Saturday, 5 September 2026

بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

 بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

علمِ تشریعیات میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، جو اب محاورے کی طرح مستعمل ہے۔ اس سے مراد کسی فن یا موضوع میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز ہے۔ علامہ اقبال کی نو نظموں کے حوالے سے میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بچوں کی تمام نظموں میں یہ نو نظمیں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ محض دعویٰ نہیں، بلکہ اس کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔

اردو میں بچوں کے لیے نظمیں لکھنے کا رواج بہت قدیم ہے۔ امیر خسرو سے لے کر علامہ اقبال تک، متعدد شعرا نے اس صنف میں طبع آزمائی کی۔ تاہم، جب اقبال نے 1901ء اور بعد کے برسوں میں بچوں کے لیے نظمیں لکھیں، جو متعدد رسائل میں شائع ہوئیں، تو غیر شعوری طور پر ادبِ اطفال کی تاریخ میں ایک سنگِ میل رقم ہوگیا۔ اقبال کے بغیر اردو ادبِ اطفال نہ صرف نامکمل ہے، بلکہ ان کی یہ نظمیں اس فن میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادبِ اطفال کی جو بھی تاریخ لکھی گئی، اس میں اقبال کا تذکرہ لازمی طور پر موجود ہوتا ہے۔

علامہ اقبال کی نو نظموں کا کیا سحر تھا کہ وہ سر چڑھ کر بولیں اور آج تک ان کی روشنی مدھم نہیں پڑی۔ حالانکہ اسی عہد میں بچوں کے لیے بہترین نظمیں لکھی جا رہی تھیں، لیکن اقبال کی نظموں کا تقابل تو درکنار، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہرا۔ جب درسی کتابوں کے لیے نظمیں لکھنے کا رواج شروع ہوا، تو محمد حسین آزاد اس میدان میں سرخیل بن کر سامنے آئے۔ انھوں نے اردو کی درسی کتابوں کے لیے پانچویں جماعت تک کے پانچ حصوں میں کتابیں لکھیں۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی اس سلسلے میں دوسرے نمبر پر تھے۔ اتفاق سے دونوں کی کتابیں ’’بانگِ درا‘‘ کی اشاعت سے پہلے ہی نصاب کا حصہ بن چکی تھیں۔ جب ہم مولوی اسماعیل میرٹھی کی پانچوں کتابوں کی نظموں پر نظر ڈالتے ہیں، تو شعرا کا ایک جمِ غفیر نظر آتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اقبال نے اپنی نظمیں پیش کیں، ان میں ایسی کشش اور جاذبیت سامنے آئی کہ ان کے شیرین الفاظ کی تاثیر کبھی کم نہ ہوئی۔

’’بانگِ درا‘‘ میں اقبال نے ابتدائی عمر کے بچوں کے لیے نو نظمیں شامل کیں، جو کلیاتِ اقبال کے مطابق ترتیب وار یہ ہیں:

1 ایک مکڑا اور مکھی

2 ایک پہاڑ اور گلہری

3 ایک گائے اور بکری

4 بچے کی دعا

5 ہمدردی

6 ماں کا خواب

7 پرندے کی فریاد

8 ترانہ ہندی

9 ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

گیان چند جین کی تحقیق کے مطابق، ان نظموں کی زمانی ترتیب کچھ یوں ہے:

ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، بچے کی دعا، ہمدردی، ماں کا خواب (نومبر 1901ء)

پرندے کی فریاد (مارچ 1903ء)

ترانہ ہندی (اگست 1904ء)

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت (فروری 1905ء)

ان میں سے ابتدائی چھ نظمیں، جو 1901ء میں لکھی گئیں، اتفاق سے کسی نہ کسی ماخذ سے ماخوذ ہیں۔

ایک مکڑا اور مکھی

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘ میری ہاوٹ (Mary Howitt) کی نظم The Spider and the Fly سے ماخوذ ہے، اور عنوان کا ترجمہ لفظ بہ لفظ ہے۔ میری ہاوٹ نے اس نظم کو سات بندوں میں لکھا، جبکہ اقبال نے اسے چودہ اشعار میں نظم کیا ہے۔ دونوں نظموں کی جزئیات تقریباً یکساں ہیں، لیکن میری ہاوٹ نے اختتامی سطور میں نصیحت شامل کی، جبکہ اقبال نے صرف انجام بیان کر کے نظم کو نظم ہی رہنے دیا۔

دونوں نظموں کا تقابل کریں تو زبان کی سادگی دونوں میں نمایاں ہے۔ بچوں کے لیے ان کی دلچسپی بھی یکساں نظر آتی ہے، کیونکہ مکڑے کی مکھی کے پروں، آنکھوں اور سر کی خوبصورتی کی تعریفیں کر کے اسے جال میں پھنسانے کی کوشش دونوں نظموں میں ایک جیسی ہے۔ تاہم، میری ہاوٹ آخری سطور میں بچوں کو نصیحت کرتی ہیں کہ چاپلوسوں کے جال سے دور رہنا چاہیے، جبکہ اقبال کا اختتام زیادہ دلچسپ ہے۔ وہ تین اشعار میں واقعے کو سمیٹتے ہیں اور ماقبل کی تفصیلات کو چست رکھتے ہیں:

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں

سچ یہ ہے کہ دل کو توڑنا اچھا نہیں ہوتا

یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے

پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

بھوکا تھا کئی روز سے، اب ہاتھ جو آئی

آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا


ایک پہاڑ اور گلہری

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ رالف والڈو ایمرسن (Ralph Waldo Emerson) کی نظم The Mountain and the Squirrel سے ماخوذ ہے۔ عنوان کا ترجمہ لفظ بہ لفظ بغیر کسی تبدیلی کے ہے۔ ایمرسن کی نظم 20 سطروں پر مشتمل ہے، جبکہ اقبال نے اسے 12 اشعار میں سمیٹا۔ دونوں نظموں کے بیانیے میں واضح فرق ہے۔ ایمرسن نظم کی ابتدا پہاڑ اور گلہری کے جھگڑے سے کرتے ہیں، جبکہ اقبال کے ابتدائی پانچ اشعار میں پہاڑ اپنی عظمت و کبر کا اظہار کرتا ہے۔

گلہری کا جواب ایمرسن کی نظم میں نرم لہجے میں ہے:

You are doubtless very big

لیکن اقبال کی نظم میں پہاڑ کے طنزیہ انداز کی وجہ سے گلہری کا لہجہ قدرے تیز ہے:

کہا یہ سن کے گلہری نے منھ سنبھال ذرا

یہ بچوں والی باتیں ہیں، دل سے انہیں نکال ذرا

اس کے بعد گلہری چھ اشعار میں اپنی اہمیت بیان کرتی ہے۔ دونوں نظموں کا نقطہِ امتزاج ایک مقام پر یوں ملتا ہے:

  If I cannot carry forests on my back,

Neither can you crack a nut.

اقبال پہلی سطر کو نظرانداز کرتے ہیں، لیکن دوسری سطر کو شعرمیں یوں ڈھالتے ہیں:

جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو

یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

ایمرسن کی نظم یہاں ختم ہو جاتی ہے، لیکن اقبال ایک اضافی شعر شامل کرتے ہیں جو نظم کا نچوڑ اور ضرب المثل بن جاتا ہے:

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

اس شعر نے ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ کو اردو ادب میں لازوال شہرت عطا کی، جیسے کوئی مشہور مصرع پوری غزل کو عظمت بخشتا ہے۔

ایک گائے اور بکری

علامہ اقبال کی نظم ’’ایک گائے اور بکری‘‘ جان ٹیلر (Jane Taylor) کی نظم The Cow and the Ass سے ماخوذ ہے۔ انگریزی نظم 14 بندوں (stanzas) پر مشتمل ہے، جبکہ اقبال کی نظم 29 اشعار پر محیط ہے، لیکن دونوں میں مصرعوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ دونوں نظموں کا مضمون یکساں ہے، البتہ کرداروں میں فرق ہے۔ انگریزی نظم میں بکری کی جگہ گدھا ہے۔ دونوں نظموں کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے اور خود پر عائد پابندیوں کو کبھی سزا نہ سمجھنا چاہیے۔ ساتھ ہی، یہ نظم چھوٹے اور بڑے کے مابین نفسیاتی برتری کے تصور کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اقبال نظم کا اختتام اس شعر سے کرتے ہیں:

یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی

دل کو لگتی ہے بات بکری کی

اسی مقام پر جان ٹیلر یوں تحریر کرتی ہیں:

Not pleased to be schooled in this way by an ass;

'Yet," said she to herself, 'though he's not very bright,

I really believe that the fellow is right

یعنی: ’’گدھے سے اس طرح سے درس حاصل کرنے پر میں خوش تو نہیں، لیکن وہ زیادہ ذہین نہ ہونے کے باوجود درست کہتا ہے۔‘‘

اس نظم کے متعلق 1966ء کے سہ ماہی ’’اردو‘‘ (کراچی، ص 7) میں ڈاکٹر اکرم حسین لکھتے ہیں:

’’اقبال کی یہ نظم نہ صرف ماخوذ ہے بلکہ اس کا کامیاب ترجمہ بھی ہے۔ جان ٹیلر کے ہاں نظم کا عنوان مرکزی خیال کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ گدھا انسان کی تاریخ میں مظلوم ترین مخلوق ہے۔ اگر وہ اس کے باوجود انسان میں خیر کا پہلو تلاش کر سکتا ہے، تو یہ شاعر کے انسانی خیر پر یقین کی دلیل ہے۔ البتہ اقبال نے نظم کے ماحول کو مقامی رنگ دینے کی کامیاب کوشش کی اور مقامی روایات کے احترام میں عنوان کو بھی تبدیل کیا۔‘‘

یہ بات درست ہے کہ اقبال نے نظم کو مقامی رنگ دے کر بچوں کے لیے دلچسپ بنایا۔ مکالموں کو پرکشش اور منظرنگاری کو خوبصورت بنایا گیا، جو نظم کی ابتدا سے ہی بچوں میں تجسس پیدا کرتی ہے۔

بچے کی دعا

نظم ’’بچے کی دعا‘‘ کے نیچے انھوں نے ’’ماخوذ بچوں کے لیے‘‘ لکھا ہے۔ یہ نظم میٹلڈا باربرا بیتھم ایڈورڈز (Matilda Barbara Betham-Edwards) کی نظم سے ماخوذ ہے، جس کا کوئی رسمی عنوان نہیں، بلکہ غزل کی طرح اس کی پہلی سطر ہی عنوان ہے:

God make my life a little light

اقبال کی کلیات میں ’’ماخوذ‘‘ کا ذکر ہے، لیکن یہ نظم اردو کی درسی کتابوں، کاپیوں کے پچھلے صفحات اور دیگر مقامات پر اتنی عام ہوئی کہ لفظ ’’ماخوذ‘‘ گویا معدوم ہو گیا۔ اکثر لوگوں، حتیٰ کہ ہم جیسوں کو بھی، یہ وہم نہیں ہوتا کہ اقبال کی یہ مقبول ترین نظم ماخوذ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معاملہ صرف اس نظم تک محدود نہیں۔ دنیا میں کئی تخلیقات ایسی ہیں جو ترجمے کی زبان میں اپنی اصل زبان سے زیادہ مقبول ہوئیں اور اقبال کی نظمیں اس کی واضح مثال ہیں۔ ایک بڑی زبان (انگریزی) کی تخلیق کو اردو میں جو شہرت ملی، وہ اسے اپنی زبان میں نہ مل سکی۔ یہ تو محض اقبال کا کرشمہ ہے۔

انگریزی نظم کے چند بند ملاحظہ کریں:

1. God make my life a little light

Within the world to glow;

A little flame that burneth bright

Wherever I may go.

2. God make my life a little flower

That giveth joy to all,

Content to bloom in native bower

Although the place be small.

3. God make my life a little song

That comforteth the sad,

That helpeth others to be strong,

And makes the singer glad.

4. God make my life a little staff

Whereon the weak may rest,

That so what strength and health I have

May serve my neighbours best.

5. God make my life a little hymn

Of tenderness and praise;

Of faith—that never waxeth dim,

In all His wondrous ways.

انگریزی نظم کے الفاظ جیسے little light to glow, little flame burneth bright, little flower, اور that helpeth others to be strong  سے ماخوذ ہونے کی کیفیت واضح ہوتی ہے۔ اقبال نے شاعر کا نام شاید اس لیے نہیں لکھا کہ یہ محض ایک خیال کا اخذ تھا۔ ’’بچے کی دعا‘‘ میں فنی تخلیقیت کی جو خوبصورتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال نہ صرف خیال کے خطوط کو طے کرتے ہیں، بلکہ اسے کندن بنانے کے فن میں یکتا ہیں۔

نظم کا پہلا مصرع ہی لیجیے:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

یہ دعا بھی ہے اور تمنا بھی۔ بچوں کی نفسیات میں تمنا گہرا اثر رکھتی ہے اور جب یہ دعا سے ملتی ہے، تو اس میں جو یقین پیدا ہوتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ اقبال کی نظم کی ساری کیفیات میٹلڈا کی نظم سے ماخوذ ہیں، حتیٰ کہ آخری بند تک۔ لیکن اقبال نے اسے اپنے اشعار میں جس قالب میں ڈھالا، اس میں وسعت، اجتماعیت اور قرآنی دعا ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمْ‘‘ کا ترجمہ بھی جھلکتا ہے:

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو، اس راہ پہ چلانا مجھ کو

میں دونوں زبانوں کے ادب کا ماہر تو نہیں، لیکن جتنا سمجھ پایا ہوں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں کی زبان سازی اور اشعار میں وسعت لانے کا فن اقبال کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔

ماں کا خواب

خرم علی شفیق اپنی کتاب اقبال ابتدائی دور میں ’’ماں کا خواب‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مخزن میں قصور کے صدرالدین کی اسی موضوع پر ایک نظم شائع ہوئی تھی، اور اتفاق سے اس سے ملتی جلتی ایک انگریزی نظم The Mother’s Dream ولیم بارنس (William Barnes) کی تھی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ یہ معلوم نہیں کہ اقبال نے یہ نظم کب لکھی۔ کتاب میں یہ بحث بھی ملتی ہے کہ آیا اقبال نے یہ نظم پہلے لکھی یا صدرالدین نے، اور کیا اقبال نے صدرالدین سے خیال لے کر ’’ماخوذ‘‘ لکھا، کیونکہ ’’ماخوذ از‘‘ کا کوئی واضح ذکر نہیں۔

تاہم، اس نظم کی اصل اہمیت اس کے بیانیے میں ہے۔ انگریزی نظم میں ماں خواب سنانے سے پہلے بتاتی ہے کہ اس کا بیٹا مر چکا ہے (of little lad)، جبکہ صدرالدین کی نظم میں یہ بات درمیان میں آتی ہے (میرا بچہ بھی جو زندہ تھا)۔ اقبال کا بیانیہ خواب سے شروع ہوتا ہے، جس میں ماں اور بچے کے زندہ ہونے کا احساس یکساں ہے۔ یہ خواب گویا بچے کے ذریعے ماں کو سمجھانے یا خبردار کرنے کی کوشش ہے کہ اگر کچھ ہوا تو کیا ہوگا، یا یہ کہ بچے کے ساتھ ہونے والے واقعات زمین سے متعلق ہیں۔

خرم علی شفیق اقبال کی بچوں کی نظموں میں تدریجی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اقبال کے ہاں روشنی علم کا استعارہ تھی، جو انسان کی شخصیت کو بدل دیتی ہے، بلکہ تصوف کی رو سے ایک طرح کی فنا سے ہمکنار کر کے نئی شخصیت عطا کرتی ہے۔ بچے کا ان مراحل سے گزرنا ماں کے خواب میں موت کے استعارے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وہ دیا جو بچے کے ہاتھوں میں روشن نہیں تھا، کیا وہی نہیں جس کی دعا ’’بچے کی دعا‘‘ میں مانگی گئی، اور جس کی بدولت ’’ہمدردی‘‘ میں جگنو نے بلبل کی رہنمائی کی؟‘‘ 

(اقبال ابتدائی دور، خرم علی شفیق، اقبال اکیڈمی پاکستان، ص 290)

روشنی کا استعارہ ’’بچے کی دعا‘‘ کے پہلے، دوسرے اور چوتھے شعر میں براہ راست موجود ہے، جبکہ ’’ہمدردی‘‘ میں شمع اور جگنو کی شکل میں اس کی مکمل تفسیر ملتی ہے، جو بچوں کے لیے سمجھنے میں آسان ہے۔

ہمدردی

اقبال کی اس مختصر نظم پر ’’ماخوذ از ولیم کوپر‘‘ لکھا ہے، لیکن یہ ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ یہ ولیم کوپر (William Cowper) کی کس نظم سے ماخوذ ہے۔ کیا یہ The Nightingale and Glow-Worm سے لی گئی ہے؟ تاہم، اس نظم کا مطالعہ کرنے پر یہ خیال ابھرتا ہے کہ یہ ’’پرندے کی فریاد‘‘ سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ دونوں میں جگنو موضوعِ سخن ہے۔ اگر اقبال نے دونوں نظمیں اسی انگریزی نظم سے اخذ کیں، تو یہ ممکن ہے۔ لیکن ’’پرندے کی فریاد‘‘ میں ’’ماخوذ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ شاید یہ نظم ابتدائی اشاعت میں ’’ماخوذ از انگریزی‘‘ کے ساتھ شائع ہوئی ہو، لیکن موجودہ کلیات میں ایسی کوئی نشاندہی نہیں۔

ایک نوجوان اسکالر ابن منیب نے اشارہ کیا ہے کہ ولیم بلیک (William Blake) کی نظم The Dream سے ’’ہمدردی‘‘ کے مضمون کا میل ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ شروع میں بلیک کی جگہ کوپر کا ذکر غلطی سے ہوا ہو، جو آج تک چلا آرہا ہے۔ دونوں نظموں میں بیانیہ یکساں ہے: ایک پرندہ رات کے اندھیرے میں پھنس جاتا ہے، اور بلبل اس کی مدد کی پیشکش کرتا ہے۔

پرندے کی فریاد

یہ 11 اشعار کی نظم ہے، جس کے ساتھ اقبال نے ’’بچوں کے لیے‘‘ لکھا ہے۔ اس کا اسلوب اور انداز بتاتا ہے کہ یہ بھی کسی انگریزی نظم سے ماخوذ ہے۔ ایک زمانے میں یہ بات عام تھی کہ اقبال ولیم کوپر سے بہت متاثر تھے اور ان کی نظموں کو اردو میں زندہ جاوید کیا۔ اسی بنا پر شبہ ہوتا ہے کہ یہ نظم بھی ماخوذ ہے۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ ضرور کسی نہ کسی محقق نے اس جانب اشارہ کیا ہوگا کیونکہ مضمون بھی کچھ اس جانب اشارہ کر رہا تھا۔ تو مجھے گیان چند جین کی کتاب ’’ابتدائی کلام اقبال بہ ترتیب مہ و سال میں ایک جملہ لکھا ہو املا ’’ڈاکٹر سید حامد حسین لکھتے ہیں کہ یہ اٹھارہویں صدی کے انگریزی شاعر ولیم کو پر کی نظم on a gold pinch straced to dath in hi cage سے ماخوذ ہے، لیکن جب میں نے یہ نظم تلاش کی تو مجھے اول pinch کے مقام پر finch ملا اور اس میں خیال کچھ اس طرح ہے کہ اس میں وہ آزادی کا زمانہ یاد کر رہا ہے۔ یہاں پر بھی اقبال اس کو اردو میں بچوں کے ماحول میں ڈھال کر کے پیش کر رہے ہیں۔ تو گویا کہا جا سکتا ہے کہ اس تھیم کو بھی اقبال نے ولیم کو پر سے حاصل کیا ہے۔ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

اس نظم کا پرانا عنوان ’’میرا وطن‘‘ تھا۔ یہ چار بندوں پر مشتمل ہے، جن میں سے پہلے تین بند یکساں ہیں، لیکن کلیات میں شامل کرتے وقت چوتھے بند میں نمایاں تبدیلی کی گئی۔ موازنہ ملاحظہ کریں:

پرانا مصرع: گوتم کا جو وطن ہے، جاپان کا حرم ہے

نیا مصرع: بندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سینہ

قدیم مصرع میں انفرادیت جھلکتی ہے، جبکہ جدید مصرع اجتماعیت کی عکاسی کرتا ہے۔

پرانا مصرع: عیسیٰ کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے

نیا مصرع: نوح نبی کا آکر ٹھہرا جہاں سفینہ

قدیم مصرع مخصوص مذہب کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو محدود دائرے اور تفریق کی بو دیتا ہے۔ جدید مصرع میں اقبال ہند کی عظمت کو آدم ثانی تک لے جاتے ہیں، اور تفریق کی کیفیت ختم کرتے ہیں۔

پرانا مصرع: مدفون جس زمیں میں اسلام کا ختم ہے

نیا مصرع: رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینہ

یہاں اقبال ماضی سے حال کی طرف لوٹتے ہیں اور ہمالہ کی عکاسی کرتے ہیں، جو قومی گیت کے مضمون کے لیے موزوں ہے۔

پرانا مصرع: ہر پھول جس چمن کا فردوس ہے، ارم ہے

نیا مصرع: جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

یہ آخری مصرع نظم کا نچوڑ ہے اور اسے نظم کا حاصل کہنا بجا ہے۔

ترانہ ہندی اور مذکورہ بالا نظم ہندوستانی بچوں کا قومی گیت بظاہر ایک ہی موضوع پر لکھی گئی دو نظمیں ہیں جن میں سے آ ایک کو یقینی طور پر ترانہ کا درجہ ملا جسے بلا تفریق مذہب وملت پورا ہندوستان ایک لے میں گاتا ہے۔ جبکہ قومی گیت کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا جبکہ اس میں اشعار کی تعداد صرف آٹھ ہیں۔ اس کے لیے جب ہم اسلوب میں پہنچ کر بات کریں گے تو احساس ہوگا کہ اس میں اسباب و عوامل پر بات نہیں ہوتی ہے بلکہ اس میں اختصاصات پر بات صلہ و موصول کے بغیر ہوتی ہے اسی وجہ سے یہ ترانہ کے بجائے قومی گیت بن کر رہ گیا ہے اور اس کی وجہ لفظ جس ہے۔ ورنہ ترانہ کی بنیادی خصوصیت جوش و ولولہ اور آہنگ ہے۔ باقی واللہ اعلم۔ 

میں نے یہاں پر نظموں کا تجزیہ پیش نہیں کیا ہیبلکہ صرف اس جانب اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کسی بھی خیال کو کسی طرح اعلی تخلیق مثال بنا کر پیش کرتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

بانگ درا میں بچوں کی نظمیں

 بانگ درا میں بچوں کی نظمیں علمِ تشریعیات میں ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، جو اب محاورے کی طرح مستعمل ہے۔ اس سے مراد کسی فن یا مو...