Showing posts with label اداریہ. Show all posts
Showing posts with label اداریہ. Show all posts

Thursday, 9 April 2026

زبان ،ادب اور اسکرین

 

زبان ،ادب اور اسکرین


انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ہر فرد اور ہر معاشرہ اپنی وسعت اور مزاج کے مطابق مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں جب علوم و فنون کا باقاعدہ تبادلہ نہیں ہوتا تھا، تب بھی ہر قبیلہ اپنی سطح پر جمالیاتی حس کو اپناتے ہوئے فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اگر فنون تحریری یا تقریری صورت میں تھے تو آج وہ کلاسیکی متون کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر ان کا تعلق موسیقی یا مصوری سے تھا تو وہ آج بنیاد اور روایت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فرد میں کسی نہ کسی درجے میں فنون سے دلچسپی کا عنصر موجود رہتا ہے اور ہر دور میں جو فن زیادہ مقبول ہوا، وہی توجہ اور دلچسپی کا باعث بنا۔ یہاں فنونِ لطیفہ کی ایک جامع تعریف پیش کرنا مناسب ہوگا۔ تعریف میں قدرِ مشترک الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہا جا سکتا ہےکے ’’فنونِ لطیفہ سے مراد وہ فنون ہیں جو انسانی جذبات، ذوقِ حسن اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ فنون نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ ثقافت اور معاشرتی اقدار کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔‘‘اس تعریف میں ’نہ صرف‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عمومی طور پر فنون تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاہم ان کے اندر انسانی جذبات، معاشرت، اخلاق اور فلسفہ جیسے عناصر بھی شامل رہتے ہیں۔ کوئی فن جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور کوئی پیغام رسانی کا وسیلہ بنتا ہے، لیکن تفریح بہرحال سب کا بنیادی عنصر ہے۔

آج ادب نے بے حد ترقی کر لی ہے اور ادبی فلسفوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مگر اب بھی ادب کی شناخت عموماً دو حوالوں سے کی جاتی ہے ایک وہ ادب جو تسکین ذات اور تفریحِ طبع کا ذریعہ ہو، دوسرا وہ جو معاشرے کو اخلاقی اقدار کا پابند بنانے کا فریضہ انجام دے۔ اکثر صورتوں میں ذاتی تسکین کا پہلو غالب رہتا ہے۔ یہ یقیناً ایک طویل بحث ہے، لیکن خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ادبی فن پارہ صالح قدروں کا حامل ہو، لوازمِ فن کو پورا کرتا ہو اور قاری کو جمالیاتی حظ اور مسرت بھی عطا کرے۔

یہ تو ادب کی داخلی بحث ہوئی، لیکن اب ہم ذرائع کی بات کرنا چاہیں گے کہ ادب ہم تک کن زاویوں اور راستوں سے پہنچتا ہے۔ ہر دور میں ذرائع کی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ اگر ذرائع پر اختیار حاصل ہو جائے تو اثر و نفوذ بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ابتدا میں ادب ہر ایک کی دسترس میں نہیں تھا۔ عوام زیادہ تر عوامی محفلوں کے ذریعے ہی ادب سے محظوظ ہو پاتے تھے۔ عرب معاشرے میں عوامی محفلوں کی روایت قدیم رہی ہے، لیکن ہمارے یہاں ادبی محفلیں عموماً بادشاہوں، سلاطین اور امرا کے درباروں میں منعقد ہوتی تھیں۔ وہیں سے ادب کی ترسیل ہوتی اور وہی معیارِ ادب قرار پاتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں میں موجود ادبی ذخیرے کو ایک طویل عرصے تک سنجیدہ ادب کا درجہ نہیں دیا گیا۔چھاپہ خانے کی عدم موجودگی میں مخطوطات کی تیاری ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے علمی و ادبی سرمایہ زیادہ تر صاحبِ ثروت طبقے تک محدود رہتا تھا۔ جب چھاپہ خانوں کا رواج ہوا اور کتابیں عام ہوئیں، تب بھی وہ فوری طور پر عام گھروں تک نہ پہنچ سکیں۔ گویا جس طرح ادب سے زیادہ تر باوقار اور متمول طبقہ ہی لطف اندوز ہوتا تھا، اسی طرح اس تک رسائی بھی محدود تھی۔بیسویں صدی میں علمی تحریکوں نے کتابوں اور رسائل کو گھر گھر پہنچایا، جس سے عوام میں ادبی ذوق کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ادب کی عام رسائی ہی ادبی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ ادب کتابوں کی زینت بنا اور کتابیں ترسیل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس کے بعد ریڈیو کا دور آیا۔ ادب نے وہاں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، مگر ریڈیو بھی ابتدا میں ہر ایک کی پہنچ میں نہ تھا۔ کتابیں اپنے مخصوص دائرے میں قاری کو ایک تہذیبی فضا سے وابستہ رکھتی تھیں، جب کہ ریڈیو نے دلچسپی کا دائرہ وسیع کیا، تاہم اس میں ادب کا حصہ نسبتاً کم ہوتا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن اسکرین نے گھروں میں جگہ بنانا شروع کی۔ ابتدا میں یہ بھی کتابوں کی طرح صاحبِ حیثیت گھروں تک محدود تھا اور اس کے ساتھ مہذب و غیر مہذب کی بحث نے جنم لیا۔ خاص طور پر نوّے کی دہائی میں مسلم معاشرے میں ٹی وی کے خلاف خاصی تنقید کی گئی، مگر اس کے باوجود ٹیلی ویژن کا چلن عام ہوتا گیا اور لوگ تفریح کے نئے ذرائع سے وابستہ ہونے لگے۔ ریڈیو کی طرح یہاں بھی ادب موجود تھا، لیکن اس وقت تک ادب کی تعریف بدل چکی تھی۔ یہ تصور ابھرنے لگا کہ جو کچھ کتابوں اور رسائل کے اوراق میں ہو، وہی حقیقی اور مہذب ادب ہے؛ باقی مواد ادب تو ہو سکتا ہے، مگر اسے معیاری ادب نہیں سمجھا جاتا۔رفتہ رفتہ صورتِ حال یہ ہوئی کہ ریڈیو اور ٹی وی میں نہ صرف ادب کا حصہ کم ہوتا گیا بلکہ زبان کا معیار بھی متاثر ہوا، اور یوں یہ دونوں ذرائع اپنی سابقہ ادبی و تہذیبی کشش کھو بیٹھےاور ادب یہاں بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا ۔

بیسویں صدی کی اہم ایجادات میں موبائل فون نمایاں حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے مؤثر اور مہلک دونوںپہلو اکیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں پوری طرح سامنے آئے، جب ضروریات سے لے کر تفریح تک ہر چیز موبائل میں سمٹ گئی۔ بڑے، بوڑھے اور بچے سب کی دلچسپی اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی، اور یہ محض ضرورت نہیں بلکہ حد سے بڑھتی ہوئی لت کی صورت اختیار کر گئی۔

جب ہم سوشل میڈیا سے منسلک ہوئے تو ہماری توجہ بھی کاغذ کے بجائے اسکرین پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں دلچسپی کے معیارات بھی بدلنے لگے۔ سوشل میڈیا پر کون سی تحریر پڑھی جائے گی اور کون سی اسکرول کرکے آگے بڑھا دی جائے گی، اس کا فیصلہ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ محض عنوان میں نیا پن ہو تو تحریر پڑھی ہی جائے؛ یہ گمان درست نہیں۔ نہ ہی محض تصویری بنیاد (امیج بیسڈ) پر مبنی مواد لازماً توجہ حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہی تحریر پڑھی جاتی ہے جو ایک نظر میں قاری کی گرفت میں آ جائے۔یہاں طویل تمہیدات کی گنجائش کم ہوتی ہے اور براہِ راست نفسِ مسئلہ پر گفتگو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عموماً مضامین میں ایک ہی موضوع کے متعدد پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کی اسکرین پر انہی میں سے کسی ایک نکتے کو نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جس طرح اخبارات میں مختصر مضامین پڑھے جاتے ہیں اور رسائل و کتب میں طویل تحریروں کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا مختصر اور جامع تحریروں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔

بات ہو رہی تھی دلچسپی کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج بیشتر دلچسپیاں سمٹ کر موبائل تک محدود ہو گئی ہیں اور ان میں بھی زیادہ تر توجہ ویڈیوز پر مرکوز ہے۔ یہ صرف ہمارے معاشرے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی عمومی صورتِ حال ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ہم کتابی ذوق کس حد تک پیدا کر سکتے ہیں۔اس کے لیے محض فرد کو نہیں بلکہ پوری فضا کو بدلنا ہوگا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی مواد بڑی حد تک ویڈیوز کی صورت میں بچوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسمارٹ کلاس کے نام پر زیادہ تر حصہ بصری مواد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ڈیجیٹل لرننگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں اگر ہم یہ سوچیں کہ اسکرین کی عادت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی تو یہ عملاً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ بچے اور بڑے اب روایتی ٹیلی ویژن اسکرین سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کے دیوانے ہوتے تھے، مگر اب وہ اس سے ہٹ کر موبائل اور خاص طور پر مختصر ویڈیوز کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ’کنٹرول‘ معلوم ہوتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، سب اسکرین پر اپنی مرضی اور اختیار چاہتے ہیں،کیا دیکھنا ہے، کب دیکھنا ہے اور کتنی دیر دیکھنا ہے،یہ فیصلہ وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ یہی اختیار انہیں موبائل کے ذریعے میسر آتا ہے۔

اب جب یہ نفسیاتی وبا اس قدر عام ہو چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کریں؟ حکومتی سطح پر فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فون کے استعمال کو کسی نہ کسی درجے میں قبول کر لیا گیا ہے۔ وہاں بچے وقتی طور پر اسکرین کی دنیا سے باہر ہوتے ہیں، لیکن گھر پہنچتے ہی انہیں ایسا ہوم ورک ملتا ہے جو موبائل یا انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ الغرض ہر طرف موبائل کی یلغار ہے اور دلچسپی کا سارا سامان اسی میں مہیا ہے۔ گویا ہماری بیشتر ضروریات اسی ایک آلے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں اور انسان ایک غیر فطری اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ جب تک ہم سنبھلنے کی کوشش کریں گے، تب تک ہمارے اذہان کن سانچوں میں ڈھل چکے ہوں گے، اس کا ہمیں خود بھی احساس نہ ہوگا۔

اس ڈیجیٹل دور میں ادبِ عالیہ اور دیگر ادبی معاملات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ جو کچھ اسکرین پر مقبول ہے، ادبی میدان کی معروف شخصیات بھی اسی طرز کو اپنانے لگی ہیں۔ اصل محرک اب بھی ’دلچسپی‘ ہے۔ جو مواد زیادہ توجہ حاصل کرے گا، وہی رواج پائے گا۔ چنانچہ معیار بدل گئے ہیں؛ میگی سے لے کر رِیل تک ہر چیز کم وقتی اور فوری اثر کی حامل ہو گئی ہے۔

جب ہم نفسیاتی پہلو سے بچوں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنی مفید ہے، اتنی ہی تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مرتب ہو رہے ہیں،یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا تفصیلی جائزہ طبی اور نفسیاتی ماہرین کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔

تاہم ایک حقیقت اب بھی برقرار ہے کہ کسی بھی فن کی بنیادی شرط جاذبیت ہے۔ اسی لیے اردو ادب میں عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کو بیان کیا گیا اور دلچسپ حکایات و واقعات کے ذریعے فلسفہ اور اخلاق کی بات سمجھائی گئی، تاکہ ذہن پہلے متوجہ ہو اور پھر معانی کی گہرائی تک رسائی حاصل کرے۔

آج بھی ہم فنون کو وقت دیتے ہیں، مگر فن کا معیار اور اسلوب بدل چکا ہے۔ ’کنٹنٹ‘ آج بھی اہم ہے اور مختلف النوع دلچسپ مواد کے ذریعے فنکار عوام کو اپنا گرویدہ بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب میں موضوعات کی مؤثر اور دلکش پیشکش میں کمی آ گئی ہے، جس کے باعث ہمارا رجحان کم ہو رہا ہے؟ کہانیوں میں زبان و بیان کا سطحی پن کب تک جاری رہے گا؟ اشعار میں حقیقی شعریت اور تغزل کی تلاش کب تک باقی رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم بچوں کو ایسی معیاری اور دلکش تخلیقات کیوں فراہم نہیں کر پا رہے جن کی طرف وہ خود بخود راغب ہوں؟

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ بے شمار افراد اس کے ذریعے اپنا کیریئر بنا رہے ہیں، مگر خالص اردو سے وابستہ حلقے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسکرین کی دنیا حقیقی کتابی دنیا کا بدل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ڈیجیٹل ذرائع آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال ’’ریختہ‘‘ ہے، جس نے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنا کر دنیا بھر میں اردو سیکھنے کا رجحان پیدا کیا اور ہزاروں افراد کو اردو سے جوڑا۔

تاہم یہ فائدہ زیادہ تر بالغ افراد تک محدود ہے۔ بچوں کے لیے اسکرین کا بے جا استعمال نہایت مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کو اسکرین کی دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے، ورنہ کئی ایسی جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں جو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

آج کل آٹزم کا ذکر عام ہو چکا ہے۔ 2020ء کی بعض تحقیقات کے مطابق ایک سال یا اس سے کم عمر بچوں میں موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال بعد کی عمر میں نشوونما سے متعلق مسائل کے خطرات بڑھا سکتا ہے، جو عموماً تین سال کی عمر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے۔ نتیجتاً بعض بچے ہم جماعتوں سے الجھتے ہیں، توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں کمزور یا کند ذہن سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضدی پن اور چڑچڑے پن جیسے رویے بھی اس صورتِ حال سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موبائل اسکرین استعمال کرتے وقت آنکھوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں خشکی اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ اسکرین کی روشنی دماغی نظامِ نیند کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح طویل وقت تک موبائل پر جھکے رہنے سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن اور کمر درد یا جسمانی انداز میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے والے بچے سماجی میل جول میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے رویوں اور جذبات کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس سے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

2019ء میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جن میں جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں پر زور دیا گیا اور پانچ سال تک کی عمر میں اسکرین ٹائم کو انتہائی محدود رکھنے کی سفارش کی گئی۔ اسی طرح امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 18 ماہ سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ابتدائی عمر ہی میں احتیاط برتی جائے تو بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو بہلانے یا چپ کروانے کے لیے موبائل کا سہارا نہ لیا جائے، خاص طور پر اگر وہ دو سال سے کم عمر ہو۔ اس عمر کے بچے عموماً توجہ چاہتے ہیں، اس لیے انہیں وقت اور محبت دی جائے، اسکرین نہیں۔

اگر بچہ کچھ بڑا ہو تو اس کے اسکرین ٹائم کو باقاعدہ مقرر کیا جائے۔ اس کی جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کا جسم اور ذہن متحرک رہیں اور توجہ اسکرین کی طرف کم ہو۔ والدین اگر شعوری طور پر بچوں کو ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کی طرف راغب کریں یا ان میں کسی مثبت مشغلے کا شوق پیدا کریں تو اسکرین کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مختصراً، ڈیجیٹل دنیا کے فوائد اپنی جگہ، لیکن توازن اور شعوری نگرانی ہی بچوں کی صحت مند نشوونما کی ضمانت ہے۔


از ڈاکٹر امیر حمزہ 

نائب مدیر سہ ماہی مژگاں کوکاتا 

www.mizgaan.in


Monday, 7 April 2025

مجھے کچھ کہنا ہے

  زندگی دراصل تجربات و حوادث کا نام ہے جہاں ہر وقت انسان نئے حالات و کیفیات سے دو چار ہوتا ہے اور اس کے اذہان میں نئے تصورات گردش کرتے رہتے ہیں ،جن میں سے کچھ کو پختگی ملتی ہے اور کچھ لمحات میں زائل ہوجاتے ہیں۔ ایک ادیب کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان نئے تصورات و افکار کو فن کے دائرے میں پروکر کسی صنف کا جامہ عطاکردے۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاعری میں ایک ہی خیال کو مختلف انداز میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے اور فکشن میں ایک ہی مرکزی واقعے کو مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے، جس میں انسانی ذہنی کشمکش کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ جس کے لیے بہت سے تخلیق کار کے فن پارے منظر عام پرآتے ہیں جن میں سے کچھ کو مقبولیت ملتی ہے اور کچھ گمنامی کے شکارہوجاتے ہیں۔دراصل اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اکثر تخلیق کار اپنے قلمی سفر کی شروعات زندگی کی دوسری دہائی میں کرتے ہیں جن میں سے چند کو مقبولیت مل جاتی ہے اور کچھ مختصر مدت کے بعد ماند پڑجاتے ہیں۔ 

یہی حالت ہم ساتھیوں کی بھی ہے جو تحقیقی و تنقیدی دنیا میں قدم رکھتے ہیں لیکن ہمارے سامنے لکھنے کے لیے نیا کچھ نہیں ہوتاہے۔ایسا اس وجہ سے کہ وہ ان ہی راستوں پر چلنے کو فوقیت دیتے ہیں جہاں پہلے سے ہی راستے ہموار ہوچکے ہوتے ہیں اور اس موضوع پر خاطرخواہ تحریریں منظر عام پر آچکی ہوتی ہیں۔ جس سے اس موضوع پر تجزیہ در تجزیہ کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ جن گوشوں میں بہت ہی کم لوگوں نے قدم رکھا یا ایسے گوشے جو بالکل گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں، وہا ں شاید و باید ہی کوئی ریسرچ اسکالر قدم رکھنا چاہتا ہے۔ ا یسے حالات میں موضوعات میں تکر ار بہت ہی زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اسے اکثر یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ ابھی تو آموزش کا مرحلہ ہے، بعد میں اکتسابی مرحلہ آئے گا تب نئے زاویوں کی تلاش و جستجو اور پیش کش پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن اس تیز رفتار زندگی میں جب وقت قلیل سے قلیل تر ہوتا چلا جارہا ہے ایسے میں کیا ضروری ہے کہ کسی کو بعد میں اتنا موقع ملے کہ وہ کسی بھی موضوع پر اتنا وقت دے سکے جتنا اسے ریسرچ کے درمیان موقع مل رہا ہے۔ یقیناً بہت ہی کم ملتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے تجربات کے تحت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریسرچ کے بعد جن ساتھیوں نے نوکری حاصل کی ہے ان میں سے اکثر کے یہاں قلم کی دھار کمزور پڑگئی ہے۔ پتہ نہیں آخر ایسا کیوں ہوتاہے۔ ان حالات کے مدنظر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریسرچ کے دوران جو بھی ہمیں موقع مل رہا ہے اسی میں اپنی شناخت بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔ ایسے میں ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم  ادب میں ان گوشوں کو نمایاں کریں جن پر اب تک بہت ہی کم لکھا گیا ہے۔

 موجودہ وقت میں دو بنیادی موضوعات بہت ہی عام ہیں شاعری میں غزل و نظم اور نثر میں افسانہ و ناول۔ سندی ریسر چ کا اسی فیصد حصہ انہیں موضوعات کو محیط ہے اور اس میں بھی محض تجزیاتی اور تاثراتی تحریر ہی پڑھنے کو ملتی ہے۔ شاعری میں شاعر نے فن کو کس طرح برتا ہے اس پر توجہ نہ دے کر سارازور صرف موضوعات پر رہتا ہے۔یہی حال ناول اور افسانہ کا بھی ہے جہاں محض کہانی کا تجزیہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ، فن کا ر نے فن سے کس قدر انصاف کیا ہے ، زبان و بیان میں کیا اختراعات دیکھنے کو مل رہے ہیں ، کیا انہوں نے کسی فلسفہ کو کردار کے ذریعہ پیش کرنے کوشش کی ہے تو اس فلسفہ سے تحقیق کار کس قدر واقف ہے اور اس کے تجزیہ کا کتنا حق ادا کرسکتا ہے ۔ کہانی کا ر کا اپنا عکس کس قدر حاوی ہے ، کیا واقعی میں وہ فن پارہ ہے؟ یا فن پارہ کا نام دے کر تخلیق کار نے اپنی بھڑا س نکالی ہے ، ان گوشوں پر بہت ہی کم واضح انداز میں گفتگو کی جاتی ہے ۔ اکثر تو تعریف میں قلم اٹھاتے ہیں۔ جب تعریف ہی تنقید کا مقصد رہ گیا ہے تو پھر تنقید کو دفن کردینا چاہیے ۔ویسے اس معاملے میں جدید وقدیم سارے قلم کار یکسا ں ہیں ، وجہ نوکری اور معاملات کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اگر یہ مجبوریاں حائل نہیں ہوتیں تومیرا خیال ہے کہ ماضی سے بہتر معرکے آج کے زمانے میں دیکھنے کو ملتے ۔ معرکوں سے زبان توترقی کرتی ہی ہے ساتھ ہی قاری میں بے تحاشہ اضافہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ حالات بدل چکے ہیں اور وسعت نظری تنگ نظر ی میں بدل چکی ہے ۔ اس لیے تنقید میں تعریف کے سوا کچھ نہیں بچتا اور اگر کسی نے لکھنے کی ہمت بھی دکھائی تو انجام کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ 

 موضوعات کے حوالے سے میرے ہم درس دوست سے ایک بڑی یونی ورسٹی کے سینئر استاد جو اّب ریٹائر ہوچکے ہیں انہوں نے صاف طور پر کہا کہ سندی تحقیق کے لیے کبھی بھی مشکل موضوع کاانتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ یقیناً انہوں نے تجربات کی بنیاد پر ہی یہ بات کہی ہوگی کیونکہ ریسرچ کے پانچ برسوں میں بہت ہی کم ریسرچ اسکالرز ایسے ہوتے ہیں جو یکسوئی کے ساتھ کام کو انجام دیتے ہیں، عموماً عمر کے اس پڑاؤ میں یہ مرحلہ آتا ہے جب بہت ساری ذمہ داریوں کی بنیاد ڈالی جارہی ہوتی ہے۔ ایسے میں دو تین سال ہر ایک کے یونہی محض سوچنے میں گز ر جاتے ہیں اور جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو بہت جلد بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،جس بنا پر سنجیدہ تحقیق و تنقید کی امید نہیں کی جاسکتی۔علاوہ ازیں میں ایسے ساتھیوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے مسلسل چار سال تحقیق کو دیے اور ہر روز کچھ نہ کچھ لکھا پھر جب ان کا تحقیقی مقالہ سامنے آیا تو وہ بہت ہی عمدہ قسم کا کام تھا، لیکن چونکہ ان کے نگراں کو وہ کام بہت زیادہ بھاری لگ رہا تھا تو ان میں سے بہت کچھ حذف بھی کروا دیا گیا جس سے یقیناً ان کی بہت زیادہ دل شکنی ہوئی۔ چند ہمارے ایسے بھی ساتھی ہیں جنہوں نے صر ف چند دنوں میں اپنا تحقیقی مقالہ تیار کرلیا اور جب مجھے برسوں بعد ان کے مقالے کادیدار ہوا تو میں دنگ رہ گیا کیونکہ پندرہ سطور سے کم کا صفحہ اور وہ بھی صر ف دو سو پچاس صفحات۔ ایسے میں ہم UGC کی گائڈ لائن کی جانب رخ کرتے ہیں تو وہاں پر ہمیں انگلش کے متعلق صاف طور پر لکھا ہوا ملتا ہے کہ A4 میں متن کا سائز 12 ہو اور سطرو ں کے درمیان کا فاصلہ 1.5 ہو۔ اس اعتبار سے تیس سے زیادہ سطریں ایک صفحہ میں آجاتی ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی ہے کہ جو اسٹنڈرڈ سائز ہے اسی میں تحریر کرنا ہے یعنی جس فونٹ سائز میں عموماً کتابیں بازار میں ملتی ہیں وہی فونٹ سائز آپ کو بھی استعمال کرنا ہے۔ لیکن نہیں معلوم اردو میں یہ روایت کہاں سے آگئی ہے کہ آپ کو 18 فونٹ سائز میں ہی مقالہ تیار کرنا ہے۔ اس فونٹ سائزسے عموما 23 سطریں ایک صفحہ میں آتی ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے لیکن بہت سارے ایسے مقالے دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن میں 20 یا اس سے بھی زیادہ فونٹ سائز مستعمل ملتا ہے اور سطروں کا فاصلہ بہت ہی زیادہ رکھا جاتا ہے۔ جب کہ سبھی کو معلوم ہے کہ نستعلیق کا اسٹنڈرڈ سائز15 اور 16 ہے لیکن شاید ہی کو ئی مقالہ اس فونٹ سائز میں آپ کو مل جائے۔ اس جانب بھی متفقہ طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فونٹ سائز بڑا کرکے صفحات میں اضافہ کی نوبت اس وقت ہمارے سامنے آتی ہے جب ہمارے پاس مطالعہ کی کمی ہوتی ہے، جب مطالعہ کم ہوگا تو کسی بھی موضوع پر لکھنے کے لیے بھی کم مواد جنریٹ ہوگا۔ان تمام باتوں کے مدنظر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریسرچ اسکالر متعلقہ مضمون میں مطالعہ کو ٹھیک ڈھنگ سے ترتیب نہیں دے پاتا جس سے نتائج بھی محدود ہی سامنے آتے ہیں۔

ان سب کے باوجود ہمارے یہاں خاطرخواہ تعداد میں اچھے ریسرچ اسکالروں کی کھیپ تیار ہورہی ہے جنھوں نے اپنے قلم سے نہ صرف اساتذہ کو چونکایا ہے بلکہ انھیں بہت زیادہ متاثر بھی کیا ہے۔ تحقیق و تنقید نیز تخلیقات میں وہ اپنی شناخت قائم کررہے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ ان پر مباحث قائم نہیں ہوتے ہیں۔ اگر کسی نے تحقیق سے نئی چیز سامنے لائی ہے تو اس کے ردو قبول پر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بات کر نا اور مباحثہ قائم کرنا تو بعید تبصروں میں بھی ان عناصر کو نمایا ں نہیں کیا جاتا بلکہ یہ سوچ کر کہ اس موضوع پر ایک اور نئی کتاب آگئی ہے اس کو طاق نسیاں کردیا جاتا ہے۔ یقیناً یہ نئے اور محنتی طلبہ کے لیے حوصلہ شکنی کی بات ہوتی ہے۔ ایسے میں جب وہ اپنے ساتھ یہ رویہ دیکھتے ہیں تو آگے انہیں مزید کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں سنجیدہ قرات میں کمی آئی ہے۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرے رخ میں ہمارے وہ اساتذہ بھی شامل ہیں جو صلاحیت مند نوواردین کو بھر پورموقع دیتے ہیں اورمختلف پلیٹ فارمس سے ان کی صلاحیتوں کو ابھارتے بھی رہتے ہیں اور تقرریوں میں ان کا بھر پور تعاون بھی کرتے ہیں۔ 

اس کے بعد ایک مرحلہ اور آتا ہے جہاں معاملات دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک خادم ادب دوسرا محض خادم۔ دوسرا فرد کسی کا بھی خادم ہوسکتا ہے، خواہ وہ فرد کا خادم ہو یا ادارے کا، عارضی اور وقتی ہو یا دائمی۔ پہلا اپنی تمام تر محنتوں کے باوجود در بدر بھٹکتا رہتا ہے اور دوسرے کی قسمت بہت ہی جلد سنور جاتی ہے۔ یہ معاملہ ادب میں نئے داخل ہونے والوں کو بہت ہی زیادہ پریشان کررہا ہے۔ گزشتہ دنو ں بانگ درا کے سو سال مکمل ہونے پر اردو اکادمی دہلی نے ایک سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا جس کے کنوینر پروفیسر معین الدین جینا بڑے تھے۔ اس سمینار کے کلمات تشکر میں انہوں نے ’دوسرے خادم‘ کے حوالے سے چند سخت کلمات کہے تھے جو اتفاق سے اخبارات میں اور ایوان اردو میں بھی شائع ہوئے وہ میں یہا ں ہو بہو نقل کرنا چاہتا ہوں۔’’سمینار میں مقالہ نگاران کی فہرست میں شمولیت کے حوالے سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتفاق سے چار روز قبل کسی صاحب کا ایک نوجوان کے حوالے سے فون آیا کہ آپ انہیں مقالہ نگاروں کی فہرست میں شامل کرلیں، میں نے انہیں فون پر ہی خفگی کا اظہار کیا کہ آپ نے اس حوالے سے فون کیسے کردیا،پھر اسی نوجوان کا فون آیا تو میں نے اسے بھی سختی سے منع کردیا، لیکن یہ معاملہ جاری رہا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے ایک وزیر سے فون کروایا۔یہ رویہ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔سارے اداروں اور یونیورسٹیز کو بھی اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔‘‘(ایوان اردو، فروری2025) ایسی چیزیں عموماً تحریر کا حصہ نہیں بنتیں اس لیے وہ تاریخ کا بھی حصہ نہیں بن پاتی ہیں۔ پھر بعد والوں کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ادب میں کجروی لانے میں کس کی غلطی تھی اوراس کا ذمہ دار کون ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح ابھی اردو کے حالات بد سے بدتر نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے قارئین کی تعداد میں یقیناً کمی آئی ہے بالخصوص سندی طلبہ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن اگر حالات فطری طور پر چل پڑیں اور عدل و مساوات کو اپنایا جائے تو انشاء اللہ نتیجہ ثمر آور ہوگا۔

زبان ،ادب اور اسکرین

  زبان ،ادب اور اسکرین انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دلچسپی کی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ دلچسپیاں کئی نوعیت کی ہو سکتی ہی...