول کارفرما ہیں، جہاں تعریفات میں جامعیت اور مانعیت کی باتیں کی جاتی تھیں، جہاں متن پر کلام کر کے فکر کی عمدہ پیشکش پر گفتگو ہوتی تھی، جہاں تنقید نے ترجمہ کے ماتحت ایک تعقیدی زبان کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ گویا وہ بار بار اپنی اصل کی جانب لوٹ رہے تھے، اور یہی ہر چیز کی فطرت ہے کہ کل شيء يعود إلى أصله۔
اتنی گفتگو کے باوجود بات ابھی تک ادھوری ہے اور تشنگی برقرار ہے۔ کیونکہ بہرحال جدید ادب کی صورتحال قدیم ادب سے بہت مختلف ہے۔ ہم سب کے علم میں ہے کہ شاعری میں جدید غزل و نظم کی شروعات حالی اور محمد حسین آزاد کے عہد سے ہوئی تھی۔ جہاں موضوعات باطن سے نکل کر ظاہر تک پہنچے، سیرِ باطن سے سیرِ دنیا، انفرادیت سے اجتماعیت کا سفر طے کیا۔ یہ سلسلہ ترقی پسند تحریک تک بخوبی جاری رہا، بلکہ عہدِ آزادی کو بھی شامل کر لیں، جس میں اردو شاعری قدیم مضامین کو ترک کر کے ملکی مسائل کو اپنا چکی تھی۔ کئی شعرا نے اردو شاعری کو نئے سانچے میں ڈھالا۔ لیکن جیسے ہی جدیدیت کا دور شروع ہوا، ہر فرد کو یہ محسوس ہونے لگا کہ شاعری نے اپنا مزاج و منہاج دونوں بدل دیا ہے۔ اردو زبان، جو محفل کی زبان تھی اور شاعری جو سماجی و سیاسی انقلاب کی زبان تھی، اب گھٹن، درد و کراہ، ناآسودگی، اور پژمردگی کا شکار ہوچکی ہے۔ جس  ادبی زبان میں حسین دوشیزہ کی سی چہک تھی، وہ بیوگی کی لاچاری میں بدل گئی ہے۔ جس کے قاری فطری طور پر اردو ادب کو اپنی ادبی تسکین کا ذریعہ بناتے تھے، وہ ایک طرح کی کشمکش کی کیفیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ صرف اکیڈمک افراد اور ان سے منسلک کچھ لوگ ہی اس نئی روش پر ثابت قدم رہے، ورنہ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ عوامی سطح پر حق، جمال، اور خیر کی بنیاد پر کوئی ادب اس عہد میں مقبول نہ ہو سکا۔ (گو میرے اشعار خواص پسند ہیں، پر گفتگو مجھے عوام سے ہے۔) ہاں، مشاعروں کا ایک کلچر تھا، جو عوامی طور پر مقبول رہا، جہاں حسن و دل کے ساتھ ملکی مسائل کو کھل کر موضوعات بنایا جاتا تھا اور عوام میں مقبول بھی تھا۔ ان میں سے اکثر اکیڈمک نہیں تھے۔
اب بھی ہم جدید ادب کے قریب نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کے لیے پھر ماضی کی جانب جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب دہلوی کے بعد لکھنوی کا ذکر ہونے لگا تو داخلیت اور خارجیت کی بات ہونے لگی۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے روح اور جسم کی بات ہو رہی ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گہرائی اور گیرائی ہمیشہ روحانی باتوں میں ہوتی ہے، نہ کہ جسمانی میں۔ یہاں عشقِ حقیقی اور مجازی کی بات ہونے لگی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مجازی سامنے کی چیز ہوتی ہے، جبکہ حقیقی کے لیے ہمیں آخری درجے تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اب ہم قریب آ رہے ہیں کہ کس طرح ہم روحانیت سے دور ہوتے گئے، اور ہماری شاعری آہستہ آہستہ داخل سے خارج تک آتے آتے اطراف و جوانب میں سفر کرنے کے بعد خود کی تنہائی کو ایکسپلور کرنے لگی۔ یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ہماری اردو شاعری فارسی مضامین کی رہینِ منت رہی ہے۔ اکثر غزلیہ مضامین ہم نے وہیں سے اٹھائے ہیں۔ اس لیے جیسے جیسے ہم مادیت کی جانب بڑھے، ہماری تخلیقات میں خارجیت در آئی۔ وہی چیزیں داخل ہونے لگیں جو ہمارے اطراف میں تھیں، جیسے: ’’تم سے بھی دلفریب ہیں غمِ روزگار کے‘‘۔
خارجیت کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اسی سے تو ہم سب مابعد الطبعیات سے طبعیات کی جانب مائل ہوئے۔ ہماری شاعری خاص و عام میں مقبول ہوئی۔ جو ادب خواص اور اعلیٰ ذہنی طبقے کے لیے تھا، اس میں سامنے کے مضامین شامل کر کے مقبولِ عام بنایا گیا، اور یہ سب یہاں کی روایتی شاعری میں پنپ سکا۔
اتنی طویل گفتگو کے بعد بھی ہم اسی بات پر اٹکے ہوئے ہیں کہ پھر جدید ادب کیا ہے؟ چلیے، دو لفظوں میں اسے ختم کرتے ہیں: اول، لکھنے والا جدید دور کا ہو؛ دوم، یہ جدید دور میں لکھا گیا ہو۔ جس میں اس جدید عہد کی عکاسی نظر آتی ہو، وہی جدید ادب ہے۔ اسی لیے قاضی جمال نے لکھا ہے کہ ’’معاصر غزل شعریت اور عصری حسیت کی فنکارانہ یکجائی سے عبارت ہے۔‘‘ اسی وجہ سے جدید ادب اپنے اندر ایک مخصوص مزاج اور رویہ رکھتا ہے۔ یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کسی روایتی مضمون اور خیال کی پیشکش میں عصری حسیت شامل ہو جائے۔ الفاظ وہی روایتی گل و بلبل، میخانہ و ساقی جیسے ہوں، لیکن اس میں عصری معنویت کی جہت نظر آئے، یہی معاصر غزل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب بالکل نئے الفاظ آتے ہیں، وہ داخلی و خارجی دونوں اعتبار سے معاصر کہلاتے ہیں۔ لیکن کمال اسی وقت ہے جب روایت کی پاسداری کرتے ہوئے عصری حسیت کی عکاسی کی جائے، جیسے امیر حمزہ ثاقب کے یہ دو شعر:
تمھارا رنگ نہ آنا تھا سو نہیں آیا 
دھنک سجاتے رہے لاکھ استعاروں کی
ہوس کی دید میں لذت اور اس قدر لذت 
نمازِ عشق قضا ہو گئی ہزاروں کی
یہاں ہمیں روایت کی پاسداری اور تازہ کاری اس خوبصورتی سے نظر آتی ہے کہ اسے کہیں سے منظم کر کے پیش کیا جا سکتا ہے۔
آج جب ہم جدید ادب کو غزل کے باب میں دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ جو غزل ہمارے سامنے آ رہی ہے، اس میں ماضی کی ہنرمندی، حال کی متزلزل صورت، اور مستقبل کے انسلجھے حالات بھی ہیں۔ اس لیے آج کی غزل میں ایک طرف جہاں اسلوبیاتی و موضوعاتی اعتبار سے ماضی کی چند مسلمہ روایات سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں، وہیں نئے تخلیقی رویوں کی تشکیل بھی جاری ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، ہر نئے عہد میں لفظی و معنوی تغیر و تبدل نظر آتا ہے۔ عامر امیر کا ایک مشہور شعر ہے:
عشق میں نے لکھ دیا قومیت کے خانے میں 
اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں
قومیت و شہریت بہت قریب کے الفاظ ہیں، اور مضمون بالکل سادہ ہے۔ اس جیسے بہت سے اشعار آپ کو ملیں گے جو پہلے مرحلے میں بہت اچھے لگیں گے، لیکن جب آپ تہہ داری تلاش کریں گے تو وہ نہیں ملے گی۔ یہی نہیں، بلکہ جب آپ آج کی غزل کا ماقبل جدیدیت کی غزل سے تقابل کریں گے تو آپ کو بہت کچھ محسوس ہوگا۔ اس میں ایک قسم کی تاثیر اور بھاؤ کا فقدان ہے، جسے آپ تغزل کہہ سکتے ہیں۔ (جدیدیت کے عہد کو میں اپنی سمجھ کے مطابق نوٹ بندی اور کورونا کی پیریڈ کی طرح سمجھتا ہوں، جہاں اردو ادب کئی دہائیوں تک ایک چنگل میں پھنسا رہا۔ اسے اتنا ہی جاری رکھا گیا جتنا نچوڑا جاتا تھا، اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔ جس طرح کورونا میں دنیا ٹھہر سی گئی تھی، حرکت و عمل کی اجازت صرف مخصوص کو تھی، وہی صورتحال اس عہد میں اردو زبان کی تھی۔ اس زمانے کے موضوعات اور اسلوب دونوں سے ہماری زبان کو بہت نقصان پہنچا۔ آج تک ہم ان حالات کے اثر سے نکل نہیں پائے ہیں۔ جس طرح کسی بڑی ٹریجڈی کے اثرات کئی نسلوں تک رہتے ہیں، اسی طرح جدیدیت کی زبان کے اثرات آج تک ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں کہ ہم کسی بھی تخلیقی صنف میں سلاست و فصاحت کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، اور اس پر بات کرنا گویا چغلی کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔)
خیر، بات چل رہی تھی جدید غزل کے رنگ ڈھنگ کی۔ بقول پروفیسر قدوس جاوید: **’’اکیسویں صدی کے نئے اور نوآموز شعرا کی غزل میں غمِ ذات کے بجائے غمِ جہاں کا غلبہ ہے۔ یہ کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے، لیکن نئے شاعروں کے لب و لہجے میں جو غم و غصہ، مایوسی، بے یقینی، بیزاری، احتجاج، اور بعض اوقات شدت پسندی ملتی ہے، وہ غلط نہیں۔ پھر بھی سامنے کے سچے بیانوں سے گزرتے ہوئے بسا اوقات ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے جذبے اور وژن میں خلوص اور صداقت تو ہے، لیکن ان نئے شاعروں کی غزل میں کہیں کچھ کمی ہے۔ اس ’کچھ‘ کو آپ غزلیت، تغزل، یا شعریت بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘
اس سے سمجھ میں آ گیا کہ ہمارے پیش رو جدید شعرا غزل میں کس رنگ ڈھنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک قسم کا روکھا پن ہے جو ہمارے ہاں نظر آ رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ ماقبل میں جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ ایک عرصہ سے ہماری زبان میں نئی قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ ہمیشہ سامنے کی چیزیں دیکھی جاتی ہیں، جن کا جلوہ نظر آتا ہے، سب اسی کی اتباع کرتے ہیں، خواہ وہ رجحان ہو یا ٹرینڈ۔ یہی حال حالیہ شعری ادب کا بھی ہے۔ جہاں آ س پاس کے رنگوں پر شعرا لپکتے نظر آنے لگے۔ جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں جدید رنگ تو ہے، لیکن ان کا اپنا رنگ غائب ہے۔ چلیے، وقتِ حاضر میں کوئی ایک منفرد آواز بتائیے۔ مشکل ہوگا، کیونکہ یہ عہد ہمارے شعری مزاج کی ہم آہنگی کے بغیر ادب میں پیراکی سے عبارت ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے شاعری میں دنیاداری میں لگے ہوئے ہیں، لیکن نہ تراکیب اخذ کر رہے ہیں اور نہ ہی شعر میں زبان کی چاشنی لا پارہے ہیں۔ بلکہ اچانک ہمارے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو سادگی کے ساتھ سادہ لفظوں میں، شعری روایت کو اپنائے بغیر، سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اس لیے آپ یک رنگی کے شکار ہیں۔ یہاں بطور ثبوت اشعار نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ عہد بہ عہد شاعری کا مطالعہ کریں گے تو واضح ہو جائے گا کہ منفرد لہجہ اب کہاں رہا۔ شاعری میں وہی باقی رہتا ہے جن کا لہجہ منفرد ہوتا ہے۔ موضوعات تو بہتوں کے ہاں مل جائیں گے ، لیکن اسلوب کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ آپ اسے بہت آسانی سے اپنی نصابی کتب میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں شعرا قدم جمائے بیٹھے ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ انہوں نے اپنا الگ رنگ اختیار کیا تھا، نہ کہ اردو کے رنگ کو ہی اپنی شاعری سے اتار پھینکا تھا۔
تاہم، پھر بھی اکیسویں صدی کی غزل کی بات کریں توہم پائیں گے کہ اس میں غیر مانوسیت تو ہے مگر کسی نہ کسی سطح پر روایات سے رشتہ بھی بر قرارہے ۔
تم بھی ذرا سی بات کو گھر لے کے آ گئے 
فٹ پاتھ پر جو مر گیا سو انسان ہی تو تھا   شکیل اعظمی
معاصر غزل کی زبان عوامی زبان سے تعلق رکھتی ہے۔ فارسی و عربی تراکیب سے گریز کرتی ہے، لیکن ہندی، سنسکرت، اور انگریزی الفاظ پر زور نظر آتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمیں نظموں اور غزلوں میں مل جاتی ہیں۔ معاصر غزل میں بہت زیادہ برجستگی پائی جاتی ہے، لیکن وضاحت کی جگہ اشاریت اور اساطیریت سے بھی کام لیا جاتا ہے۔
بستی مری جلا کے اجالا کیا گیا 
پھر اس کے بعد سیر و تماشا کیا گیا راشد طراز 
غزل نے کئی تجربے کیے اور آزاد غزل تک کا سفر بھی کیا، لیکن وہ باضابطہ غزل کا حصہ نہیں بن سکی۔ نئے نئے قافیے ایجاد کرنے اور برتنے کا رجحان بھی بڑھا۔ اکیسویں صدی کے اکثر غزل گو شعرا کے ہاں داخل سے خارج کی جانب سفر کرنے کا رویہ ملتا ہے ( یہ جملہ ایک طرح سے اصطلاح اور ٹرم کا درجہ لے لیا ہے ۔ اس کو یو ں بھی کہا جا سکتا ہے کہ غم ذا ت سے غم جہاں کا سفر ملتا ہے ) 
صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں 
شام جو ڈھلتی ہے، بازار سے لگ جاتے ہیں عزیز پریہار
سازشی ذہن نے پانی کو بھی روکا لیکن 
اس طرف ٹوٹ کے دھارے بھی چلے آئے ہیں رونق شہری
مختلف اور متضاد لسانی، ادبی، تہذیبی، اور سیاسی انسلاکات کی وجہ سے رنگارنگی ملتی ہے۔ معاصر غزل کسی نظریے، ازم، رجحان، یا فلسفے کی پابند نہیں، بلکہ فکری تکثیریت ہی اس کی پہچان ہے۔ عصری غزل میں ہجرت، نقل مکانی، اور غریب الوطنی کے نفسیاتی اور اخلاقی مسائل پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔
لوٹ کر واپس چلے جانے کی بھی خواہش نہیں 
پاؤں سے لپٹی ہوئی مجبوریاں ہیں اور ہم اشفاق احمد
2014 کے بعد حالات بدلے ہیں، اور غزل کے موضوعات بھی بدلے ہیں۔
جہاں تک فکشن کی بات ہے تو آپ کو احساس ہوگا کہ تین قسم کے فکشن لکھے جا رہے تھے: داستانوں میں فنتاسی، ماضی، اور حال کی عکاسی یکسا ں طور پر نظر آتی ہے۔ یہی حال افسانے اور ناول کا ہے ۔ کچھ تخلیق کار انہماک سے تاریخی ناول لکھ رہے تھے، اور چند اپنے عہد کی پریشانیاں رقم کر رہے تھے، جبکہ اس عہد میں بھی تہذیب و ثقافت پر تخلیقات سامنے آ رہی تھیں۔ یہی حالت اب بھی ہے۔ اب بھی ماضی اور حال پر فکشن لکھا جا رہا ہے، لیکن اس درمیان ایک تخلیق کار ایسا بھی تھا جو مستقبل کو خو د اعتمادی سے پیش کررہا تھا ۔ وہ تھے مشرف عالم ذوقی۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں مستقبل کو اس کی پوری ہولناکی کے ساتھ پیش کیا اور آنے والی زندگی کی تصویریں دکھائیں ۔
وقتِ حاضر میں ایک خاموش پروپیگنڈا بھی چل رہا ہے۔ ایسے میں فکشن کو بہت باریکی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مذہب کے خلاف یا مذہبی شعار کے خلاف لکھنا آ ج ایک طرح کی روشن خیالی بن گئی ہے ۔ ساتھ ہی نسبی برتری کا بھی فخریہ اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ ہے مایوسی اور حرماں نصیبی۔ ماضی کے ادب میں موت کی طرف متصوفانہ رغبت تھی، لیکن حال میں موت کی طرف منفی سفر کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بلکہ اب زندگی کی جمالیات کا عکس پیش کرنے کے بجائے زندگی کو ہی مکروہ بنا کر پیش کرنےکا رواج عام ہورہا ہے اور خودکشی کو مسائل کے حل کے آخری حربے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ ادب میں درست رجحان نہیں ہوسکتا ۔
ماضی میں بہت سارے فلسفے ادب میں داخل ہوئے ہیں وہاں جب ہم ان فلسفوں پر عدم کے حوالے سے غور کریں گے تو ہمیں ایک طرح سے طمانیت کا احساس ہوتا ہے ۔
اگرچہ غزل کو ’’نیم وحشی صنفِ سخن‘‘ کہا گیا ہے، لیکن مستنصر حسین تارڑ نے ناول کو مکمل وحشی صنف قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’آرٹ آف ناول‘‘ میں لکھا ہے: ’’یہ ناول ہے جو ایک اٹھری گھوڑی کے مانند آپ کے قابو میں نہیں آتا۔ ناول میرے نزدیک کسی نصابی تعریف میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ناول کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ واقعی، ناول کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے واقعات و خیالات کو تسلسل کے ساتھ مرتب کر دیں، وہ ناول کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ پہلے ناول نگار پسِ پردہ رہتا تھا، لیکن اب ناول نگار سامنے ہوتا ہے۔ پلاٹ، کردار، اور دیگر چیزیں سب پسِ پشت چلی گئی ہیں، بس اب تحریریں باقی ہیں جو قاری کے دماغ میں اپنا تاثر قائم کرتی رہتی ہیں۔ یہاں پھر وہی سوال قائم ہوتا ہے کہ جب ناول کسی نصابی تعریف میں قابو میں نہیں آتا، تو قاری کے دماغ میں کس طرح قابو میں آئے گا؟ قاری اس میں واقعات و حادثات تلاش کرے گا یا مصنف کا فلسفہ؟ ہر قاری تجزیہ کار نہیں ہوتا، لیکن سب کے دماغ میں یہ چل رہا ہوتا ہے کہ وہ ناول جو آگے بڑھ رہا ہے، وہ کس وجہ سے ہے۔ کیا وہ کسی کردار میں اپنا عکس دیکھ رہا ہے، یا کوئی کردار اسے بہت پسند آ رہا ہے؟ یا اگر کردار ہی نہیں ہیں تو مصنف کی کس خو بی کی بنا پر اس کے ساتھ چل رہا ہے اور چلتا چلا جا رہا ہے ۔ کو ئی تو ہو جو اس کی تشخیص کرے اور اجتماعی تجزیے کے طو ر پر ایک نتیجہ اخذ کرکے کسی تعریف میں محدود کیا جائے ۔ وا ضح رہے کہ کسی بھی چیز کے لیے جامعیت اور مانعیت لازمی شے ہے ورنہ پھر اس شے کا تشخص قائم نہیں رہ پاتا ہے ۔


رسم الخط کی اہمیت

 خالق کا ئنات نے انسان اور حیوان میں جو بنیا دی فرق رکھا ہے وہ نطق کا ہے، خدا نے انسان کو نطق کی صلاحیت سے نوازا نیز اسے اشیا کے علم سے بھی نوازا۔ یہیںسے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ علم کے حصول کا تعلق بھی اشرف المخلوقات سے رکھا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ حیوان علم کے حصول پر دسترس رکھتے ہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم البتہ اتنا تو علم ہے کہ علم کی بنیادی کیفیت شراکت کی ہے تو کیا وہ اس کی ترسیل کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ جواب کیا ہوگا اس سےمتعلق بھی میں یہاں حتمی طور پرکچھ نہیں کہہ سکتا ، البتہ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ خدا نے انسان کو جتنا بھی نوازا ہےاسے بہتر انداز میں یوٹیلائز کرنا بھی سکھایا ہے، اس لیے نطق کی صلاحیت کے ساتھ ترسیل لسانی و مکتوبی سے بھی نوازا ہے۔ جسے ہم جسم اور روح سے تعبیر کرتے ہیں یعنی رسم الخط کا زبان سے وہی رشتہ ہوتا ہے جو روح کا جسم سے ہوتا ہے۔ جب دنیا کی زبانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں برسوں سے کوئی نہ کوئی زبان بولی ہی جارہی ہے، لیکن آج بھی تاریخ میں وہی زبان زندہ ہے جسے رسم الخط نصیب ہوا اگر چہ اس تحریر کے پڑھنے والے اب دنیا سے ناپید ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی ان مجہول اشکال کے معروف معانی کی تلاش میں اصحاب لسانیات بر سر فکر ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں دنیامیں مل جاتی ہیں۔ مصر جسے اُم الثقافہ کہا جاتا ہے، جس کی زبان اور تہذیب و ثقافت کی تاریخ بہت ہی زیادہ قدیم ہے، اس سرزمین میں کتنے آسمانی صحیفے اترے اس کی کوئی تعداد متعین نہیں ہے بلکہ قدیم کتب سماویہ بھی اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہیں ہیں تو دنیا بھی اس زبان کو بھلا چکی ہے اور اب وہاں کی اپنی زبان صرف عربی ہی ہے۔ کیونکہ دنیا ابھی بھی اس زبان کو یا درکھی ہوئی ہے جو کہیں بھی مکتوبی شکل میں موجود ہے۔

زبانوں کی بھی عجیب تاریخ ہے کب کس زبان کی بالا دستی قائم ہو جائے اور کب کون پردۂ خفا میں چلاجائے کوئی نہیں جانتا۔ مغرب و مشرق کی زبانوں کی بات کی جائے تو مغرب میں آپ کو تنوع کی وہ کیفیت نظر نہیں آئے گی جو مشرق میں خطہ بہ خطہ دیکھنے کو ملے گی۔ عرب دنیا جہاں قدیم زبانوں کی ایک بھر پور تاریخ ملتی ہے وہاں اب صرف ایک زبان رائج ہے اگر چہ ہر ملک کا اسلوب الگ الگ ہے، لیکن زبان ایک ہی بولی جاتی ہے۔ مشرق میں برصغیر اس معاملہ میں سب سے منفرد ہے ۔
آج دنیا اتنی گلوبلائز ہوگئی ہے کہ مضبوط زبانوں نے گھڑیال بن کر کمزور زبانوں کونگلنا شروع کر دیا ہے، ایسے میں زبانوں کا تحفظ بہت ہی مشکل امر ہو گیا ہے۔ یہ اس وجہ سے دیکھنے کومل رہا ہے کہ نئی نسل کی تعلیمی شروعات اُس زبان سے ہو رہی ہے جو عالمی زبان ہے۔ زبانوں کے مٹتے ہوئے اس پر آشوب دور میں بھی ہندوستان میں آئینی طور پر بائیس ایسی زبانیں ہیں جنہیں سرکاری سطح پر یکساں مقام حاصل ہے لیکن پھر بھی زبان وہی باقی رہے گی جس کا اپنا رسم الخط ہوگا ، ہندوستان کے موجودہ منظر نامے کی بات کی جائے تو ابھی بھی کئی ایسی زبانیں ہیں جو اپنے رسم الخط میں لکھی جارہی ہیں جبکہ کچھ دیوناگری میں بھی لکھی جارہی ہیں لیکن چند ایسی زبانیں بھی ہیں جنہیں اپنے وجود کے ختم ہونے کا احساس ہوا تو انہوں نے قدم اٹھایا اور سہل پسندی کو چھوڑ کر اپنے لیے رسم الخط کو رائج دیا جن میں سنتھالی کی اولچکی اور منی پوری کی میتی مئی رسم الخط ہے، جو کچھ عرصہ پہلے تک بالترتیب دیوناگری اور بنگالی رسم الخط میں لکھی جارہی تھی۔ سنتھالی کو اڑیسہ میں اڑیا اور مغربی بنگال میں بنگالی میں بھی لکھا جا رہا ہے ۔ سنتھالی کے لیے باضابطہ کوئی رسم الخط نہیں تھا ، آج سے سو برس پہلے ہی اس زبان کے رسم الخط کا وجود عمل میں آتا ہے اور 2003 میں جب اسے شیڈیول 8 میں شمار کیا جاتا ہے تو اس میں اسکرپٹ کا بھی ذکر ہوتا ہے کہ یہ اونچکی میں لکھی جائے گی لیکن آج میں بائیس برس بعد بھی جھارکھنڈ اس پر متفق نہیں ہے، کیونکہ انہیں تو عادت دیوناگری کی پڑی ہوئی ہے اور بطور دلیل جھارکھنڈ کے دانشوران یہی کہتے ہیں کہ سنتھالی میں زبان میں جتنی صوتیات ہیں اس کی نمائندگی اولچکی میں زیادہ نہیں ہے اور دیوناگری رسم الخط سنتھالی زبان کو بہتر انداز میں پیش کرتا ہے۔ الغرض رسم الخط کی یہ لڑائی تین صوبوں کے عوام و خواص کے درمیان جاری ہے وہ بھی صرف دسترس کی وجہ سے کہ اگر نئے رسم الخط میں لکھا جانے لگا تو سنتھال پر گنہ اس معاملے میں پیچھے رہ جائے گا، منی پوری کی اولچکی کی بات کچھ الگ ہے، آج سے ہزار سال پہلے منی پوری او لچکی میں ہی لکھی جاتی تھی کہ اچانک خارجی حکمراں کا اس علاقہ میں قبضہ ہوتا ہے اور وہ وہاں کی زبان کو متاثر کرتا ہے ساتھ ہی وہاں کے رسم الخط کو بھی پس پشت ڈال دیتا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے وہاں کے باشندے اپنے اصلی رسم الخط کی جانب لوٹ رہے ہیں اور اب ساری درسی کتابیں اولچکی میں ہی شائع ہورہی ہیں۔
مندرجہ بالا تناظر میں اردو کی بات کی جائے تو یہ ایک ایسی زبان ہے جس نے بہت ہی تیزی کے ساتھ برصغیر میں قدم جمایا۔ بر صغیر سے باہر وسط ایشیا میں بھی اس کے قارئین اور ناطقین کی اچھی خاصی تعداد تھی لیکن سیاست کے کھیل میں یہ زبان ہندوستان میں سرکاری طور پر معتوب تصور کی جانے لگی اور اردو کے مقابلے ہندی کے فروغ نے اس کے پر کو کترنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ البتہ جہاں ہندی زبان نہیں بولی جاتی ہے وہاں اردو زبان آج بھی مضبوط حالت میں نظر آتی ہے کیونکہ وہاں اردو کے مقابلے اس کی ہم شکل ہندی نہیں بلکہ مراٹھی ، تیلگو اور کنٹر آتی ہے اس لیے وہاں اردو اچھی حالت میں ملتی ہے۔ الغرض تمام سازشوں کے باوجود اگر یہ زبان زندہ ہے تو صرف اپنے رسم الخط کی بدولت ورنہ عوام اردو بولتے ہیں اور سر کار ان سے کہتی ہے کہ آپ اردو نہیں بلکہ ہندی بولتے ہیں اور وہ یہی سمجھتے بھی ہیں۔ ہم میں سے اکثر کو سامنے والا فرد یہی سمجھتا ہے کہ ہم ہندی بول رہے ہیں جب کہ ہماری زبان اردو ہوتی ہے ، ہاں جب کوئی لفظ ان کی سمجھ میں نہیں آتا ہے تب انہیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اردو بول رہےہیں ، جب کہ وہ بالی ووڈ کے نغمات میں تھر کتے رہتے ہیں اور انہیں ہندی اس وجہ سے سمجھا جاتا ہے کہ انہیں ہندی کا نام دیا گیا اور اسی رسم الخط میں وہ مشہور بھی ہے ۔ آپ ان نغمات کو نستعلیق رسم الخط میں تلاش کریں گے تو بہت ہی کم نتیجہ برآمد ہوگا ۔
 اس جانب اشارہ کرنے کی وجہ یہ بھی آن پڑی کہ گزشتہ چند برسوں میں اردو زبان کو نستعلیق سے زیا دہ رومن اور دیوناگری میں فروغ دیا جا رہا ہے نیز لکھنے کی وکالت بھی کی جارہی ہے۔ اس سے اردو زبان کا وہی حال ہوگا جو ہمارے یہاں  سندھی کے ساتھ ہوا۔ سندھی جس کا عربک رسم الخط عالمی رسم الخط مانا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں سہل پسندی کی وجہ سے سندھی دیوناگری میں لکھی جارہی ہے اور نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ اس زبان کے قاری اور کاتب اب مٹھی بھر رہ گئے ہیں۔ آج سے پچاس برس بعد کہیں وہی حال اردو کے ساتھ نہ ہو جائے کیونکہ سندھی کو مثال میں رکھیں تو آزادی کے بعد پہلی نسل وہ تھی جوعربی رسم الخط میں سندھی لکھتی تھی ، دوسری نسل وہ ہوئی جس نے سندھی کو دیوناگری میں منتقل کیا اور اب تیسری نسل میں مٹھی بھر ہی رہ گئے ہیں جو سندھی جانتے ہیں ۔ یہی حال ہمارا ہوگا کہ آج ہم اردو لکھ پڑھ رہے ہیں، ہماری آنے والی نسل سہل پسندی کی وجہ سے اس کو دیوناگری میں لکھے اور پڑھے گی اور بعد کی نسل وہ ہوگی جو یہ جانےگی بھی نہیں کہ اردو کوئی زبان بھی تھی۔ ایسے میں دوسری زبانیں جن کا دائرہ اردو کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے وہ اپنے رسم الخط کو لے کر بہت زیادہ متفکر ہیں اور زبان کے تحفظ کے لیے الگ رسم الخط کی تخلیق میں لگی ہوئی ہیں ،وہیں اردو کے ساتھ مختلف رویہ اپنا کر تقلیب رسم الخط کی وکالت کر کے وہ زبان کے خیر خواہ نہیں بن رہے ہیں بلکہ وہ ایک ایسے آلہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جسے تاریخ میں تہذیب و ثقافت کے ویلن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کو بہت ہی بہتر انداز میں سمجھنا ہے تو منی پوری کی ہزار سالہ تاریخ کو پڑھ سکتے ہیں کہ کیسے مذہبی بالا دستی کے لیے رسم الخط کو تبدیل کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے لیکن زبان ہی سے تہذیب و ثقافت اور مذہبی اصطلاحات میں نمایاں تبدیلی کی جاتی ہے۔
امیر حمزہ

Sunday, 12 July 2026

مرکب الفاظ اور املا

 

مرکب الفاظ اور املا


موجودہ دور میں اردو املا میں ایک نئی بلا یہ آن پڑی ہے کہ لفظوں کو توڑ کر لکھا جا رہا ہے۔ یہ بلا اگرچہ اب عام ہوئی ہے، لیکن بطورِ سفارش گزشتہ پچاس برسوں سے اردو اداروں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ سفارش نے غلط رخ اختیار کرکے اب وبا کی شکل کیوں اختیار کرلی ہے، اس بارے میں شاید اسلاف نے بھی نہ سوچا ہوگا۔ مشورہ اسی وقت تک کارگر رہتا ہے جب اس کے لیے کوئی جامع اور مانع قاعدہ بھی وضع کیا جائے، لیکن افسوس کہ املا کے جو بھی قواعد بنائے گئے، ان پر کبھی پوری طرح عمل نہ ہوسکا۔ پہلے ہم نے مرکب الفاظ کو توڑ کر لکھنے کا قاعدہ بنایا اور اس کے تحت ابتدا میں چند مرکب الفاظ کو مفرد صورت میں لکھا گیا۔ بعد میں متبعین اس میں مسلسل اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اب مفرد الفاظ بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔

مرکب الفاظ کو مفرد بنا کر لکھنے کا قاعدہ ہی سرے سے غلط ہے، کیونکہ مرکب شے وحدت کا درجہ اختیار کرلیتی ہے اور اپنے وجود میں ایک مکمل اکائی ہوتی ہے۔ لسانی اعتبار سے بھی یہ بات درست نہیں کہ اگر مرکبات سے کوئی نئی شناخت قائم ہوتی ہے تو اسے قائم نہ ہونے دیا جائے۔ ایک عام سی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ ’جانور‘ ایک مرکب لفظ ہے جو ’جان‘ اور ’ور‘ سے مل کر بنا ہے۔ ’ور‘ یہاں لاحقہ ہے، اور یہ ایک عمومی قاعدہ ہے کہ لاحقہ اور سابقہ دونوں متصل ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے دانشوروں نے اس قاعدے کو بھی توڑ دیا اور اب وہ خود کے لیے بھی ’دانش ور‘ لکھنے لگے ہیں۔ میری ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جب آپ ’دانش ور‘ لکھ سکتے ہیں تو پھر ’جان ور‘ بھی لکھیے، آخر اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ شاید نہیں!

اس معاملے میں پانی سر سے اس وقت گزرتا محسوس ہوا جب گزشتہ دنوں مجھے ’کیجیے‘ اور ’پینے‘ جیسے الفاظ بھی ’کی جئے‘ اور ’پی نے‘ لکھے ہوئے نظر آئے۔ یہ مثالیں اگرچہ شاذ و نادر ہیں، لیکن پہلے ایسا بھی نہیں تھا۔ جس طرح ’جانور‘ ایک مکمل اکائی ہے، اسی طرح ’دانشور‘ بھی مکمل اکائی ہے۔ اگر ایسی مثالیں مزید پیش کرنے لگوں تو یقیناً بہت سے لوگ شرمندگی محسوس کریں گے۔

اصل مسئلہ مرکب الفاظ کو توڑ کر لکھنے کا ہے۔ یہ کس حد تک جائز ہوسکتا ہے، اس پر ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا، کیونکہ ہم اپنی بات منوانے میں لگے ہوئے تھے۔ دراصل یہ ایک نفسیاتی عمل تھا جو ہمارے املا کے دانشوروں میں کام کر رہا تھا، اسی لیے انہوں نے بغیر کسی عملی تجربے کے اسے پوری قوت سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ صدی میں اس پر بہت کم عمل ہوا، بلکہ یوں کہیے کہ ان سفارشات کو عملاً رد کردیا گیا۔ تاہم ایک عجیب صورت یہ پیدا ہوئی کہ جن سفارشات کو رد کیا جا رہا تھا، انہی پر مبنی کتابیں بڑے اہتمام سے شائع بھی کی جا رہی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب املا میں بڑی تبدیلیاں نمایاں ہونے لگی ہیں۔

اگر کسی کا نام ’خوشبو‘، ’خوشنما‘ یا ’دلکش‘ ہو تو وہاں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، لیکن جیسے ہی یہی الفاظ بطورِ صفت استعمال ہوتے ہیں تو انہیں ’خوش بو‘، ’خوش نما‘ اور ’دل کش‘ لکھا جانے لگتا ہے، حالاں کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک ہی لفظ اسم بھی ہوسکتا ہے اور صفت بھی، لیکن دونوں صورتوں میں الگ الگ املا مناسب نہیں۔ بعض اوقات یہ طرزِ تحریر مضحکہ خیز حد تک معنی خیز بھی ہوجاتا ہے۔ مثلاً میری نظر ایک کتاب پر پڑی جس کا عنوان کچھ یوں تھا: ’’صاحبِ ذی شان: حیاتِ ذیشان‘‘۔ یہاں ’ذی شان‘ کو الگ لکھنے کا مقصد شاید تکرار سے بچنا تھا، لیکن یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بعض مخصوص مواقع پر معانی میں فرق پیدا کرنے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر ہر جگہ یہی طرز اختیار کرلی جائے تو قاری معروف معانی سے دور ہونے لگے گا۔

مثلاً آج کل ’پس ماندہ‘ کئی جگہ لکھا ہوا نظر آیا تو میرے ذہن میں فوراً اس کا لغوی معنی آیا، لیکن سیاق و سباق نے اسے قبول نہ کیا، کیونکہ وہاں مراد ’مسلم پسماندہ‘ یا ’پسماندگان‘ تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ لغوی معنی بھی لفظ کی ظاہری صورت ہی سے اخذ ہوتے ہیں، لہٰذا جیسا آپ لکھیں گے، معنی بھی ویسے ہی سامنے آئیں گے۔ اس نوعیت کے کئی الفاظ ہماری مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک اور لفظ ’شرمسار‘ دیکھیے، اسے بھی ’شرم سار‘ لکھا جا رہا ہے۔ اگر آپ اس حد تک جاسکتے ہیں تو پھر ’رخسار‘ کو بھی ’رخ سار‘ لکھیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بنیاد ہی غلط ہے۔

یہ طرزِ عمل آپ کسی دوسری زبان کے املا میں اختیار نہیں کرتے۔ کیا کبھی انگریزی میں Playground کو الگ کرکے Play ground لکھا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ وہاں آپ کی دانشوری محدود ہوجاتی ہے۔ اچھا، انگریزی کو چھوڑیے، اردو کی بہن ہندی ہی کی مثال لے لیجیے۔ وہاں بھی مرکب الفاظ کو توڑنے کا رجحان نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات مرکب بننے کی صورت میں حروف کی شکلیں تک بدل جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں الگ الگ لکھنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔ ہندی جیسی مثالیں تو اردو میں کم ہی ملتی ہیں۔ اردو میں مرکب بننے کے باوجود عموماً کسی حرف کا سقوط نہیں ہوتا، اگرچہ شاذ مواقع پر ایسا نظر آتا ہے، جیسے عظیم آباد، جلوہ آباد، حیدرآباد اور سکندرآباد میں ’آباد‘ اپنی اصل صورت میں موجود ہے، لیکن ’دریاباد‘ میں ’آ‘ ساقط ہوگیا ہے۔ اسی طرح اردو میں ادغام کی کوئی باقاعدہ صورت نہیں، اسی لیے ’بدتر‘ اردو میں مکمل لکھا جاتا ہے، جب کہ بعض فارسی کتب میں دال ساقط کرکے ’بتر‘ لکھا گیا ہے۔

خیر، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مرکب الفاظ کو کس حد تک مفرد بنا کر لکھا جائے۔ اردو میں بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو مرکب ہیں۔ اگر ان سب کو ایک ہی قاعدے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی تو پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا، جیسا کہ گزشتہ مثالوں سے واضح ہے۔ ویسے بھی جب مفرد ہی لکھنا ہے تو پھر انہیں مرکب الفاظ کیوں کہا جائے؟

لہٰذا ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ جو املا رائج اور مقبول ہوچکا ہے، اس پر مزید تجربات نہ کیے جائیں، ورنہ سابقے اور لاحقے دونوں انتشار کا شکار ہوجائیں گے اور ’کتابچہ‘، ’کتاب چہ‘ بن جائے گا، جب کہ ’بقید‘ اور ’بفرض‘ جیسے الفاظ ’بہ قید‘ اور ’بہ فرض‘ کی شکل اختیار کرلیں گے۔

ویسے ’ب‘ کا قاعدہ بھی بڑا عجیب ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی فارسی قواعد سے متعلق ایک کتاب میں مذکور ہے کہ ’ب‘ بطورِ حرفِ جر ہمیشہ زبر قبول کرتا ہے، اور جہاں اس کی گنجائش نہ ہو وہاں حرکت کو ہائے خفی سے بدل دیا جاتا ہے، کیونکہ ہائے خفی اکثر حرکت ہی کے قائم مقام ہوتی ہے۔ لیکن آج کل بعض لوگوں نے یہ کلیہ بنا لیا ہے کہ ’بہ‘ کو ہمیشہ الگ لکھا جائے، اسی لیے ’بوقت‘ کے بجائے ’بہ وقت‘ لکھتے ہیں، مگر وہیں ’بجائے‘ کو ’بہ جائے‘ نہیں لکھ سکتے۔ یہی دوہرا رویہ اصل مسئلہ ہے۔

اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اردو املا کے لیے جو قواعد وضع کیے گئے ہیں، وہ صرف ناقص ہی نہیں بلکہ بعض اوقات گمراہ کن بھی ہیں۔ املا کا معاملہ بھی زبان ہی کی طرح رواج پر قائم ہوتا ہے، اور جب کوئی رواج مقبولِ عام ہوجائے تو وہی مستند قرار پاتا ہے۔



(نائب مدیر)


Thursday, 9 April 2026

زبان ،ادب اور اسکرین

 

زبان ،ادب اور اسکرین


انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ہر فرد اور ہر معاشرہ اپنی وسعت اور مزاج کے مطابق مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں جب علوم و فنون کا باقاعدہ تبادلہ نہیں ہوتا تھا، تب بھی ہر قبیلہ اپنی سطح پر جمالیاتی حس کو اپناتے ہوئے فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر فنون تحریری یا تقریری صورت میں تھے تو آج وہ کلاسیکی متون کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کا تعلق موسیقی یا مصوری سے تھا تو وہ آج بنیاد اور روایت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی درجے میں فنون سے دلچسپی کا عنصر موجود رہتا ہے اور ہر دور میں جو فن زیادہ مقبول ہوا، وہی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا۔ یہاں فنونِ لطیفہ کی ایک جامع تعریف پیش کرنا مناسب ہوگا۔ تعریف میں قدرِ مشترک الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جا سکتا ہےکے ’’فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جو انسانی جذبات، ذوقِ حسن اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ فنون نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ ثقافت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔‘‘اس تعریف میں ’نہ صرف‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عمومی طور پر فنون تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کے اندر انسانی جذبات، معاشرت، اخلاق اور فلسفہ جیسے عناصر بھی شامل رہتے ہیں۔ کوئی فن جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور کوئی پیغام رسانی کا وسیلہ بنتا ہے، لیکن تفریح بہرحال سب کا بنیادی عنصر ہے۔

آج ادب نے بے حد ترقی کر لی ہے اور ادبی فلسفوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مگر اب بھی ادب کی شناخت عموماً دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک وہ ادب جو تسکین ذات اور تفریحِ طبع کا ذریعہ ہو، دوسرا وہ جو معاشرے کو اخلاقی اقدار کا پابند بنانے کا فریضہ انجام دے۔ اکثر صورتوں میں ذاتی تسکین کا پہلو غالب رہتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طویل بحث ہے، لیکن خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ادبی فن پارہ صالح قدروں کا حامل ہو، لوازمِ فن کو پورا کرتا ہو اور قاری کو جمالیاتی حظ اور مسرت بھی عطا کرے۔

یہ تو ادب کی داخلی بحث ہوئی، لیکن اب ہم ذرائع کی بات کرنا چاہیں گے کہ ادب ہم تک کن زاویوں اور راستوں سے پہنچتا ہے۔ ہر دور میں ذرائع کی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ اگر ذرائع پر اختیار حاصل ہو جائے تو اثر و نفوذ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ابتدا میں ادب ہر ایک کی دسترس میں نہیں تھا۔ عوام زیادہ تر عوامی محفلوں کے ذریعے ہی ادب سے محظوظ ہو پاتے تھے۔ عرب معاشرے میں عوامی محفلوں کی روایت قدیم رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں ادبی محفلیں عموماً بادشاہوں، سلاطین اور امرا کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں۔ وہیں سے ادب کی ترسیل ہوتی اور وہی معیارِ ادب قرار پاتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں موجود ادبی ذخیرے کو ایک طویل عرصے تک سنجیدہ ادب کا درجہ نہیں دیا گیا۔چھاپہ خانے کی عدم موجودگی میں مخطوطات کی تیاری ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے علمی و ادبی سرمایہ زیادہ تر صاحبِ ثروت طبقے تک محدود رہتا تھا۔ جب چھاپہ خانوں کا رواج ہوا اور کتابیں عام ہوئیں، تب بھی وہ فوری طور پر عام گھروں تک نہ پہنچ سکیں۔ گویا جس طرح ادب سے زیادہ تر باوقار اور متمول طبقہ ہی لطف اندوز ہوتا تھا، اسی طرح اس تک رسائی بھی محدود تھی۔بیسویں صدی میں علمی تحریکوں نے کتابوں اور رسائل کو گھر گھر پہنچایا، جس سے عوام میں ادبی ذوق کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ادب کی عام رسائی ہی ادبی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ ادب کتابوں کی زینت بنا اور کتابیں ترسیل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس کے بعد ریڈیو کا دور آیا۔ ادب نے وہاں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، مگر ریڈیو بھی ابتدا میں ہر ایک کی پہنچ میں نہ تھا۔ کتابیں اپنے مخصوص دائرے میں قاری کو ایک تہذیبی فضا سے وابستہ رکھتی تھیں، جب کہ ریڈیو نے دلچسپی کا دائرہ وسیع کیا، تاہم اس میں ادب کا حصہ نسبتاً کم ہوتا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن اسکرین نے گھروں میں جگہ بنانا شروع کی۔ ابتدا میں یہ بھی کتابوں کی طرح صاحبِ حیثیت گھروں تک محدود تھا اور اس کے ساتھ مہذب و غیر مہذب کی بحث نے جنم لیا۔ خاص طور پر نوّے کی دہائی میں مسلم معاشرے میں ٹی وی کے خلاف خاصی تنقید کی گئی، مگر اس کے باوجود ٹیلی ویژن کا چلن عام ہوتا گیا اور لوگ تفریح کے نئے ذرائع سے وابستہ ہونے لگے۔ ریڈیو کی طرح یہاں بھی ادب موجود تھا، لیکن اس وقت تک ادب کی تعریف بدل چکی تھی۔ یہ تصور ابھرنے لگا کہ جو کچھ کتابوں اور رسائل کے اوراق میں ہو، وہی حقیقی اور مہذب ادب ہے؛ باقی مواد ادب تو ہو سکتا ہے، مگر اسے معیاری ادب نہیں سمجھا جاتا۔رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ریڈیو اور ٹی وی میں نہ صرف ادب کا حصہ کم ہوتا گیا بلکہ زبان کا معیار بھی متاثر ہوا، اور یوں یہ دونوں ذرائع اپنی سابقہ ادبی و تہذیبی کشش کھو بیٹھےاور ادب یہاں بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا ۔

بیسویں صدی کی اہم ایجادات میں موبائل فون نمایاں حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے مؤثر اور مہلک دونوںپہلو اکیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں پوری طرح سامنے آئے، جب ضروریات سے لے کر تفریح تک ہر چیز موبائل میں سمٹ گئی۔ بڑے، بوڑھے اور بچے سب کی دلچسپی اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی، اور یہ محض ضرورت نہیں بلکہ حد سے بڑھتی ہوئی لت کی صورت اختیار کر گئی۔

جب ہم سوشل میڈیا سے منسلک ہوئے تو ہماری توجہ بھی کاغذ کے بجائے اسکرین پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں دلچسپی کے معیارات بھی بدلنے لگے۔ سوشل میڈیا پر کون سی تحریر پڑھی جائے گی اور کون سی اسکرول کرکے آگے بڑھا دی جائے گی، اس کا فیصلہ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ محض عنوان میں نیا پن ہو تو تحریر پڑھی ہی جائے؛ یہ گمان درست نہیں۔ نہ ہی محض تصویری بنیاد (امیج بیسڈ) پر مبنی مواد لازماً توجہ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہی تحریر پڑھی جاتی ہے جو ایک نظر میں قاری کی گرفت میں آ جائے۔یہاں طویل تمہیدات کی گنجائش کم ہوتی ہے اور براہِ راست نفسِ مسئلہ پر گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عموماً مضامین میں ایک ہی موضوع کے متعدد پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کی اسکرین پر انہی میں سے کسی ایک نکتے کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح اخبارات میں مختصر مضامین پڑھے جاتے ہیں اور رسائل و کتب میں طویل تحریروں کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا مختصر اور جامع تحریروں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی دلچسپی کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بیشتر دلچسپیاں سمٹ کر موبائل تک محدود ہو گئی ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر توجہ ویڈیوز پر مرکوز ہے۔ یہ صرف ہمارے معاشرے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عمومی صورتِ حال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ہم کتابی ذوق کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے لیے محض فرد کو نہیں بلکہ پوری فضا کو بدلنا ہوگا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی مواد بڑی حد تک ویڈیوز کی صورت میں بچوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ کلاس کے نام پر زیادہ تر حصہ بصری مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ڈیجیٹل لرننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ سوچیں کہ اسکرین کی عادت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی تو یہ عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ بچے اور بڑے اب روایتی ٹیلی ویژن اسکرین سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کے دیوانے ہوتے تھے، مگر اب وہ اس سے ہٹ کر موبائل اور خاص طور پر مختصر ویڈیوز کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ’کنٹرول‘ معلوم ہوتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اسکرین پر اپنی مرضی اور اختیار چاہتے ہیں،کیا دیکھنا ہے، کب دیکھنا ہے اور کتنی دیر دیکھنا ہے،یہ فیصلہ وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہی اختیار انہیں موبائل کے ذریعے میسر آتا ہے۔

اب جب یہ نفسیاتی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ حکومتی سطح پر فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فون کے استعمال کو کسی نہ کسی درجے میں قبول کر لیا گیا ہے۔ وہاں بچے وقتی طور پر اسکرین کی دنیا سے باہر ہوتے ہیں، لیکن گھر پہنچتے ہی انہیں ایسا ہوم ورک ملتا ہے جو موبائل یا انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ الغرض ہر طرف موبائل کی یلغار ہے اور دلچسپی کا سارا سامان اسی میں مہیا ہے۔ گویا ہماری بیشتر ضروریات اسی ایک آلے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں اور انسان ایک غیر فطری اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ جب تک ہم سنبھلنے کی کوشش کریں گے، تب تک ہمارے اذہان کن سانچوں میں ڈھل چکے ہوں گے، اس کا ہمیں خود بھی احساس نہ ہوگا۔

اس ڈیجیٹل دور میں ادبِ عالیہ اور دیگر ادبی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جو کچھ اسکرین پر مقبول ہے، ادبی میدان کی معروف شخصیات بھی اسی طرز کو اپنانے لگی ہیں۔ اصل محرک اب بھی ’دلچسپی‘ ہے۔ جو مواد زیادہ توجہ حاصل کرے گا، وہی رواج پائے گا۔ چنانچہ معیار بدل گئے ہیں؛ میگی سے لے کر رِیل تک ہر چیز کم وقتی اور فوری اثر کی حامل ہو گئی ہے۔

جب ہم نفسیاتی پہلو سے بچوں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنی مفید ہے، اتنی ہی تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں،یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تفصیلی جائزہ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب بھی برقرار ہے کہ کسی بھی فن کی بنیادی شرط جاذبیت ہے۔ اسی لیے اردو ادب میں عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کو بیان کیا گیا اور دلچسپ حکایات و واقعات کے ذریعے فلسفہ اور اخلاق کی بات سمجھائی گئی، تاکہ ذہن پہلے متوجہ ہو اور پھر معانی کی گہرائی تک رسائی حاصل کرے۔

آج بھی ہم فنون کو وقت دیتے ہیں، مگر فن کا معیار اور اسلوب بدل چکا ہے۔ ’کنٹنٹ‘ آج بھی اہم ہے اور مختلف النوع دلچسپ مواد کے ذریعے فنکار عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب میں موضوعات کی مؤثر اور دلکش پیشکش میں کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ہمارا رجحان کم ہو رہا ہے؟ کہانیوں میں زبان و بیان کا سطحی پن کب تک جاری رہے گا؟ اشعار میں حقیقی شعریت اور تغزل کی تلاش کب تک باقی رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بچوں کو ایسی معیاری اور دلکش تخلیقات کیوں فراہم نہیں کر پا رہے جن کی طرف وہ خود بخود راغب ہوں؟

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ بے شمار افراد اس کے ذریعے اپنا کیریئر بنا رہے ہیں، مگر خالص اردو سے وابستہ حلقے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسکرین کی دنیا حقیقی کتابی دنیا کا بدل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’’ریختہ‘‘ ہے، جس نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا کر دنیا بھر میں اردو سیکھنے کا رجحان پیدا کیا اور ہزاروں افراد کو اردو سے جوڑا۔

تاہم یہ فائدہ زیادہ تر بالغ افراد تک محدود ہے۔ بچوں کے لیے اسکرین کا بے جا استعمال نہایت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو اسکرین کی دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے، ورنہ کئی ایسی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

آج کل آٹزم کا ذکر عام ہو چکا ہے۔ 2020ء کی بعض تحقیقات کے مطابق ایک سال یا اس سے کم عمر بچوں میں موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال بعد کی عمر میں نشوونما سے متعلق مسائل کے خطرات بڑھا سکتا ہے، جو عموماً تین سال کی عمر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نتیجتاً بعض بچے ہم جماعتوں سے الجھتے ہیں، توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں کمزور یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضدی پن اور چڑچڑے پن جیسے رویے بھی اس صورتِ حال سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موبائل اسکرین استعمال کرتے وقت آنکھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں خشکی اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اسکرین کی روشنی دماغی نظامِ نیند کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح طویل وقت تک موبائل پر جھکے رہنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن اور کمر درد یا جسمانی انداز میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے والے بچے سماجی میل جول میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے رویوں اور جذبات کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

2019ء میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں پر زور دیا گیا اور پانچ سال تک کی عمر میں اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود رکھنے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 18 ماہ سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ابتدائی عمر ہی میں احتیاط برتی جائے تو بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو بہلانے یا چپ کروانے کے لیے موبائل کا سہارا نہ لیا جائے، خاص طور پر اگر وہ دو سال سے کم عمر ہو۔ اس عمر کے بچے عموماً توجہ چاہتے ہیں، اس لیے انہیں وقت اور محبت دی جائے، اسکرین نہیں۔

اگر بچہ کچھ بڑا ہو تو اس کے اسکرین ٹائم کو باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ اس کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کا جسم اور ذہن متحرک رہیں اور توجہ اسکرین کی طرف کم ہو۔ والدین اگر شعوری طور پر بچوں کو ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف راغب کریں یا ان میں کسی مثبت مشغلے کا شوق پیدا کریں تو اسکرین کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً، ڈیجیٹل دنیا کے فوائد اپنی جگہ، لیکن توازن اور شعوری نگرانی ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی ضمانت ہے۔


از ڈاکٹر امیر حمزہ 

نائب مدیر سہ ماہی مژگاں کوکاتا 

www.mizgaan.in


Monday, 7 April 2025

مجھے کچھ کہنا ہے

  زندگی دراصل تجربات و حوادث کا نام ہے جہاں ہر وقت انسان نئے حالات و کیفیات سے دو چار ہوتا ہے اور اس کے اذہان میں نئے تصورات گردش کرتے رہتے ہیں ،جن میں سے کچھ کو پختگی ملتی ہے اور کچھ لمحات میں زائل ہوجاتے ہیں۔ ایک ادیب کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نئے تصورات و افکار کو فن کے دائرے میں پروکر کسی صنف کا جامہ عطاکردے۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری میں ایک ہی خیال کو مختلف انداز میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے اور فکشن میں ایک ہی مرکزی واقعے کو مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے، جس میں انسانی ذہنی کشمکش کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ جس کے لیے بہت سے تخلیق کار کے فن پارے منظر عام پرآتے ہیں جن میں سے کچھ کو مقبولیت ملتی ہے اور کچھ گمنامی کے شکارہوجاتے ہیں۔دراصل اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اکثر تخلیق کار اپنے قلمی سفر کی شروعات زندگی کی دوسری دہائی میں کرتے ہیں جن میں سے چند کو مقبولیت مل جاتی ہے اور کچھ مختصر مدت کے بعد ماند پڑجاتے ہیں۔ 

یہی حالت ہم ساتھیوں کی بھی ہے جو تحقیقی و تنقیدی دنیا میں قدم رکھتے ہیں لیکن ہمارے سامنے لکھنے کے لیے نیا کچھ نہیں ہوتاہے۔ایسا اس وجہ سے کہ وہ ان ہی راستوں پر چلنے کو فوقیت دیتے ہیں جہاں پہلے سے ہی راستے ہموار ہوچکے ہوتے ہیں اور اس موضوع پر خاطرخواہ تحریریں منظر عام پر آچکی ہوتی ہیں۔ جس سے اس موضوع پر تجزیہ در تجزیہ کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ جن گوشوں میں بہت ہی کم لوگوں نے قدم رکھا یا ایسے گوشے جو بالکل گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں، وہا ں شاید و باید ہی کوئی ریسرچ اسکالر قدم رکھنا چاہتا ہے۔ ا یسے حالات میں موضوعات میں تکر ار بہت ہی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اسے اکثر یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ ابھی تو آموزش کا مرحلہ ہے، بعد میں اکتسابی مرحلہ آئے گا تب نئے زاویوں کی تلاش و جستجو اور پیش کش پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن اس تیز رفتار زندگی میں جب وقت قلیل سے قلیل تر ہوتا چلا جارہا ہے ایسے میں کیا ضروری ہے کہ کسی کو بعد میں اتنا موقع ملے کہ وہ کسی بھی موضوع پر اتنا وقت دے سکے جتنا اسے ریسرچ کے درمیان موقع مل رہا ہے۔ یقیناً بہت ہی کم ملتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے تجربات کے تحت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریسرچ کے بعد جن ساتھیوں نے نوکری حاصل کی ہے ان میں سے اکثر کے یہاں قلم کی دھار کمزور پڑگئی ہے۔ پتہ نہیں آخر ایسا کیوں ہوتاہے۔ ان حالات کے مدنظر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریسرچ کے دوران جو بھی ہمیں موقع مل رہا ہے اسی میں اپنی شناخت بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔ ایسے میں ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم  ادب میں ان گوشوں کو نمایاں کریں جن پر اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔

 موجودہ وقت میں دو بنیادی موضوعات بہت ہی عام ہیں شاعری میں غزل و نظم اور نثر میں افسانہ و ناول۔ سندی ریسر چ کا اسی فیصد حصہ انہیں موضوعات کو محیط ہے اور اس میں بھی محض تجزیاتی اور تاثراتی تحریر ہی پڑھنے کو ملتی ہے۔ شاعری میں شاعر نے فن کو کس طرح برتا ہے اس پر توجہ نہ دے کر سارازور صرف موضوعات پر رہتا ہے۔یہی حال ناول اور افسانہ کا بھی ہے جہاں محض کہانی کا تجزیہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ، فن کا ر نے فن سے کس قدر انصاف کیا ہے ، زبان و بیان میں کیا اختراعات دیکھنے کو مل رہے ہیں ، کیا انہوں نے کسی فلسفہ کو کردار کے ذریعہ پیش کرنے کوشش کی ہے تو اس فلسفہ سے تحقیق کار کس قدر واقف ہے اور اس کے تجزیہ کا کتنا حق ادا کرسکتا ہے ۔ کہانی کا ر کا اپنا عکس کس قدر حاوی ہے ، کیا واقعی میں وہ فن پارہ ہے؟ یا فن پارہ کا نام دے کر تخلیق کار نے اپنی بھڑا س نکالی ہے ، ان گوشوں پر بہت ہی کم واضح انداز میں گفتگو کی جاتی ہے ۔ اکثر تو تعریف میں قلم اٹھاتے ہیں۔ جب تعریف ہی تنقید کا مقصد رہ گیا ہے تو پھر تنقید کو دفن کردینا چاہیے ۔ویسے اس معاملے میں جدید وقدیم سارے قلم کار یکسا ں ہیں ، وجہ نوکری اور معاملات کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اگر یہ مجبوریاں حائل نہیں ہوتیں تومیرا خیال ہے کہ ماضی سے بہتر معرکے آج کے زمانے میں دیکھنے کو ملتے ۔ معرکوں سے زبان توترقی کرتی ہی ہے ساتھ ہی قاری میں بے تحاشہ اضافہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ حالات بدل چکے ہیں اور وسعت نظری تنگ نظر ی میں بدل چکی ہے ۔ اس لیے تنقید میں تعریف کے سوا کچھ نہیں بچتا اور اگر کسی نے لکھنے کی ہمت بھی دکھائی تو انجام کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ 

 موضوعات کے حوالے سے میرے ہم درس دوست سے ایک بڑی یونی ورسٹی کے سینئر استاد جو اّب ریٹائر ہوچکے ہیں انہوں نے صاف طور پر کہا کہ سندی تحقیق کے لیے کبھی بھی مشکل موضوع کاانتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ یقیناً انہوں نے تجربات کی بنیاد پر ہی یہ بات کہی ہوگی کیونکہ ریسرچ کے پانچ برسوں میں بہت ہی کم ریسرچ اسکالرز ایسے ہوتے ہیں جو یکسوئی کے ساتھ کام کو انجام دیتے ہیں، عموماً عمر کے اس پڑاؤ میں یہ مرحلہ آتا ہے جب بہت ساری ذمہ داریوں کی بنیاد ڈالی جارہی ہوتی ہے۔ ایسے میں دو تین سال ہر ایک کے یونہی محض سوچنے میں گز ر جاتے ہیں اور جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو بہت جلد بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جس بنا پر سنجیدہ تحقیق و تنقید کی امید نہیں کی جاسکتی۔علاوہ ازیں میں ایسے ساتھیوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے مسلسل چار سال تحقیق کو دیے اور ہر روز کچھ نہ کچھ لکھا پھر جب ان کا تحقیقی مقالہ سامنے آیا تو وہ بہت ہی عمدہ قسم کا کام تھا، لیکن چونکہ ان کے نگراں کو وہ کام بہت زیادہ بھاری لگ رہا تھا تو ان میں سے بہت کچھ حذف بھی کروا دیا گیا جس سے یقیناً ان کی بہت زیادہ دل شکنی ہوئی۔ چند ہمارے ایسے بھی ساتھی ہیں جنہوں نے صر ف چند دنوں میں اپنا تحقیقی مقالہ تیار کرلیا اور جب مجھے برسوں بعد ان کے مقالے کادیدار ہوا تو میں دنگ رہ گیا کیونکہ پندرہ سطور سے کم کا صفحہ اور وہ بھی صر ف دو سو پچاس صفحات۔ ایسے میں ہم UGC کی گائڈ لائن کی جانب رخ کرتے ہیں تو وہاں پر ہمیں انگلش کے متعلق صاف طور پر لکھا ہوا ملتا ہے کہ A4 میں متن کا سائز 12 ہو اور سطرو ں کے درمیان کا فاصلہ 1.5 ہو۔ اس اعتبار سے تیس سے زیادہ سطریں ایک صفحہ میں آجاتی ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی ہے کہ جو اسٹنڈرڈ سائز ہے اسی میں تحریر کرنا ہے یعنی جس فونٹ سائز میں عموماً کتابیں بازار میں ملتی ہیں وہی فونٹ سائز آپ کو بھی استعمال کرنا ہے۔ لیکن نہیں معلوم اردو میں یہ روایت کہاں سے آگئی ہے کہ آپ کو 18 فونٹ سائز میں ہی مقالہ تیار کرنا ہے۔ اس فونٹ سائزسے عموما 23 سطریں ایک صفحہ میں آتی ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے لیکن بہت سارے ایسے مقالے دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن میں 20 یا اس سے بھی زیادہ فونٹ سائز مستعمل ملتا ہے اور سطروں کا فاصلہ بہت ہی زیادہ رکھا جاتا ہے۔ جب کہ سبھی کو معلوم ہے کہ نستعلیق کا اسٹنڈرڈ سائز15 اور 16 ہے لیکن شاید ہی کو ئی مقالہ اس فونٹ سائز میں آپ کو مل جائے۔ اس جانب بھی متفقہ طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فونٹ سائز بڑا کرکے صفحات میں اضافہ کی نوبت اس وقت ہمارے سامنے آتی ہے جب ہمارے پاس مطالعہ کی کمی ہوتی ہے، جب مطالعہ کم ہوگا تو کسی بھی موضوع پر لکھنے کے لیے بھی کم مواد جنریٹ ہوگا۔ان تمام باتوں کے مدنظر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریسرچ اسکالر متعلقہ مضمون میں مطالعہ کو ٹھیک ڈھنگ سے ترتیب نہیں دے پاتا جس سے نتائج بھی محدود ہی سامنے آتے ہیں۔

ان سب کے باوجود ہمارے یہاں خاطرخواہ تعداد میں اچھے ریسرچ اسکالروں کی کھیپ تیار ہورہی ہے جنھوں نے اپنے قلم سے نہ صرف اساتذہ کو چونکایا ہے بلکہ انھیں بہت زیادہ متاثر بھی کیا ہے۔ تحقیق و تنقید نیز تخلیقات میں وہ اپنی شناخت قائم کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ ان پر مباحث قائم نہیں ہوتے ہیں۔ اگر کسی نے تحقیق سے نئی چیز سامنے لائی ہے تو اس کے ردو قبول پر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بات کر نا اور مباحثہ قائم کرنا تو بعید تبصروں میں بھی ان عناصر کو نمایا ں نہیں کیا جاتا بلکہ یہ سوچ کر کہ اس موضوع پر ایک اور نئی کتاب آگئی ہے اس کو طاق نسیاں کردیا جاتا ہے۔ یقیناً یہ نئے اور محنتی طلبہ کے لیے حوصلہ شکنی کی بات ہوتی ہے۔ ایسے میں جب وہ اپنے ساتھ یہ رویہ دیکھتے ہیں تو آگے انہیں مزید کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں سنجیدہ قرات میں کمی آئی ہے۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرے رخ میں ہمارے وہ اساتذہ بھی شامل ہیں جو صلاحیت مند نوواردین کو بھر پورموقع دیتے ہیں اورمختلف پلیٹ فارمس سے ان کی صلاحیتوں کو ابھارتے بھی رہتے ہیں اور تقرریوں میں ان کا بھر پور تعاون بھی کرتے ہیں۔ 

اس کے بعد ایک مرحلہ اور آتا ہے جہاں معاملات دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک خادم ادب دوسرا محض خادم۔ دوسرا فرد کسی کا بھی خادم ہوسکتا ہے، خواہ وہ فرد کا خادم ہو یا ادارے کا، عارضی اور وقتی ہو یا دائمی۔ پہلا اپنی تمام تر محنتوں کے باوجود در بدر بھٹکتا رہتا ہے اور دوسرے کی قسمت بہت ہی جلد سنور جاتی ہے۔ یہ معاملہ ادب میں نئے داخل ہونے والوں کو بہت ہی زیادہ پریشان کررہا ہے۔ گزشتہ دنو ں بانگ درا کے سو سال مکمل ہونے پر اردو اکادمی دہلی نے ایک سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا جس کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے تھے۔ اس سمینار کے کلمات تشکر میں انہوں نے ’دوسرے خادم‘ کے حوالے سے چند سخت کلمات کہے تھے جو اتفاق سے اخبارات میں اور ایوان اردو میں بھی شائع ہوئے وہ میں یہا ں ہو بہو نقل کرنا چاہتا ہوں۔’’سمینار میں مقالہ نگاران کی فہرست میں شمولیت کے حوالے سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتفاق سے چار روز قبل کسی صاحب کا ایک نوجوان کے حوالے سے فون آیا کہ آپ انہیں مقالہ نگاروں کی فہرست میں شامل کرلیں، میں نے انہیں فون پر ہی خفگی کا اظہار کیا کہ آپ نے اس حوالے سے فون کیسے کردیا،پھر اسی نوجوان کا فون آیا تو میں نے اسے بھی سختی سے منع کردیا، لیکن یہ معاملہ جاری رہا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے ایک وزیر سے فون کروایا۔یہ رویہ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔سارے اداروں اور یونیورسٹیز کو بھی اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔‘‘(ایوان اردو، فروری2025) ایسی چیزیں عموماً تحریر کا حصہ نہیں بنتیں اس لیے وہ تاریخ کا بھی حصہ نہیں بن پاتی ہیں۔ پھر بعد والوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ادب میں کجروی لانے میں کس کی غلطی تھی اوراس کا ذمہ دار کون ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح ابھی اردو کے حالات بد سے بدتر نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے قارئین کی تعداد میں یقیناً کمی آئی ہے بالخصوص سندی طلبہ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن اگر حالات فطری طور پر چل پڑیں اور عدل و مساوات کو اپنایا جائے تو انشاء اللہ نتیجہ ثمر آور ہوگا۔

تکلیف ہوتی ہے !

  تکلیف ہوتی ہے ! (اداریہ مژگاں اپریل ۔جون 2026) اردو زبان وادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر بات کی جائے تو اس صدی کے آغاز سے ہی اس میں لگات...