پروفیسر دلوی کی مقدمہ نگاری
پروفیسر عبدالستار دلوی کا شمار عہدِ حاضر کے ان اساطینِ ادب میں ہوتا ہے جنہوں نے زبان و ادب کے نشیب و فراز کو عہدِ ترقی پسند سے لے کر اب تک دیکھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ممبئی کی ادبی محفلوں میں اہم ادیبوں کے ساتھ وقت گزارا، بلکہ تمام ادبی و تحقیقی خدمات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اپنی بے باک رائے سے بھی نوازا۔ ان کی کسی ایک کتاب پر لکھنا خود ایک مشکل مرحلہ ہے اور ان کی تمام ادبی خدمات پر گفتگو کرنا گویا ایک امرِ محال ہے۔ گو کہ یہ ایک باضابطہ پروجیکٹ کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی کتابوں کے مقدمات، پیش لفظ اور ابتدائی کلمات پر نظر ڈال کر ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے اور اسی دریچے سے ان پر گفتگو کی جائے ،لیکن جب اس حوالے سے تلاش و جستجو کی تو مجھے ڈاکٹر رئیسہ ناز کا ایک مضمون اسی عنوان سے ملا۔ میں نے اسے بغور پڑھا، مگر پھر بھی میری تمنا رہی کہ اسی موضوع پر کچھ میں بھی لکھوں۔ شاید عمومی تاثرات سے کچھ خصوصی باتیں سامنے آجائیں۔ چنانچہ مطالعے کے دوران مجھے بخوبی احساس ہوا کہ انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’انتخابِ کلامِ مصحفی‘‘ سے جو پیغام دینے کی کوشش کی، وہ آخر تک قائم رہا۔ دلوی صاحب کا شمار عہدِ حاضر کے اہم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ وہ محقق، ناقد، مرتب، مؤلف اور مدون بھی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی تحریروں کا بے باک اسلوب انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ عہدِ حاضر کے مروجہ ناقدین کی فہرست سے الگ ہیں، کیونکہ ان کے تنقیدی افکار میں وہ دائروی اسلوب نہیں جو رائج ہے، جس کی وجہ سے قاری واضح پیغام حاصل نہیں کر پاتا۔
یہاں پر میں مقدمہ نگاری کے اصول کی جانب نہیں جاتا ہوں ،ان اصول کو دیکھنے کے ہر ایک کے انداز الگ الگ ہیں ۔ ہم جب ماضی میں دیکھتے ہیں تو مشرقی علو م کی کتب میں بہت ہی اہم مقدمے ملتے ہیں جہاں مقدمہ نگاری باضابطہ اپنی ایک الگ انسائیکلو پیڈیا قائم کرتا ہے۔ اردو کے مشہور مقدموں میں مقدمۂ شعر و شاعری:حالی، مقدمہ ٔتاریخ زبان اردو :مسعود حسین خاں ،مقدمہ ٔکلام آتش : خلیل الرحمن اعظمی اور محاسن کلام غالب ، ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کے وہ مقدمے ہیں جو اتنے مشہور ہوئے کہ باضابطہ کتابی شکل میں شائع ہورہے ہیں ۔ اردو کے دیگر اہم مقدمہ نگاروں میں مولوی عبدالحق ، رشید حسن خاں ، مالک رام اور قاضی عبدالودود ہیں ۔دیگر زبانوںکا علم نہیں لیکن عربی میں مقدمہ نگاری کی بہت ہی مضبوط روایت رہی ہے ، مقدمہ ابن خلدو ن تو سب سے زیادہ مشہور ہے ہی لیکن وہاں کی کتب میں آپ کے ایسے مقدمے ملیں گے جو مابعد کے لیے علم کی دھارا طے کرتے ہیں ۔ علم حدیث میں صحیح مسلم کا مقدمہ ،
مقدمہ بذل ا لمجہود : شیخ خلیل احمد سہارنپور ی، فتح الملہم :شبیر احمد عثمانی ، مقدمہ نخبۃ الفکر۔ یاقوت حموی کا معجم الأدبا اور معجم البلدان کے مقدمے ۔ علم لغت میں ہمارے ہندوستانی عالم سید محمد مرتضی الحسین الزبیدی کا تاج العروس کا مقدمہ ۔جاحظ کی کتابوں کے مقدمے۔ العقد الفرید ، مرو ج الذہب ، الوافی بالوفیات اور دلائل النبوۃ میں شامل مقدمے۔ المفصل کا مقدمۂ زمخشری اور حاجی خلیفہ کا کشف الظنون کا مقدمہ اور نہ جانے کتنے مقدمے ہیں جن کی علمی شناخت اصل کتب سے بھی زائد ہیں ۔
خیر، اصل متون کی جانب بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دلوی صاحب اپنے مقدمات کے ذریعے قاری کو اپنی کتب کی اہمیت پر کس طرح قائل کرتے ہیں۔
ان کی پہلی کتاب ’’انتخابِ کلامِ مصحفی‘‘ 1960ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب انہوں نے محض تیئس برس کی عمر میں مرتب کی، جب وہ ماسٹرز کے طالب علم تھے۔ یہ یقیناً ان کی خداداد صلاحیت کا ثبوت ہے کہ اس کم عمری میں وہ کلاسیکی ادب سے مکمل ہم آہنگ ہوئے اور مصحفی کے کلام کے انتخاب کے ذریعے نہ صرف اردو دنیا میں مصحفی کو نئے سرے سے متعارف کرایا، بلکہ خود کو بھی ایک معتبر ادیب کے طور پر منوایا۔ یہ کتاب محض ایک مقدمے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے چار صفحات اور چند سطروں کے مختصر پیش لفظ میں انہوں نے مصحفی کے کلام کی اہمیت کو نہایت خوبی سے واضح کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کئی نئے نظریات پیش کیے جن کے ذریعے انہیں فکری اولیت کا مقام حاصل ہوا۔
مصحفی کے کلام کے رنگ کو جب الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’ہر شاعر اپنے پیش روؤں کے جذبات و محسوسات سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، اور پھر اسی کوشش کے تحت اس کا اپنا رنگ نکھر آتا ہے۔ مصحفی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔‘‘
اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ مصحفی کا جو جداگانہ رنگ نظر آتا ہے، وہ اچانک وجود میں نہیں آیا، بلکہ یہ ایک تدریجی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مصحفی کے کلام میں ’’میر کا سوز، سودا کا ساز، درد کا تصوف، اور جرأت و انشا کی رنگینی و معاملہ بندی‘‘ رچی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اگر اسے مزید مختصر کیا جائے، تو دلوی صاحب اس طرح لکھتے ہیں:
’’میر، سودا، اور درد کی شاعرانہ خصوصیات کو یکجا کیا جائے، تو مصحفی کا اپنا رنگ نکھر آتا ہے۔‘‘
دلوی صاحب کے ان جملوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے مصحفی کی شاعری کی اہمیت کو کس خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ مصحفی یقیناً ہمارے بہت اہم شاعر ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کی تمام روایات کے ساتھ مستقبل کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ وہ اپنی فکر کے ساتھ ایک منفرد آہنگ بھی سامنے لاتے ہیں۔ بقول دلوی:
’’مصحفی کے قدیم و جدید رنگ کے پیش نظر ہم انہیں دلی اور لکھنؤکی درمیانی کڑی کہہ سکتے ہیں، جو بعد میں ایک دبستان کی صورت اختیار کر گئی۔‘‘
یہ دبستان ان کے شاگردوں کی صورت میں نظر آتا ہے، جہاں سے ان کا رنگ اردو شاعری میں مزید چھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تائید فراق بھی کرتے ہیں اور اس کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’اگر میر کے ہاں آفتابِ نصف النہار کی پگھلا دینے والی گرمی ہے، تو سودا کے ہاں اس کی عالمگیر روشنی ہے۔ لیکن جب آفتاب ڈھل جاتا ہے، تو سہ پہر کو گرمی اور روشنی میں جو اعتدال پیدا ہوجاتا ہے، وہ مصحفی کے کلام کی خصوصیت ہے۔‘‘
ان جملوں کی بندش سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالستار دلوی اپنی پہلی کتاب سے ہی نہایت جامع تحریر کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔لیکن اسی مقدمے میں ایک جملہ ملتا ہے:
’’میر و سودا کا زمانہ سیاسی اور معاشی اعتبار سے تاریخِ ہند کا سخت ترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اسی بدحالی کے دور میں تصوف پرورش پاتا ہے تاکہ سیاسی دستبرد سے بچ کر مذہب کے سائے میں پناہ لی جا سکے۔‘‘
یہ ایک خاص جملہ ہے، جو کسی عمل کے ردعمل کے طور پر ایک کلیہ صادق کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر درست نہیں، کیونکہ اس عہد کے بعد حالات مزید خراب ہوئے، لیکن تصوف اور کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ غالب اور داغ تک آتے آتے تصوف کی شدت نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ دراصل، جیسے جیسے مادی دور کا اثر بڑھتا گیا، روحانی معاملات کمزور پڑتے گئے۔ تاہم، یہ حقیقت ہے کہ مصحفی کی شاعری میں تصوف بہت گہرائی سے نظر آتا ہے۔
عبدالستار دلوی کا علمی سفر انتخاب مصحفی کی اشاعت سے شروع ہوتا ہے، جس میں انہوں نے ایک جامع اور پرمغز مقدمہ تحریر کیا ہے۔ یہ سفر آگے بڑھتا ہے اور صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں ان کا دوسرا انتخاب ’’انتخاب چکبست‘‘ اگست 1960ء میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا مقدمہ انتخاب مصحفی کے مقدمے کی طرح مختصر نہیں بلکہ تفصیلی ہے۔ مصحفی کے مقدمے میں انہوں نے مثالیں پیش نہیں کیں، جبکہ اس مقدمے میں ہر دعوے کے لیے مثال دی گئی ہے۔ ان کے شستہ جملے آج بھی اپنی رونق سے چکبست کی شاعری کو نمایاں کرتے ہیں۔
سب کو معلوم ہے کہ چکبست لکھنوی شاعر تھے، جہاں کی شاعری کی خصوصیت خارجیت تھی۔ تاہم، آتش نے لکھنوی شاعری کو خارجیت سے داخلیت کی طرف موڑا اور اردو شاعری کی مختلف جہتوں کو اپنے کلام میں سمو دیا۔ یہ یقیناً آتش کا اختصاص تھا، لیکن چکبست نے بھی اسی روش کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی شاعری میں موضوعاتی تنوع پیدا کیا، جو لکھنوی شاعری کو ایک نئی شناخت دیتا ہے۔
چکبست کے عہد میں شاعری کا منظرنامہ بدل گیا تھا۔ گل و بلبل کی شاعری سے ہٹ کر موضوعاتی اور زندگی سے قریب شاعری میں سب اپنا ہنر آزما رہے تھے۔ دلوی لکھتے ہیں:
’’چکبست چونکہ اپنے ماحول کی پیداوار تھے، وہ عصری، سیاسی و سماجی اثرات سے متاثر ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری جنگ آزادی، قومی تصورات، حب الوطنی، تعلیم نسواں، اور پردے سے عبارت ہے۔‘‘
یہ اس عہد کے اہم موضوعات تھے، جن پر سماجی اصلاح کے لیے کافی طبع آزمائی کی گئی۔ لکھنوی شاعری کا روایتی رنگ زائل ہو چکا تھا اور نئی شاعری رائج ہو رہی تھی۔
دلوی صاحب کا یہ کہنا :
’’چکبست نے لکھنؤ کی خارجیت سے ہٹ کر داخلیت کو رواج دیا اور شاعری میں چونچلوں اور معاملہ بندیوں کو کم کر کے حیات و کائنات کے مسائل کو اپنے ملک و سماج کی دردمندانہ کیفیت کے ساتھ الم آگیں داستانیں سنائیں‘‘
جزوی طور پر درست ہے۔ اقتباس کا دوسرا حصہ درست ہے، لیکن پہلا جملہ اس لیے مناسب نہیں کہ اس سے دیگر شعرا، جنہوں نے اٹھارہویں صدی سے لکھنؤ میں داخلیت کو فروغ دیا، کی نفی ہوتی ہے۔
دلوی صاحب کے مقدمے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی شاعر کو نمایاں کرنے کے لیے ایک منفرد انداز اپناتے ہیں، جس میں وہ ماقبل شعرا کی خصوصیات کو ممدوح میں مرکب انداز سے پیش کرتے ہیں، جیسا کہ مصحفی کے مقدمے میں دیکھا گیا۔ یہاں بھی وہی انداز نظر آتا ہے:
’’چکبست کی غزلوں میں آتش، غالب، اور حالی کے اثرات نمایاں طور پر موجود ہیں۔‘‘
وہ چکبست کے کلام میں آتش کی مرصع کاری، غالب کی اثر انگیزی، اور حالی کی اصلاح کی جھلک دیکھتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ وہ حب الوطنی کے معاملے میں اقبال کا اثر بھی ظاہر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
’’اقبال کے بعد چکبست وہ نمایاں شاعر ہیں جن کے کلام میں حب الوطنی کے عناصر سب سے زیادہ رچے ہوئے ہیں۔‘‘
چکبست کے عہد تک ماحول کافی بدل چکا تھا۔ اقبال جہان بینی اور مشرقی اقدار کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ اکبر مغرب کی اندھی تقلید کی طنزیہ انداز میں مخالفت کرتے ہیں، لیکن چکبست کے ہاں اعتدال نمایاں ہے۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’چکبست اسی اعتدال پسند گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اکبر کی طرح سائنس کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کی افادیت پر غور کرتے تھے۔‘‘
اسی وجہ سے ان کے ہاں یہ شعر ملتا ہے:
رخ سے پردہ کو اٹھایا تو بہت خوب کیا
پردۂ شرم کو دل سے نہ اٹھانا ہرگز
مقدمے کا اہم حصہ وجہ تصنیف ہوتا ہے، لیکن بہت سے مصنفین اس لازمی عنصر پر توجہ نہیں دیتے۔ انتخاب مصحفی میں انہوں نے مصحفی کی شاعری کے بارے میں کیے گئے دعووں کے مطابق ان کے ہر رنگ کے اشعار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتخاب چکبست میں وجہ تالیف یہ بیان کی گئی ہے:
’’چکبست کا یہ انتخاب ’صبح وطن‘ کی کمیابی اور ادب کے طالب علموں کی ضرورتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کوشش کی گئی ہے کہ چکبست کے ہر رنگ کے شعر ایک جگہ پر جمع ہوں تاکہ شاعر کے مطالعہ و میلان طبع کو سمجھنے کے لیے مواد میسر ہو۔‘‘
الغرض اس مقدمے میں انہوں نے مصحفی کے مقدمے کے برخلاف تفصیل سے کام لیا ہے۔ جہاں مصحفی کے مقدمے میں مثالوں سے پرہیز کیا گیا تھا، وہیں اس میں دیگر شعرا کے تقابل کے ساتھ تفصیلی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے بخوبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ چکبست کے بغیر اساتذہ اور شعرا کی فہرست نامکمل رہتی ہے۔
’’اردو میں لسانیاتی تحقیق ‘‘عبدالستار دلوی کی اہم کتب میں سے ایک ہے، جو 1971ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کا پیش لفظ ماہر لسانیات پروفیسر مسعود حسین خاں نے لکھا، جس میں انہوں نے دلوی کی پیش رفت کو بہت سراہا ہے۔ انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ دلوی سے پہلے جن لوگوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا، ان کا ذکر کتاب میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا:
’’نئی نسل، جس نے لسانیات کے توضیحی اور تاریخی دونوں پہلوؤں پر لکھا، ان کے نام ڈاکٹر عبدالستار دلوی کی اس تالیف میں شامل ہیں۔‘‘
یہ کتاب اس وقت کے اہم محققین اور دانشوروں کے مضامین پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا مقدمہ نہایت علمی ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں انہوں نے سات نکات کی جانب توجہ دلائی ہے، جن پر باضابطہ کام کرنے اور ماسٹرز کی سطح پر تعلیم دینے کی ضرورت ہے:۱۔اردو کا صوتی تجزیہ، ۲۔اردو کا صرفی و نحوی مطالعہ،۳۔اردو کی مختلف بولیوں کا جائزہ، ۴۔اردو زبان کی تدریس کا مسئلہ،۵۔اردو کے سماجی و ثقافتی پہلو،۶۔ذو لسانیات اور اردو،۷۔اردو لغت کی تدوین۔
واضح رہے کہ۵۵برس قبل انہوں نے یہ کتاب ترتیب دی، جس میں ان عناصر کی جانب توجہ دلائی گئی۔ یقیناً اس کے بعد اردو لسانیات میں کافی ترقی ہوئی، لیکن دلوی کی اس وقت کی شکایت درست تھی کہ ’’اردو میں لغت کی تدوین بنیادی اور اہم ضرورت ہے۔ گو اردو میں لغتوں کی کمی نہیں، لیکن مشکل سے کوئی ایسی لغت ملتی ہے جو تمام ضروریات پوری کرے۔‘‘ انہوں نے تفصیل دی کہ لغت کیسی ہونی چاہیے اور بطور مثال آکسفورڈ انگلش ڈکشنری پیش کی۔یہ حقیقت ہے کہ آج بھی کوئی ایسی لغت ترتیب نہیں دی گئی جس میں ایک لفظ کی تمام مشتقات (اسم، فعل، صفت وغیرہ) کا ذکر ہو۔ آج کل موبائل ایپلیکیشنز کی صورت میں موجود لغات میں بہت ترقی ہوئی ہے، لیکن وہ مشتقات سے خالی ہیں۔ بعد میں اردو لغت بورڈ کراچی نے ’’اردو لغت: تاریخی اصولوں پر‘‘ بائیس جلدوں میں ترتیب دی، جس میں بہت سا مواد شامل کیا گیا اور یہ اب تک کی سب سے ضخیم اردو لغت ہے۔ میرے خیال میں کئی دیگر عالمی زبانوں کے مقابلے میں اردو کا یہ اہم کام انجام پایا ہے۔اس کے علاوہ جن نکات کی جانب دلوی نے اشارہ کیا، ان میں سے ایک لسانیاتی تحقیق ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب سے لسانیات ایک باضابطہ شعبہ بنا، تب سے اردو کے کورسز میں لسانیات برائے نام رہ گئی ہے، حتیٰ کہ صرفی و نحوی موضوعات بھی نہیں پڑھائے جاتے۔ بہت سے طلبا جو گریجویشن میں اردو لیتے ہیں، صرفی و نحوی معاملات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایم اے کی سطح پر لسانیات کی تعلیم کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟ یہ اردو شعبوں کے لیے ایک تشنہ طلب موضوع ہے۔الغرض، جب وہ یہ کتاب ترتیب دے رہے تھے، اس وقت کے ماہرین کی تحریریں ان کی اجازت سے شامل کی گئیں، اور مقدمے میں ان کا پرخلوص شکریہ ادا کیا گیا۔ ساتھ ہی مقدمے میں لسانیات کی تعلیم کے حوالے سے جو فکر اس زمانے میں کی گئی تھی، وہ آج بھی موجود ہے۔
’’رانی کیتیکی کی کہانی‘‘۱۹۷۲ء میں منظر عام پر آتی ہے، جس میں پروفیسر عبدالستار دلوی ایک مدون کی حیثیت سے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ اس کتاب کا مقدمہ سترہ صفحات پر مشتمل اور طویل ہے۔ اب تک کی روایت کے مطابق مقدمات کے صفحات مسلسل بڑھ رہے ہیں، پھر بھی اس مقدمے میں انشاء اللہ خاں انشاء سے متعلق تقریباً سب کچھ اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔
ابتدا میں فورٹ ولیم کالج کا ذکر ہے، جہاں سے اردو نثر نے نیا موڑ لے کر باضابطہ سہل اور سلیس شکل اختیار کی۔ رانی کیتکی کی نثر کا معیار اسی تجربے سے ملتا جلتا، بلکہ اس سے بڑھ کر ہے، کیونکہ انہوں نے خالص دیسی الفاظ کے استعمال کا دعویٰ کیا ہے۔ اس میں انشاء کی دیگر تصنیفات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جب رانی کیتکی تک بات پہنچتی ہے تو ہندوستانی زبان کی ایک نئی بحث شروع ہوتی ہے، لیکن اسے جلد موقوف کر کے کہانی کی طرف آگے بڑھا جاتا ہے۔ اس کے بعد انشاء کے اس دعوے پر بات کی گئی کہ یہ کہانی خالص ہندی ہے۔ حالانکہ ہندی کی ’’یائے نسبتی‘‘ ہندی نہیں، ’’بے‘‘ کا سابقہ ہندی نہیں، ’’طبلہ‘‘ ہندی نہیں، اور ’’لالٹین‘‘ بھی ہندی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بہت کچھ ہے، جس کا تعلق دیگر زبانوں سے ہے۔ الغرض وہ تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کتاب کو مولوی عبدالحق نے بڑی محنت سے تدوین کیا تھا، تو پھر ایسی کیا نئی بات سامنے آئی کہ دلوی کو تدوین کرنی پڑی؟ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:
’’اس کہانی کا یہ نیا روپ ڈاکٹر مولوی عبدالحق اور شام سندر داس کے اردو اور ناگری نسخوں کا موازنہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ بنیادی اہمیت ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے نسخے کو دی گئی ہے، کیونکہ اسے زیادہ نسخوں کو سامنے رکھ کر ایڈٹ کیا گیا تھا۔ شام سندر داس کے نسخے میں موجود اضافی مواد کو اس نئے نسخے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس طرح امید ہے کہ ہندوستانی کہانی رانی کیتکی زیادہ مکمل صورت میں سامنے آئی ہوگی۔‘‘
وجہ تدوین واضح ہو جاتی ہے۔اس مقدمے میں اسلوبیاتی سطح پر ایک نئی بات نظر آئی کہ انہوں نے ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال کیا ہے۔ اس وقت ان کے ذہن میں اردو سے زیادہ ہندوستانی زبان کا تصور تھا، اس لیے شاید ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ ساہتیک، سیوائیں، لیکھک، گدھ، راج نیتیک جیسے الفاظ پرتکلف اسلوب میں ملتے ہیں۔ جیسے ایک جملہ یوں ہے:
’’انشاء اللہ خاں انشاء اردو کے مشہور شاعر اور ہندوستانی کے ابتدائی ادیب یا لیکھک ہیں۔‘‘
یہاں انہوں نے اردو کے ساتھ ’’شاعر‘‘ اور ہندوستانی کے ساتھ ’’لیکھک‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس پر مزید بحث آئندہ مقدمات میں ملے گی۔
’’امرت بانی ‘‘ہندوستانی رنگ کی شاعری کا انتخاب ہے، جو ۱۹۷۵ء میں منظر عام پر آیا، لیکن اس کے مقدمے میں ۱۸ اگست۱۹۷۶ء کی تاریخ درج ہے۔ سب سے پہلے اس کتاب کی وجہ تالیف پر غور کرتے ہیں۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اردو اور ہندی شاعروں سے ہندوستانی شاعری کا یہ انتخاب تیار کرتے وقت یہ خیال رکھا گیا کہ اس میں جہاں تک ممکن ہو، ایسی کویتائیں اور غزلیں شامل کی جائیں جو ملی جلی ہندی اور اردو کا نمونہ ہوں اور گنگا جمنی زبان کی عکاسی کریں، جو گاندھی جی کے ہندوستانی نظریے کے مطابق ہو۔‘‘
یعنی اس کتاب میں انہوں نے ایسی شاعری کو جگہ دی ہے، جس میں ہندوستانی رنگ بھرپور نظر آئے۔
اس انتخاب پر یہ بحث نہیں کہ آیا وہ واقعی ہندوستانی زبان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ رانی کیتکی کے بعد اگر دیکھا جائے تو کیا اس میں دیسی الفاظ کا بھرپور استعمال ہوا؟ یہ تجزیے کا ایک الگ موضوع ہو سکتا ہے۔ یہاں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس مقدمے سے دلوی کا کیا نظریہ سامنے آتا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر گاندھی جی کی لسانی پالیسی کے تحت ہندوستانی کو اپنایا جائے تو اس زبان میں بہت وسعت آ سکتی ہے لیکن اس کتاب کی اشاعت کو تقریباً پچاس برس ہو چکے ہیں اور ہندوستانی کا نظریہ تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔
اردو اور ہندی میں ادبی طور پر کافی فاصلہ نظر آتا ہے۔ دونوں کی لسانی خصوصیات الگ ہیں، لیکن بول چال کی سطح پر وہ تقریباً ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ لیکن اس تناظر میں ہندوستانی نامی کوئی زبان آج تک منظر عام پر نہیں آ سکی۔ اگرچہ اس سلسلے میں بہت کوششیں کی گئیں۔ گاندھی جی ۱۹۴۵ء میں لکھتے ہیں:
’’یہ زمانہ ہندی اور اردو کا ہے۔ یہ دونوں نڈیاں ہیں۔ ان سے ہندوستانی کی تیسری ندی ظاہر ہونے والی ہے۔‘‘
لیکن آج تک یہ تیسری ندی ظاہر نہیں ہو سکی۔ البتہ، بول چال کی زبان میں بار بار کہا جاتا ہے کہ ہم جو زبان بولتے ہیں، وہ ہندوستانی ہے۔ لیکن اردو والے اسے اردو اور ہندی والے اسے ہندی کہتے ہیں۔
اسلوبیاتی طور پر امرت بانی کی زبان ماقبل کے مقدمے کی طرح ہے، اور متعدد مقامات پر ہندی الفاظ کا پرتکلف استعمال ملتا ہے۔ اس کی مثال ایک جملے میں ملاحظہ کیجیے:
’’ہندوستانی کی بھاشک پرمپرا سے سمبندھت شاعری کے نمونے شمالی ہندوستان میں خسرو اور دکنی کے دور کے درمیان بہت کم ملتے ہیں۔ لیکن بول چال کی زبان کی حیثیت سے اس کا اپیوگ برابر ہوتا تھا۔‘‘
الغرض اس کتاب سے گاندھی جی کے ہندوستانی نظریے کو فروغ دیا گیا ہے لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر اردو والے آگے بڑھ رہے ہیں تو ہندی والے اس سلسلے میں کیا پیش قدمی کر رہے ہیں؟ جس طرح ہم نے اردو کے اکثر شعرا کو ہندوستانی کے خانے میں پیش کیا اور چند ہندی شعرا کو بھی شامل کیا، کیا ہندی والے بھی ہمارے شعرا کو اپنے ہندوستانی نظریے کے تحت شامل کریں گے؟ ایسا ہونا اب ناممکنات میں سے لگتا ہے۔
’’گھر آنگن‘‘ جاں نثار اختر کی رباعیوں کا مجموعہ ہے، جس کی دوسری اشاعت دیوناگری اور نسخ رسم الخط میں پروفیسر عبدالستار دلوی کی ترتیب سے مہاتما گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام شائع ہوئی۔ یہ مجموعہ اپنے اندر وہی انفرادیت رکھتا ہے جو فراق گورکھپوری کے روپ میں پائی جاتی ہے۔ تاہم، بنیادی فرق یہ ہے کہ روپ میں مرداساس فکر کی نمائندگی کی گئی ہے، جبکہ گھر آنگن میں مشرقی عورت کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ دلوی صاحب اسے یوں بیان کرتے ہیں:
’’گھر آنگن کی رباعیوں میں ہندوستانی عورت کا وہ روپ نظر آتا ہے، جسے اپنے گھر کے ہر کام کرنے میں روحانی مسرت اور تسکین ملتی ہے۔… گھر آنگن ہمارے گھروں میں پائے جانے والے جذبات کے ساتھ ساتھ گھر وں میں بولی جانے والی ہندوستانی زبان کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔‘‘
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ اردو شاعری کی روایت میں گھر آنگن اپنی ایک نمایاں شان رکھتا ہے۔ اس کا مقدمہ نہایت علمی ہے۔ رباعیوں کے موضوعات کے سلسلے میں اردو شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں اور فراق سے جاں نثار اختر تک کے سفر کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔ فراق کے ہاں رس کی جو کیفیت نظر آتی ہے، وہ مردانہ تناظر سے ہے، جبکہ جاں نثار اختر عورت کے تناظر سے جذبات پیش کرتے ہیں۔ پورا مجموعہ پتی ورتا کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے۔
اسلوبیاتی اعتبار سے اس مقدمے میں بھی دلوی ہندوستانی زبان کو فوقیت دیتے ہیں اور چند خالص ہندی الفاظ، جو اردو جملوں میں عام نہیں، استعمال کر کے ہندوستانی کی مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بطور مثال ایک جملہ ملاحظہ کیجیے:
’’جا ں نثارر اختر نے دونوں زبانوں کے کومل، سرل اور پربھاوی شبدوں کے استعمال سے اپنی شاعری اور جذبات کو سجایا ہے۔‘‘
’’ادبی اور لسانی تحقیق اصول اور طریقہ کار‘‘ ’’اردو نامہ سیریز کی پہلی کتاب‘‘ ہے، جو مارچ ۱۹۸۴ء میں شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی کے تحت منظر عام پر آئی۔ اس کتاب کے پورے مقدمے میں دلوی نے شعبہ اردو کی ابتدا اور اس کے ابتدائی برسوں کی ادبی کارگزاریوں کو پیش کیا ہے۔ کسی بھی ادبی مبحث پر کوئی تفصیلی گفتگو نظر نہیں آتی، لیکن اس زمانے میں سب سے بڑی بحث یہی تھی کہ تحقیق میں نوواردین کے لیے کوئی ایسی جامع کتاب تیار کی جائے جو ان کی تحقیق میں ’’بہت ہی زیادہ ممدو معاون ہو‘‘۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے دلوی نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس کتاب میں ادب کے مضامین جمع کیے ہیں۔
یقیناً اس وقت سے لے کر آج تک یہ کتاب سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے کئی برس بعد گیان چند جین کی ’’تحقیق کا فن‘‘ منظر عام پر آئی۔ جس طرح دلوی نے ’’اردو نامہ سیریز‘‘ کے تحت اس کتاب کو شائع کیا، اسی طرح پروفیسر ابن کنول نے ’’اردوئے معلی‘‘ سیریز کے تحت ’’تحقیق و تدوین‘‘ شائع کی۔ بہرحال اولیت دلوی کو حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اس جانب قدم اٹھایا اور باضابطہ تحقیقی نصاب کے تحت اس کتاب کو مرتب کیا۔
’’دکنی اردو‘‘ دکنی اردو کا تہذیبی، ادبی اور لسانی مطالعہ ہے، جو ۱۹۸۷ء میں منظر عام پر آئی۔ کتاب کی اہمیت کی بات کی جائے تو دکنیات پر ایک بہت ہی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے مقدمے میں دکنی اردو کی لسانی حیثیت پر سلسلہ وار مدلل گفتگو کرتے ہوئے دلوی نے لکھا ہے کہ دکنی اردو کسی طور پر ہندی روایت کی ابتدا نہیں، کیونکہ یہ ایک بالکل الگ منظرنامے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اس بحث میں انہوں نے بابو رام جی کے اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔ بابو رام جی کا اعتراض تھا کہ اردو شاعری میں ہندوستانی چھاپ بہت کم نظر آتی ہے۔ دلوی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے، کیونکہ اردو جیسی سیکولر زبان ہندوستان میں کوئی اور نہیں۔ اس میں ہندوستان کے مذہبی مقامات، تہوار، رسم و رواج جس طرح پیش کیے گئے ہیں، وہ شاید ہی کسی اور زبان کے ادب میں نظر آئیں۔ یہ ہندوستانیت بعد کی بات نہیں، بلکہ ابتدا سے ہی اس کی خصوصیت رہی ہے۔
یہ بات اردو کے لیے نہایت واضح ہے، لیکن دلوی نے اسے مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ آخر میں وہ نتیجے کے طور پر لکھتے ہیں: ’’جدید اردو شاعری کی ہندوستانی فضا اور دکنی کی ہندوستانی فضا میں، جدید اردو شاعری کے طرز فکر اور طرز اسلوب میں اور دکنی کے طرز فکر اور اسلوب میں پچھلے ساڑھے چار سو سال کی تاریخ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ بلکہ یہ زبان اور ادب اپنے طرز فکر اور مزاج کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ سیکولر اور سماج وادی رہا ہے۔‘‘
’’کرشن چندر: شخص اور ادیب‘‘ پروفیسر عبدالستار دلوی کی مرتب کردہ کتاب ہے۔ اس کا مقدمہ دیگر کتب کے مقابلے میں مختصر ہے۔ مقدمے میں اردو افسانے پر بات کی گئی ہے، پھر کرشن چندر کی ادبی حیثیت پر ایک مختصر نوٹ شامل ہے۔ کرشن چندر اس وقت اردو کے ایک مجاہد کی حیثیت سے سامنے آئے، جب اس زبان کے خلاف شدید مخالفت کی ہوائیں چل رہی تھیں۔ ان کی اسی کاوش کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی میں ’’کرشن چندر چیئر‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اسی مناسبت سے کرشن چندر پر ایک سمینار منعقد کیا گیا، جس میں ان کے معاصرین نے مقالات پیش کیے۔ اس کے نتیجے میں یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ دلوی کی دیگر اولیات میں سے یہ کتاب بھی ان کی ایک اہم اولیت ہے۔
’’نوائے سروش (محمود سروش، شخصیت، شاعری اور خدمات)‘‘ کو پروفیسر عبدالستار دلوی نے ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی کے ساتھ مل کر ترتیب دیا ہے۔ اس کا ابتدائیہ دلوی نے خود لکھا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے دلوی نے محمود سروش کی ادبی حیثیت کو ادب کی دنیا میں متعارف کرایا۔ محمود سروش آرزو لکھنوی کے دبستان سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔
مقدمے میں دلوی نے محمود سروش کا بھرپور علمی تعارف پیش کیا ہے۔ وہ نہ صرف ادب نواز تھے بلکہ علم دوست بھی تھے۔ اس زمانے میں مکتبہ جامعہ، ممبئی کی ادبی بیٹھکوں کا حال بھی دلوی نے تحریر کیا ہے۔ جب ہفتہ کی شام کو علی سردار جعفری، سکندر علی وجد، جاں نثار اختر، ساحر لدھیانوی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، کیفی اعظمی، اور ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی جیسے ارباب فن جمع ہوتے، تو ان میں محمود سروش بھی شامل ہوتے تھے۔ دلوی لکھتے ہیں کہ وہ بطور طالب علم ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے اور سروش اپنی کتاب بینی اور وسعت مطالعہ کی وجہ سے ہمیشہ اپنی جگہ بناتے تھے۔
’’علی سردار جعفری (شخص، شاعر اور ادیب)‘‘ ایک مرتب شدہ کتاب ہے، جو ۲۰۰۲ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کا مقدمہ، جو ’’حرف اول‘‘ کے نام سے دلوی نے لکھا، سردار جعفری کی شاعری کا ایک خوبصورت تنقیدی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ سردار جعفری اگرچہ دلوی کے بزرگ تھے، لیکن ان سے ان کا علم و ادب کا گہرا رشتہ تھا۔ شعبہ اردو، بمبئی یونیورسٹی کے قیام میں ان کا اہم کردار رہا۔ ان کے انتقال کے بعد شعبہ میں کوئی پروگرام نہ ہونے پر دلوی نے اپنے رنج کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعظم ٹرسٹ، پونے کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے سردار جعفری پر ایک علمی سمینار کا انعقاد کیا، جس کے مضامین اور دیگر مقالات کو اس کتاب میں ترتیب دیا گیا۔
ممبئی میں ہونے کی وجہ سے دلوی نے سردار جعفری اور ترقی پسند تحریک کے عروج کے زمانے کو بخوبی دیکھا۔ اس معاملے میں ان کی ژرف نگاہی نے جو کچھ محسوس کیا، اسے عالمانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ اگر اس مقدمے کا تجزیہ کیا جائے تو ایک الگ مقالہ تیار ہو سکتا ہے، لیکن چند اہم نکات، جو تجزیے اور محاکمے کے طور پر نمایاں ہیں، ان کی جانب اشارہ ضروری ہے۔ سردار جعفری کے اختصاص کے بارے میں دلوی لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور میں جوش ملیح آبادی اردو شاعری کے سربراہ تھے اور اقبال اردو شاعری کے بدلتے ہوئے ماحول میں ایک اہم اور چونکادینے والی آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ سردار جعفری نے ان دونوں بزرگوں کے اثرات بڑی حد تک قبول کیے ہیں اور ان کی شاعری میں انہی شعراء کی بلند آہنگی اور ذخیرۂ الفاظ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سردار جعفری کے یہاں ان کا اپنا لب و لہجہ، غنائت، دل سوزی اور درد مندی بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔‘‘
اس تحریر کا انداز بھی تقریبا وہی ہے جو دلوی نے شروع میں انشاء اور چکبست کی شاعری کے اختصاص کے لیے اپنایا۔ ماقبل شعرا سے فیض اٹھانا اور اپنے لیے ایک نیا رنگ اختیار کرنا، یہ محاکمہ گہرے مطالعے کا نتیجہ ہے، جو دلوی کے یہاں بخوبی پایا جاتا ہے۔ دلوی جب کسی تجزیے پر پہنچتے ہیں تو طویل مقدمہ قائم نہیں کرتے، بلکہ سادگی اور سلاست کے ساتھ اپنی بات کہہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سردار جعفری کی غزل گوئی پر وہ لکھتے ہیں:
’’مختصر الفاظ میں یوں کہیے کہ ان کی غزل کا دامن بہت وسیع ہے لیکن اس میں تغزل تلاش کے باوجود نہیں ملتا۔ اور اس طرح ان کی ’غزل‘ جو ایک لطیف پیرایۂ بیان، خوش آہنگ خوبصورت دلآویز اور پر کشش صنف ادب کے بجائے قدرے خشک الفاظ کا مجموعہ نظر آتی ہے یا یوں کہیے کہ ان کی غزل پر نظم کا لہجہ غالب ہے۔ یا پھر اقبال کی غزل کے ایک ناکام لہجے کا روپ دھار لیتی ہے۔‘‘
یہ محاکمہ نہ صرف سردار جعفری کی غزل کے لیے ہے بلکہ ہر اس مقام پر صادق آتا ہے جہاں تغزل غائب ہو۔ اگر تغزل کی بحث کی جائے تو ہمیں غزل کے اساتذہ کی جانب جانا ہوگا، جنہوں نے اپنے کلام میں تغزل کے لیے الفاظ اور تراکیب تلاش کیں۔ اس جانب دلوی آگے جا کر اشارہ کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میرے خیال میں غزل کی شاعری دل کی شاعری ہوتی ہے۔ لیکن سردار جعفری کی غزلیں ان کی ذہن کی پیدا وار ہیں۔ اسی لیے ان میں وہ رومانی سوز و گداز اور پیار و محبت کے نازک اور لطیف تر جذبات کا رچا ؤنہیں ملتا جو اردو غزل کی روح ہے۔‘‘
یہ بات واضح کرتی ہے کہ غزل کو تغزل کیا چیز بناتا ہے۔
سردار جعفری کا اردو ادب میں مقام بیان کرتے ہوئے دلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’سردار جعفری اردو میں دانشوری کی شاید آخری مثال تھے۔ علمی، ادبی، فلسفیانہ، سیاسی اور سماجی موضوعات پر ماہرانہ انداز سے گفتگو کرتے تھے۔ وہ اردو کے قومی اور بین الاقوامی سفیر بھی تھے۔‘‘
الغرض، دلوی نے اس مقدمے میں سردار جعفری کی ادبی خدمات کو ہر سطح پر تنقیدی نظر کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’جنوبی ہند میں اردو زبان و ادب کی تدریس کے مسائل‘‘۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آئی۔ اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ دکن میں اردو اور دکنی ادب کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ گزشتہ برس اردو اکادمی، دہلی میں دکن میں اردو کے حوالے سے ایک سمینار منعقد ہوا، جس میں تدریس کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا، لیکن وہ ادبیات عالیہ کے تناظر میں تھا اور اتفاق سے اس کے تمام مقالہ نگار شمالی ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم، اسکول کی سطح پر دکن میں اردو تعلیم کے مسائل کے بارے میں اس کتاب میں بہت کچھ شامل ہے۔
کتاب کی ضرورت کے حوالے سے دلوی لکھتے ہیں: ’’چنانچہ اس کثیر لسانی ماحول میں جب بچہ کی تعلیم ہوتی ہے اور وہ شمالی ہندوستان کی اردو کے مقابلے میں جسے معیاری زبان کہا جاتا ہے، صوتی، صرفی یا اور اسی طرح لفظی سطح پر جنوبی ہندوستان میں اردو کی تعلیم و تدریس میں چند مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل کیا ہیں اور ان کا لسانی پس منظر اور تدارک کیسے ہو سکتا ہے، اسی طرح آج کی بہت تیزی سے بدلتی ہوئی لسانی صورت حال میں اردو ذریعہ تعلیم کے مسائل پر غور و خوض کرنا ضروری ہے۔‘‘
شمالی ہندوستان والوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ دکن میں کیا غور و خوض کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دکن کے رہنے والوں کو معلوم ہے کہ وہ دکنی اردو بولتے ہیں، لیکن تعلیم کے وقت انہیں اپنی زبان سے بالکل مختلف تجربے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اورنگ آباد سے لے کر میل و شارم تک زبان مختلف لہجوں اور قواعد میں بدلتی رہتی ہے، حتیٰ کہ اعلام بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دکن میں تدریس کے مسائل شمالی ہندوستان سے بہت مختلف ہیں۔
دلوی اس مقدمے میں ایک اور اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اُدھر تاریخی اعتبار اردو کی علمی و ادبی اہمیت کے ساتھ فارسی اور عربی کی تعلیم بھی عام تھی جس کی وجہ سے اس کا معیار برقرار تھا لیکن اب جب کہ فارسی/عربی کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہے اور بعض حالات میں یہ بالکل مفقود ہے، اردو زبان کا معیار متاثر ہوا ہے۔ فارسی و عربی کی تعلیم کی جو اردو کے لیے ایک لسانی طاقت تھی اب علاقائی زبانیں اردو پر حاوی ہو رہی ہیں اور ان علاقائی اثرات کی وجہ سے اردو کی تدریس میں کئی سطحوں پر مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘
اس سلسلے میں میری رائے ہے کہ زبانوں کے الفاظ سفر کرتے رہتے ہیں۔ کچھ الفاظ صدیوں کا سفر کرتے ہیں، جبکہ کچھ چند برسوں میں استعمال سے باہر ہو جاتے ہیں، اور کچھ دو تین نسلوں تک چلتے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت ہے کہ عربی و فارسی کی بنیادی تعلیم نہ ہونے سے اردو کا معیار متاثر ہوا ہے۔ اگر معیار کی بات کریں تو ہر زمانے کے معیار مختلف رہے ہیں۔ اگر آج ہم سو برس پرانی نثر لکھیں تو وہ طبیعت پر گراں گزرے گی۔ اسی طرح اگر عوامی گفتگو کو تحریر میں روا رکھیں تو وہ بھی گراں گزرے گی۔ بس یہی کہوں گا کہ زبان ایک ذوق ہے، جس کا جیسا ذوق ہوتا ہے، وہ ویسی ہی زبان کا دلدادہ ہوتا ہے۔ اگر ذوق ہی نہیں تو پھر زبان کیسی؟
’’دوزبانیں دو ادب (اردو اور ہندی کے تناظر میں)‘‘پروفیسر عبدالستار دلوی کی تصنیف کردہ کتاب ہے، جو فروری ۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب دراصل پروفیسر گیان چند جین کی کتاب ’’ایک بھاشا: دو لکھاوٹ، دو ادب‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ ۲۳۸؍ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دلوی نے بھرپور جواب دیا ہے۔ مقدمے میں وہ اپنے دل کی باتیں کہتے ہیں اور اپنا مدعا واضح انداز میں پیش کرتے ہیں، جس کے بعد کتاب میں دلائل و شواہد کے ساتھ بات کی گئی ہے۔گیان چند جین کی کتاب کے متعلق دلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’گیان چند جین کی یہ کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سالہا سال ڈھکے چھپے طریقے سے وہ قطرہ قطرہ زہر جمع کر رہے تھے۔ شاگردوں سے گفتگو، معاصرین سے مکالمہ برسوں کرتے رہے ہوں گے۔ غیر سنجیدہ گفتگو کے نوٹ لیے ہوں گے تب اس کے بعد یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ ان کی ساری غلط بیانیوں کا جواب دینے کے لیے دو ایک سال کا عرصہ ضروری ہے مگر دوستوں کے اصرار پر صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘
اس مختصر عرصے میں ایک کتاب کا دس ابواب میں علمی انداز سے جواب دینا دلوی کی دراک ذہن اور لسانی اعتبار سے امتیازی شان کی دلیل ہے۔ انہوں نے مقدمے میں وضاحت کی کہ اردو اور ہندی میں توضیحی لسانیات کے اعتبار سے مماثلت کے باوجود صوتی، لفظی، اور صرفی امتیازات ہیں۔ اس کے علاوہ، سماجی، اسلوبیاتی، اور لسانی جمالیات کے اعتبار سے دونوں الگ الگ زبانیں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اردو ہندو اور مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ ہے۔ یہ ایک مشترکہ قومی میراث ہے جسے ہندوو?ں اور مسلمانوں نے اور اسی طرح سکھوں، زرتشتیوں اور عیسائیوں نے اپنے خون سے سینچا اور اردو رسم الخط میں ہی سنوارا۔‘‘
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی اردو تاریخ کا مطالعہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ اس زبان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس لیے اس کے سیکولر کردار پر کوئی شک نہیں۔ اس کے برعکس، وہ لکھتے ہیں: ’’ہندی اس کے برعکس صرف ہندو مذہب اور تہذیب کی علامت ہے۔‘‘ یعنی ہندی کی ترقی میں دوسرے مذاہب کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ ہندی کا ارتقا اردو سے ہی ہوا ہے۔
’’حضرت مخدوم علی مہائمی (تین تحقیق مقالات)‘‘مخدوم علی مہائمی کی زندگی اور خدمات پر مبنی کتاب ہے، جن کا تعلق آٹھویں صدی ہجری سے ہے۔ انہیں قطب کوکن بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے وقت کے جید عالم، صوفی، اور فقیہ تھے۔ مقدمے میں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ شروع سے لے کر اب تک جن تذکروں اور کتابوں میں مخدوم علی مہائمی کا ذکر ملتا ہے، ان سب پر گفتگو کی گئی ہے۔ انگریزی، عربی، فارسی، اور اردو آثار کا بھی بھرپور ذکر ہے۔چھ سو برسوں سے ان کا مزار مرجع خلائق ہے۔ اس دوران مزار میں ہونے والی تعمیراتی تبدیلیوں اور ترقی کا تفصیلی ذکر کتاب میں شامل ہے۔ سوا سو سال سے یہ مزار ایک ٹرسٹ کے ماتحت ہے، جس کے تحت کئی کام انجام پا رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ کتاب شائع کرنا بھی ہے۔ ٹرسٹ کا عزم ہے کہ مخدوم علی مہائمی پر مکمل تحقیق کی جائے، ان کی کتابوں کو تلاش کیا جائے، انہیں مرتب کر کے اردو ترجموں کے ساتھ شائع کیا جائے۔اس کتاب کا مقدمہ نہ صرف مخدوم علی مہائمی کی ذاتی شخصیت اور علمی کمالات کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ وہاں کی تاریخ اور جغرافیہ کا بھی بھرپور ذکر کرتا ہے۔
مقالات پروفیسر سید نجیب اشرف ندوی کو پروفیسر عبدالستار دلوی نے ۲۰۱۳ء میں ترتیب دے کر منظر عام پر لایا۔ پروفیسر ندوی دلوی کے مخلص اساتذہ میں سے تھے۔ مقدمے میں ندوی کے تعلیمی سفر اور اسماعیل کالج کا ذکر ہے۔ دلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس زمانے میں ریاست ممبئی میں اسماعیل کالج کی وہی حیثیت تھی جو ہندوستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کی تھی۔‘‘
اس مقالے میں ندوی کے عادات و اطوار کا ذکر نہایت عمدہ طریقے سے کیا گیا ہے، جس سے ان کی شخصیت کا خاکہ بھی ابھرتا ہے۔ ندوی اپنے مضامین ’’سنان‘‘ کے نام سے شائع کراتے تھے، جو ان کے نام (سید نجیب اشرف ندوی) کا مخفف ہے۔ ان کے اکثر مضامین معارف (اعظم گڑھ)، ہندوستانی (الہ آباد)، اور نوائے ادب (ممبئی) میں شائع ہوئے۔ ان کے علمی مضامین اور تبصروں کی تعداد تقریباً چالیس ہے، جن میں سے بیس کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ندوی ایک بہترین استاد کے طور پر مشہور تھے۔ انہوں نے کئی قابل شاگرد تیار کیے، جن میں سے ایک دلوی خود بھی ہیں۔
’’مولانا ابوالکلام آزاد: ایک مطالعہ ‘‘ایک مرتب شدہ کتاب ہے، جو ۲۰۱۵ء میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے شائع ہوئی۔ مقدمہ نگاری کے اعتبار سے اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت ہے، جو دیگر کتب میں نظر نہیں آتی۔ کتاب ایک طویل و مبسوط مقدمے سے شروع ہوتی ہے، اور اس کے چار ابواب میں سے ہر ایک کے لیے دلوی نے الگ ابتدائیہ تحریر کیا ہے۔مقدمے میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی، علمی، اور ثقافتی خدمات پر عمدہ پیشکش کی گئی ہے۔ مقدمے کی غالب خصوصیت یہ ہے کہ مولانا ہندو-مسلم اتحاد کے کس قدر حامی تھے اور کسی قیمت پر اس کے خلاف نہیں گئے۔ اس حوالے سے دلوی صاحب نے مولانا کے خطبات کے کئی اقتباسات پیش کیے ہیں۔ ساتھ ہی، مولانا کی ہندوستان کی تعمیر نو کے لیے اہم خدمات کا بھی ذکر ہے۔کتاب کی ترتیب میں اس کی انفرادی د حیثیت کویوں بیان کیا ہے کہ اس میں مولانا آزاد کے معاصرین یا ان لوگوں کے مضامین شامل ہیں جنہوں نے مولانا کو دیکھا تھا۔ یہ خصوصیت اسے مولانا پر لکھی گئی دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہے۔
اس سلسلہ کو یہیں منقطع کیا جاتاہے ان کی دیگر کتابوں کے مقدموں کو انہی پر قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اس مطالعہ سے یہ واضح ہوگیا کہ دلوی صاحب نے انتخاب ، تدوین ، تحقیق اور ترتیب پر جس قسم کے بھی مقدمے لکھے سبھی اصول نگار کے پیمانے پر مکمل اتر تے ہیں ۔ شروع میں تو میں نے اصول نگار پر بات نہیں کی تھی تو اب دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وضاحت ور وانی سبھی تحریر وں میں بخوبی موجود ہے ۔جامعیت کا بھر پور خیال رکھا ہے ۔ تحریروں میں وہ اخلاص پن ہے کہ قاری اس کوخاص اسی کے لیے لکھا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ ہر ایک مقدمے میں مقصدیت واضح ہے ۔موضوع پر بھر پور تنقیدی جائزہ ہے ۔جس مبحث پر بھی قلم اٹھا رہے ہیں اس کو واضح اندا ز میں بیان کررہے ہیں ۔کتاب کی اہمیت پر زور ہے اور مشورے بھی ہیں ۔ یہی مقدمہ نگاری کو جامع بناتی ہیں ۔
No comments:
Post a Comment