Saturday, 5 September 2026

جدید ادب کیا ہے؟

 جدید ادب؟
تعرف الاشیاء باضدادہا  یہ علمِ منطق کا ایک ایسا قاعدہ کلیہ ہے جو تقریباً تمام چیزوں کی اصل ہیئت کی دریافت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تصوراتی دنیا میں کوئی ایسی شے نہیں جس کی تفریق و تعریف کے لیے یہ قاعدہ سامنے نہ آتا ہو۔ یہاں جدید ادب کے لیے مجھے اس قاعدہ کے ماتحت اس لیے آنا پڑا کہ اس سے قدیم ادب کو دائرہِ گفتگو میں شامل کیے بغیر بات نہیں بنتی۔ لیکن بنیادی طور پر ادب تو دائرہ میں ضرور آئے گا، اور موجودہ وقت میں ادب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ادب کا منظرنامہ بالکل بدل گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو زیرِ تحریر آ رہی ہے، اسے ادب کہا جا رہا ہے، سوائے خبر نویسی کے۔ آپ خود غور کریں تو احساس ہوگا کہ کوئی بھی تحریری شے اب ادب کے دائرے سے خارج نہیں ہو رہی۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ہے کہ جو کچھ لکھا جائے گا، وہ ادب ہی کہلائے گا۔
اس طرح کی صورتحال جب رو نما ہوتی ہے تو کوئی ایسی شخصیت سامنے آتی ہے جو ادب کی بازیافت کرتی ہے اور پھر ان مباحث کو ادب کے دائرہ کار میں لاتی ہے جو اصولی طور پر ادب کے زمرے میں آتے ہیں، ورنہ وہ محض ذاتی تسکین کا عمل قرار پاتا ہے۔ وہ وقت آ چکا ہے یا آنے والا ہے؟ یہ وہی بہتر جان سکتے ہیں جو قدیم و جدید دونوں اقسام کے ادب سے واقف ہ اور اصولی طور پر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کون سے عناصر تحریر میں شامل ہونے سے وہ ادب بن جاتی ہے، ورنہ وہ محض تحریر کہلاتی ہے۔ یقیناً آپ حیران ہو رہے ہوں گے، لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کے امکانات موجود ہیں۔ کیونکہ ہر چیز میں بازگشت کی صدا سنائی دیتی ہے۔ کوئی بھی چیز لیں، اس میں ترقی کے ساتھ اس کی اصل روح کی تلاش ضرور کی جا رہی ہے۔ موجودہ مشینی دور میں، جہاں سب کچھ مشینوں کے عمل سے گزر کر ہم تک پہنچ رہا ہے، وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو خالصیت کی تلاش میں ہیں اور اسے حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
ادب میں بھی کئی تجربے ہو چکے ہیں اور مزید ہوتے نظر آئیں گے۔ تاہم، دانشوروں کا ایک گروہ ایسا بھی ہوگا جو حالی کی سادگی، اصلیت، جوش، اور شبلی کے نظریہ ادب کی تلاش کرے گا۔ ہر عہد میں یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا، کیونکہ **کل شيء يعود إلى أصله**۔ مگر آج کی برق رفتار زندگی میں تخلیق کاروں نے فکری ابعاد کی ترسیل میں فنی سروکار سے بیزاری کو ایک فیشن کے طور پر اپنا لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ادبی فرد ہمیشہ فکری طبقے کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنے افکار سے معاشرے میں کسی نہ کسی سطح پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ شروع میں وہ ادب کے تابع رہتا ہے، لیکن جب اس کا وجود ادب میں استادی کے مقام پر فائز ہوجاتا ہے (یا اس پر منکشف ہوتا ہے کہ وہ اب ادب کا استاد بن گیا ہے)، تو وہ نئے تجربوں سے ادب کی فطرت میں تبدیلی لانے لگتا ہے۔ ان میں سے کچھ تجربات اس زبان سے منسلک معاشرے کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں، جبکہ کچھ کو اس کے خاص لسانی معاشرے میں کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس زبان میں ہونے کی وجہ سے وہ زبان ایک قسم کی مجروحیت کا شکار ہو جاتی ہے، اور ادب کے ساتھ زبان میں بھی بے اثری پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ ہوتا ہے کیسے؟ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ادب میں اصل جمال، حق، اور خیر ہوتا ہے۔ ادب انہی مقاصد کے لیے رقم ہوتا ہے۔ صرف جمال کے لیے ہی ہمیں علمِ زبان سے نحو، لغت، انشا، معانی و بیان، اور عروض کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہر ایک کو سمجھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زبان نحوی اعتبار سے درست ہو، لغت سے اس قسم کی زبان، ترکیب، اور محاوروں کا استعمال معلوم ہو،اس میں انشا کی کیفیت پائی جاتی ہو، ایسی سادگی نہ ہو کہ جمال کی عینک سے دیکھنے کے باوجود جمال نظر نہ آئے، معانی و بیان میں فصاحت و بلاغت کی کوشش ہو۔ یہ سب نظم و نثر دونوں کے لیے برابر ہے، اور شعر کے لیے عروض داخلی شرط ہے۔(جدید ادب میں اضافی ہوگیا ہے) مذاق کے طور پر ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں یہ سارے عناصر نہ  پائے جاتے ہوں در اصل وہی جدید ادب ہے۔ لیکن وہ کسی ادیب کا جدید ادب نہیں ہو سکتا۔
یہ تو ظاہری صورتحال کی بات تھی۔ اب داخلی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ادب ہمیشہ حق، خیر، اور جمال کے لیے لکھا جاتا رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ داخلی طور پر جدید ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ یقیناً آپ میری ان باتوں پر اندر ہی اندر قہقہے لگا رہے ہوں گے اور باہر سے مسکرا رہے ہوں گے، لیکن جب اسے ڈی کوڈ کرنے کو کہا جائے گا تو آپ کہیں گے کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ جب ہم جدیدیت سے لے کر جدید ادب تک کا تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ زبان و بیان اور پیش کش کی سطح پر اردو ادب کے مزاج و منہاج پر پورا نہیں اتر رہا۔
پھر بھی آج کے زمانے میں دیگر زبانوں کے مقابلے میں ہم اچھا ادب تخلیق کر رہے ہیں، اور بہترین نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ یہی سوال لے کر میں اپنے اساتذہ کے پاس گیا اور جدید ادب کے حوالے سے بنیادی باتوں پر کلام کیا۔ میں ضد کرتا رہا کہ آپ جس عہد میں لکھ رہے ہیں، وہ ہر اعتبار سے بہترین دور ہے، جہاں تخلیق و تنقید کا ایک چھتنار درخت اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ وہ مسکراتے ہیں اور ماضی میں چلے جاتےہیں۔ میں یاد دلاتا ہوںکہ ابھی کا دور ہی سب سے اہم ہے، کیونکہ ہم ماضی کی تمام تحریکوں اور تجربوں سے آزاد ہو کر ہر قسم کا آزاد ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ وہ پھر مسکراتے اور ماضی میں چلے جاتے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ وہیں لوٹ رہے ہیں جہاں اب تک اصول کارفرما ہیں، جہاں تعریفات میں جامعیت اور مانعیت کی باتیں کی جاتی تھیں، جہاں متن پر کلام کر کے فکر کی عمدہ پیشکش پر گفتگو ہوتی تھی، جہاں تنقید نے ترجمہ کے ماتحت ایک تعقیدی زبان کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ گویا وہ بار بار اپنی اصل کی جانب لوٹ رہے تھے، اور یہی ہر چیز کی فطرت ہے کہ کل شيء يعود إلى أصله۔
اتنی گفتگو کے باوجود بات ابھی تک ادھوری ہے اور تشنگی برقرار ہے۔ کیونکہ بہرحال جدید ادب کی صورتحال قدیم ادب سے بہت مختلف ہے۔ ہم سب کے علم میں ہے کہ شاعری میں جدید غزل و نظم کی شروعات حالی اور محمد حسین آزاد کے عہد سے ہوئی تھی۔ جہاں موضوعات باطن سے نکل کر ظاہر تک پہنچے، سیرِ باطن سے سیرِ دنیا، انفرادیت سے اجتماعیت کا سفر طے کیا۔ یہ سلسلہ ترقی پسند تحریک تک بخوبی جاری رہا، بلکہ عہدِ آزادی کو بھی شامل کر لیں، جس میں اردو شاعری قدیم مضامین کو ترک کر کے ملکی مسائل کو اپنا چکی تھی۔ کئی شعرا نے اردو شاعری کو نئے سانچے میں ڈھالا۔ لیکن جیسے ہی جدیدیت کا دور شروع ہوا، ہر فرد کو یہ محسوس ہونے لگا کہ شاعری نے اپنا مزاج و منہاج دونوں بدل دیا ہے۔ اردو زبان، جو محفل کی زبان تھی اور شاعری جو سماجی و سیاسی انقلاب کی زبان تھی، اب گھٹن، درد و کراہ، ناآسودگی، اور پژمردگی کا شکار ہوچکی ہے۔ جس  ادبی زبان میں حسین دوشیزہ کی سی چہک تھی، وہ بیوگی کی لاچاری میں بدل گئی ہے۔ جس کے قاری فطری طور پر اردو ادب کو اپنی ادبی تسکین کا ذریعہ بناتے تھے، وہ ایک طرح کی کشمکش کی کیفیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ صرف اکیڈمک افراد اور ان سے منسلک کچھ لوگ ہی اس نئی روش پر ثابت قدم رہے، ورنہ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ عوامی سطح پر حق، جمال، اور خیر کی بنیاد پر کوئی ادب اس عہد میں مقبول نہ ہو سکا۔ (گو میرے اشعار خواص پسند ہیں، پر گفتگو مجھے عوام سے ہے۔) ہاں، مشاعروں کا ایک کلچر تھا، جو عوامی طور پر مقبول رہا، جہاں حسن و دل کے ساتھ ملکی مسائل کو کھل کر موضوعات بنایا جاتا تھا اور عوام میں مقبول بھی تھا۔ ان میں سے اکثر اکیڈمک نہیں تھے۔
اب بھی ہم جدید ادب کے قریب نہیں پہنچے ہیں۔ لیکن اس کے لیے پھر ماضی کی جانب جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب دہلوی کے بعد لکھنوی کا ذکر ہونے لگا تو داخلیت اور خارجیت کی بات ہونے لگی۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے روح اور جسم کی بات ہو رہی ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گہرائی اور گیرائی ہمیشہ روحانی باتوں میں ہوتی ہے، نہ کہ جسمانی میں۔ یہاں عشقِ حقیقی اور مجازی کی بات ہونے لگی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مجازی سامنے کی چیز ہوتی ہے، جبکہ حقیقی کے لیے ہمیں آخری درجے تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اب ہم قریب آ رہے ہیں کہ کس طرح ہم روحانیت سے دور ہوتے گئے، اور ہماری شاعری آہستہ آہستہ داخل سے خارج تک آتے آتے اطراف و جوانب میں سفر کرنے کے بعد خود کی تنہائی کو ایکسپلور کرنے لگی۔ یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ہماری اردو شاعری فارسی مضامین کی رہینِ منت رہی ہے۔ اکثر غزلیہ مضامین ہم نے وہیں سے اٹھائے ہیں۔ اس لیے جیسے جیسے ہم مادیت کی جانب بڑھے، ہماری تخلیقات میں خارجیت در آئی۔ وہی چیزیں داخل ہونے لگیں جو ہمارے اطراف میں تھیں، جیسے: ’’تم سے بھی دلفریب ہیں غمِ روزگار کے‘‘۔
خارجیت کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اسی سے تو ہم سب مابعد الطبعیات سے طبعیات کی جانب مائل ہوئے۔ ہماری شاعری خاص و عام میں مقبول ہوئی۔ جو ادب خواص اور اعلیٰ ذہنی طبقے کے لیے تھا، اس میں سامنے کے مضامین شامل کر کے مقبولِ عام بنایا گیا، اور یہ سب یہاں کی روایتی شاعری میں پنپ سکا۔
اتنی طویل گفتگو کے بعد بھی ہم اسی بات پر اٹکے ہوئے ہیں کہ پھر جدید ادب کیا ہے؟ چلیے، دو لفظوں میں اسے ختم کرتے ہیں: اول، لکھنے والا جدید دور کا ہو؛ دوم، یہ جدید دور میں لکھا گیا ہو۔ جس میں اس جدید عہد کی عکاسی نظر آتی ہو، وہی جدید ادب ہے۔ اسی لیے قاضی جمال نے لکھا ہے کہ ’’معاصر غزل شعریت اور عصری حسیت کی فنکارانہ یکجائی سے عبارت ہے۔‘‘ اسی وجہ سے جدید ادب اپنے اندر ایک مخصوص مزاج اور رویہ رکھتا ہے۔ یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کسی روایتی مضمون اور خیال کی پیشکش میں عصری حسیت شامل ہو جائے۔ الفاظ وہی روایتی گل و بلبل، میخانہ و ساقی جیسے ہوں، لیکن اس میں عصری معنویت کی جہت نظر آئے، یہی معاصر غزل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب بالکل نئے الفاظ آتے ہیں، وہ داخلی و خارجی دونوں اعتبار سے معاصر کہلاتے ہیں۔ لیکن کمال اسی وقت ہے جب روایت کی پاسداری کرتے ہوئے عصری حسیت کی عکاسی کی جائے، جیسے امیر حمزہ ثاقب کے یہ دو شعر:
تمھارا رنگ نہ آنا تھا سو نہیں آیا 
دھنک سجاتے رہے لاکھ استعاروں کی
ہوس کی دید میں لذت اور اس قدر لذت 
نمازِ عشق قضا ہو گئی ہزاروں کی
یہاں ہمیں روایت کی پاسداری اور تازہ کاری اس خوبصورتی سے نظر آتی ہے کہ اسے کہیں سے منظم کر کے پیش کیا جا سکتا ہے۔
آج جب ہم جدید ادب کو غزل کے باب میں دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ جو غزل ہمارے سامنے آ رہی ہے، اس میں ماضی کی ہنرمندی، حال کی متزلزل صورت، اور مستقبل کے انسلجھے حالات بھی ہیں۔ اس لیے آج کی غزل میں ایک طرف جہاں اسلوبیاتی و موضوعاتی اعتبار سے ماضی کی چند مسلمہ روایات سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں، وہیں نئے تخلیقی رویوں کی تشکیل بھی جاری ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، ہر نئے عہد میں لفظی و معنوی تغیر و تبدل نظر آتا ہے۔ عامر امیر کا ایک مشہور شعر ہے:
عشق میں نے لکھ دیا قومیت کے خانے میں 
اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں
قومیت و شہریت بہت قریب کے الفاظ ہیں، اور مضمون بالکل سادہ ہے۔ اس جیسے بہت سے اشعار آپ کو ملیں گے جو پہلے مرحلے میں بہت اچھے لگیں گے، لیکن جب آپ تہہ داری تلاش کریں گے تو وہ نہیں ملے گی۔ یہی نہیں، بلکہ جب آپ آج کی غزل کا ماقبل جدیدیت کی غزل سے تقابل کریں گے تو آپ کو بہت کچھ محسوس ہوگا۔ اس میں ایک قسم کی تاثیر اور بھاؤ کا فقدان ہے، جسے آپ تغزل کہہ سکتے ہیں۔ (جدیدیت کے عہد کو میں اپنی سمجھ کے مطابق نوٹ بندی اور کورونا کی پیریڈ کی طرح سمجھتا ہوں، جہاں اردو ادب کئی دہائیوں تک ایک چنگل میں پھنسا رہا۔ اسے اتنا ہی جاری رکھا گیا جتنا نچوڑا جاتا تھا، اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔ جس طرح کورونا میں دنیا ٹھہر سی گئی تھی، حرکت و عمل کی اجازت صرف مخصوص کو تھی، وہی صورتحال اس عہد میں اردو زبان کی تھی۔ اس زمانے کے موضوعات اور اسلوب دونوں سے ہماری زبان کو بہت نقصان پہنچا۔ آج تک ہم ان حالات کے اثر سے نکل نہیں پائے ہیں۔ جس طرح کسی بڑی ٹریجڈی کے اثرات کئی نسلوں تک رہتے ہیں، اسی طرح جدیدیت کی زبان کے اثرات آج تک ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں کہ ہم کسی بھی تخلیقی صنف میں سلاست و فصاحت کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، اور اس پر بات کرنا گویا چغلی کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔)
خیر، بات چل رہی تھی جدید غزل کے رنگ ڈھنگ کی۔ بقول پروفیسر قدوس جاوید: **’’اکیسویں صدی کے نئے اور نوآموز شعرا کی غزل میں غمِ ذات کے بجائے غمِ جہاں کا غلبہ ہے۔ یہ کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے، لیکن نئے شاعروں کے لب و لہجے میں جو غم و غصہ، مایوسی، بے یقینی، بیزاری، احتجاج، اور بعض اوقات شدت پسندی ملتی ہے، وہ غلط نہیں۔ پھر بھی سامنے کے سچے بیانوں سے گزرتے ہوئے بسا اوقات ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے جذبے اور وژن میں خلوص اور صداقت تو ہے، لیکن ان نئے شاعروں کی غزل میں کہیں کچھ کمی ہے۔ اس ’کچھ‘ کو آپ غزلیت، تغزل، یا شعریت بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘
اس سے سمجھ میں آ گیا کہ ہمارے پیش رو جدید شعرا غزل میں کس رنگ ڈھنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک قسم کا روکھا پن ہے جو ہمارے ہاں نظر آ رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ ماقبل میں جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ ایک عرصہ سے ہماری زبان میں نئی قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ ہمیشہ سامنے کی چیزیں دیکھی جاتی ہیں، جن کا جلوہ نظر آتا ہے، سب اسی کی اتباع کرتے ہیں، خواہ وہ رجحان ہو یا ٹرینڈ۔ یہی حال حالیہ شعری ادب کا بھی ہے۔ جہاں آ س پاس کے رنگوں پر شعرا لپکتے نظر آنے لگے۔ جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں جدید رنگ تو ہے، لیکن ان کا اپنا رنگ غائب ہے۔ چلیے، وقتِ حاضر میں کوئی ایک منفرد آواز بتائیے۔ مشکل ہوگا، کیونکہ یہ عہد ہمارے شعری مزاج کی ہم آہنگی کے بغیر ادب میں پیراکی سے عبارت ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے شاعری میں دنیاداری میں لگے ہوئے ہیں، لیکن نہ تراکیب اخذ کر رہے ہیں اور نہ ہی شعر میں زبان کی چاشنی لا پارہے ہیں۔ بلکہ اچانک ہمارے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو سادگی کے ساتھ سادہ لفظوں میں، شعری روایت کو اپنائے بغیر، سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اس لیے آپ یک رنگی کے شکار ہیں۔ یہاں بطور ثبوت اشعار نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ عہد بہ عہد شاعری کا مطالعہ کریں گے تو واضح ہو جائے گا کہ منفرد لہجہ اب کہاں رہا۔ شاعری میں وہی باقی رہتا ہے جن کا لہجہ منفرد ہوتا ہے۔ موضوعات تو بہتوں کے ہاں مل جائیں گے ، لیکن اسلوب کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ آپ اسے بہت آسانی سے اپنی نصابی کتب میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں شعرا قدم جمائے بیٹھے ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ انہوں نے اپنا الگ رنگ اختیار کیا تھا، نہ کہ اردو کے رنگ کو ہی اپنی شاعری سے اتار پھینکا تھا۔
تاہم، پھر بھی اکیسویں صدی کی غزل کی بات کریں توہم پائیں گے کہ اس میں غیر مانوسیت تو ہے مگر کسی نہ کسی سطح پر روایات سے رشتہ بھی بر قرارہے ۔
تم بھی ذرا سی بات کو گھر لے کے آ گئے 
فٹ پاتھ پر جو مر گیا سو انسان ہی تو تھا   شکیل اعظمی
معاصر غزل کی زبان عوامی زبان سے تعلق رکھتی ہے۔ فارسی و عربی تراکیب سے گریز کرتی ہے، لیکن ہندی، سنسکرت، اور انگریزی الفاظ پر زور نظر آتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمیں نظموں اور غزلوں میں مل جاتی ہیں۔ معاصر غزل میں بہت زیادہ برجستگی پائی جاتی ہے، لیکن وضاحت کی جگہ اشاریت اور اساطیریت سے بھی کام لیا جاتا ہے۔
بستی مری جلا کے اجالا کیا گیا 
پھر اس کے بعد سیر و تماشا کیا گیا راشد طراز 
غزل نے کئی تجربے کیے اور آزاد غزل تک کا سفر بھی کیا، لیکن وہ باضابطہ غزل کا حصہ نہیں بن سکی۔ نئے نئے قافیے ایجاد کرنے اور برتنے کا رجحان بھی بڑھا۔ اکیسویں صدی کے اکثر غزل گو شعرا کے ہاں داخل سے خارج کی جانب سفر کرنے کا رویہ ملتا ہے ( یہ جملہ ایک طرح سے اصطلاح اور ٹرم کا درجہ لے لیا ہے ۔ اس کو یو ں بھی کہا جا سکتا ہے کہ غم ذا ت سے غم جہاں کا سفر ملتا ہے ) 
صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں 
شام جو ڈھلتی ہے، بازار سے لگ جاتے ہیں عزیز پریہار
سازشی ذہن نے پانی کو بھی روکا لیکن 
اس طرف ٹوٹ کے دھارے بھی چلے آئے ہیں رونق شہری
مختلف اور متضاد لسانی، ادبی، تہذیبی، اور سیاسی انسلاکات کی وجہ سے رنگارنگی ملتی ہے۔ معاصر غزل کسی نظریے، ازم، رجحان، یا فلسفے کی پابند نہیں، بلکہ فکری تکثیریت ہی اس کی پہچان ہے۔ عصری غزل میں ہجرت، نقل مکانی، اور غریب الوطنی کے نفسیاتی اور اخلاقی مسائل پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔
لوٹ کر واپس چلے جانے کی بھی خواہش نہیں 
پاؤں سے لپٹی ہوئی مجبوریاں ہیں اور ہم اشفاق احمد
2014 کے بعد حالات بدلے ہیں، اور غزل کے موضوعات بھی بدلے ہیں۔
جہاں تک فکشن کی بات ہے تو آپ کو احساس ہوگا کہ تین قسم کے فکشن لکھے جا رہے تھے: داستانوں میں فنتاسی، ماضی، اور حال کی عکاسی یکسا ں طور پر نظر آتی ہے۔ یہی حال افسانے اور ناول کا ہے ۔ کچھ تخلیق کار انہماک سے تاریخی ناول لکھ رہے تھے، اور چند اپنے عہد کی پریشانیاں رقم کر رہے تھے، جبکہ اس عہد میں بھی تہذیب و ثقافت پر تخلیقات سامنے آ رہی تھیں۔ یہی حالت اب بھی ہے۔ اب بھی ماضی اور حال پر فکشن لکھا جا رہا ہے، لیکن اس درمیان ایک تخلیق کار ایسا بھی تھا جو مستقبل کو خو د اعتمادی سے پیش کررہا تھا ۔ وہ تھے مشرف عالم ذوقی۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں مستقبل کو اس کی پوری ہولناکی کے ساتھ پیش کیا اور آنے والی زندگی کی تصویریں دکھائیں ۔
وقتِ حاضر میں ایک خاموش پروپیگنڈا بھی چل رہا ہے۔ ایسے میں فکشن کو بہت باریکی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مذہب کے خلاف یا مذہبی شعار کے خلاف لکھنا آ ج ایک طرح کی روشن خیالی بن گئی ہے ۔ ساتھ ہی نسبی برتری کا بھی فخریہ اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ ہے مایوسی اور حرماں نصیبی۔ ماضی کے ادب میں موت کی طرف متصوفانہ رغبت تھی، لیکن حال میں موت کی طرف منفی سفر کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بلکہ اب زندگی کی جمالیات کا عکس پیش کرنے کے بجائے زندگی کو ہی مکروہ بنا کر پیش کرنےکا رواج عام ہورہا ہے اور خودکشی کو مسائل کے حل کے آخری حربے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ ادب میں درست رجحان نہیں ہوسکتا ۔
ماضی میں بہت سارے فلسفے ادب میں داخل ہوئے ہیں وہاں جب ہم ان فلسفوں پر عدم کے حوالے سے غور کریں گے تو ہمیں ایک طرح سے طمانیت کا احساس ہوتا ہے ۔
اگرچہ غزل کو ’’نیم وحشی صنفِ سخن‘‘ کہا گیا ہے، لیکن مستنصر حسین تارڑ نے ناول کو مکمل وحشی صنف قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’آرٹ آف ناول‘‘ میں لکھا ہے: ’’یہ ناول ہے جو ایک اٹھری گھوڑی کے مانند آپ کے قابو میں نہیں آتا۔ ناول میرے نزدیک کسی نصابی تعریف میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ناول کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ واقعی، ناول کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے واقعات و خیالات کو تسلسل کے ساتھ مرتب کر دیں، وہ ناول کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ پہلے ناول نگار پسِ پردہ رہتا تھا، لیکن اب ناول نگار سامنے ہوتا ہے۔ پلاٹ، کردار، اور دیگر چیزیں سب پسِ پشت چلی گئی ہیں، بس اب تحریریں باقی ہیں جو قاری کے دماغ میں اپنا تاثر قائم کرتی رہتی ہیں۔ یہاں پھر وہی سوال قائم ہوتا ہے کہ جب ناول کسی نصابی تعریف میں قابو میں نہیں آتا، تو قاری کے دماغ میں کس طرح قابو میں آئے گا؟ قاری اس میں واقعات و حادثات تلاش کرے گا یا مصنف کا فلسفہ؟ ہر قاری تجزیہ کار نہیں ہوتا، لیکن سب کے دماغ میں یہ چل رہا ہوتا ہے کہ وہ ناول جو آگے بڑھ رہا ہے، وہ کس وجہ سے ہے۔ کیا وہ کسی کردار میں اپنا عکس دیکھ رہا ہے، یا کوئی کردار اسے بہت پسند آ رہا ہے؟ یا اگر کردار ہی نہیں ہیں تو مصنف کی کس خو بی کی بنا پر اس کے ساتھ چل رہا ہے اور چلتا چلا جا رہا ہے ۔ کو ئی تو ہو جو اس کی تشخیص کرے اور اجتماعی تجزیے کے طو ر پر ایک نتیجہ اخذ کرکے کسی تعریف میں محدود کیا جائے ۔ وا ضح رہے کہ کسی بھی چیز کے لیے جامعیت اور مانعیت لازمی شے ہے ورنہ پھر اس شے کا تشخص قائم نہیں رہ پاتا ہے ۔


No comments:

Post a Comment

بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

 بانگ درا میں بچوں کی نظمیں علمِ تشریعیات میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، جو اب محاورے کی طرح مستعمل ہے۔ اس سے مراد کسی فن یا مو...