’مانجھی‘ کی کہانیوں کے
درونِ متن کا مطالعہ
(ناول: مانجھی ، ناول نگار: پروفیسر غضنفر )
ناول انسانی زندگی کو دیکھنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے کا ایک وسیلہ ہے ۔
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ناول کے مالہٗ و ماعلیہ پر محیط ہے ، وہ خواہ داستانوی ، جاسوسی، سیاسی، سماجی ، سائنسی ، تاریخی یا پھر بچوں کے ناول ہوں سب میں زندگی کو دیکھنا سمجھنا اور محسوس کرنا ہی بنیادی مقصد ہوتا ہے ۔ کوئی بھی ناول نگار جب اپنے ناول کا خاکہ تیار کرتا ہے تو اس کے ذہن میں کوئی بنیادی سوال یا منظر نامہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے ناول میں پیش کر نا چاہتا ہے ۔ ناول نگار اس پیش کش کو اپنی الگ الگ تکنیک، بیانیہ اور اسلوب سے میں پیش کر نے کی کوشش کر تا ہے ۔واقعہ کسی بھی ناول کا مرکزی عنصر ہوتا ہے۔ واقعہ کی پیشکش میں ہی ناول نگاراپنے فلسفے کو قاری کے سامنے رکھتا ہے ۔ داستان کی طرح ناول میں بھی کہانیا ں آتی رہتی ہیں لیکن مربوط انداز میں ۔ ان کہانیوں میں ناول نگار کی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کے پہلو کو مقدم رکھا جائے اور زندگی سے دورنظر آنے والی باتوں سے پر ہیز کیا جائے۔ ایسے میں ناول نگار کی سو چ بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں جھلک جاتی ہے ۔ ان واقعات کی پیشکش میں سب سے زیادہ دخل محسوسات کا ہوتا ہے ۔ کیا ناول نگار قاری کے محسوسا ت کو جگانا چاہتا ہے یا پھر واقعات میں محسوسات کو دفن کر کے سادگی کو پیش کرتا ہے۔ کینویس کا رول بھی ناول میں بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ یا تو قاری کو محد ود کینویس میں مقید رہنا پڑتا ہے یا پھر محدو د میں ہی لامحدودوی کو نبھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ناول میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ناول متحدالمکان میں مضبوط جڑوں کے ساتھ ٹکی ہوئی ہے اور اس پر کہانیوں کی مختلف عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں جس میں بنیادی طور پر عورت کے تشکیلی دور کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ اس ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس ناول کا پلاٹ بہت ہی مضبوط ہے اور کہانیاں ایک دوسرے سے کہانی در کہانی کی شکل میں منسلک نظرآتی ہے ۔
اس نال میں مکان تو سنگم ہے اور بطور راوی پروفیسر وی این راے اور مانجھی شروع سے آخر تک نظر آتے ہیں ۔ واقعات کا پیشکش دونوں طر ف سے برابر ہوتا ہے اس معاملہ میں پروفیسر اور مانجھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں ۔ واقعات بہت ہی رونماہوتے ہیں لیکن جس میں کہانی بننے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ اس کہانی کا آڈنیس یا قاری ہوتا ہے، کہ وہ آس پڑوس کی ہزار کہانیوں سے خود کو ممتاز ثابت کیسے ثابت کرتی ہے یاتخلیق کار اس میں امتیازانہ کیفیت پیدا کر نے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس ناول میں راوی اسی جداگانہ مانجھی کو ہائر کرتا ہے جس کا ریٹ دیگرمانجھیوں سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ جداگانہ واقعات کا سلسلہ ’’انسانی زندگی کو دیکھنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے ‘‘ کے لیے شروع ہوجاتا ہے ۔
کہانی آہستہ آہستہ پروفیسر وی این راے اور مانجھی کے درمیان تعارفی گفتگو سے آگے بڑھتی ہے ۔ جس میں پہلی گفتگوسامنے نظر آنے والی پرندوںکی جھنڈ پر ہوتی ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور سے ہندوستان میں قلابازیاں اور زندگی(آب و دانہ) کی تلا ش میں آتی ہیں۔ اس کے پیش کش میں محض ایک مسافر پرندہ کا عکس نظرنہیں آتا ہے بلکہ اس کی تہہ میں فراق گورکھپوری کا یہ شعر:
سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ
قافلے بستے گئے ہندوستا ں بنتا گیا
بخوبی نظر آتا ہے جس کی بحث ان دنوںہر عام خاص کے ذہن میں ہلچل مچائی ہوئی ہے کہ ہندو ستان ہمیشہ سے پور ی دنیا کے لیے اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہے کبھی بھی اس ملک میں وہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی ہے جو دنیا کے دیگر ملکوں کی تاریخ میں ملتی ہے ۔ پروفیسر وی این راؤ جب پرندوں کی جانب دانہ اچھالتا ہے تو مانجھی کو یہ منظر دیکھ کر بڑا ہی قلبی اطمینان ہوتا ہے ۔اطمینا ن کا جواب ان جملوں میں ملتا ہے
’’ اس لیے کہ اس دھرتی پر کچھ ایسے بھی دیس ہیں جن کے بھوکے پنچھی اپنا پیٹ بھر نے ہمارے یہاں آتے ہیں۔‘‘ گویا پیٹ بھرنے کے لیے ہجر ت کرتے ہیں۔ اسی کی اگلی کڑی وہ ہوتی ہے جس کا ذکر اوپر کے شعر میں کیا گیا ۔ اس جملہ سے تین واقعات پروفیسر وی این راو کے ذہن میں ابھر تے ہیں ایک توقیرعلی کا جوبیرون ملک کام کے سلسلے میں جاتا ہے لیکن جلد ہی واپس ہوجاتا ،دوسراانٹر نیشنل شوٹر عمران حسین کا واقعہ جسے انٹرنیشنل شوٹنگ مقابلہ میں نام کی وجہ سے ہی نہیں جانے دیا جاتا ہے اورتیسرا سید محمد اشرف کا جن کے نام میں محمد ہونے کی وجہ سے ویزا نہیں ملتا ہے ۔کہانی کار کے ذہن میں یہ کہانیا ں جو ابھر تی ہیں اس میں اور پر ندو کی مہاجرت میں یکسانیت بہت کم نظر آتی ہے۔ساتھ ہی پروفیسر وی این راؤ کے ذہن میں یہ تین نام ابھر نا اچنبھت کر سکتا ہے لیکن تخلیق کار اپنی تخلیق میں جو عکس چھوڑتا ہے وہ اس میں آپ بخوبی دیکھ سکتے ہیں ،اسے خوبی سمجھی جائے یا خامی یہ تنقید کے بدلتے زاویہ پر منحصر ہے ۔
اگلے قصے کی جانب بڑھنے سے پہلے زبان و بیان کی خوبصورتی پر نظر ڈالتے ہیں توسنگم کی منظر کشی میں ایک قسم کی صنعت لسانی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ناول نگار لکھتا ہے :
’’ جگہ جگہ شر دھالوؤں کی بھیڑ
کہیں کہیں پرسادھو سنتو ں کا جمگھٹ
کہیں کسی مداری کا مجمع ‘‘
پہلے جملے میں ’’ جگہ جگہ‘ ‘ کثیر کو بیان کرتا ہے ۔ دوسرے جملے میں ’’کہیں کہیں ‘‘ قلیل کو بیان کر تا ہے اور تیسرے جملے میں ’’کہیں کسی ‘‘ کے لفظ سے اقل کی جانب اشارہ ہوتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ شروع کے پانچ صفحات میں ہی چار مقامات مجھے ایسے نظر آتے ہیں جہاں زبردستی کا پیراگراف بنا کر گفتگو کے وزن کو ہلکا گیا ہے ۔ ان میں سے شروع کے دو مقامات جو صفحہ اول میں ہی ہیں جہاں ناقص جملوں کو کئی سطور میں لکھنے کی کوشش کی گئی ، گویا نثر ی نظم کی کیفیت پیدا کر نے کی کوشش کی جارہی ہو ۔ مان بھی لیتا ہوں کہ نثر ی ہی ہے لیکن مصنف کا تین سطر کے بعد بریک کرنا احساس دلاتا ہے کہ مصنف گفتگو طویل کرنے سے زیادہ صفحات طویل کرنے کی فکر میں ہیں ۔
اب آگے بڑھتے ہیں اس ناول کی طویل کہانی کی جانب جو مانجھی کی زبان سے ادا ہوتی ہے ۔اور یہ کہانی مکمل طور پر ’’ دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھا جائے۔‘‘ پر منحصرہے ۔یہ جملہ راج کمار کے کان سے ٹکراتا ہے اور اس کی مردانگی و انا جاگ جاتی ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے ’’ میں چندن پور کے گھسیارے گھسیٹے رام کی بیٹی سے وواہ کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ خیر شادی ہوجاتی ہے راج کمار کا رعب بھی پروان چڑھنے لگتا ہے اور سوامی ہونے کے ناطے دھمکی بھرے انداز میں تین کام سونپتا ہے کہ اگر یہ کام پورے نہیں ہوئے تو میں تمہیں مار دوں گا ۔اول یہ کہ ’’ ہمارے خزانے سے ایک پیسہ خرچ ہوئے بنا میرے لیے ایک محل بنوانا ہوگا ‘‘ دوم یہ کہ’’ تم سے میرا کام نہیں چلے گا میرے لیے ایک راج کماری کا پربندھ کرنا ہوگا ‘‘ اور تیسرا یہ ’’ کہ میں تم سے دور رہوں گا مگر میرا بچہ تمہارے پاس ہونا چاہیے ‘‘ ۔ لڑکی نے ان تینوں کاموں کے لیے حامی بھر دی ۔پھر شروع ہوتا ہے ان تینوں امور کو بخوبی انجام دینے والا نیم داستانوی قصہ ۔
قصہ شروع ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ کہانی مونو لاگ میں چلے گی لیکن کہانی میں ہر ایک ٹاسک کے بعد پروفیسر وی این رائے کا رد عمل بھی مختصر گفتگو کی صورت میں سامنے آتا ہے جس سے مانجھی کو حوصلہ ملتا ہے اور’’ اور پھر ‘ ‘ سے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ تیرے ٹاسک کے بعد جب راجکمار کی کہانی ختم ہوتی ہے تو پروفیسر وی این را ئے کے ذہن میں کئی سوال ابھر نے لگتے ہیںمگر ان سوالات سے پہلے میرے ذہن میں جو ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ راج کماری نے اس کے تینوں سوالات کے جوابات پورے کر دیے لیکن عورت کے عزم و حوصلہ اور کردار کی جانب آگے بڑھنے کے بجائے وہ دوسرے ٹاسک میں مکمل شدہ راج کماری کی جانب بڑھ جاتا ہے اور لڑکی راج کمار کو کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھتے رہ جاتی ہے…………اور سنگم میں ناؤ کے سامنے لال جوڑے میں لپٹی ہوئی سہاگن کی لاش آجاتی ہے جس سے ناو بھی ہلکو رے کھانے لگتا ہے ۔اس کے دفعۃ ًبعد مانجھی جس حواس باختگی کو کہانی سننے والے کے چہرے میں دیکھنا چاہتا ہے وہ قاری کے ذہن میں بھی کوندنے لگتا ہے یعنی جسم پرستی ۔راجکمار کے بچے کی ماں بننے والی عورت نتیجہ کے طور پر لال جوڑے میں لپٹی ہوئی لاش کی صورت میں سامنے آجاتی ہے جس میں کہانی کار کی بڑی چابکدستی نظر آتی ہے ۔ اس کے بعد عورت کو جس طر ح سے ٹیلی ویزن کی روشنی اور زرق بر ق روشنیوں کے بیچ صارفیت میں اسٹیٹس کے نام پر گھسیٹا گیا ہے یا مرد کی نظروں کو ہوسناک کیا گیا ہے اس سے یہ سوال ہمیشہ کے لیے رہ جاتا ہے کہ ’’ کیا عورت صدیاں گزرنے کے بعد بھی اپنے تشکیلی دور میں ہے ؟‘‘
یہ کہانی اگرچہ ایک بہادر اور عقلمند لڑکی کی ہے اور اس میں جرأت کے اظہار میں مبالغہ سے کام نہیں لیا گیا ہے جیسا کہ عموماداستانوں میں ہوتا ہے البتہ اس میں عصمت کو محفوظ دکھانے کے لیے ڈبیا میں ایک پھول کا استعمال کیا جاتا ہے جو داستانوں سے ماخوذ ہے ۔ پہلے ٹاسک کے مکمل ہونے کے بعد راجہ یہ سمجھتا ہے کہ راجکمار کی بیوی سے ہمبستری کے بعد ڈبیہ کا پھول مرجھا گیا ہوگا تو ایک اسٹیٹ سے دوسرے اسٹیٹ کا فاصلہ ان لفظو ں میں کچھ عجیب سا لگتا ہے ’’ دوسرے دن راجہ نے اپنے سائس کو بلا کر پوچھا : ’بتا آج ترے پھول کا کیا رنگ ڈھنگ ہے ؟ تازہ ہے یا مرجھا گیا ؟‘‘ ۔یہ الفاظ عجیب بایں معنی بھی لگتے ہیں کہ ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ کی جانب گریز کرنا کے عمل سے گریز نظر آتا ہے ۔
دوسرے ٹاسک میں باغ و بہار کی وزیر کی بیٹی کا عکس نظرآتا ہے جہاں وہ مرد سپاہی کے ڈریس میں رہتی ہے یہا ں بھی وہ مرد سپاہی کے ڈریس میں بادشاہ کو مرعوب کر تی ہے اور اپنے شوہر کے لیے دوسرا ٹاسک (دوسری راج کماری کو حاصل کرنا ) پورا کر تی ہے ۔
تیسرے ٹاسک ( راجکمار سے ملے بغیر ہی اس کا بچہ پیداکرنا ) کے بیان کے وقت ہلکا سا تفاوت نظر آتا ہے ۔گھسیارن کی بیٹی جو بہادر سپاہی کی شکل میں راجہ کے پاس ہوتی ہے۔وہ راجہ سے ایک سائیس ( اصطبل سنبھالنے والا ) کا مطالبہ کر تی ہے جس سے اس کو اس کا شوہر ہی مل جاتا ہے اور گھوڑے کی مالش میں لگ جاتا ہے ۔ یہاں دو منظر دیکھئے جو چندسطروں کے فاصلے پر ہی درج ہیں ۔ اول : باہر اس کے گھوڑے کے پاس اس کا سائیس کھڑا گھوڑے کی مالش میں جٹا ہوا تھا ۔‘‘
وہ وہاں پہنچ کر اپنی ناز و ادااور میٹھی میٹھی باتو ں اور نینوں کی اٹکھیلیوں سے اس کو چت کر دیتی ہے تو یہ دو سرا منظر سامنے آتا ہے ’’ بان چلتے ہی وہ گھوڑے سے گرکر چاروں خانے چت ہوگیا ۔‘‘ یہاں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ سائیس جب گھوڑے پر سوار تھا ہی نہیں تو گرا کیسے؟ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہاں ’’ گھوڑے سے گر کر ‘‘ زائد ہے جس سے صورت حال میں تضاد پیدا ہورہا ہے ۔
اس کے بعد گفتگو مانجھی اور پروفیسر کے مابین چل نکلتی ہے جس میں گفتگو کا مرکز پرندوں کو کھلایا جانے والا دانہ اور پرندے ہیں ہوتے ہیں جس کے تحت سلب حقوق کی باتیں سامنے آتے ہی پروفیسر کے سامنے دو منظر ابھر تے ہیں ایک میں پانی اپنے طوفان سے بھکمری لاتا ہے اور سب کچھ تباہ کردیتا ہے دوسرے میں پانی ناراض ہو کر پاتا ل میں چلاجاتا ہے اور پیٹ کی بھوک کی تکمیل کے لیے تمام قسم کی سودا بازی شروع ہوجاتی ہے ۔جس کے تحت ایک کہانی پروفیسر کے ذہن میں ابھر تی ہے جس میں ماں بھوک کی حِدت کے باوجود اپنے لاڈلے کو خود سے الگ نہیں کر پاتی ہے تو اس کا شوہر اس کے سامنے ایک قصہ سنانے لگتا ہے جس میں ایک درویش اپنے مر ید کو بتاتا ہے کہ دین کے چھ فرائض ہیں اور چھٹا بھوک ہے جس کو محفل میں بیٹھا عالم دین ماننے سے انکار کردیتا ہے ۔ ایک بحر ی سفر میں اس عالم کا سامنا بھوک کی حالت میں اسی درویش سے ہوتا ہے تو درویش ایک روٹی کو ایک نیکی بدلے میں بیچتا ہے ۔ بھوکا عالم روٹی نہیں لیتا ہے ۔ دوسرے دن عالِم کی بھوک کا عالم بڑھ جاتا ہے پھر وہی درویش نظرآتا ہے اور آج وہ تمام نیکیوں کے عوض ایک روٹی دینے کو تیار ہوتا ہے۔ لیکن عالم دین کہتا ہے کہ اگلی پچھلی تمام نیکیاں لے لو لیکن دے دو ۔اس کہانی سے ماں کی باہیں ڈھیلی ہوگئیں اور بچہ ماں کی آغوش سے تاجر کے مال گاڑی میں پہنچ گیا ۔ یہ بہت ہی مختصر کہانی صرف دو صفحے کی ہے لیکن کئی سوال وجواب قاری کے ذہن میں چھوڑ جاتی ہے۔ ایک یہ کہ عورت کے یہاں مذہب کے لبادے میں فقیری کا رنگ بہت ہی زیادہ گہرا ہے اور اعتقادی معاملات میں عالم کے مقابلے فقیر زیادہ پر اثر ہوتا ہے ۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ فقیری میں جہاں پیٹ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے اسی کو استعمال کرکے سب سے بڑا مسئلہ بھوک کو پیش کیا گیا ہے ۔ تیسر ی بات یہ کہ ایک لطیف اور پاکیزہ اشارہ بھی اس طرح سامنے آتا ہے کہ پیٹ بھرنے کے انتظام کا معاملہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور اسی کی تحریک پر یہاں یہ کام انجام کو پاتا ہے ۔ بھوک کو یہاں دین کے فرائض میں اس طر ح شامل کیا گیا ہے کہ اس کا انکار کرنا عام انسا ن کے لیے بہت ہی مشکل ہوجاتا ۔ جب کہ ناول نگار نے یہاں بہت ہی چالاکی سے جو چیز زندگی کے لیے لازم ہے اس کو دین کے لیے لازم قرار دیا ہے ۔ ساتھ ہی یہاں احساس ہوتا ہے کہ دین کو زندگی سے اہم پیش کیا جارہا ہے لیکن ماں کے آغوش سے بچہ کے نکلتے ہی یہ احساس ختم ہوجاتا ہے ۔عالم اور فقیر کے معاملے میں بظاہر فقیر کی جیت سامنے آتی ہے اور عام قاری کے ساتھ ماں کے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کھانا ایما ن کاحصہ ہے لیکن کہانی میں یہ ایقان کی حدتک میں نہیں داخل ہوتا ہے بلکہ عمل کی حد میں چلا جاتا ہے اور وہ عمل جان کی تجارت کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جودین کے منافی ہوجاتا ہے ۔ کہانی کار نے اس میں لفظ فرائض کا استعمال کیا ہے جبکہ وہ ’ارکان ‘ ہوتے ہیں ۔مزید یہ کہ اس کہانی میں فقیرسے متاثر ہونے کی شکل میں عورت کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔ نیکیاں بظاہر جس کے اعداد و شمار نہیں ، یعنی اس کا کسی کے بھی بیت الثواب میں کوئی ڈِجٹ سامنے نہیںآتا ہے اور نہ ہی اس کا آن لائن یا روحانی ٹرانزیکشن ہوسکتا ہے ایسے میں یہاں ایک محسوس کا ایک غیر محسوس سے تجارتی عمل سامنے آتا ہے جبکہ بچے کے معاملے میں یکطرفہ بیع ہے اور اشترا کاعمل سامنے نہیں آتا ہے ۔دوسری طرف یہ بھی اس کہانی میں پوشیدہ ہے کہ بھکمری سے امیروں کا فائدہ ہوتا ہے جبکہ غریب مارا جاتا ہے ۔ اس کے چپیٹ میں امیرو غریب دونوں نے نہیں آتے ہیں ۔
شر وع میں پروفیسر وی این راے مانجھی سے متعارف ہورہے تھے اس وقت کہانی کی آمد کے لیے کہتے ہیں ’’ کیا ان میں سے کوئی کہانی سنانا پسند کر و گے؟‘‘ اس کے بعدلازمی ہے کہ دونوں کے درمیان گفتکو سے بے تکلفی آہی جائے گی اور اور زبان کا اسلوب بھی بدل جائے گا ۔ لیکن دونوں کہانیوں کے مابین چھوٹے چھوٹے کئی قصے پروفیسر کے ذہن میں جنم لتے ہیں اور گفتگو بھی جاری رہتی ہے تو مقام کی مناسبت سے پروفیسر وی این رائے کہتے ہیں’’ تو اسی خوشی میں کوئی کہانی سنا دو۔‘‘ یہ الفاظ اس وقت آرہے ہیں جب پروفیسر وی این رائے نے بیچ ندی میں مانجھی کو چائے پیش کی اس کے بعد اس کے بد ن میں چستی اور پھرتی کا احساس ہو ا تو مانجھی سے رنگین کہانی سنانے کی حاکمانہ درخواست کرتے ہیں۔اس کے بعد مانجھی ایک طویل کہانی سناتاہے جس میں راجہ کے بڑے بیٹے کی کوئی اولاد نہیں ہوتی ہے ایسے میں راجہ اپنے بیٹے کے لیے دوسری شادی کا سوچتا ہے تو بہو اس پورے معاملے کو کس طرح انجام دیتی ہے کہ بچہ بھی ہوجائے اور رجواڑے کا خون بھی اس میں ہو ۔اس کے لیے بہو کے سخت کلمات راجہ کے کان سے ٹکراتے ہیں کہ ’’ ید ی گھر میں سوتن لائی گئی تو سب کے سامنے بھانڈا پھوڑ دوں گی۔‘‘ اس جملہ پر کہانی کھڑی کی گئی ہے ۔ ماقبل میں بھی گھسیارے کی بیٹی کی کہانی ’’ دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھا جائے‘‘ پر مبنی تھی ۔دونوں کہانیوں میں نسوانی قول سے ہی کہانی بنی جارہی ہے جس میں عزم او ر حوصلہ کی مکمل عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔تو راجہ کی بہو کی کہانی راجہ کے ارادے کو مات دینے سے شروع ہوتی ہے۔ سب سے پہلے راجہ بہو کو راستے سے ہٹا نا چاہتا ہے وہ اس لیے کہ راجہ ( مرد ، یااوپر ذات کا کوئی بھی آدمی ) یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا کہ اس کے خون میں خرابی ہوسکتی ہے۔ ماضی قریب کے عام معاشرہ کی طرح اس کے دماغ میں بھی یہ بات آتی ہے کہ خرابی عورت میں ہی ہے ۔بہو کو پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ اگر سوتن آبھی گئی تب بھی ونش آگے بڑھنے والا نہیں ہے ۔اس کے بعد بہو کے دل میں ان حالات سے نکلنے کے لیے کئی خیالات آتے ہیں لیکن کسی میں بھی اس کا دل ہاں نہیں کہتا ہے ، وہ چاہتی تھی تھی کم از کم بچہ اسی کے کوکھ سے پیدا ہو کسی دوسرے کے کوکھ سے پیدا شدہ بچہ کو قبول کرنے کے لیے اس کا ذہن تیار نہیں ہورہا تھا ۔اصل مسئلہ بھید کا تھا جس کو بھید ہی رہنے دینا ہے ۔ اس کے لیے اس کے ذہن میں ایک ہی آدمی آرہا تھا جس میں رجواڑے کا خون بھی ہوگا اور بچہ بھی اسی کے گود کا ہوگا اس کے لیے اس کی نظر راجہ (سسر ) پر پڑتی ہے ۔بہو اس مہم میں لگ جاتی ہے کہ سسر سے ہی ونش پانا ہے اور راز کو بھی راز ہی رہنا ہے ۔ وہ راجہ کے پاس جاتی ہے اور مضبوط انداز میں یہ باتیں کہتی ہیں:
’’ وہ دُوشِت ہے ۔ اس میں کداپی وہ دم نہیں کہ وہ آپ کو اس راج کا وارث دے سکے ۔ یدی اب بھی آپ کو وشواس نہیں ہے تو لائیے مجھے وش دے دیجیے ۔ میں وِش کھا کر اپنی جیون لیلا سماپت کر دیتی ہوں ۔ اور آپ شوق سے ان کی دوسری شادی رچا دیجیے ۔پرنتو ایک بات میری یاد رکھیے کہ ایک کیا، آپ اپنے بیٹے کی سو شادیاں کردیجیے ۔ ا ن کے بستر پر سو راج کماریوں کو لا کر سلا دیجیے ۔ پھر بھی کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔پچھتاوے کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آنا ہے ۔‘‘
راجہ پریشان ہوجاتا ہے اور اس کی حیرانی بڑھتی رہتی ہے کہ آخر کیسے ہوگا کہ راج ونش چل جائے ۔ اس کے لیے بہو اس کو وچن در وچن دیتی ہے کہ آپ کو اس کے لیے بڑی قیمت چکانی پڑے گی اور آپ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ راجہ مان لیتا ہے ۔ لیکن بہو کے اندر کا عورت جاگ جاتا ہے او ر وہ بات نہیں کہہ پاتی ہے لیکن کچھ لمحوں کے بعد ساری کوشش کے بعد ایک ہی سانس میں کہہ جاتی ہے کہ’’ وار ث کو پانے کے لیے … آپ کو میرے ساتھ سمپر ک استھاپت کر نا ہوگا۔‘‘ راجہ اس بات سے لرز جاتا ہے لیکن نارمل ہوتے ہوئے ساری کارروائی اور آشنکاؤں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور اس کام کو انجام دے دیتی ہے ۔
اس کہانی اور سابق میں پیش کر دہ کہانی کی پیش کش میں فرق یہ ہے کہ وہاں راجکمار کی تمام خواہشات کی تکمیل ہوجاتی اور اس کہانی میںراجہ کی خواہش کی تکمیل کا پتہ نہیں چلتا ہے اور کہانی تکمیل کے دہانے پر ختم ہوجاتی ہے ۔سابقہ کہانی میں کہانی ختم ہونے کے بعد کہانی پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی ہے لیکن اس میں کہانی ختم ہوتے ہی کہانی پر گفتگو شروع ہوجاتی ہے اور نتائج اخذکیا جانے لگتا ہے ۔ ان نتائج میں مصنف کا تنقیدی بصیر ت بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ پروفیسر وی این راے کی زبان میں لکھتے ہیں ’’ اچھی ہے اور کافی meaningful بھی ۔ اس سے زندگی کے کئی اہم نکتوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ کچھ نفسیاتی گرہیں بھی کھلتی ہیں ۔‘‘ جس میں کہانی کے مقصد کو بتاتے ہوئے اس کی سب سے اہم بات کو کہتے ہیں کہ ’’ اقتدار یعنی ستا کی بھوک آچار وچار ، رشتہ ناطہ ، عزت آبرو کچھ نہیں دیکھتی ‘‘ ۔یہاں پر جو ستا کا لفظ
آتا ہے اسی کی تفصیل آگے جاتی ہے اور کہانی کے مقصدکو بھی ’’ ستا ‘‘ میں ہی مرکزی طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔یہ لفظ ’’ستا ‘‘ پروفیسر وی این رائے کے ذہن میں اس طر ح بیٹھ جاتا ہے کہ چار صفحات تک مسلسل اقتداری محو ر اور اقتداری ٹاور کے دائرے ان کے ذہن میں گھومتے رہتے ہیں کہ اچانک یہ سطر نمودار ہوتا ہے ’’ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں صاحب ! یہ ستا کی ہی بھوک تھی جس نے بہو کو اتنا شڈینتر پر مجبور کردیا ۔‘‘ ا س سطر کے بعد وہ کچھ لمحہ کے لیے ٹھٹھک کر رہ جاتا ہے اور قاری کے ساتھ پر وفیسر رائے بھی اقتداری ٹاور کے دائروں سے باہر نکل جاتے ہیں ۔
اس پوری کہانی کو پروفیسر رائے ستا کی بھوک کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن مانجھی کی نظر جسمانی بھوک کی طرف رہتی ہے وہ کہتا ہے:
’’ یہ بھو ک جسم سے جسم کو ملانے کی بھوک ہے ۔یہ بھوک تن کی آگ کو تن سے بجھانے کی بھوک ہے ۔یہ بھوک بھی اندھی ہوتی ہے۔ کچھ نہیں دیکھتی۔ وہ اس بھوک سے بھی پریشان تھی ۔ وہ چاہتی تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی یہ بھوک بھی مٹ جائے ۔‘‘
اب یہاں سمجھ و فہم کا ایک حد فاصل قائم کرنا ہوگا ۔ اول یہ کہ پروفیسرو مانجھی دونوں کی نظر میں یہ واقعہ نفسیاتی ہے لیکن پروفیسر اقتدار کی جانب جاتا ہے اور مانجھی جنسی تسکین کی جانب جب کہ اس کہانی میں جنسی تسکین کے پہلو کو ابھارا بھی نہیں گیا ہے اور دونوں کی نظر الگ الگ تقاضے پر ٹھہرتی ہے ۔لیکن پروفیسر خود کو اس جنسی فلسفہ کی جانب بہنے سے روک نہیں پاتے ہیں تعلق غیر کو بہت ہی مثبت انداز میں سامنے لے آتے ہیں اور بھی محض نئے قسم کے ذائقے کے لیے ۔ جس کی تا ئید ان کے ذہن میں ابھرتے ہوئے کئی واقعات کرتے ہیں۔مگر کئی دیگر عزت و عصمت کے واقعات سے اس کی نفی بھی کر دیتے ہیں ۔ اس کے بعد دو اور سوال مانجھی پروفیسر را ئے سے پوچھتا ہے جس کے بعد گفتگو برابری اور ناقص العقل کہی جانے والی مخلوق کے عقل پر چل نکلتی ہے ۔ برابر میں یہ بات ہوتی ہے کہ مرد نہیں چاہتا ہے کہ کرسی میں وہ’’ اس کے برابر بیٹھے کیونکہ بیٹھنے میں عورت دکھائی دیتی ہے اور لیٹنے میں دیکھائی نہیں دیتی ہے ‘‘یہ جبر تو عور ت پر مر د کی جانب سے ہوتا ہی رہتا ہے لیکن عورت بھی فطری طور پر خود کو بدلنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتی ہے کیونکہ آج کے زمانہ میںتو وہ عورت ہوناہی نہیں چاہتی ہے بلکہ ہر عمر میں وہ لڑکی ہی رہنا چاہتی ہے ، سترہ سال کی ، ستائیس سال کی ، سینتیس سال کی سینتالیس سال کی اور ستاون کی بھی لڑکی ہی ہونا چاہتی ہے کیونکہ سب کے فیشن ایک سے ہوگئے ہیں ، کپڑوں سے لے کر دیگر ملبوسات تک میں کم عمر اور زیادہ عمر کا فرق مٹ چکا ہے جس کو ناول نگار پرو فیسررائے کے مکالمے میں دوسرے پہلو سے پیش کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :
’’ عورت دماغ سے زیادہ اپنے جسم کو دیکھنا چاہتی ہے ۔وہ چاہتی ہے کہ لکیروں سے بھری پیشانی کے بجائے اس کی وہ پیشانی دکھائی دے جس پر ایک بھی لکیر نہ ہو۔ جو سپاٹ اور چوڑی ہو، سکڑی ہوئی نہ ہو ۔جس پر پونم کا چاند نظر آئے دوج کا نہیں ۔وہ اپنی آنکھوں کو پرفکر دیکھنے کے بجائے پرکشش دیکھنا چاہتی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ بھلے ہی اس کا بڑا دماغ نظر نہ آئے مگر اس کے جسم کا ایک ایک انگ اور اس کا چھوٹا سا چھوٹا حصہ بھی ضرور نظر آئے کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں ٹھہری رہ جائیں ۔ اس کا یہ جتن ہوتا ہے کہ اس کی جلد ہمیشہ نر م و نازک اور تر وتازہ بنی رہے ۔ اس کی رنگت اس کی چمک دمک کبھی ماند نہ پڑنے پائے ۔‘‘
جبکہ وہ اپنے نفس دماغ کے ڈیولپ کے بارے میں وہ کبھی بھی اتنا نہیں سوچتی ہے ۔سابقہ میں بھی ہی بات اشارتاً آچکی ہے کہ اس کہانی کا جنسی پہلو بہت واضح نہیں تھا لیکن ناول نگار نے اس پہلو کو مانجھی کے سوال کے توسط متعلق کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس کہانی کو میں سابقہ لڑکی کی کہانی سے جوڑ کر یو ں ہی نہیں دیکھ رہا ہوں بلکہ ناول نگار خود بھی عورت کی عقل پر گفتکو کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’ تم نے اس سے پہلے والی کہانی میں نہیں دیکھا کہ ایک گاؤں دیہات کی رہنے والی معمولی گھسیارے کی بیٹی نے اپنی بدھی اور سمجھدار ی کا کتنا بڑا ثبوت دیا تھا ۔‘‘ لیکن دونوں میں اتنا فرق ہے کہ وہاں صرف کہانی ہے جبکہ یہاں کہانی کے ساتھ ناول میں تجزیہ بھی رقم ہے جو ناول کے فن میں دلچسپ بھی ہے اور دوسری طرف ناول نگار کا عکس بھی نظر آتا ہے ۔
اس کے بعد آگے کی کہانی کی جانب بڑھتے ہیں جو ایک شادی شدہ جوڑے کی ہے اور لذت وصل سے محروم ہے ۔کہانی مختصر سی بس اتنی ہے کہ شادی کے بعد گھر کے ایک کمرے پر مشتمل ہونے اور مہمانوں کی وجہ سے انہیں موقع ہی نہیں ملتا ہے کہ وہ مل سکیں ۔ ہوٹل میں بھی جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہاں بھی مشکوک ہونے کی وجہ سے انٹری نہیں ملتی ہے تو مانجھی کی کشتی میں سوارے ہونے کے بعد مانجھی کی اجازت سے وصل سے آشنا ہوتے ہیں ۔
اس کہانی اور ماقبل کی کہانیوں میں فر ق کئی اعتبارسے فرق ہے ، اول یہ کہ یہ داستانوی اورسماعی نہیں ہے بلکہ بصری و تجرباتی ہے۔ دو م یہ کہ کہانی تسلسل کے ساتھ نہیںچلتی ہے بلکہ بیچ میں مکالمات کے مجموعے قاری کو کہانی سے دور لے جاتا ہے ۔پھر کہانی کی جانب مانجھی لوٹتا ہے اور خود ہی کہانی کو اپنی سہاگ رات کی کہانی کی جانب موڑدیتا ہے ۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ دونوں کہانی وصل کی ہوتی ہے تو قاری اسی احساس سے گزرتا ہے ۔مصنف نے جس طرح سے دوسری کہانیوں کو ناپ تو ل کر عبارت کی لڑی میں پرویا ہے وہ اس کہانی میں ہلکا سا مفقود نظر آتا ہے ۔
ملاح اپنی کہانی سنانے سے پہلے کہتا ہے ’’ صاحب ! میں نے اپنی آنکھیں تو بند کرلی تھی مگر ان میں میری اپنی سہاگ رات ابھر آئی تھی ۔ ‘‘ پھر کہانی ڈیڑھ صفحہ میں ان لفظوں سے ختم ہوتی ہے ’’ رات بھر ہم بنا جھجھک اور ڈر خوف کے اطمینان کے ساتھ پیار و محبت سے کھیلتے رہے ۔ ‘‘ اگلی سطر شروع ہوتی ہے’’ کچھ دیر بعد میرے کانوں میں لجائی لجائی سی آواز گونجی ’’ بھیا ، اپنی آنکھیں کھول لیجیے ۔‘‘ پہلی سطر کے مخاطب پر وفیسر رائے ہوتے ہیں اور دوسری سطر کے درمیان کا فاصلہ ’’ کچھ دیر بعد ‘‘ سے سامنے آجارہا ہے جو مضبوطی سے بنے گئے اس ناول کے پلاٹ میں اس سے پہلے نظر نہیں آیا ۔اس کہانی کا بھی تجزیہ موجو د ہے لیکن اس کا انداز یہاں فکر ی ہے مکالماتی و نظقی نہیں ، کہانی سنتے سنتے پروفیسر رائے مہانگروں کی کالی کوٹھریوں میں کھوجاتے ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے کمروں میں لوگ کسی طر ح سے جنسی زندگی سے پیٹ بھرتے ہیں ۔پروفیسر کے ذہنی طور پر کسی اور منظر نامے چلے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی مقامات پر چاچکے ہیں لیکن ان مقامات پر اس کے لیے اقتباس کا پیرایہ نہیں اپنایا گیا تھا جبکہ یہاں اقتباسات کا پیرایہ استعمال ہوا ہے ۔اس سے پہلے جب اقتداری محور کی بات آئی تو وہاں بھی ذہن میں ابھرنے والے کلمات صفحات میں رقم ہورہے تھے لیکن اقتباس کا پیرایہ نہیں اپنا یا گیا ۔
اس کے بعد ایک کہانی ایک مدرسہ سے پڑھے لکھے شخص ہارون رشید کی سامنے آتی ہے ۔ جس کے تحت مدرسہ سے فارغین کے جو بھی مسائل ہوتے ہیں وہ سامنے آتے رہتے ہیں ساتھ ہی اردو کا مسئلہ بھی باعث ذکرہوجاتا ہے جس کو پکڑے رہنے سے معاشرہ پیچھے رہ جائے گا۔اس در میان پروفیسر قاضی افضال حسین کا نام بھی پڑھنے کو ملتا ہے ۔اس سے قبل سید محمد اشر ف کا بھی نام آیا تھا ۔ اِ س کہانی میں ناول نگار واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں اور ناول سوانح کی جانب سفر کرنے لگتا ہے ۔لیکن کہانی ختم ہوتے ہی پھر جمنا کی سطح پر ناؤ بہنے لگتی ہے اور پر وفیسرو مانجھی کے مکالمے ہوتے ہیں شام ہوجاتی ہے اور ناول بھی ختم ہو جاتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment