Thursday, 3 March 2022

فاروقی رباعیاں

 فاروقی رباعیاں 

ڈاکٹر امیر حمزہ 

ameerhamzah033@gmail.com

غالب انسٹی ٹیوٹ میں دوبرس قبل دہلی کی تاریخی عمارتوں پر ایک سمینار ہورہا تھا اس وقت آخر میں بطور حاصل کلام ایک جملہ فضا میں آیا اور چھاگیا کہ ’’ مغلیہ عمارتیں محض عمارتیں نہیں ہیں بلکہ ان کی انفرادیت وعظمت ہی ان کو مغلیہ بناتی ہے۔‘‘ یہ بات ہربنس مکھیا نے کہی تھی یا کسی اور نے وہ مجھے اب یاد نہیں لیکن یہ جملہ ایسا چھایا کہ مغلیہ کی انفرادیت صرف عمارتوں ہی میں نہیں بلکہ تمام اشیا میں ظاہر ہوجاتی ہے ۔کچھ ایسا ہی معاملہ شمس الرحمن فاروقی کا ہے کہ ان کی انفرادیت صرف تنقید ، تحقیق ، فکشن یا شاعری میں ہی نظرنہیں آتی ہے بلکہ ان کا قلم جس صنف کے لیے بھی اٹھتا ہے وہ منفر د ہوجاتی ہے ۔ جب وہ تنقید کے لیے قلم اٹھاتے ہیں تو اپنی انفرادیت آپ قائم ہوجاتی ہے ، جب فکشن میں آتے ہیں تو وہاں بھی وقت پر غالب ہوجاتے ہیں ۔ یہی صورتحال شاعری کی ہے کہ اس میں بھی دیگر اصناف کی طرح اپنی انفرادیت خود بخود قائم ہوجاتی ہے ۔

 لیکن ان سب میں بھی ایک فطری عمل یہ وجود پاتا ہے کہ کئی زاویوں سے شناخت بنانے والے ہمہ جہت فردیا شخصیت کی شناخت کسی ایک غالب جہت کی وجہ سے غالب ہوجاتی ہے اور دیگر جہات پس پردہ چلی جاتی ہیں۔ یہی کیفیت فاروقی صاحب کے یہاں بھی پائی جاتی ہے کیونکہ جب بھی ان کا نام ذہن میں آتا ہے تو ان کے تنقیدی نگارشات و تصورات لامتناہی کے طور پر سامنے آتے ہیں ، خاص کر شعر شور انگیز کے حوالے سے ۔ گویا ان کی بنیا دی شناختوں میں سے ناقد کی شناخت سب سے زیادہ غالب رہی ۔اس کے بعد فکشن نگاری میں وہ ناول نگار کے حوالے سے زیادہ جانے جاتے ہیں ۔ پھر شاعر کے طور پر ان کی خدمات کا ذکر آتا ہے ۔ اس ترتیب کو میں نے یوں ہی قائم نہیں کیا بلکہ فاروقی صاحب کی خدمات پر لکھی گئی تحریروں کا بغور جائزہ لیںگے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ سب سے زیادہ فلاں عنصر پر، پھر فلاں پرپھر جاکر شاعری پر ہیں۔ یعنی بطور شاعر ان کی شناخت تیسرے نمبر پر ہی آتی ہے ۔ یہ صرف ان ہی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ہر ایک بڑے فنکار کے ساتھ ہوتا ہے کہ جملہ نمایا ں عناصر میں سے کوئی ایک ہی ایسا عنصر ہوتا ہے جس پر سب کی نظر سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔

 شمس الرحمن فاروقی نے اگر چہ شروع میں فکشن کی جانب توجہ کی اور ایک فرضی نام سے تحریریں منظر عام پر آتی رہیں ۔ ان تحریروں پر لوگوں کوشک ہوا تو وہ شک ہی میں رہ گئیں کیونکہ جب راز کھلا تو ان مشکوک تحریروں کی اہمیت فاروقی صاحب کی مقبولیت کے ساتھ منطبق نہیں ہو پائی ۔ یہ معاملہ بھی صرف انہیں کے ساتھ نہیں رہا بلکہ ہر عظیم و مشہور شخصیت کے ساتھ لاحق رہا کہ ان کے نام سے لکھی گئیں فرضی تحریروں کو وہ مقام نہیں ملا جو اصل نام کی تحریروں کو حاصل ہوا۔ الغرض تحریروں کی قد روقیمت شخصیت کے ساتھ ہی نظر آتی ہے خواہ کیسی بھی ہو ۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے تنقید کے میدان میں قدم رکھا تب فاروقی کی فاروقیت نکھر کر سامنے آگئی ۔ اگر چہ وہ خود کو خلیل الرحمن اعظمی کا پیرو کار بتاتے رہے لیکن ان کی انفرادیت نے مرعوبیت کوکہیں بھی پنپنے نہیں دیا۔

 فا روقی اپنی راہ الگ ہی منتخب کرتے ہیں ۔ شاعری کی روایتی روش کو دوش پر رکھ کر اپنے وسیع مطالعہ سے کائناتِ لفظ و معانی کے عمل کو اپنے ذہن سے گوندھتے ہیں اور ان کو نئے ڈھب سے نئے اشکال و معانی میں قید کردیتے ہیں ۔ تخلیق میں وہ نئے معانی تشکیل کرنے کے کھیون ہار کے طور پر سامنے آتے ہیں جس میں شاعری و فکشن دونوں شامل ہیں ۔ فکشن میں افسانہ کا رنگ جدا ہوتا ہے جبکہ ناول کی وسعت میں وہ رنگ پھیکا نظر آتا ہے ۔شاعری میں آزاد ونثری نظم کا رنگ جدا ہوتا ہے اور غزلوں کا دیگر ۔ لیکن اگر خالص فاروقی کی تخلیقات کی بات کی جائے تو شاعری میں وہ بطور رباعی گو ، فکشن میں بطور ناول نگار اور تنقید میں شعر شور انگیزکی بناء پر منفرد نظر آتے ہیں ۔ ان انفرادی وجوہات کو آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی ایک کلیہ ہی کسی کو نکھارنے میں معاون ہوتا ہے ۔ یہی یہاں پر صادق آتا ہے کہ شاعر میں وہ بطور رباعی گو اپنی انفرادیت آپ قائم کرتے ہیں کیونکہ ’’ چار سمت کا دریا ‘‘ ایک مکمل رباعیوں کا مجموعہ ہے اسی لیے فاروقی صاحب ایک مطلق شاعر سے زیادہ رباعی گوشاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں جبکہ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں نظمیں ، غزلیں اور رباعیاں بھی ہیں لیکن وہ ان سے ایک مخصوص نظم و غزل کے شاعر کے طور پر سامنے نہیں آتے ہیں جیسا کہ رباعی کے ایک مکمل مجموعے سے ان کی شناخت ہوتی ہے ۔ 

فاروقی کی رباعیاں اس عہد میں سامنے آتی ہیں جب جو ش و فراق کی رباعیاں فضا میں چھائی ہوئی تھیں اور جدیدیت کا رجحان بھی اپنی جگہ برقرار تھا ایسے میں واضح طور پر سوال تو رہا ہوگا کہ شاعری میں غزل و نظم پر تو اس کے اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں لیکن رباعی میں بھی یہ ممکن ہے کیا ؟ جس کی خصوصیت و فضا تصوف و اصلاح اور ترسیل ہے ۔ ایسے میں رباعی کے مزاج کو بدلنا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں فاروقی صاحب کی زیرکی کو محسوس کیجیے کہ انہوں نے اردو میں سب سے مشکل سمجھی جانے والی صنف سخن رباعی کو ہی ریاضی کا مرکز بنایا اور اپنے اولین شعری مجموعہ ’’گنج سو ختہ ‘‘ (۱۹۶۹) میں مناجات کے بعد رباعی ہی پیش نہیںکرتے بلکہ دیباچہ بھی رباعی ہی میں ہو تا ہے ۔ہمیں تو یہ معلوم ہی ہے کہ دیباچہ کیا چیز ہوتی ہے اور اس میں عموماً کیسی چیزیں لکھی جاتی ہیںلیکن اس کے اصول منزل من السماء بھی نہیں ہیں جو اسی پر چلا جائے بلکہ انسا ن نئے طریقے بھی وضع کرلیتا ہے تو اس دیباچہ کو ایک نئے انداز کا دیباچہ سمجھ لیں جو دو رباعیوں پر مشتمل ہے ۔ عموماًدیباچہ اظہار کے تمام روشن دریچوں کے ساتھ سامنے آتا ہے تاکہ مصنف کا قاری تک واضح پیغام پہنچ سکے ۔ لیکن دیبا چہ کی دونوں رباعیو ںمیں ان کا لہجہ اظہار کا نہیں بلکہ اخفا کا ہے ۔ اس پر جواب بھی فوراً ذہن میں آئے گا کہ جدیدیت کی شاعری میں اظہار کہاں ہے ، وہاں تو اخفاہی اخفا ہے ۔ تو یہاں آپ یہ سمجھ لیںکہ یہ ان کی شاعری کا فنی دیباچہ ہے جس میںانہوں نے اپنی شاعری کا عکس ان دو رباعیو ںمیں پیش کردیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ 

ہیں زخم صدا کہ جگمگاتے ہوئے باغ 

کالی لمبی ندی پہ روشن ہیں چراغ 

کوندی ہے منجمد فضا میں دیکھو

الفاظ کی تلوار معطر بے داغ 


ہر آگ کو نذر خس و خاشاک کروں 

ہر سیل کو برباد سر خاک کروں 

اے شیشہ آہنگ میں معنی کی شراب

کہہ دے تجھے کس درجہ میں بے باک کروں 

مذکورہ بالا دونوں رباعیوں میں اگر موضوع کو گرفت کرنے کی کوشش کریں تو پہلی رباعی کے پہلے مصرع میں ’’زخمِ صدا ‘‘ اور آخری مصرع میں ’ ’ الفاظ کی تلوار‘‘ سے مطابقت پیدا کرکے اس پوری رباعی کو ایک لڑی میں پروسکتے ہیں اور یہ معنی بحسن و خوبی اخذ کر سکتے ہیں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ مجروح آوازوں کا جگمگاتا ہوا باغ ہے جن کے الفاظ تلوار ہیں لیکن خوشبو دار اور بے داغ بھی ہیں ۔ 

اب دوسری رباعی کی جانب رخ کرتے ہیں تو اس میں احساس ہوگا کہ پہلی رباعی سے انہو ں نے جو سفر الفاظ سے شروع کیا تھا وہ اس رباعی میں معانی پر پہنچتا ہے اور یہاں پر شیشہ آہنگ کی ترکیب بہت ہی معنی خیز ہے ۔ آہنگ جو فضا میں قائم ہوتا ہے وہ شیشہ کی کیفیت کے ساتھ سامنے آتا ہے اور اس میں معنی کی شراب کو پیش کر تے ہیں جس کے چھلکنے کی کیفیت کسی سے مخفی نہیں ہے جو معانی کے ساتھ بھی لازم ہے ، اب آگے دیکھیے کہ معنی کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ بتا تجھے کس درجہ بے باک کروں ۔اب غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ و معانی کے اس امتزاج سے ان کا دیبا چہ مکمل ہوتا ہے ۔

 ’’ گنج سوختہ ‘‘ میں مذکورہ بالا دونوں رباعیو ںسے پہلے ایک دعائیہ رباعی بھی ہے ۔


اک آتش سیال سے بھر دے مجھ کو

اک جشن خیال کی خبر دے مجھ کو 

اے موجِ فلک میں سر اٹھانے والے! 

کٹ جائے تو روشن ہو ، وہ سر دے مجھ کو 

اس دعائیہ رباعی کو جب فاروقی صاحب کی ذات سے دیکھتے ہیں تو ہم محسوس کرسکتے ہیں کہ آتش سیال اور جشن خیال سے وہ مالا مال تھے ، آخر ی مصرع کی دعا ان کی شروع سے ہی مقبول رہی۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو دنیا میں ان کی موجودگی میں بھی کوئی ایسا نہ تھا جن کی روشنی ان کے سامنے ان سے زیادہ ہو، خدا نے ان کو اس معاملے میں یکتا اور فرد فرید رکھا تھا ۔ اس مجموعے میں دو رباعیاں اور بھی ہیں ، ان میں ایک رباعی غیر خصی ہے ۔ رباعی کی بحث میں خصی اور غیر خصی کی اصطلاح بار بار آتی ہے ، اس کے متعلق لکھا جاتا ہے کہ جورباعی جتنی قدیم ہو گی وہ غیر خصی ہوگی یعنی اس کے چاروںمصرعوں میں ردیف و قافیہ ہوگا ۔ لیکن ہر زمانے میں اردو وفارسی میں غیر خصی رباعیاں لکھی گئی ہیں ، جوش وفراق کے یہاں بھی ایسی رباعیاں ملتی ہیں ۔ فاروقی کی غیر خصی رباعی ملاحظہ فرمائیں :

اسرار کے دریائوں کا پانی ہے یہ رات 

مردار سمندر کی روانی ہے یہ رات 

بچپن کی سنی کوئی کہانی ہے یہ رات 

خوشبو سے بھر ی رات کی رانی ہے یہ رات 

 موضوعاتی طور پر اس رباعی میں رات کو انہو ں نے کئی انداز میں ایکسپلور کیا ہے کہ رات کو جس جس زاویے سے سوچیں وہ منطبق ہوتی ہے ،رات کے سحر کی وسعت ہر ایک پر عیاں نہیں ہوپاتی ، اس کے اندر سمانے والے رازہائے سربستہ سے پر دہ اٹھنا نا ممکنات میں سے ہے ، یہ ایک تصوراتی دنیا ہے جس کی ایک جھلک بچپن میں کہانی کی شکل میں ہمیں ملتی ہے۔ ان تصورات کی تصدیق سے پرے بس اتنا محسوس کریں کہ یہ جنس غیر مرئی ہے یعنی خوشبو سے بھر ی رات کی رانی ہے یہ رات ۔ 

ا س کے بعد ان کی رباعیوں کا مجموعہ’’ چار سمت کا دریا‘‘ کی جانب رخ کرتے ہیں جس میں رباعیوں کا رنگ دیگر بخوبی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اس میںفاروقی صاحب کا رنگ اتنا بھی واضح نہیں ہے جتنا ’’ گنج سوختہ ‘‘ میں ہے بلکہ کچھ اور دبیز رنگ ہے ۔ اس میں دیباچہ رباعی ہی میں ہے لیکن فاروقی صاحب کی نہیں بلکہ مرزا اسداللہ خاں غالب کی ایک فارسی رباعی اور EUGENIO MONTALE کا ایک اقتباس ہے ۔ یعنی یہاں انہوں نے اپنی جانب سے دیباچہ میں کچھ بھی نہیں لکھا ہے ۔ 

اس مجموعہ میں کل پچھتر رباعیاں ہیں اور تمام رباعیاں جدیدیت کی فضا سے بوجھل ہیں ۔ اس کی پہلی ہی رباعی اس جانب غماز ہے کہ ہم زمین یعنی بحر کے غلام ہیں اور ہمیں اس پر لگے رہنا ہے اور اتفاق سے دوسری رباعی وہ ہے جس کا ذکر گنج سوختہ کے دیباچہ میں ہے ۔ فاروقی صاحب کو اگرچہ جدیدیت کا امام کہا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنی تخلیقی دنیا میں سفر کر تے ہیں تو مکمل طور پر روایت کے پاسدا ر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعہ کی تیسری رباعی میں اپنی بے تاب دعاؤں میں اثر مانگ رہے ہیں ، چوتھی ، پانچویں اور چھٹی رباعی بھی دعا سے تعلق رکھتی ہے ۔ 

کنجشک کو چیتے سا جگر دے دینا 

گل برگ کو بجلی کا ثمر دے دینا 

ہے سہل تجھے مگر ہے سب سے آساں 

بے تاب دعاؤں میں اثر دے دینا 

 کیا خوبصورت دعا ہے کہ پہلے کے دونوں مصرعو ں میں خدا کی قدرت کا ذکر ہے اور تیسرے مصرع میں لسانی خصوصیت مابین سہل و آساں کے بعد بے تاب دعاؤں میں اثر چاہنا ۔ 

نویں نمبر پر ہی وہ رباعی ہے جس سے اس مجموعہ کا نام ماخوذہے ۔ ذیل میں وہ رباعی ملاحظہ فرمائیں : 

تجھ سا نہیں دنیا میں کوئی تنہا آ 

امڈا ہے چار سمت کا دریا آ

یہ نیم شبی گنجان اتنی کب تھی 

مٹنے کو ہے تیری آواز پا آ 

اس رباعی کو موضوعاتی سطح پر کس خانہ میں رکھا جائے اس کے لیے واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ، ایک زاویہ سے دیکھتے ہیں تو یہ ذات باری تعالیٰ سے ایک فریاد کے طور پر سامنے آتی ہے اور آخر ی مصرع کو دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ فراق کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور تنہائی کے خوف سے نکلنا چاہتے ہیں ۔ پہلے مصرع میں جملہ خبر یہ و جملہ امر کے مابین سکتہ اختیار کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے مصرع میں ہے تو لفظ ’تنہا‘ سے کیا مرا د انہوں نے لی ہے یہ ہم پر واضح نہیں ہوتا۔ دوسرے مصرع میں لفظ ’ کا ‘ کا استعمال ’آ‘ کو استعانت سے خارج کردیتا ہے اور ہم سفر ی میں لے آتا ہے جس کا احساس چوتھے مصرع کے ’آ‘ سے بھی ہوتا ہے ۔ ’’ چار سمت کا دریا ‘‘ کو دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ رباعی کے لیے ہے جو چار مصرعو ں کے لیے بطور علامت ہے ۔ اس صورت میں لفظ ’ کا ‘ کو ہمیں ’ والا‘ کے معنی میں دیکھنا ہوگا یعنی چار سمتوں والا دریا ۔انہوں نے نام بھی یہی رکھا ہے تو ہمیں اس معنی سے قریب بھی ہونا پڑے گا ۔ لیکن رباعی کی جو فنی خاصیت ہوتی ہے متحد المعنی ہونا وہ اس سے مختلف ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ خیر چار سمت کا دریا میں مرکز الی الاجتما ع تو ممکن نہیں البتہ مرکز من الاجتماع کی حیثیت تسلیم کی جاسکتی ہے ۔ خیر یہ ان کی جدت ہے کہ ہمیں ہر مقا م و مصرع میں بعید سے بعید تر مفہوم کی جانب جانا پڑتا ہے ۔ 

 رباعی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کا آخر ی مصرع بہت ہی پر اثر ہونا چاہیے یعنی ’ از دل خیزد بر دل ریزد ‘‘ والی کیفیت اس میں ہونی چاہیے اور ایسی کیفیت فارسی کی رباعیوں میں بخوبی پائی جاتی ہے ۔اس کیفیت کو فاروقی صاحب اس طور پرحاصل کر تے ہیں کہ آخر ی مصرع وہ فارسی کا لاتے ہیں جس سے یقینا ا س رباعی کی اہمیت اور قدر و قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس قسم کی ایک رباعی ملاحظہ ہو :

میں وقت کا بندی تھا رہائی کا ہے غم 

زنجیر شکستگی ہے صوت ماتم 

تھی بند سلاسل میں بھی ذلت لیکن 

آن درد دیگر کہ خنداں خوردم 

یعنی وہ ایک دوسرا درد تھا جسے میں نے ہنستے ہوئے پی لیا ۔ اس طریقے کے دیگر ان کے فارسی مصرعے کچھ اس طرح ہیں :

ع ’’در آتش سرد خفتہ بیند مرا‘‘

ع ’’بازندگی خویش چسا کردم من‘‘ 

ع  ’’صدہا ست سخن کہ کس بہ نا کس گوید‘‘

ع  ’’گلشن نہ دمد از خود یا را ں چہ کنند‘‘

ان تمام مصرعوں کوپڑھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جس پنچ لائن کی رباعی کے چوتھے مصرعے میں ضرورت ہوتی ہے وہ فارسی کے ان چوتھے مصرعوں سے بخوبی مل جاتی ہے ۔ چوتھے مصرعے کی ایک اور خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ محاورہ بننے کی طاقت رکھتا ہو جو یہاں نظر بھی آرہا ہے ۔

 فاروقی صاحب کی رباعیو ں کا بغور مطالعہ کریں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ جدیدیت کی دبیز چادر بچھی ہوئی ہے اور ہر مصرع میں ایک قسم کی علامت سے آپ کو سابقہ پڑے گا ۔ مثال کے طور پر دو رباعیاں ملاحظہ ہوں : 

کس خوف کا داغ ماہ وادید میں ہے 

کیا آنکھ ہے جو محاذ خورشید میں ہے 

کیسی ہے نسیم وہم اڑے ہیں چہرے 

کس سانپ کی آمد شب تجدید میں ہے 

 

دریا، دریا میں ناؤ کاغذ کا مکاں 

گردن، گردن آب گہر میں طوفاں 

کوئل، کوئل کی کوک پھولوں میں پھوار

آنکھیں، آنکھوں میں درد رفتہ لرزاں 

فاروقی صاحب نے جیسا کہ شروع میں لکھا تھا کہ میں تو بحر(اوزان) کا مزدو ر ہوں یعنی شاعری میرا کام ہے ، تو اس میں وہ کئی فنی تجر بے بھی کرتے ہیں جیسے مرزا دبیر کی طرح صنعت مہملہ و منقوطہ میں رباعیاں پیش کرتے ہیں ۔ فاروقی کی رباعیوں میں بادل، آنکھ، بر ق مسکن، نیلی بجلی، کالی آندھی ، وسعت افلاک ، بر گ ، رات، نیلا کہرا، نیلا آسمان ، جنگل، گنبدِ افلاک ، سرِ شب، گہرا نیلا رنگ ، رمِ شب، گھنے خواب ، بکھرے خواب ، حبس بھرے خواب ، نیل فلک ، جوئے خوںاور نیلم جیسے الفاظ نظر آتے ہیں جن کا تعلق علامات سے بھی ہے ۔ 

 فار وقی صاحب کے دوسرے شعر ی مجموعہ ’’ سبز اندر سبز‘‘ میں بائیس رباعیاں ہیں ۔ ان میں کچھ رباعیاں مکرربھی ہیں ، جیسے گنج سوختہ کی رباعیاں ،چار سمت کی دریا میں ہیں اسی طریقے سے ’’ سبز اندر سبز ‘ میں بھی ماقبل کے شعری مجموعوں سے رباعیاں رقم کی گئی ہیں ۔ اس شعر ی مجموعہ سے بھی بطور نمونہ ایک رباعی ملاحظہ فرمائیں : 

گہراہوں لوٹ آؤں میں نے پوچھا 

دیکھا ہے بھول جاؤں میں نے پوچھا

ان آنکھوں کو کھولے ہوئے ہے پنجہ شیر

آنکھوں کو چھوڑ آؤں میں نے پوچھا 

 اب رخ کرتے ہیں ’’آسماں محراب ‘‘ کی جانب اس میں دیگر اصناف سخن کے ساتھ ان کی رباعیاں بھی ہیں ۔ اس مجموعہ میں انہوں نے رباعیوں کو عناوین کے تحت بھی تقسیم کیا ہے ۔ پہلی رباعی کسی عنوان کے تحت نہیں ہے لیکن اِ س رباعی کا رنگ دیکھ کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو رنگ گنج سوختہ اور چارسمت کا دریا میں اپنا یا گیا ہے وہ اس میں نہیں ہے ۔ رباعی کچھ اس طرح ہے :

سرگوشی تیری سر بازار سنوں 

جنگل کی زبانی تیرا اقرار سنوں 

تو گہری ناگن سے خموشی میں مجھے 

اک بار بلائے تو میں سوبار سنوں 

اس رباعی میں مخاطب کی کیفیت کا اظہار ہے اور شاعر ہی مخاطب ہے ۔ شدت و تڑپ کس ذات کے لیے ہے وہ مخفی ہے ۔ اس اخفا کو ہم بین المتونی جدیدیت کی اخفائی صفت میں شمار کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد سات تضمینی رباعیاں پیش کی گئی ہیں اور وہ ساتوں رباعیاں شیخ فخر الدین عراقی، شیخ فرید الدین عطار، استاد ابوالفرج رونی، شیخ ابوسعید ابو الخیر ، مو لانا صوفی مازندرانی ، میرزا عبدالقادر بیدل اور ایک نامعلوم کی رباعی پر ہے ۔ پہلی رباعی جو عراقی کی ہے اس میں دو اردو مصرعے فاروقی کے ہیں اور فارسی کے آخر کے دونوں مصرعے عراقی کے ہیں ۔ دوسری رباعی عطار کی ہے جن میں دو مصرعے اردو اور دو فارسی میں ہیں ، چوتھا مصرع عطار کا ہے جو ان کی رباعی کا تیسرا مصرع ہے ۔ تیسری رباعی نامعلوم کی ہے اس میں بھی دومصرعے اردو کے ہیں اور دو فارسی کے ۔ اسی طریقے سے بقیہ تضمینات میں بھی دو مصرعے اردو کے اور دو فارسی کے ہیں ۔

 تضمینی رباعیو ںکے بعد ایک ایک رباعی’ ’ رباعی ۲۰۰۱‘‘ کے عنوان سے ہے جب کہ کتاب ۱۹۹۶ء میں شائع ہوئی۔اس کے بعد چار لالچ بھری رباعیاں ہیں اور اتفاق سے چاروں میں عناوین بھی ہیں ۔نشان کی چار سمتیں ، رنگ کے چار رنگ،لوائح اربعہ اور مسیحائے شوق ان کے عناوین ہیں ۔ مسیحائے شوق کی رباعی دیکھیں : 

خار آہن ہوں برگ زر ہوجاؤں 

سوکھی کھیتی ہوں چشم تر ہوجاؤں

ہلکا سا ترے پاؤں پہ یہ چوٹ کا داغ

میں چھولوں اس کو تو امر ہوجاؤں 

اس رباعی کو اگرچہ انہوں نے لالچ بھری میں رکھا ہے لیکن آپ غور سے دیکھیں تو تمنا ئی رباعیاں زیادہ محسوس ہوںگی۔ خیر!

اس کے بعد جہاں ہم پہنچتے ہیں وہ ہے فاروقی کی پکی عمر کی رباعیاں ، آخر فاروقی صاحب کو ان رباعیو ںمیں پکی عمر کا عنوان لگانے کی ضرورت کیوں پڑی یہ سوال خواہ زیر بحث نہ آئے لیکن اس میں انہوں نے جس قسم کی رباعیاں پیش کی ہیں اس سے آپ سوچ سکتے ہیں کہ جدیدیت کے بہاؤ میں انہوں نے ’’چار سمت کا دریا ‘‘ میںجس نوعیت کی رباعیاں پیش کی ہیں یقینا وہ رباعی کے مزاج کی حامل نہیں ہیں بلکہ ان میں ظاہر ی طور پر ہر مصرع ایک الگ اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور چاروں مصرعوں سے ایک ہی کیفیت تو نظر آجاتی ہے لیکن چاروں مصرعوں کے امتزاج سے کوئی ایک پیغام دیا جارہا ہویہ نظرنہیں آتا ۔ تمام رباعیوں کے تمام مصرعے علامت کی دبیز چادر کے تلے دبے ہوئے ہیں ، جب کہ پکی عمر کی رباعیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی رنگت کچھ اور نظر آتی ہے :

جو عقل کے جھانسے میں نہ آئے وہ ہے دل 

جو من مانی کرتا جائے وہ ہے دل 

اک بوند گنہ پر سو قلزم روئے 

پھر ناکردہ پر پچھتائے وہ ہے دل


شیطان کسی طرح یہ مرتا ہی نہیں

بندے سے نہ مالک سے ڈرتا ہی نہیں 

گم نامی و ذلت کے بھی غاروں سے عمیق

دل ایسا جہنم ہے کہ بھرتا ہی نہیں 

ان رباعیوں کو پڑھنے کے بعد آپ محسوس کررہے ہوں گے کہ یہ تو فاروقی صاحب کا رنگ نہیں ہے ۔ یہ تو کسی ناصح اور صوفی شاعر کا کلام محسوس ہورہا ہے ۔ لیکن آپ کو معلوم ہوگا کہ رباعی نے سب سے زیادہ اپنے اندر اسی رنگ کو پایا ہے ۔ رباعی کا یہ رنگ آپ کو درد ، انیس و دبیر ، حالی و اکبر ، شاد، یگانہ ، رواں اور جوش کے یہاں بھی ملے گا ۔اب مضمون کے آخر میں یہاں پر پروفیسر ابو بکر عباد کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کر نا چاہوں گا : 

’’ اپنے ہم عصروںمیں فاروقی صاحب تنہا قابل رباعی گو شاعر کی شناخت رکھتے ہیں ۔ رباعیوں میں بھی ان کی فنی مہارت اور قادرالکلامی حد درجہ نمایاں ہے ۔ انھوں نے بیشتر مروجہ اوزان پر رباعیاں کہی ہیں اور فارسی کے اساتذہ شعرا کے دودو مصرعو ں پر اردو کے دودو مصرعے لگاکر رباعی کو ایک نئی تضمینی شان سے روشناس کرایا ہے ۔ فاروقی صاحب کی رباعیوں کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان میں گہرا ابہام اور دبیز اسرار ہوتا ہے ۔ ایسا شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی رباعیوں میں اخلاقی اور فلسفیانہ مضامین کے ساتھ ساتھ بالعموم اس میں وہ اپنا ایک جدید فکری رنگ بھی شامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے رباعی کا آہنگ اور اس سے قاری کی روایتی انسیت قدرے مختلف معلوم ہونے لگتی ہے ، سو اسے بھی تعمیر ی جدت سے تعبیر کرنا چاہیے ۔ لالچ بھری رباعیاں اور پکی عمر کی رباعیاں اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔‘‘

 استادمحتر م کی اس تحریر سے کلی اتفاق ممکن نہیں ہے ۔ اول یہ کہ فاروقی صاحب اپنی زندگی میں بھی قابل رباعی گو شاعر کی حیثیت سے کل شناخت نہیں حاصل کرپائے تھے ، البتہ فاروقی صاحب عروض داں تھے اور رباعی کا ان مجموعہ تھا اور اس عہد میں انہوں نے رباعیاں کہی ہیں جب اردو میں رباعی کے شاعر خال خال ہی پائے جاتے تھے لیکن فاروقی صاحب اپنی ہی رباعیوں کی وجہ سے یہ شناخت نہیں حاصل کر پائے اس کی وجہ اردو رباعیوں کے مزاج ومنہاج سے پرے ان کی رباعیوں کا ہونا ہے جو موضوعاتی و فنی طور پر بھی روایتی و جدید موضوعات کی شاعری میں مقبول نہ ہوسکی ۔ استاد محترم کی اس بات سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں کہ فاروقی صاحب کی رباعیوں میںگہرا ابہام اور دبیز اسرار ہوتا ہے ۔ اس لفظ اسر ار کو ان رباعیوں کی زبان ولفظیات کو دیکھتے ہوئے پُر اسرا ر پر محمول کریں تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا ۔ ا ن کے یہاں اخلاقی مضامین یہی پکی عمر کی رباعیو ں میں ہے اور فلسفیانہ مضامین تو نہیں البتہ فلسفیانہ رنگ ہے ، مطلب زبان فلسفیانہ ہے ، وہ اس طرح کہ ماقبل کے مجموعوں میں جو رباعیاں پیش ہوئی ہیں وہ مضامین سے عاری ہیں۔ وہ اس طور پر کہ ہر مصرع اپنے اندر ہی مکمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، جہاں رنگ ، عکس اور تصور کا گزر ہے نہ کہ ماقبل کے مصرع سے مل کر آخر ی مصر ع بہت پتے کی بات کہہ رہا ہے ۔ الغرض فاروقی صاحب کی رباعیاں بالکل منفر د نوعیت کی حامل ہیں جو یقینا اردو رباعیات کے مزاج و منہاج سے بہت مختلف ہے ۔ 

 شروع کے پیرا گراف میں میں نے ایک بات لکھی تھی کہ فاروقی صاحب کی جملہ تحریریں اپنے اندر مکمل انفرادیت رکھتی ہیں، وہ آپ رباعیوں کے حوالے سے بھی سمجھ چکے ہوں گے ۔


Friday, 17 December 2021

مرکب افعال امدادی افعال

مرکب افعال امدادی افعال

اردو زبان میں افعال کا ایک سمند ر ہے اور اسماء کا بھی، اسی طر ح سے ہماری اس پیاری زبان میں صفات بھی لا محدود ہیں۔ تواس میں آپ واقف ہوں گے کہ کبھی کبھی کوئی فعل دوسرے فعل کی مدد سے نیا معنی پیدا کر تا ہے اور اس دوسرے فعل کو امدادی فعل کے طور پر جانا جا تا ہے اور کبھی فعل کے ساتھ اسم یا صفت کے آجانے سے نئے معنی پیدا ہوجاتے ہیں تو ایسے میں ان افعال کو فعل مرکب کہتے ہیں ۔

اردو زبان میں ’’ ہونا ‘‘ ایک مصدر ہے جس سے کئی افعال نکلتے ہیں ۔اسی طریقے سے ’’ آنا ‘‘ مصدر سے کئی افعال بنتے ہیں تو دونوں کو ملا کر’ آیا ہو، گیا ہو ‘ مرکب افعال بنے ۔ ’ہونا ‘ کا ’ہو ‘مر کب افعال میںبہت ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے آیا ہو ، گیا ہو، پڑھا ہو، کھایا ہو، بیمار ہوا ہو ، سوگیا ہو ، چل دیا ہو وغیرہ۔ ان تمام مرکب افعال میں احتمالِ خفیف کی کیفیت پائی جارہی ہے جو مستقل فعل احتمالی سے کسی قدر کم ہے ۔

اسی طریقے سے ’دینا ‘ اور ’لینا ‘ ایسے مصدر ہیں جو اپنی مکمل صورت میں افعال کے ساتھ آتے ہیں اور کچھ نئے معنی پیدا کر تے ہیں جیسے اتار دنیا ، کتاب لے لینا، بچا لینا ،خر چ کر دینا وغیرہ ۔ ان افعال کے معنی میں ایک خصوصی زور یا تاکید نظر آتی ہے اور قربت کا اظہا ربھی ہوتا ہے جیسے بلا لینا ، سن لینا اور دکھا لینا وغیرہ۔

’’جانا‘‘ ایک مصدر ہے جس سے کئی افعال نکلتے ہیں اورمعاون فعل کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے ۔ جس کے ساتھ یہ فعل آتا ہے اس کا شمار مر کب افعال میں ہو جاتا ہے جیسے آجانا ، چلے جانا ، بکھر جانا اور ٹوٹ جانا ، مل جانا ، نکل جانا، اچھل جانا اور کودجانا وغیرہ یہ اکثر فعل لازم کے ساتھ آیا ہے ۔اسی طریقے سے آنا کا استعمال بھی فعل لاز م کے ساتھ نظر آتا ہے جیسے بن آنا ، بنا آنا ، بھاگ آنا اور دوڑ آنا وغیرہ ۔

کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو غصے کی حالت میں بہت ہی زیادہ استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک لفظ ’ ڈالنا ‘ ہے ۔ جس کے لغوی معنی تو آپ جانتے ہی ہوں گے اور اس کا استعمال بھی کچھ اس طرح ہوتا ہے جیسے پانی ڈالنا ، پردہ ڈالنا وغیرہ ۔ لیکن غصے کی حالت میں اس کو افعال کے ساتھ اس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے مار ڈالنا ، کاٹ ڈالنا ، مسل ڈالنا ، چیر ڈالنا وغیرہ  ۔اسی معنی کے لیے ’’ ڈالنا ‘‘ کے بجائے ’’ دینا‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے جیسے چیر دینا ،مسل دینا ، پیٹ دینا وغیرہ ۔

کہیں آپ نے حالِ استمر اری پڑھا ہوگا اگر نہیں پڑھا ہوتومر کبات فعل میں اس کی ایک شکل ’ رہنا ‘میں نظر آتی ہے جیسے بیٹھے رہنا ، بیٹھ رہنا ، سو رہنا ، بولتے رہنا ، پڑھتے رہنا وغیرہ اس میں حالِ استمراری کی کیفیت نظر آتی ہے ۔لیکن کبھی کبھی ختم ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے نظر جاتی رہی ، طاقت جاتی رہی ، قوت گویائی جاتی رہی وغیرہ لیکن اس میں دو افعال’ جانا‘ اور ’ رہنا ‘ کا استعمال ہوا ہے ۔

پڑنا کا استعمال مر کب افعال کی صورت میں اچانک اور اتفاق کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے لڑپڑنا، گر پڑنا، ٹوٹ پڑنا ، کھانے میں ٹوٹ پڑنا وغیرہ اسم کے ساتھ اس کا استعما ل یوں ہوتا ہے جیسے قحط پڑنا ، بیمار پڑنا وغیرہ ۔

’’بیٹھنا ‘‘ایک باضابطہ فعل ہے لیکن اس کا استعمال کسی دوسرے فعل کے ساتھ جب آتا ہے تو اس میں جبر کی سی کیفیت آجاتی ہے جیسے لڑبیٹھنا ، پیسے دبا بیٹھنا ، چڑھ بیٹھنا وغیرہ ۔بیٹھنا کو اس طرح بھی استعمال کر تے ہیں جیسے پوچھ بیٹھا ، کر بیٹھا ، مار بیٹھا وغیرہ ۔اٹھنا بھی انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے لڑاٹھا ، جھگڑاٹھا، بو ل اٹھا، بلبلا اٹھا ، پھڑک اٹھا، جھلا اٹھا وغیرہ ۔پڑنا کا بھی استعمال انہیں چیزوں میں ہوتا ہے اور دوسری مثالیں جیسے بر س پڑا ، بن پڑا، آپڑا  وغیرہ۔ نکلنا سے لفظ نکلا بھی انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے آ نکلا ، بہہ نکلا ، پھوٹ نکلا وغیرہ ۔ ان تمام میں کسی کام کے دفعتاًہونے کا علم ہورہا ہے ۔

فعل کے شروع میں اگر’آ‘ یا ’جا‘ استعمال ہورہا ہے تو اس کے معنی میں کسی کام کے دفعتاً ہونے کا اضافہ ہوجاتا ہے جیسے جا پڑنا ، آپڑنا ، آنکلنا وغیرہ ۔ جا پڑنا میں ایک معنی یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کہیں گیا اور وہاں سے ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے جب تک کہ مقصد کو حاصل نہ کرلے ، اسی طر یقے سے لگ پڑنا ہے۔

فعل حال کے بارے میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ اس میں کسی کام کے ہونے کی خبر دی جاتی ہے جیسے حامد کام کر رہا ہے ۔ لیکن اس میں’ لگنا ‘کا اضافہ کر دیا جائے تو اس بات کی بھی اطلاع ملتی ہے کہ کوئی کام بس ابھی ابھی شروع ہوا ہے ۔جیسے کام کر نے لگا ، کھانے لگا ، نہانے لگا،پڑھنے لگا ۔ محاورے میں اس کے معنی لزوم کے ہیں جیسے ’’ وہ تو گلے آ لگا‘‘ او ر اگر ’لگنا ‘ کا مصدر بدلتا ہے اور ماضی کے بجائے حال یا مضارع کا استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی بھی اسی حساب سے بدلنے لگتے ہیں ، جیسے جب وہ باتیں کر نے لگتا ہے تو پھول جھڑنے لگتے ہیں ، جب وہ بولنے لگتا ہے تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ ان دونوں مثالوں میں کام کے تسلسل کا پتہ چلتا ہے ۔ لگنا میں احسا س و گمان کے معانی بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جیسے مجھے ایسا لگا کہ بارش ہورہی ہے ، اب بس سے سفر بھار ی لگنے لگا ہے۔

لگنا سے جیسے حال میں کام کے شروع ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو ایسے ہی صیغہ ’’چاہتا ‘‘کسی فعل کے بعد لایا جائے تو مستقبل قریب میں کسی کام کے ہونے کی خبر دیتا ہے جیسے ، محمود آیا چاہتا ہے ، اب کام مکمل ہوا چاہتا ہے ۔

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل 
چراغ سحر ہوں، بجھا چاہتا ہوں

چاہنا ہے کا اصل استعمال تو خواہش کے اظہار کے لیے ہوتا ہے :

جیسے علامہ اقبال کے اس شعر میں 
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

اوپر میں جو معنی مستقبل قریب کے لیے’’ چاہتا ہے ‘‘ سے پیدا کیا چاہتا ہے ، وہی معنی مصدر کے الف کو یا ئے مجہول سے بدلنے اور اس کے بعد ’کے‘،’کو‘ اور ’ہونا ‘ کے اضافہ سے ہوتا ہے ، جیسے اوپر کی مثال میں ’’ کھایا چاہتا ہے ‘‘ اور اب کی مثال میں ’’ کھانے کو ہے ، جانے کو ہے ، آنے کو ہے ، وغیرہ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ۔

چاہنا مصدر سے چاہیے بھی بہت ہی زیادہ بطور امدادی فعل کے استعمال ہوتا ہے ۔ جس کے معنی میں کسی اخلاقی معاملہ یا ذمہ داری کی جانب توجہ دلا نے کے آتے ہیں ، جیسے ذمہ داری کے لیے: آپ کو بات کر نی چاہیے ۔تمھیں غالب سے مل لینا چاہیے تھا ۔اخلاقی ذمہ داری کے لیے جیسے ہمیں سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کر ناچاہیے ۔

لفظ ’ لے‘ جب معاون فعل کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی میں کسی شخص یا شے کا بھی لزو م آتاہے ۔ جیسے لے بھاگا ، چیل چوزہ لے اڑا، راجو سونو کو بزنس میں لے ڈوبا وغیرہ ۔

لفظ ’ دے ‘ بھی فعل کے شروع میں کسی بھی کام میں زور پیدا کرنے کے لیے آتا ہے جیسے ، دے مارا ، دے پٹکا ، دے گھونسا دے تھپڑ وغیرہ ۔
لفظ ’ رہا‘ بطور امدادی فعل جب استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی میں یہ بات پوشیدہ ہوتی ہے کہ کسی کام کے کرنے میں دشواریاں آرہی تھیں لیکن مکمل کر لیا گیا ہے۔ جیسے دلی جا کر کے رہا ، مکان بنا کر کے رہا ، وہ اسے ہرا کر کے رہا وغیرہ ۔

اسی طریقے لفظ ’رکھا‘ جو بطور امدادی فعل استعمال ہو کر نئے نئے معانی پیدا کر تا ہے جیسے : مالک مجھے کام پر لگا رکھا ہے ، میں رکھا کا استعمال عدم رضامندی کو ظاہر کرتا ہے اور جیسے ’ فلا ں نے میرا مال دبارکھا ہے ۔اس نے مجھے سمجھا رکھا ہے ، یعنی پہلے ہی سے سکھا پڑھا کر کے تیار کر لیا ہے کسی کام کے کرنے یا نہ کر نے کے لیے ۔اسی طریقے سے تاکید پیدا کر نے کے لیے جیسے سن رکھو، دیکھ رکھو وغیرہ ۔ان تمام کے علاوہ کئی الفاظ اور بھی ہیں جن کو آپ اپنی روزمرہ گفتگو میں استعما ل کر تے ہیں

متعدی و تعدیہ

 متعدی و تعدیہ 


فعل لازم کو فعل متعدی کیسے بنایاجاتا ہے فعل لازم وہ فعل ہوتا ہے جس میں جملہ فعل اور فاعل سے پورا ہوجاتا ہے جیسے حامد گیا، امی آئیں، بھائی بیٹھا فوجی دوڑا، چور بھاگا پولیس آئی وغیرہ۔

فعل متعدی وہ فعل ہوتا ہے جس کو فاعل اور مفعول دونوں کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ جملہ فعل ،فاعل اور مفعول سے مکمل ہوتا ہو۔جیسے بشریٰ نے کتاب پڑھی، حامد نے خط لکھا، ثانیہ نے کمپیوٹر سیکھا وغیرہ تو ان سب مثالوں میں کتاب، خط اور کمپیوٹر مفعول ہیں۔یہ عمومی بات تھی اس کے بعد جاننے کی بات یہ ہے کہ مفعول کے لحاظ متعدی کی تین قسمیں ہیں ۔ اول یہ کہ جس میں مفعول صرف ایک ہی ہو جیسے زیدنے بلی کو مارا ۔ دوم جس میں دو مفعول ہو ں جیسے صبا نے اقرا کو کتاب دی ۔ اس مثال میں اقرا اور کتاب مفعول ہیں ۔سوم یہ کے جس میں مفعول کی تعداد تین ہو جیسے حامد نے زاہد سے عادل کو کتاب بھجوائی ۔

لیکن ہم اب جو چیز لکھنے جارہے ہیں وہ اوپر کی تعریف سے بالکل مختلف ہے کیونکہ ہم ان افعال کو پہچانیں گے جو بذات خود متعدی ہوں گے۔یعنی اس کو متعدی سمجھنے کے لیے فعل، فاعل اور مفعول کی ضرورت ہمیں محسوس نہیں ہوگی۔

اب ہم رخ کرتے ہیں اس بات کی جانب کہ کیسے فعل لازم فعل متعدی بنتا ہے ۔یہ بات ذہن میں رہے کہ اکثر افعال جو فعل لازم ہوتے ہیں وہ فعل متعدی بھی ہوتے ہیں اور وہ فعل لازم سے ہی بنتے ہیں۔

ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ فعل لازم کے مادہ کے آگے (جیسے چلنا کا مادہ چل) الف بڑھایا جائے جیسے چلنا سے چلانا، پکڑنا سے پکڑانا، پڑھنا سے پڑھانا، دوڑنا سے دوڑانا، تڑپنا سے تڑپانااور کرنا سے کرانا وغیرہ۔

کبھی مادہ فعل کے آخری حرف سے پہلے الف لگا کر متعدی بنایا جاتا ہے جیسے اترنا سے اتارنا، بگڑنا سے بگاڑنا وغیرہ۔ 

کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں کہ اس کی متعدی اگر بنائی جائے تو پہلے حرف کی حرکت کو اس کے موافق حرف علت سے بدل دیتے ہیں (حرف علت تین ہیں الف، واو،یا) جیسے مرنا سے مارنا، ٹلنا سے ٹالنا، تھمنا سے تھامنا، مڑنا سے موڑنا، نچڑنا سے نچوڑنا، کھلنا سے کھولنا، چرنا سے چیرناوغیرہ۔ 

اس کے برعکس کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں جس میں فعل کے دوسرے حرف کو حذف کر دیا جاتا ہے اور دو حرف کے بعد واو یا الف کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے بھاگنا سے بھگانا، بھیگنا سے بھگونا، جاگنا سے جگانا، توڑنا سے تڑانا(مثال بکری رسی تڑا کر بھاگ گئی) سیکھنا سے سکھانا، دیکھنا سے دکھانا وغیرہ۔ اسی نوعیت  کے کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں جن میں واو الف کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے پاٹنا سے پٹوانا، ڈالنا سے ڈلوانا، ڈانٹنا سے ڈنٹوانا، تاکنا سے تکوانا وغیرہ 

کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں جن کے متعدی بناتے وقت ٹ ڑ سے بدل جاتا ہے جیسے ٹوٹنا سے توڑنا، پھوٹنا سے پھوڑنا، پھٹنا سے پھاڑنا، پھڑوانا ،جھٹکنا سے جھاڑنا وغیرہ۔

اگر کوئی مصدر چار حرفی ہو اور اس کا دوسرا حرف حرف علت ہو تو ایسے میں اس حرف کو حذف کرکے (لا) کا اضافہ کرتے ہیں جیسے رونا سے رلانا، کھانا سے کھلانا، سونا سے سلانا دھونا سے دھلانا، نہانا میں تیسرا حرف علت کا ہے تو یہاں بھی حذف کرکے نہلانا ہوگا۔

کبھی افعال میں امداد ی افعال لانے سے بھی متعدی بنتا ہے جیسے جانا سے لے جانا ، بھاگنا سے لے بھاگاوغیرہ ۔

افعال کی نفی

افعال کی نفی

 آپ نے حر وف کی قسموں میںسے ایک قسم حرف نفی بھی پڑھا ہوگا ۔ نفی کے معنی انکار کے ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کے نہ کر نے یا نہ ہونے کا علم اس حرف سے ہو اور جس فعل کے شروع میں یہ حر ف آتا ہے اس کوفعل نفی کہتے ہیں ۔جیسے حامد نہیں ہے ، اس نے آج پڑھائی نہیں کی ۔ ان دونوں جملوں میں نہ ہونے اور پڑھائی نہ کر نے کی خبر معلوم ہورہی ہے گویا یہ دونوں جملے نفی کے جملے ہیں ۔اس سے پہلے جتنی بھی گردانیں آپ نے پڑھیں وہ سب معروف و مجہول کی تھیں اور وہ سب مثبت گردانیں تھیں۔ اس شمارے میں صرف افعال نفی کا ذکر ہوگا ۔ افعال فعل کی جمع ہے اور فعل کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ اس سے کسی کام کے ہونے یا کر نے کا علم ہوتا ہے ۔جیسے حامد آیا توآنا فعل ہوا جس سے حامد کا آنا معلوم ہوا ۔ اس کو ہم فعل نفی بنائیںگے تو ہم کہیں گے ’’ حامد نہیں آیا ‘‘ ۔ آیا جو فعل ہے اس کے شروع میں ’نہیں ‘ لگانے سے یہ فعل نفی ہوگیا ۔

ایک قاعدہ کلیہ یا در کھیں کہ کسی بھی فعل کے شروع میں ’نہ یا نہیں‘ لگا نے سے وہ فعل نفی ہوجاتا ہے ، چا ہے وہ فعل ماضی ، فعل حال یا فعل مستقل ہو ۔ فعل ماضی کی مثال حامد کتاب نہیں پڑھا ، فعل حال : امی کھانا نہیں پکا رہی ہیں ، فعل مستقبل : ابو مارکیٹ نہیں جارہے ہیں ، فعل تمنائی: کاش وہ نہیں آتا ، فعل احتمالی : شاید وہ نہ آئے وغیرہ ۔یہاں آپ نے تمنائی میں ’نہیں ‘ اور احتمالی میں’ نہ ‘ پڑھا ۔یہاں آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھر رہا ہوگا کہ ’ نہ ‘ اور ’ نہیں ‘ کا استعمال ایک ہی ہے یا دونوں کے استعمال میں کچھ فرق بھی ہے ۔ تو یہ بات جان لیں کہ اکثر مقام پر دونوں کے استعمال میں فرق پایا جا تا ہے۔ البتہ کہیں کہیں دونوں کا استعمال بھی ہوتا ہے ۔جس طریقے سے اوپر ماضی کے مثال میں ’’ نہ ‘‘ کا استعمال ہوا ہے اسی طریقے سے ماضی شر طیہ میں بھی ’’ نہ ‘‘ کا استعمال ہوتا ہے جیسے اگر وہ ٹیم میں کھیلتا تو اچھا نہ کھیلتا ۔ اسی طریقے سے فعل مضارع کے شر طیہ میں بھی ’ نہ ‘ استعمال ہوتا ہے جیسے اگر وہ نہ کھائے تو میں کیا کروں ۔یہ دونوں جملے شرطیہ ہیں ۔ جملے کی قسموں میں سے آپ نے جملہ شرطیہ پڑھا ہی ہوگا کہ اس میں ایک جملے کے دو جز ہوتے ہیں ایک شرط اور ایک جزا ۔شر ط مطلب جس میں کسی چیز کے کر نے یا نہیں کر نے کی شرط رکھی جاتی ہے ۔ جزا میں اس شر ط کا بدلہ ہوتا ہے جیسے اگر وہ کھاتا تو نہ پچا پاتا ۔ اس میں اگر وہ کھاتا شرط ہے اور نہ پچا پا تا جزا ہے ۔ یہاں پر جملہ شر طیہ کے لانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر جملہ شر طیہ کے جزا میں نفی لایا جائے تو وہاں بطور حر ف نفی ’نہ ‘ لانا زیادہ مناسب ہوتا ہے ۔

فعل امر کی نفی ’ نہ ‘ اور ’ مت ‘ دونوں لگا نے سے ہوتا ہے جیسے نہ کر مت کر ۔ماضی مطلق میں اکثر مقام پر ’ نہیں ‘ ہی استعمال ہوتا ہے لیکن بعض مقام پر ’ نہ ‘ بھی لکھا اور بولا جاتا ہے جیسے مرزا غالب کا ایک مصرع ’ ’جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار ‘ ‘ یہاں پر ’نہ‘ استعمال ہوا ہے۔ لیکن اکثر مقام پر نہیں آیا ، نہیں پڑھا، نہیں کھایا ، نہیں سویا وغیرہ استعمال ہوتا ہے ۔فعل احتمالی میں بھی دنوں استعمال ہوتے ہیں جیسے (ماضی ) شاید وہ نہیں آیا ہو (مستقبل ) شاید وہ نہ آئے یا جیسے وہ آیا ہو اور ہماری نظر نہ پڑی ہو وغیرہ ۔فعل مستقبل کی نفی بنانے کے لیے بھی ’نہیں ‘ آتا ہے ۔لیکن اس میں فعل کے بعد ’ کا ، کے ، کی ‘ کا استعمال ہوتا ہے جیسے وہ نہیں آئے گا ، میں نہیں آؤں گا ، ہم نہیں آئیں گے ۔ وہ نہیں آنے کی ، میں نہیں آنے کا ، ہم نہیں آنے کے ۔اس میں’ کا ، کے ، کی‘ متکلم صرف تاکید کے لیے استعمال کر نا چاہتا ہے ۔

Monday, 1 November 2021

انوکھا شخص و شاعر مظفر حنفی

انوکھا شخص و شاعر مظفر حنفی 


 مرتب: انجینئرفیروز مظفر
 اشاعت: 2021
 صفحات: 582
قیمت: 500روپے
 ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی
مظفر حنفی اردو کے ادبی دنیا کی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کا ادبی سفر پچا س بر سو ں پر محیط ہے۔ اس عرصہ میں وہ بطو ر تخلیق کار شعر ی اور نثر ی دنیا میں اپنی شناخت سب سے الگ بناتے ہیں۔مظفر حنفی غزلیہ شاعری کے منظر نامے پر جدید لب و لہجہ اور منفر د آواز کے ساتھ ابھر تے ہیں جن کا اظہار وہ اپنے اشعار میں بھی کر تے ہیں۔ادب اطفال میں مروجہ روایت سے ہٹ کرکہانیاں اور نظمیں تحریرکرتے ہیں۔ مظفر حنفی کی ادبی دنیا بہت ہی زیادہ وسیع ہے، انہوں نے1967 سے 2018 تک اپنے چوبیس شعری مجموعے ترتیب دیے۔اپنے ابتدائی ادبی زمانے میں تین اور2015 میں اپنا آخری افسانوی مجموعہ سامنے لائے۔ 1983 سے 2016 تک ادب اطفال پر نو کتابیں تصنیف کیں۔ آخری عمر میں انٹر ویوکے بھی تین کتابیں منظر عام پر لائے۔1978 سے 2014 تک بارہ تحقیقی و تنقیدی کتابیں تصنیف کیں ان کے علاوہ چھ مونوگراف بھی لکھے۔ تیرہ کتابوں کے مرتب و مدون بھی رہے۔گیارہ کتابوں کا انہوں نے ترجمہ بھی کیا۔مزید برآں ایک سفر نامہ بھی ہے۔ ان تمام تصانیف سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ادب کی سیاحی نہیں بلکہ اردو ادب کی باغبانی کی ہے۔ ان کے کارنامہئ چمن میں طرح طرح کے ادبی پھول نظر آتے ہیں اور ان کا کارنامہ ئحیات محض چند بر سوں پر ہی محیط نہیں بلکہ مکمل پچاس برسوں میں پھیلاہوا ہے اور تقریباً 80کتابیں منظر عام پرآتی ہیں۔ کثیر التصانیف ہونے کے باوجود بسیار و زود نویس نہیں کہلائے۔ ایسا شاید اس وجہ سے نہیں ہوا کیونکہ انہیں اپنے فن پر عبور حاصل تھا۔ مظفر حنفی ان خوش نصیبوں میں سے بھی ہیں جن پر تحقیقی مقالہ ڈاکٹر محبوب راہی نے ان کی زندگی میں ہی نہیں بلکہ ان کے ادبی سفر کے شباب میں ہی (1984) میں تحریر کیا،انہوں نے ناگپور سے پی ایچ ڈی کی ڈگری اس وقت حاصل کی جب پروفیسرمظفر حنفی جامعہ ملیہ اسلامیں ریڈر تھے۔ یقینا تب ان کے مکمل کارنامے سامنے نہیں آئے تھے البتہ وہ اپنی شعری شناخت حاصل کرچکے تھے۔ جدیدیت سے تو متاثر تھے ہی ساتھ ہی انہوں نے اپنے استاد شاد عارفی کا طنزیہ لہجہ بھی بہت حد تک اختیار کیا اور وہ جدید غزل میں اپنی نئی شناخت قائم کیے۔
 زیر تبصرہ کتاب ا ن کی وفات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کتاب سے قبل ڈاکٹر محبوب راہی کی تصنیف اور فیروز مظفر کی مرتب کردہ ایک کتاب مظفر حنفی کی شخصیت و فن پر منظر عام پر آچکی ہے جن کی ضخامت بھی اِ س کتاب کے آس پاس ہے۔ میری دستر س کے مطابق یہ ان کی شخصیت و فن پر تیسر ی کتاب ہے جو ان کی زندگی اور فن کی تکمیل کے بعد سامنے آئی ہے۔ ماقبل کی دوکتابوں سے یہ کتاب بہت حد تک مختلف ہے اول الذکر تحقیقی مقالہ ہے جس میں مظفرحنفی کی کل ادبی سرمایہ کا بیس فیصد کا ہی مطالعہ ہے کیونکہ یہ کتاب 1987 میں شائع ہوئی تھی۔ دو سر ی کتاب میں اپنے عہد کے اساطین ادب کی تحریریں ہیں جو مظفر حنفی کے فن کے دریچے وا کرتی ہیں اور اِس زیر تبصر ہ کتاب میں موجود ہ دور کے افراد کی تحریریں ہیں۔ کتاب کے شروع میں فیروز مظفر کے ذریعہ مظفر حنفی کا تفصیلی توقیت نامہ پیش کیا گیا ہے جس میں سال بہ سال بہت ہی تفصیل سے ان کے کارناموں کو شمار کیا گیا ہے اگر اس کو مختصر علمی سوانح عمر ی کہاجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس کتاب میں کل چہتر (74) چھوٹے بڑے مضامین ہیں اس کے بعد چھبیس منظوم خراج عقید تیں جس میں پانچ قطعات تار یخ بھی ہیں۔ مرتب نے واضح کیا ہے کہ اس میں دو قسم کے مضامین ہیں، ایک وہ جوان کی زندگی میں ہی لکھے گئے تھے اور دوسرے وہ جو وفات کے بعد تحریر کیے گئے ہیں۔زندگی میں لکھے گئے مضامین فن سے تعلق رکھتے ہیں، بعد کے مضامین میں فنی تحریریں ہیں اور تعزیتی بھی۔ پوری کتاب میں عمدہ تحریریں بکھری پڑی ہیں لیکن جس طرح کتاب کے فلیپ میں مظفر حنفی کی تصانیف کو اصناف میں الگ الگ پیش کیا گیا ہے ویسا کچھ مضامین کی ترتیب میں نظر نہیں آتا ہے۔ اکثر مضامین شاعری سے متعلق ہیں، مظفر حنفی کے چار افسانوی مجموعے شائع ہوئے ہیں اس میں ان کے فکشن پر صرف دو مضامین ہیں۔ یادیں اور ملاقاتیں پر کئی تحریریں ہیں،ادب اطفال پر شاعری کے حوالے سے تین مضامین ہیں، پھر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ جس بسیط شخصیت کا نام مظفر حنفی تھا ان کے فن و شخصیت پر محیط یہ کتاب نہیں ہے کیونکہ اس میں ان کی ترجمہ نگاری، تحقیق و تدوین، جمع و ترتیب کے فنی مطالعے پر کوئی تحریر نہیں ہے۔ ان سب کے باوجود یہ کتاب بایں طور اہم ہے کہ اس میں ان کی شاعری کے کئی گوشوں کا خاطر خواہ مطالعہ ملتا ہے، جس سے آج کی نسل کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے جدیدت کے دور میں اس کے اثر ات کو قبول کرتے ہوئے بھی اپنی راہ الگ کیسے بنائی اور ان کی شاعری میں عصری حسیت کے ساتھ حالات پر طنز کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے۔ فصیح اللہ نقیب کا مضمون صرف ایک شعری مجموعہ کے حوالے سے ہے لیکن وہ ان کی شعری کائنات کی مکمل نمائندگی کرتا ہے۔ جدید غزل میں مظفر حنفی کا کیا مقام ہے اس حوالے سے ڈاکٹر ممتا ز الحق، ارشد نیاز ودیگر کے مضامین عمدہ ہیں۔کتاب میں مظفر حنفی کے دو انٹر ویو بھی ہیں ایک طلعت فاطمہ کا اور دو سرا پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا۔ الغرض یہ کتاب ان کے شعری امتیازات کی تحریروں سے پر ہے۔ کتاب کی عمدگی میں کوئی حرف نہیں البتہ ترتیب و تہذیب میں قدرے غور و فکر کر کے فن کے اعتبار سے ترتیب وار پیش کرتے تو مزیدخوبصورتی آ جاتی،  نیز ان کی بسیط شخصیت کے لیے یہ آخر ی کتاب ثابت نہیں ہوگی بلکہ شاعری کے سوا پر بھی بھر پور توجہ کی ضرورت ہے جس جانب مرتب موصوف انشا ء اللہ توجہ دیں گے۔ کتاب کے ٹائٹل کے لیے انہوں نے نئی راہ نکالی ہے کہ نام کے مقام پر مظفر حنفی کی تصویر استعمال کی گئی ہے یہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے مزید تجربہ پر موقوف ہے۔

امیر حمزہ 

Monday, 11 October 2021

وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن

وہاب اشرفی ۔ ذکر،فکراورفن 

 وہاب اشرفی ذکر، فکر اور فن

امیر حمزہ


اردو ادب کے اہم و مشہور چنندہ ناقدین و محققین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے تو ان میں وہاب اشر فی بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے بعد تنقید و تحقیق کا ارتقا نظر آتا ہے۔ نصف اول میں تخلیقی اصناف کا غلبہ تھا نصف ثانی میں تحقیق و تنقید نے اپنی جگہ بنانا شروع کی تو اس زمانے میں تخلیق کاروں کے شانہ بشانہ ناقدین نظر آنے لگے پھر آہستہ آہستہ ایسا وقت بھی آیا کہ ناقدین کا قدنمایاں ہوا اور تخلیق کار ناقدین کی سر پر ستی و کر م فرمائی میں آگئے۔ آٹھویں دہائی تک جدیدیت کے رجحان سے یہ سامنے آنے لگا اس کے بعد متنوع نظر یات کے سہارے فن پارو ں پر مختلف تنقید ی نظر یات سامنے آنے لگے، کوئی کسی کو مشرقیت کی کڑی سے جوڑتا ت،کوئی رجحانات کے سانچے میں تولتا تو کوئی مغربیت کے اسکیل میں ناپنے کی کوشش کرتا تھا۔ نثری فن پارہ تو ہندوستان میں ہی تخلیق پاتا تھا جس میں یہاں کی دیہاتوں کی کھری و کھردری زندگی، قصباتی زندگی اور شہر و ں میں دوڑتی بھاگتی زندگی ہی جی رہی ہوتی اور شعری کائنات میں مشرقی افکار و اقدار وشعریات ہی نظرآتا لیکن ناقدین کی علمی بصیرت و تہہ داری نے فن پاروں کی تہہ داری کو کھولنا شروع کیا اور ان میں کثیر سے کثیر رنگ و معانی تلاش کر کے پیش کیے جانے لگے۔ شاعر ی کی تفہیم کے لیے کئی فلسفے متعارف ہوئے اور عام سی منظر ی، فطری و معاملاتی شاعری کی تنقید بھی کلاسیکی شاعری کے معیار سے بڑھ کر کی جانے لگی الغرض اس عہد میں تنقید نے اپنی ارتقا کا سنہرا دور طے کیا۔اگرچہ کچھ تعبیرات فلسفی موشگافیوں میں الجھ کر رہ گئیں. اسی دور سے پروفیسر وہاب اشرفی کا تعلق ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی کے ساتھ ان ہی کے ہم وطنوں نے یہ تحدید کی ہوئی ہے کہ پر وفیسر کلیم الدین احمد کے بعد بہار میں اگر کوئی مکمل ناقد ہوا تو وہ پروفیسر وہاب اشر فی ہیں۔ اس تحدید کی ہمیں چندا ں ضرورت نہیں بلکہ اردو ادب میں انہوں نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں اور اردو ناقدین میں وہ صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔ ”تاریخ ادبیات عالم“ اور ”تاریخ ادب اردو‘‘ کے لیے وہ حکومتی اعزازات سے بھی سرفراز کیے گئے۔ انہوں نے بیش بہا کتابیں اور مضامین اردو دنیا کو دیں۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ اردو ادب میں جینے والے شخص نہیں تھے بلکہ وہ ایک انجمن تھے جس کے اندر ادبی ماحول مستقل اپنی نیرنگیوں کے ساتھ چمکتا و دمکتا رہا۔ رانچی یونی ورسٹی میں جب تک رہے تو وہاں پابندی سے ایک مجلہ نکالتے رہے جس میں نو آموز افراد کی مستقل تر بیت کی جاتی رہی، سبکدوشی کے بعدانہوں نے سہ ماہی مباحثہ نکالا جو آخری عمر تک جاری رہا جس کے ٣٩ شمارے منظر عام پر آئے تھے۔ ان کے تنقیدی جہان پر نظرڈالیں تو تنقیدی مضامین کے مجموعے کم اور یک موضوعی کتابیں زیادہ نظر آتی ہیں اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہاب اشرفی صاحب کی علمیت کتنی زیادہ تھی کہ وہ کتابوں کے لانے میں زیادہ مطمئن ہوئے نہ کہ کسی اہم موضوع کو صرف ایک مضمون میں سمیٹ دیا جائے۔ خیر! اُن کے تمام احوال و آثار کو ڈاکٹر سرور حسین نے اپنی اس کتاب میں جمع کیا ہے۔ سرور صاحب کو میں ان افر اد میں شمار کرتا ہوں جن کی تحریروں میں مواد بہت ہوتا ہے ان کی تحریروں میں الجھاؤ نہیں  ہے بلکہ پیچیدہ مسائل کو بھی بخوبی اپنے سادہ سے اسلوب میں حل کرجاتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی جب وہ ”وہاب اشر فی بحیثیت نقاد“ تحریر کرتے ہیں تو تنقیدی نظریات اور فلسفیانہ موشگافیوں میں نہیں الجھتے ہیں بلکہ تعارف کے بعد وہاب اشرفی اپنی کیا رائے رکھتے ہیں اس کو بیان کرجاتے ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ جس فلسفہ نقد کو ہم سمجھتے ہی نہیں تھے اب اس پرتو  سوال بھی قائم ہو سکتا ہے۔ الغرض انہوں نے وہاب فہمی کی تفیہم بہت ہی بسط وتشریح سے اس کتاب میں پیش کی ہے۔ چودہ عناوین کے تحت اس کتاب کومنقسم کیا ہے۔جس میں شروع کے چار عناوین تعارف، شخصیت، فکری سماجی و تہذیبی رویہ اور عصری حسیت، ان کی داخلی زندگی پر منحصر ہے جو ان کی عملی و تصنیفی زندگی میں بخوبی نظر آتا ہے۔ پانچواں عنوان بحیثیت نقادہے۔ جس میں مصنف نے ”قطب مشتر ی ایک جائزہ“ سے لے کر ”نسائی تحریک: مضمرات و ممکنات“تک بطور ناقد اپنی صلاحیتوں کو منوایااور ان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ چھٹے عنوان میں وہا ب اشرفی کی اہم کتابوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تقریباً ایک سو بیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں ان کی بیس اہم کتابوں پر عمدہ تجزیہ پڑھنے کو ملتا ہے اور جو مضامین کے مجموعے ہیں ان میں ہر مضمون پر تجزیاتی تحریر ہے۔ اس کے بعد آٹھ عناوین میں بطور محققق، مؤرخ، افسانہ نگار،سوانح نگار، نثر ی اسلوب، تبصرہ نگار، بحیثیت صحافی اور بحیثیت شاعر وہاب اشرفی کا کیا مقام و مر تبہ ہے اس کی قدر متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ الغرض وہاب اشر فی کے ذکر،فکر اور فن پر اس کتاب میں انہوں نے بھر پور گفتگو کی ہے جس سے ادب کے شیدائی بخوبی مستفید ہوسکتے ہیں۔

Thursday, 25 March 2021

فراق گورکھپوری کی رباعی گوئی(Firaq Gorakhpuri)

 

فراق گورکھپوری کی رباعی گوئی

امیر حمزہ

فراق ؔ ارد ور رباعی کا ایک ایسا باب ہے جس میں داخل ہونے کے بعد رباعی خالص ہندوستانی رنگ وپیر ہن ، احساسات و جما لیا ت ، نظر و فکر اور رنگ و بو میں نظر آتی ہے ۔فر اق نے رباعی کے باب میں ماضی کی تمام روایتوں کو پس پشت ڈال کر موضوعات میں خالص ہندوستا نی احساسات و فکر اور حسن و جمال کو مر کز بنایا ہے ۔اس سے پہلے اردو رباعی ان الفاظ و تراکیب ، حسن و جمال اور تبسم سے محروم تھی ۔فراقؔ نے اپنی رباعیوں میں ہندوستانی عورتو ں کے حسن وادا کے مختلف روپ پیش کیا ہے ۔

فراق ؔ اپنی رباعیوں کے ذریعے ہندوستانی عورتوں کے حسن و جمال کی جزئیات نگاری کی بھرپور عکاسی کر نے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ان کی رباعیوں میں جا بجا جسم کے مختلف حصوں اور ہندوستانی معاشرت و کلچر کی مختلف تصویریں نظر آتی ہیں ۔جیسے پنگھٹ پر گگریوں ک کا چھلکنا ، معصوم کنواریوں کا کھیتوں میں دوڑنا ،ساون میں جھولاجھولنا وغیرہ ۔

فراق نے کل پانچ سو انہتر (۵۶۹) رباعیاں کہی ہیں جن میں ’’روپ ‘‘ میں تین سو اکیاون (۳۵۱) ،روح کائنات میں اڑسٹھ(۶۸)، گلبانگ میں مادر ہند کے تحت اٹھانوے (۹۸) فکر یات کے عنوان کے تحت اکیاون(۵۱)اور متفر ق میں ایک رباعی موجود ہے ۔یہ تمام رباعیاں موضوع کے اعتبار سے صرف دو زمروں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں ۔ ایک زمرہ ان رباعیوں کا ہے جن میں محبوب کے لب و ر خسار اور اس کے خد و خال کی کیف آگیں تصویر یں ہیں اور دو سرے زمر ے میں ان رباعیوں کو رکھا جاتا ہے جن میں ہندوستانی زندگی اور ہندوستانی طرز معاشر ت کی جھلک نظر آتی ہے جیسے پنگھٹ پر لڑکیوںکی گگر یاں ، معصوم لڑ کیوں کا کھیتوں میں دوڑنا ، ساجن کے جوگ میں مستا سا مکھڑا اور بیٹی کے سسرال جانے کا منظر وغیرہ ۔ہندوستانی معاشر ت کے ایسے خاکے اور چلتی پھرتی تصویریں ہیں جن میں فراق ؔ کا تخیل ، ان کا جمالیاتی شعور اور ان کے طر ز ترسیل کا انوکھا رنگ نے جان ڈال دی ہے ۔

پنگھٹ پر گگریاں چھلکنے کا یہ رنگ

پانی ہچکولے لے کے بھر تا ہے تر نگ

کاندھوں پہ سر وں پہ دو نوں باہوں میں کلس

مد انکھڑ یوں میں سینوں میں بھر پور رنگ


ہودی پہ کھڑی کھلا رہی ہے چارہ

جوبن رس انکھڑیوں سے چھلکا چھلکا

کومل ہاتھوں سے ہے تھپکتی گردن

کس پیار سے گائے دیکھتی ہے مکھڑا


وہ گائے کا دوہنا، سہانی صبحیں

گر تی ہیں بھر ے تھن سے چمکتی دھاریں

گھٹنوں پہ کلس کا وہ کھنکنا کم کم

یا چٹکیوں سے پھوٹ رہیں ہیں کر نیں

 ہندو ستانی کلچر و ثقافت جہاں تک انکی شاعر ی میں ہے اسی متعلق فراقؔ’’روپ ‘‘ میں چند باتیں کے زیر عنوان رقم طراز ہیں :

’’جہاں تک ایسی شاعر ی کا تعلق ہے جسے ہم صحیح معنی میں ہندو ستا نی کہہ سکتے ہیں جس میں یہاں کی فضا کی گر می ہو، ہندوستان کی مٹی کی خوشبوہو، یہاں کی ہواؤں کی لچک ہو ، یہاں کے آکا ش سورج اور چاند ستاروں کا آئنہ بنے اور ان کو آئینہ دکھائے ۔یہ صفات اردو شاعر میں ابھی کم آئی ہیں ۔شاعر ی میں کوشش خواہ غزل ہو یا نظم یا رباعی محض اضطر اری چیزیں نہیں تھیں ۔ان کی کوششوں میں بھی ہندو ستان اور ہندو ستان کے کلچر کی تھر تھر اتی ہوئی زندہ رگوں کو چھو لینا چاہتا ہوں ۔،،

یہ فراق کا ایک ایسا تصور ہے جس سے فراق کی رباعیوں کو ایک قابل قدر تہذیبی حسیت عطا ہوئی ۔جس نے انہیں ہندوستانی تمدن ، گنگا جمنی تہذیب اور ہندو ستانی عورت کے جمالیاتی مظاہر کا تر جمان بنا دیا۔ ان کی رباعیوں میں ہندوستانی معاشرت کا آئینہ صاف نظر آتا ہے ۔ ان کی رباعیوں میں عورت کہیں محبوبہ ، کہیں شوخ لڑکی ، ، کہیں گر ہستن اور کہیں محض رفیقئہ حیات کی حیثیت سے ابھر تی ہے ۔

ڈھلکا آنچل دمکتے سینے پہ الگ

پلکوں کی اوٹ مسکراہٹ کی جھلک

وہ ماتھے کی کہکشاں و موتی بھر ی مانگ

وہ گود میں چاند سا ہمکتا بالک


آنگن میں بہاگنی نہا کے بیٹھی

رامائن زانو پر رکھی ہے کھلی

جاڑے کی سہانی دھوپ کھلے گیسو

پر چھائیں چمکتے صفحے پر پڑتی ہوئی

فراق ؔ کی رباعیوں کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ ان کی رباعیوں میں جمالیاتی ،تہذیبی اور جنسی عناصر جگہ جگہ نظر آتے ہیں جن سے قاری ان کی رباعیوں کے اسیر نظر آتے ہیں اورفراقؔ اردو کے وہ منفر د شاعر ہیں جنہوں نے اپنی رباعیوں کو ’’سنگھاررس ‘‘ کی رباعیوں سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی رباعیوں میں حسن کومختلف زاویوں سے دیکھا اور پیش کیا ہے ، اس کی اداؤں کی دل نشینی کو محسوس کیا ہے ۔ان کی رباعیوں میں ’’وہ روپ جھلکتا ہوا جادو درپن‘‘، ’’منڈلاتے ہوئے بادلوں کے سے گیسو‘‘،’’شفاف فضا کے ہوش اڑاتی ہوئی زلف‘‘اور ’’مڑتی ندی کی چال‘‘ حسن کی وہ مختلف کیفیات ہیں جنہیں پہلی بار رباعی کی لڑی میں پرویا گیا ہے ۔فراقؔ رباعی میں جتنا کھل کر پیش آئے ہیں وہ اتنا غزلوں اور نظموں میں بھی نہیں آئے ہیں۔ حسن کی تصویروں کو پیش کرنے میں فراق فراخدلی سے کام لیے ہیں ۔ان کی رباعیوں میں استعارات و کنایا ت اور تشبیہات کا خوبصورت ذخیر ہ نظر آتا ہے ۔فراق ؔ اپنے ان ذخیروں کے بدولت جب کسی چیز کی تعر یف کر تے ہیں تو مختلف پیر ائے سے کرتے چلے جاتے ہیں ۔جیساکہ گیسو کی تعریف ۔

باد ل کوئی آہستہ گرجتا ہے کہ زلف

برسات میں قصر شام سجتا ہے کہ زلف

منڈلاتی گھٹامیں جیسے ہاتھی جھومیں

کجلی بن میں ستار بجتا ہے کہ زلف


نکھر ی ہوئی رات جگمگاتی ہوئی زلف

تقدیر کے پیچ و خم دکھاتی ہوئی زلف

مدھم لے میں چھڑا ہے ساز ہستی

جیون سنگیت گنگناتی ہوئی زلف


راتیں برکھا کی تھر تھر اتی ہیں کہ زلف

تقدیریں پیح و تا ب کھاتی ہیں کہ زلف

پرچھائیاں کانپ کانپ جائیں جیسے

متوالی گھٹائیں گنگناتی ہیںکہ زلف


سنبل کے تروتازہ چمن ہیں زلفیں

بے صبح کی شب ہائے ختن ہیں زلفیں

خود خضر یہاں راہ بھٹک جاتے ہیں

ظلمات کے مہکے ہوئے بن ہیں زلفیں

محبوبہ کی آنکھوں کی تعریف مختلف جہتوں سے اور مختلف اوقات کے آنکھوں کی کیفیت کو مختلف پیر ائے میں بیان کر تے ہیں ۔ان کے محبوبہ کی آنکھیں تاروں کو لوریاں سناتی ہیں ،اس کی نشیلی آنکھیں راتوں کی جوانیاں ہیں، ان کے یہاں جب محبوبہ کی آنکھیں خلوت ناز میں جھکتی ہیں تو کامنی کے پھول برس جاتے ہیں ، محبوبہ کی رسیلی آنکھوں کی چمن دو شیزہ سحر معلوم ہوتی ہے ۔

چلمن میں مژہ کی گنگناتی آنکھیں

چھوتی کی دلہن سی کچھ لجاتی آنکھیں

جوبن رس کی سدھا لٹاتی ہر آن

پلکوں کی اوٹ مسکراتی آنکھیں


راتوں کی جوانیاں نشیلی آنکھیں

خنجر کی روانیاں کٹیلی آنکھیں

سنگیت کی سر حدپہ کھلنے والے

پھولوں کی کہانیاں رسیلی آنکھیں


دوشیزہ سحر رسیلی آنکھوں کی چمک

آئینہ صبح میں مناظر کی جھلک

جیسے پڑنے کو آئے آبگینوں پر چوٹ

شفاف فضا میں وہ نگاہوں کی کھنک

فراقؔ اپنی رباعیوں میں محبوب کا سراپا پیش کر تے ہوئے اس کی اداؤں ،حر کات و سکنات کو بھی بڑی دلکش انداز میں پیش کر تے ہیں ۔اس پیش کش میں محبوب کے نہ صر ف دلکش خدو خال اور اس کی شخصیت نمایا ں ہوتی ہے بلکہ محبوب کے حر کات و سکنات اس کے اٹھنے بیٹھنے سو نے جاگنے چلنے پھر نے کی بھی متحر ک تصویریں پیش کر تے ہیں ۔ان متحر ک تصویروں کی پیش کش میں خوبصورت سمعی وبصر ی پیکر وں کی مدد سے بڑی چابکد ستی سے اس میں رنگ آمیزی کر تے ہیں ۔اس وجہ سے ان کی رباعیوں میں محبوب اپنی ساری جلوہ سامانیوں اور رعنائیوں کے ساتھ ابھر تا ہے او ر قاری کے ذہن میں ایک دیرپانقش چھوڑ دیتا ہے ۔

اٹھنے میں ہمالہ کی گھٹاؤں کا ابھار

انداز نششت چڑھتی ندی کااتار

رفتار میں مدھ بھر ی ہواؤں کی سنک

گفتار میں شبنم کی رسیلی جھنکار


بالوں میں خنک سیاہ راتیں ڈھلیں

تاروں کی شفق کی اوٹ شمعیں جلیں

تاروں کی سرکتی چھاؤں میں بستر سے

ایک جان بہار اٹھی ہے آنکھیں ملتیں


یہ نقرئی آواز یہ ترنم یہ خواب

تاروں میں پڑرہی ہے جیسے مضراب

لہجے میں یہ کھنک یہ رس یہ جھنکار

یا چاندی کی گھنٹیوں کا بجنا تہہ آب

فراقؔکی زبان میں ہمیں ہندی اور سنکر ت الفاظ بکثر ت ملتے ہیں ۔اصل میں ہم اردو شاعر ی میں فارسی الفاظ سننے کے عادی ہوچکے ہیں ایسے میں ہمیںجب ہندی کے الفاظ کچھ زیادہ سماعت سے ٹکر اتے ہیں تو ہمارے ذہن میں فوراً یہ ردعمل شر وع ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ہندی اور سنسکر ت سے زیادہ راہ روی اختیار کی ہے ۔حالانکہ کچھ ایسی خاص بات نہیں ہے ان کے یہاں جہاں ایک طر ف لوچ ،دھج ، نیر ، سرگم، روپ ، دیوی، امر ت، کونپل ، کنچن ، جھرمٹ ، جیون ، مکھڑا ، سہاگ ، سنگیت ،چنچل اور درپن جیسے شیر یں اور سر یلے الفاظ ملتے ہیں تو وہیں ہمیں آئینہ نیلگوں ، گلنا ر ، شفق ، نقر ئی آواز ، رودجمن، شام ہستی، زندان حیات ، دوشیزہ ٔ سحر ، آئینہ صبح ،قوس قزح ، پیکر نازنین اورجان بہار جیسے خوبصورت فارسی تراکیب بھی جا بجا ان کی رباعیوں میں نگوں کے طرح جڑے ہوئے ہیں ۔

فراق ؔ کی رباعیوںکو جنسیت زدہ رباعی بھی کہا گیا ہے ۔حالانکہ انکے انہیں رباعیوں کو اقبال ماہر اس حیثیت سے تعبیر کر تے ہیں ۔

’’روپ ‘‘ کی رباعیوں میں فراق ؔنے ہزار ہا سال پرانی لیکن سدا سہاگ ہندو وجدان اور ہندو ثقافت کی نشاۃثانیہ کا ثبوت دیا ہے ۔ اگر ہم تمام اردو شاعر ی میں ہندو تصور حسن کو تلاش کر نا چاہیں تو اس تصور کے حقیقی کارنامے اور نمونے ہمیں رباعیوں میں ملیں گے ‘‘

اصل میں ان کی رباعیاں حسن و فطرت، اور انسانی حسن کی متنوع کیفیات اور رنگا رنگ تجر بات کی آئینہ دار ہیں ۔ ان کی رباعیوں میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات اور جنسی خوبصورتی کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے اوروہ رباعیاں جن میں جنسی میلان اور جنسی تجر بات کی عکاسی کی گئی ہے اس میں بہت بے باکی نظر آتی ہے ۔بالہوسی اس میں ہے یا نہیں ان کی اس تحر یر سے سمجھی جاسکتی ہے جس کو سیدہ جعفر نے محمد طفیل کو فراق کے ذریعے لکھے گئے ایک خط کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔

’’جب جنسی جذبات کسی شخص کی پور ی شخصیت میں حلول کر جائیں اور اس کے مستقل کر دار کا جز و بن جائیں اورجب جنسی خواہش کے مقابلے میں احساس جمال زیادہ بڑھ جائے اور بہت زیادہ گہرا ہوجائے تب جنسیت عشق کا مر تبہ کر لیتی ہے ۔‘‘

فراق ؔکی وہ رباعیاں جن میں جذبہ عشق کی مصوری توازن میں رہ کر کی گئی ہے وہ رباعیاں اردو شعر و ادب میں قیمتی اضافہ معلوم ہوتی ہیں اور اردو رباعی کے صنف میں ایک نئے رنگ و آہنگ کے راہ میں گامزن نظر آتی ہیں ۔ان رباعیوں کو پڑھنے کے بعد ہر ادب کے قاری کے ذہیں میں یہ احساس ابھر تا ہے کہ وہ اردو رباعی جو فارسی کے راہ پر گامز ن چلی آرہی تھی اس کو فراقؔنے اپنے فکر اور گر دو پیش کے تہذیبی رجحانات سے مزین کیا ہے

Wednesday, 24 March 2021

تر قی پسند شاعری اور مولانا سعید احمد اکبر آباد ی


 تر قی پسند شاعری اور مولانا سعید احمد اکبر آباد ی

امیر حمزہ



’’ ہمیں حسن کا معیار تبدیل کر نا ہوگا ۔ ابھی تک اس کا معیار امیرا نہ اور عیش پرورانہ تھا ۔ ہمارا آرٹسٹ امراء کے دامن سے وابستہ رہنا چاہتا تھا ۔انھیں کی قدردانی پر ان کی ہستی قائم تھی اور انھیں کی خوشیوں اور رنجوں ، حسرتوں اور تمناؤں ، چشمکوں اور رقابتوں کی تشریح و تفسیر آرٹ کا مقصد تھا ، اس کی نگاہیں محل سراؤں اور بنگلوں کی طرف اٹھتی تھیں ، جھونپڑ ے اور کھنڈر اس کے التفات کے قابل نہ تھے ، انھیں وہ انسانیت کے دامن سے خارج سمجھتا تھا۔ آرٹ نام تھا محدود صورت پرستی کا ، الفاظ کی تر کیبوں کا خیالات کی بندشوں کا ، زندگی کا کوئی آئیڈیل نہیں زندگی کا کوئی اونچا مقصد نہیں ۔‘‘

’’جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح بیدا ر نہ ہو، روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے ، ہم میں قوت و حرارت نہ پیدا ہو، ہمارا جذبہ ٔ حسن نہ جاگے ،جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کے لیے سچا استقلال نہ پیدا کر ے وہ آج ہمارے لیے بیکا ر ۔ اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔‘‘

’’ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو آزادی کا جذبہ ہو ، حسن کا جوہر ہو تعمیر کی روح ہو ، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو ، جو ہم میں حرکت ہنگامہ اور بے چینی پیدا کر ے ۔ سلائے نہیں کیونکہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی ۔‘‘

اوپر کے تینوں کے اقتباسات میں مشتر کہ طور پر جو عناصر کھل کر سامنے آتے ہیں وہ ہیں ( ۱) حسن کا معیار (۲) آرٹ کا محدود ہونا (۳) زندگی کا کوئی آئیڈیل نہیں (۴) ذوق سلیم ( ۵) تفکر وغیرہ ۔ ان عناصر کی کارفرمائی سے ترقی پسند ادب تشکیل پاتا ہے ۔

 اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ عناصر تر قی پسندتحریک کی تشکیل کے بعدادب میں درآتے ہیں یا پہلے سے پائے جاتے ہیں ۔ تو شاید تمام کا جواب ہوگا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز نئی نہیں ہے ، سب قدیم ہیں، بلکہ کچھ توا لزامات ہیں اگر میں یہ کہوں کے یہ سارے عناصر ری پیکیجنگ کیے گئے ہیں اور اپنے سے قبل کے ادب کو عالمی شور وغوغا سے ناقص بتا نے کی پر زور کوشش کی گئی تو غلط نہیںہوگا۔ کیونکہ ترقی پسندی کے وقت تو وہ شجر ممنوعہ کی طرح پیش کیا گیا لیکن انہی کے علمبر داروں نے میر و غالب و اقبال پر اچھی تحریریں دنیائے ادب کو دیں ۔بقول سجاد ظہیر کہ جب فیض دہلی کے مناظرہ میں تقریر کر نے کے لیے اسٹیج پر آئے تو ’’ انھوں نے عالمانہ انداز میں بڑی متانت سے یہ ثابت کیا کہ تر قی پسند ادب میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘‘ ۔

بات شروع کر تے ہیں حسن کے معیار سے ۔تویہ بنیادی بات جان لینی چاہیے کہ ذہن کے تین بنیادی دریچے ہوتے ہیں جس سے وہ خارجی و داخلی امور کی جانب فطری طور پر مائل ہوتا ہے ۔(۱) حق (۲) خیر (۳) جمال ۔

کوئی بھی خیال و تصور ان ہی تین میں سمایا ہوا ہوتا ہے ۔ کوئی بھی چیز حق ہے یا تو حق سے منسوب ۔ خیر کے بغیر کوئی بھی چیز قابل قبول نہیں ہوسکتی ، موجود تو ہوسکتی ہے لیکن قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔جمال کے بغیر بھی کسی شے کا وجود ہوسکتا ہے لیکن تاثیر سے عاری ہوگا ۔

دنیا کے تمام علوم کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ حق کے بغیر کسی شے کا وجود محض اس بات کا علم دیتا ہے کہ یہ حق نہیں ہے ۔حق کے بغیر کوئی بھی چیز ذہن میں یا خارج میں نہیں ہوسکتی یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حق تو مادہ وجود ہے ۔تو پھر یہ بات طے ہوتی ہے کہ حق کے بغیر خیر بھی موجود نہیں اور جمال کو خیر کا ایک لازمی جزو کہہ سکتے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی چیز آپ کے پاس خارج سے آتی ہے تو آپ کے ذہن کے یہ بنیا دی دریچے سب سے پہلے کھلتے ہیں کہ یہ حق ہے یا نہیں پھر اس میں خیر ہے یا نہیں اگر یہ دونوں ہیں تو پھر جمالیاتی کیفیت کا حامل ہے یا نہیں ۔اب اسی کو ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں اور اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز حسین ہے اور حق نہیں ہے تو پھر ذہن میں ایک قسم کا مزاحمت ابھر تا ہے اور یہ ایک قسم کی اصولی بات ہے کہ اگر کوئی چیز جمالیاتی شعور کا حامل ہے لیکن حق سے خالی ہے تو اسے صرف نظر کا حسن یا دیکھنے میں خوبصورت سمجھا جاتا ہے ۔اسی طریقے سے اخلاقی شعو ر (خیر ) کی بھی بات کی جاسکتی ہے ۔ اگر ہم کہیں خیر کی بات کر رہے ہیں تو اس میں بقیہ دنوں بنیادی امور کو بھی دیکھنا ہو گا کہ وہ ان تمام کے ساتھ ہے یا نہیں اگر کوئی چیز بظاہر ہمیں اخلاقی شعور کی حامل لگ رہی ہے لیکن حق سے وہ ٹکرا رہی ہے اور قلب و نظر کو اپنی جمالیاتی شعو ر سے متاثر نہیں کر پا رہی ہے تو وہ بھی بظاہر خیر ہے اور بباطن کچھ اور ہے ۔ اگر یہ تینوں چیز ثابت ہوجاتی ہیں تو ہمارے اندر اس چیز کی کلی قبولیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس لیے جو بڑا شاعر ہوتا ہے اس کے یہاں جمالیاتی شعور کو اس کے مقصد اصلی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور جو ادنی درجہ کا شاعر ہوتا ہے اس کے یہاں جمالیاتی شعور حق کے ساتھ نہ ہوکر محض ظاہر ی حسن کا عکاس بن کر رہ جاتا ہے ۔ الغرض حسن کے معیار بدلنے کا جو نعر ہ تر قی پسند وں کی جانب سے دیا گیا تھا وہ سب کو پتہ ہے کہ وہ بہت ہی محدود دائرہ کا تھا یعنی بنگلوں اور محل سراؤں کی جگہ جھونپڑیوں کی طرف حسن کی تلاش میں یا بیان میں نکلنا ۔ جمالیاتی شعور یا حسن کے معیار سے ہی بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کو تہہ دار ادب کی ضرورت تھی یااس ادب کی جس میں معانی اپنے روایتی اقدار و حسن کے خلاف محض مادہ پرستانہ اور ظاہر ی نعروں کے ساتھ عوام کی زبان چڑھ جائے ۔ وجہ یہی ہے کہ تر قی پسندی ایک عوامی تحر یک تھی جس نے سماج کو متاثر کیا بر عکس اس کے علیگڑھ تحر یک ایک سماجی تحر یک تھی جس نے ادب کو متاثر کیا ۔ اس لیے انہوں نے ادب کے عظیم روایتی سر مایے کو در کنار کر تے ہوئے اپنے سامنے کچھ نئے نعرے پیش کیے جس کا اثر یہ ہوا کہ عوام سے گفتگو کرنے کے لیے ادب کا سہارا لیا اور اس نے ادب کو بہت ہی متاثر کیا ۔

 یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جدید شاعری کی روایت تہذیب کی شکست سے خوش ہوکر پیدا ہوئی ہے ، اقبال کے دور میں مشرقی و اسلامی تہذیب شکست خوردگی سے دوچار ہوگئی تھی ، جس کے دو ردعمل بر صغیر کی مسلم اور شعری دنیا میں سامنے آئے ۔ ایک ردعمل نوحہ اور مرثیہ کی شکل میں نظر آیا جو اکبر الہ آبادی کی شاعری میں نظرآتا ہے اور دو سرا رجز کی صورت میں نظر آیا جو نئے تہذیبی بدلاؤ سے ٹکر ا جانا چاہتا تھا جس کی واحد مثال اقبال ہیں ۔ دوسری جماعت وہ تھی جو تہذیب کی اس شکست سے خوش تھی اور شکست دینے والی تہذیب کی جانب کشش میں مبتلا تھی لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ مغرب کے اندر نہیں بلکہ باہر سے بیٹھ کر محظوظ ہونے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ مغربی تہذیب ا ن کے لیے کوئی مزیدار چیز نظر آرہی تھی تو وہاں کی قدرو ں کو اپنی تخلیقات میں ڈھالنے کی کوشش ہورہی تھی لیکن ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا ان کی شعری تربیت روایتی تھی ، شعری نہ سہی معاشرتی تربیت تو روایتی و مشرقی تھی ہی اور مغربی تہذیب کو اپنے اندر داخل کیے بغیر ہی مغرب کی وکالت کر نے کا نتیجہ یہ نظر آیا کہ لغویت کے ساتھ ابہام بھی ادب میں در آیا ہے ۔ بلکہ جس تہذیب کے اسٹریکچرکے انہدام کے وہ حامی ہوئے اس کے باقیات ان میں باقی تھے ، خارج سے ختم ہوگئی تھی لیکن داخل سے نکل نہیں پائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعری تہذیب میں ہیئت سے لیکر مضامین تک میں ایک غیر واضح صورت نظر آتی ہے ۔اگر آپ ن م راشد ( اگر چہ یہ تر قی پسند شاعرنہیں ہیں ) کا نیا آدمی سے پہلے اور بعد کے ادب کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو ایک حد فاصل نظر آئے گا جیسا کہ راشد کے یہاں نظر آیا ہے کہ آدمی تو مشرق میں بھی نیا پیدا ہوگیا ہے لیکن دنیا نئی پیدا نہیں ہو پائی ہے۔ اسی غیر واضح تکنیکی صورت حال سے مولانا سعید احمد اکبرآبادی نے اپنے مقالہ میںواقف کر انے کی کوشش کی ہے ۔

مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا پہلا اعتراض نام کے سلسلے میں ہے ان کے نزدیک’’ ترقی پسند شاعری یا تر قی پسند ادب کی ترکیب اصولاً درست نہیں ہے کیونکہ پسند یا نا پسند کا سوال شعور و احساس سے ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ادب بذات خود شعور وا حساس نہیں رکھتا ‘‘ میرے خیال میں ان کا یہ اعتراض تو درست ہے لیکن اگر ہم دوسرے زاویے سے دیکھیں تو سوال کچھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس تحر یک سے جڑنے والے تر قی پسند کہلائے اور ان کی تخلیقات ترقی پسند ادب ۔یعنی تر قی پسند لوگوں کا ادب ۔ساتھ ہی جب ترقی پسند کا عروج ہوا تو مغربی رجحانات کی وجہ سے وہاں کی شعری ہیئت کا بھی اردو میں تجر بہ کیا گیا جس کے نتیجے میں نظم معریٰ ، نثر ی نظم اور آزاد نظم وجود میںآئے ۔ان کا اس تعلق سے سوال یہ ہے کہ کلام کی تو دو ہی قسمیں ہوتی ہیں مو زوں ہے تو نظم و رنہ وہ نثرہے ۔ کلام میں وزن کے ساتھ معنوی خوبی ہے تبھی وہ شعر ہے ورنہ وہ محض ایک موزوں کلام ہے شعر نہیں ہے ۔اسی طر ح نظم میں اگر کوئی لفظی یا معنوی صناعی ہے تو وہ نثر انشا ء ہے ورنہ نثر عاری ہے ۔پھر نظم کے ساتھ نثر ، معریٰ یا آزاد لانا ویسے ہی ہے جیسے کوئی کہے لاہو ر کا ہمایوں مقبرہ یا دلی کا تاج محل ، ہاں اصطلاحات پر تو کوئی روک ٹوک نہیں ہے انفرادی طور پر وہ اپنی غزل کو قصیدہ کہے یا مرثیہ و مثنوی وہ تو اس کا شخصی اختیار ہے جیسے کوئی اپنی بلی کا نام کتا یا کتے کا نام لومڑی رکھ لے ۔ان کے اس اعتراض کوکسی حد تک درست ٹھہرا یا جا سکتا ہے لیکن اس ادبی دنیا میں بال سے بھی باریک صنفی امتیازات کے لیے اصطلاحات کی بھر مار ہے آپ خود ہی دیکھ لیں کہ اس اکیسویں صدی کے ابتدا ئی دو دہوں میں کتنے اصطلاحات وجود میں آچکے ہیں ۔ اسی طریقے سے ایک لفظ’’ شعریات ‘‘ ہے جو آج کی ادبی دنیا میں بہت ہی مستعمل ہے ۔ اس بات کا علم ہے کہ اس وزن پر جو بھی لفظ بنایا جاتا ہے اس میں اس کی داخلیت پر اثر زیادہ ہو تا ہے جیسے اقتصاد سے اقتصادیات، بلدیہ سے بلدیاتی ، خمر سے خمریات، معاش سے معاشیات ، سیاست سے سیاسیات اور ادب میں ادب سے ادبیات ، غالب سے غالبیات ، اقبال سے اقبالیات ، میر سے میریات وغیرہ ۔ اسی طر ح سے شعر سے شعریات ہے جو بالکل درست ہے لیکن شعریات کے ساتھ ناول، افسانہ ، داستان ، خاکہ ، انشائیہ اور سفر نا مہ جیسے نثر ی اصناف کو سابقہ اور لاحقہ کے طور پر لانا ویسے ہی ہے جیسے دلی کا تاج محل اور اگرہ کا ہمایوں مقبرہ ۔

سعید احمد اکبرآبادی نے تر قی پسند ادب میں محدود منشو پر زیادہ توجہ دینے کی سلسلے میں ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے فکر سے بھر پور گفتگوکی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ زندگی کے اہم مسائل کو بھوک ، غر یبی ، سماجی پستی اور سیاسی غلامی تک ہی محدود نہیں کر نا چاہیے ‘‘ کیونکہ زندگی تو خود ہی بے شمار پریشانیوں کا ایک وسیع و عرض میدا ن ہے جس میں محض مذکورہ پریشانیوں کا ذکر مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ راحت و مسرت ، غم و خوشی ، رنج و الم ناکامی و مایوسی سے ہر وقت بر سر پیکار رہتی ہے ۔ جبکہ یہ عالمی مسائل ہوتے ہیں ، تو جب ادب عالمی ہوتا ہے تو ان کے مشمولات کو بھی ہمہ گیر اور عالمی ہونا چاہیے کس خاص زمرے کی نمائندگی کے لیے لکھنا محض زبر دستی ادب کو اس کی آمد کی صفت سے نکال کر آور د کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا ۔

ادب اصل میں ہوتا ہے کیا ؟ اس سوال کا جواب تو جدیدیت سے پہلے تک ہر ایک کی زبان میں یہی ہوتا تھا کہ ادب زندگی کا عکاس ہوتا ہے ۔ لہذا جو رنگ زندگی کاہوگا اس کا عکس ادب میں نظر آئے گا ۔اس حوالے سے اگر لفظیات و شعریات کی بات کی جائے تو مولانا کا خیال یو ں عیاں ہوتا ہے کہ:

’’مرزا مظہر جان ِ جاناں اور خواجہ میر درد اور حضرت امیر مینائی ایسے مقدس اور ثقہ حضرات بھی شاعر ی کے میدان میں قدم رنجہ فرماتے ہیں تو ان کو بھی عشق حقیقی کے واردات قلب اور عالمِ لاہوت کے سر ہانے ملکوتی کو بیان کر نے کے لیے وہی اس زمانے کی عام شاعرانہ بول چال کے مطابق گل و بلبل ر خسار و کاکل ، شمع و پر وانہ شیخ و بر ہمن اور رقیب و دشمن ایسی چیزوں کی آڑ لینی پڑتی ہے‘‘ یعنی مندرجہ بالا حضرات جب مروجہ محاورات و اسالیب زبان سے روگر دانی نہیں کر پاتے ہیں پھر تر قی پسند افرا د دقیانوسیت خیال کر کے ملا و بر ہمن کے سوا دیگر استعارات و تلمیحات جن کا تعلق مذہبی اساطیر سے ہوتا ہے ان سے صرف نظر کر نا ان کے نزدیک شاعری کی روایت میں ایک قسم کی خیانت ہے ۔ جیسا کہ ماقبل میں ذکر آیا کہ ان کا تعلق اس گروہ سے تھا جودوسری جنگ عظیم کے بعد مشرق میں ہوئی تبدیلیوں اور مغربی تہذیبی کی بالا دستی سے خوش تھے تو وہ جدید تہذیب کو خود میں داخل کیے بغیر اسلامی روایت پر حامل سرمایہ کی شعری روایت کے انحراف پر اتر آئے تھے تو اس رد عمل میں یہ چیز تو ہونا لازمی تھا لیکن فیض و مجروح ومخدوم محی الدین جیسے شاعرو ں کی غزلوں میں روایت کی پاسداری پائی جاتی ہے ۔ 

 ادب کاکوئی بھی رجحان خالی از علت کبھی نہیںہوا ہے ہمیشہ اس میں کچھ ایسے متحر ک عناصر شاعر و تخلیق کار کو نظر آئے کہ وہ اس متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد متاثرہ ممالک کے جو حالات ہو گئے تھے اس وقت وہی بادہ و صراحی و حسن کی شاعری کیسے انسانی نفس کو گوارہ ہوسکتا تھا اس لیے جدید موضوعات و مسائل جس کو سننے کے لیے عوام و خواص مشتاق تھے اس جانب تیز ی جانا پڑا اس کا احسا س سعید احمد اکبرآبادی کو بھی تھا وہ لکھتے ہیں ’’ پس آج کل ہماری شاعری او ر ادب میں جو رجحانا پائے جارہے ہیں وہ خالی از علت نہیں ہیں بلکہ نتیجہ ہیںان سیاسی ، تمدنی اور معاشرتی عوامل کاجو گذشتہ جنگ عظیم کے بعد سے ہندو ستان میں کارفرما رہے ہیں ۔‘‘ مو لانا کے یہاںعلت کا بیا ن اس طرح سامنے آتا ہے لیکن ساتھ ہی چند سطروں کے بعد اس کا معلول کس طور پر سامنے آچکا ہے اس کو بھی رقم کر تے ہیں کہ ’’ نتیجتاً مذہب اور پرانی روایات سے بیزاری،آزادی و طن کانام لیتے لیتے ہر قسم کی اخلاقی اور سماجی قیدو بند سے مکمل طورپر آزاد ہونے کا جذبہ(ہے )…جو ہمیں جدید ادب میں نظر آتا ہے ۔‘‘ مذکوہ بالا علت کا اس قسم کا معلول ان کے پورے مقالے (تر قی پسند شاعری ،برہان ،نئی دہلی ، مارچ۱۹۴۴) میں جگہ جگہ نظرآتا ہے ۔ 

آگے بڑھتے ہیں اس واقعہ کی جانب جو دلچسپ مناظر ہ کی شکل میں ترقی پسندو ں اور غیر ترقی پسندوںکے مابین واقع دہلی کے ٹاؤن ہال میں واقع ہوا ۔ اس مناظرہ کی تفصیلی روداد سجاد ظہیر نے اپنی کتاب روشنائی میں لکھی ہے ۔ واقعہ ۱۹۴۶ کا ہے جب سجاد ظہیر دہلی میں ہی تھے ان کے دوست مقیم الدین فاروقی اور قاضی احمد صاحب نے مخالفین تر قی پسند کو مناظرہ کا چیلینخ دیا جس کو قبول کر لیا گیا ۔ مخالفین کی طرف سے خواجہ محمد شفیع اور مولانا سعید احمد اکبرآبادی متعین ہوئے اور موافقین کی جانب سے سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض ، صدر مناظرہ سر رضا علی قرار پائے ۔جس میں دونوں ترقی پسندی دہلی کے نہ تھے ، فیض لاہو ر سے اور سجاد ظہیر لکھنؤ سے تھے اور دنوں نے دہلی والوں کے خلاف دہلی میں ہی محاذقائم کیے ہوئے تھے ۔ جلسہ ( مناظرہ ) کی کارروائی سر رضا علی کی تقریر سے شروع ہوتا ہے ۔جسے سن کر سجاد ظہیر محسوس کر تے ہیں کہ موصوف ’’ جدید اردو ادب کے مطالعے میں حالی ، اکبر اور اقبال سے آگے نہیں بڑھے ہیں ۔ انہوں نے صدر کی حیثیت سے غیر جانبد ار رہنے کے بجائے مزاحیہ انداز میں ترقی پسند ادب پر چوٹیں کیں ۔ پھر مخالفین کی جانب سے تقریر ہوتی ہے خواجہ محمد شفیع کی جس میں وہ ترقی پسندو ں پر کافی چوٹیں کر تے ہیں ، فحاشی کا الزام لگاتے ہیں جس سے سجاد ظہیر کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ  دہلی کی ٹیٹھ اور پیار بھرے لہجے میں گالیا ں دے رہے ہیں ۔ اس کے بعد میرا جی اور ن م راشد کی نظموں کے چند ٹکڑ ے پڑھے جس پر انہوں نے قہقہ بٹورا ۔ان کے بعد فیض احمد تقریر کے لیے آئے اور انہوں نے بڑی متانت سے یہ ثابت کیا کہ ’’ ترقی پسند ادب میں کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ سماج میں تبدیلی اورارتقا کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی تبدیلی اور ترقی ہوتی ہے۔ اسے روکنے کی کوشش کرنا فضول ہے۔‘‘ فیض کی یہ تقریر خاموشی سے سنی گئی نہ قہقہے لگے نہ تالیاں بجیں ۔ا ن کے بعد مولانا سعید احمد اکبرآبادی تقریر کرنے آتے ہیں اور وہ بھی خواجہ شفیع کی ہی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ سجاد ظہیر لکھتے ہیں ’’ قاضی سعید صاحب سے مجھے توقع تھی کہ ان کی تقریر ان کے رتبہ کے مطابق ٹھوس ا ور عالمانہ ہوگی اور اس سے کچھ سیکھ سکیںگے ۔ لیکن بد قسمتی سے انہوں نے دینی اور مذہبی نقطہ نظر سے ترقی پسند تحریک پر اعتراضات کیے ۔ الحاد ، لادینی ، بد اخلاقی پھیلانا ، ان کے نزدیک ترقی پسندوں کے یہی مقاصد تھے ۔‘‘ واضح رہے کہ یہ وہیں باتیں ہیں جن کا ذکر اوپر علت ومعلول کے طور پر آچکا ہے ۔ان کی تقریر کے بعد سجاد ظہیر کی تقریر ہوئی جہاں انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہ ہمارے مخالفین نے جو بھی مثالیں پیش کی ہیں وہ ہماری تحریک موافق تو دور بلکہ سخت مخالف ہیں اور ہماری تحریک آپ عوام کی تحریک ہے جس میں ہمیں ان طاقتوں اور اداروں سے لڑنا اور ان کی مخالفت کرنا ہے جو آپ عوام کے دشمن ہیں ۔ رہی بات فحش گوئی کی تو وہ سعدی، حافظ ، میر و سودا کے سرمایہ کا جائزہ لیتے وقت بھی محسوس ہوسکتا ہے ۔ ’’ پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ ‘‘ میر کے اس مصرع سے کیا میر فخش گوہوگئے ؟ ۔ ہمیں ترقی پسند ی کی مثالیں ان کی بہترین چیز لے کر پیش کرنا چاہیے ۔ خیر جلسہ صدر کی مختصر تقریر سے ختم ہوا اس کے بعد باضابطہ تعارف ہوا جس میں مخالفین نے کہا کہ ہم نے بہت سی باتیں از راہ مناظرہ کہہ دی تھی اس کو دل پر نہ لیا جائے ۔خیر…اس واقعہ کے چند دنوں کے بعد سعید احمد اکبرآبادی سے سجاد ظہیر کی ملاقات ندوۃ المصنفین سے ہوتی ہے جس میں ملاقات کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ میں نے مناظرہ کے مقرر سے بالکل مختلف پایا ’’ انہیں ہماری تحریک سے کوئی اصولی اختلاف نہ تھا۔‘‘ یہ بات سعید احمد اکبرآبادی کی تحریروں سے بھی عیا ں ہو تی ہے کیونکہ ان کے اعتراضات میں اکثر مقامات پر ن م راشد اور میراجی ہی آتے ہیں او ر شاعری کے جدید فارمس سے وہ نالا ں نظر آتے ہیں جسے مہمل پر ہی محمول کرتے ہیں ۔


Saturday, 20 March 2021

سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی : تعمیرذات سے تعمیر وطن تک(Sahabulhind Ahmad Sayeed Dehlawi)

 سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی : تعمیرذات سے تعمیر وطن تک

امیر حمزہ قاسمی

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ کے بعد ملک عزیز سے نہ صر ف مسلمانو ںکے سیاسی نظام کا جنازہ نکلتا ہے بلکہ پرانا سماجی نظام اور پرانے نظریات وقت کے نئے تقاضوں کے سامنے سرنگوں ہوجاتے ہیں ۔ ہمارا قرون وسطیٰ کا سارا تہذیبی سرمایہ نیست و نابود ہوجاتا ہے ۔دہلی جو صدیوں تک علم و ہنر کا مرکز اور تہذیب وتمدن کا گہوارہ تھی اٹھارہ سو ستان کی تباہی کے بعد اس طر ح تباہ و برباد ہوجاتی ہے کہ اس سے زیادہ کی تباہی کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔پرانے لوگ جو بادشاہ کے رحم وکرم پرجی رہے تھے وہ یا تو غدر کا شکار ہوگئے یا پھر مملکت انگلیشیہ کے فرمانبردار ، گویا ایسی حالت تھی کہ کوئی سر اٹھانے والا نہیں تھا ۔دلی کے علمی و ادبی مراکزاجڑ چکے تھے ۔پرانے لوگ ماتم کناں تھے۔ ایسے وقت میں معاشرہ میں مبلغین اور واعظین کی پکڑ مضبوط تھی اور وہ لو گ جو فکر ولی اللہی سے منسلک تھے ان کی رگ میں انگریزوں سے جہاد کا خون دوڑ رہاتھا ۔اس مایوسانہ دور میں ہندکی آزادی کے بطل جلیل اور دہلوی تہذیب کے علمبردار ، جمعیۃ علماء ہند کے کھیون ہار اور خلافت تحریک کے سپہ سالا رمولانا احمد سعید دہلوی کی پیدائش ۵؍ دسمبر ۱۸۸۸ء کو حافظ نواب مرزا کے یہاں کوچہ ناہر خاں دریا گنج دہلی میں ہوتی ہے ۔

آپ کے والدمحتر م حافظ نواب مرزا زینت المساجد میں امامت کے منصب پر فائز تھے اور مکتب میں پڑھاتے بھی تھے ۔۱۹۰۸ء میں ان کا انتقال ہوا اور اپنے آبائی قبرستان چونسٹھ کھمبے میں دفن ہوئے ۔ وہ زمانہ صوفیوں کا تھا خواجہ میر در د اور خواجہ ناصر عندلیب کا در عوام سے لے کر خواص تک کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل تھا اسی عہد کے اہم صوفیا میں سحبان الہند کے دادا محتر م خواجہ نواب علی کا شمار ہوتا ہے ۔آپ کے خاندان کے متعلق لکھا گیا ہے بادشاہ اکبر نے آپ کے اجداد کو عرب سے کشمیر بلا یا تھا ۔ پھر شا ہجہاں کے زمانے میں کشمیر سے آگر ہ منتقل ہوئے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد دہلی کے کشمیر ی کٹر ہ(غدر سے پہلے لال قلعہ کے سامنے پتھر والا کنواں کے سامنے آباد تھا ) میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔آپ کے آباو اجداد مستقل ( اکبر سے بہادر شاہ ظفر تک ) مغل دربار سے وابستہ رہے اور قلعۂ معلی سے خواجہ زادہ مغل کا خطاب بھی ملا تھا۔

مولانا نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی اہلیہ کو چھوڑدیا تھا ان سے دو اولادتھیں جو عہد فطانت میں ہی فوت ہوگئیں۔ دوسری شادی صوفی حکیم ممتاز احمد ہاشمی کی بہن سے ہوئی جن سے مولانا کی آٹھ اولادیں ہوئیں۔ چار لڑکے اور چار لڑکیا ں ۔لڑکوں میں محمد سعید ، مظہر سعید ، محمود سعید اور حامد سعید ۔ لڑکیوں میں سعیدہ بیگم ، مسعودہ بیگم ، محمودہ بیگم ، اور فہمیدہ بیگم تھیں ۔ سب سے بڑے لڑکے مولانا محمد سعید میونسپل کونسلر کے ممبر اور دینی بکڈپو کے مالک تھے ۔

تعلیم 

آپ نے ابتدائی تعلیم والد ماجد سے اور مولوی عبدالمجید مصطفی آبادی سے حاصل کی اور شایدحفظ بھی انہی کے پاس کیا کیونکہ حفظ کی دستار بندی بازار مٹیا محل سے ہوئی ۔بارہ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر چکے تھے اس کے بعد وہ ہر سال ۱۹۵۸ء تک قرآن پاک تراویح میںسناتے رہے ۔ ان کی عمر کوئی سولہ یا سترہ برس کی رہی ہوگی کہ ان کی طبیعت وعظ گوئی کی جانب مائل ہوگئی۔ اس معاملہ میں شروع میں انہوں نے مولانا محمد حسین فقیر کا وعظ سنا پھر ان کے انتقال کے بعد مولانا عبدالرحمن راسخ اور مولانا محمد ابراہیم کا وعظ سنتے تھے ۔مولانا عبدالرحمن راسخ جو داغ دہلوی کے ہم عصر تھے اور حدیث ، فقہ و تصوف کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی بے مثال تھے دو دیوان یاد گار چھوڑے۔ تصوف اور شاعری کی دنیا میں ان کا اہم کارنامہ ’’ کتاب مرقوم ‘‘ شرح اردو مثنوی مولانائے روم ہے ۔ ان کا وعظ اردو بازار کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ہوا کر تا تھا اب یہ مسجد مولانا احمد سعید کہلاتی ہے ۔

حلیہ 

مولانا کی شخصیت بہت ہی جاذب نظر تھی۔کہتے ہیں اگر عبدالحی تاباں کے زمانے میں ہوتے تو آپ کے حسن کا چرچہ قلعۂ معلی میں ہوتا ۔ اکثر محفلوں میں مولانا کا ذکر کچھ اس طر ح ہوتا کہ ’’ میاں اگر آدمی حسین ہو تو احمد سعید جیسا ہو ‘‘ لیکن آپ کا دور تو جنگ آزادی کا دور تھا جنگ میں حسن کا کیا کام لیکن وعظ کی محفلیں تو آپ کی وجہ سے سجتی تھیں اور آپ مردوں سے زیادہ عورتوں میں مقبول تھے ۔ آپ کا قلمی خاکہ حاجی انیس دہلوی نے کچھ اس طر ح کھینچا ہے :

’’ سرخ و سفید رنگ ، دمکتا ہوا چہرہ ، بلند و بالا قد ، چوڑا چکلا جسم ، لمبے لمبے ہاتھ ، جو چلتے وقت آگے کم اورپیچھے زیادہ جھولتے تھے ۔بڑی بڑی چمکدار آنکھیں جن میں دلی کی تہذیب اور اس کے عروج و زوال کی بے شمار جھلکیاں پنہاں تھیں ، پتلے پتلے یاقوتی ہونٹ ، اونچی ناک ، پیشانی پر علم و صداقت کا روشن آفتاب ، ناتراشیدہ سفید بھرواں داڑھی ، جس پر کبھی کبھی پان کے سرخ قطرے شبنم کی طرح رقصاں نظر آتے ، انداز گفتگو نہایت نرم و شیریں ، کبھی کبھی دوران گفتگو مصنوعی دانتوں سے ہوا نکل جاتی اوربتیسی باہر آگرتی ۔ بدن پر بنیان یا بنڈی اس پر لمبا کر تا اور ایک ڈھیلی ڈھالی واسکیٹ ، موسم سرما میں روئی کی دو صدریاں ، ایک آدھی آستین کی اور ایک پوری آستین کی گھٹنوں تک زیب تن کر تے ، گھر میں سلاہوا تہمد باہر جانا ہو تو چوڑی مو ری کا پاجامہ ، پیر میں موزے ، بغیر بند کا جوتا یا سلیم شاہی جوتی ، عربی چغے(چوغے) کے ساتھ سر پر دو پلی ٹوپی کے اوپر عربی رومال اس انداز سے بندھا ہوتا کہ دیکھ کر عرب مجاہدوں کی جلالت آنکھوں کے رو برو رقصاں ہوجاتی ۔‘‘ 

وعظ گوئی و مناظرہ کا آغاز 

آپ کی علمی قابلیت حفظ سے متجاوز نہ تھی اور غالباً لکھنا بھی نہیں آتا تھا لیکن باطنی جوہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا اور وعظ کی نکات اور مناظرہ کو سمجھنا تو دور بلکہ وہ عملی میدان میں اتر چکے تھے۔اس زمانہ میں لوگ گھروں میں وعظ اور میلاد شریف کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے تو شروع شروع میں مولانا کو ایسی ہی محفلوں میں بلا یا جاتا تھا بعد میں کوچہ چیلا ن کی مسجد میں (جو فی الحال مفتی کفایت اللہ مسجد کہلاتی ہے ) ہر جمعرات کو وعظ کہنا شروع کیااور یہ ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی تھا۔ ایک وعظ کا دو روپیہ مل جاتا تھا ۔ باپ کا سایہ سر سے بچپن میں ہی اٹھ چکا تھااس لیے باضابطہ روزی روٹی کے لیے وہ تار کشی کا کام شروع کر چکے تھے ۔  

آپ جب مدرسہ حسینیہ میں زیر تعلیم تھے تواس وقت مدرسہ میں مولانا محمد ابراہیم اور مدرسہ حسین بخش میں مو لانا کرامت اللہ خاں کا وعظ ہوتا تھا ۔( مولانا کرامت اللہ خاں مو لانا قاسم نانوتویؒ کے شاگردوں میں سے تھے لیکن رضاخانیت کی جانب میلان تھا ) تو دونوں حضرات اپنے وعظ کی محفلوں میں اختلافی مسائل بیان کیا کر تے تھے اور ایک دوسرے کے خیالات کا رد کیا کر تے تھے ، تو اس زمانہ میں سماعِ موتیٰ کا مسئلہ عوام و خواص میں گرم تھا، خو ب بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ ایسے میں مولانااحمد سعید مولانا ابراہیم بنتے تھے اور صوفی حکیم ممتاز ہاشمی مولوی کرامت اللہ کا کردار ادا کرتے تھے ۔گویا یہیں سے ان کے مناظرہ کی تربیت شروع ہوئی ۔ مدرسہ حسینیہ میں حفظ کے بعد ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا تھا لیکن روزی روٹی کے لیے تار کشی اور وعظ گوئی کا سلسلہ جاری رہا ۔ اس زمانہ میں چاندنی چوک میں فوارہ کے سامنے عیسائی پادری اور ہندو پنڈت تبلیغی تقریر کیا کرتے تھے اس وقت مولانا کی عمر بیس بائیس برس کی رہی ہوگی تو وہ بھی کبھی کبھار تقریر کیا کر تے تھے ۔

عربی تعلیم 

مولانا جب فوارہ پر تقریر کیا کرتے تھے تو سامنے ہی نواب روشن الدولہ کی سنہری مسجد ہے اسی میں پہلے مدرسہ امینیہ قائم تھا جس کے صدر مدرس مفتی کفایت اللہ ؒ تھے ۔ان سے کسی نے مولانا احمد سعید کی تقریری صلاحیتوں کی تعریف کی تو مفتی صاحب نے مدرسہ کے ایک استاد مولانا محمد یٰسین سکندرآبادی کو اس بابت معلومات حاصل کرنے کو کہا ۔قاری صاحب وعظ میں شریک ہوتے ہی تھے اور مولانا احمد سعید کے متعلق ان کا خیال تھا کہ شاید وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں لیکن مفتی کفایت اللہ صاحب کا حکم تھا تو انہوں نے معلوم کیا۔ پہلی مر تبہ کوئی جواب نہیں ملا ، آخر کا ر اس کے بعد بھی وہ کئی مرتبہ پوچھتے رہے اور جواب نا میں ملتا رہا ۔ایک دن مولا نا احمد سعید نے دل کاحال کہہ ہی دیا کہ ’’ مولوی صاحب آپ یہ بات پوچھتے ہیں تو مجھے شرمندگی ہوتی ہے ۔ کہیں پڑھا ہو تو بتائوں ، بھئی میں نے تو کہیں سے کچھ نہیں پڑھا البتہ پڑھنے کی آرزو ہے ‘‘ پھر بھی مولانا کو یقین نہیں آیا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب میل جول زیادہ ہوا تب یقین آیا کہ وہ انپڑھ ہیں۔پھر انہیں مشورہ دیا گیا کہ آپ مدرسہ امینیہ میں داخلہ لے لیجیے ۔مولانا نے کہا ’’ میں کیونکر پڑھ سکتا ہوں ، والد کے انتقال کے بعد گھر کا سارا بوجھ مجھ پر ہے ، دن بھر محنت کر تا ہوں تب جاکر کہیں گھر کا آذوقہ نصیب ہوتا ہے۔ ان حالات میں داخلہ لے کر پڑھنے کی فرصت کہاں ۔‘‘ مگر واعظ و مقرر احمد سعید کی قسمت میں پڑھنا نصیب تھا اس لیے شروع میں یہ سبیل نکالی کہ صبح کے وقت وہ مال تیا ر کر تے اور دو پہر کو چاندنی چوک کی دکانوں میں پہنچاتے اور شام کو سنہری مسجد میں عربی کی ابتدائی کتابیںمولانا محمد یٰسین سکندرآبادی سے پڑھا کرتے تھے ۔ایک سال میں جب عربی کی ابتدائی کتابیں ختم ہوئیں تو باضابطہ مدرسہ میں داخلہ لے لیا اور مفتی کفایت اللہؒ کے شاگر د خاص ہوئے ۔اس زمانہ میں درجہ بدرجہ کتابیں پڑھنے کا رواج نہیں تھا اس لیے جتنی بھی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں سب کا ذکر سند میں ہوتا تھا ۔ بقول مو لانا حفیظ الرحماں واصف دہلوی ان کی سند میں درج ذیل کتابیں مذکور تھیں ۔

 تفسیر جلالین، تفسیر بیضاوی ، صحاح ستہ ، مشکوٰۃشریف، نخبۃ الفکر ، قدوری ، کنزالدقائق ، شرح وقایہ ، ہدایہ اولین ، ہدایہ آخرین ، اصول الشاشی، نورالانوار ، توضیح و تلویح، ایساغوجی، مرقاۃ ، شرح تہذیب، قطبی ، ملاحسن ، حمداللہ ، مناظرہ رشیدیہ ، ہدیہ سعیدیہ ، میبذی، مختصر المعانی ، مطول، شرح مائۃ عامل ، ہدایۃ النحو ، کافیہ ، شرح جامی ، مفیدالطالبین، نفحۃ الیمن ، قلیوبی، سبعہ معلقہ ، دیوان متنبی ۔ ان کتابو ں کی تدریس میں مفتی صاحب ؒ کے علاوہ مولانا محمد ضیاء الحق دیوبندی ، مو لانا محمد قاسم دیوبندی اور مولانا محمد سید انظار سہس پوری استادرہے ۔ فراغت کے بعد اسی مدرسہ میں معین مدرس ہوئے اور باضابطہ مدرس رہ کر کئی سال تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ۔

مدرسہ امینیہ میں داخلہ کے بعد تار کشی کا کام چھوٹ گیا تھا ، مختلف اوقات میں وعظ و تبلیغ کے نذرانوں سے گزر بسر ہورہی تھی۔ فراغت کے بعد وعظ کانذرانہ لینا بھی بند کر دیا تھا پھر روزگار کا سلسلہ فراش خانہ کی مسجدمیں تفسیر قرآن و ترجمہ قرآن سے شروع ہوا ، وہاں سے ماہانہ ساٹھ روپے مل جایا کر تے تھے ۔اسی درمیان نظام حیدرآباد سے ۱۲۵؍ روپے ماہانہ منصب بھی عطا ہوا جو کئی برس تک جاری رہا مگر جب آپ نے تحریک خلافت میں علانیہ حصہ لیا تو یہ منصب بھی بند ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ ۱۹۲۱ء میں گرفتار ہوکر جیل گئے تو دہلی کے بعض متمول حضرات نے اہل و عیال کے لئے کچھ وظیفہ مقرر کر دیا۔

 بحیثیت مناظر و مبلغ 

تحر یک خلافت کے دور میں جب عدم تعاون کی تحریک زور و شور سے چل رہی تھی تو عین اسی زمانہ میں ہندوستان میں آپسی بٹوارے اور چپقلش کا نیا دور شروع ہوا جس کو شدھی تحریک نے بہت ہی زیادہ اچھالا۔ عیسائیوں سے تو مناظرے ہوہی رہے تھے اب ہندوؤں سے بھی ہونے لگے ۔ عیسائی تو خیر سات سمندر پار سے آئے تھے اور مشتر کہ کلچر میں ان کا عمل دخل کم تھا لیکن ہندو مسلمان جو ساتھ ساتھ ایک ہی بستی میں رہا کر تے تھے ان مناظر وں سے آپسی تفریق ہونا شروع ہوگئی تھی جس سے آزادی کی تحریک میں بھی بڑا خلل پڑا ۔سوامی شردھانند جو دو سال قبل جامع مسجد دہلی میں ہندوستان کی یکجہتی کے لیے تقریر کر تے ہیں وہیں ۱۹۲۲ ء میں شدھی تحریک کے اہم محرک کے طو ر پر نظر آتے ہیں اور اپنی تحریک ملکانوں کے علاقہ سے شروع کر تے ہیں اور ہزارہا ملکانوں کو مرتد کر دیتے ہیں ۔ابھی جمعیۃ کے قیام کے صرف ڈھائی تین برس ہی گزرے ہوں گے کہ اس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے ۔ مفتی کفایت اللہ ؒ جمعیۃ اور مدرسہ امینیہ کی جانب سے سیکڑوں وفد مرتدین کے درمیان بھیجتے ہیں۔ پہلا وفد اچھنیرا کے مقام پر خود ہی مفتی کفایت اللہ صاحب لے کر جاتے ہیں ۔ ان وفود کے صدر مولا وحید حسن خاں ٹونکی، مولانا محمد عرفان ناظم جمعیۃ علماء ہندو مدیرالجمعیۃاور کبھی مولانا احمد سعید ہوا کر تے تھے ۔

ایک مرتبہ حضرت مفتی کفایت اللہ ؒ کے پاس خبر پہنچی کہ فلاں گاؤں پورا کا پورا مرتد ہوگیا ہے۔ انہوں نے مولاناحمد سعید کو حکم دیا کہ فورا ً روانہ ہو جاؤ ۔ مولانا احمد سعید دل کے کمزور تھے ، بہت ہی ہچکچا رہے تھے مگر حضرت کے حکم کی وجہ سے روانہ ہونا پڑا ۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ آریوں نے انہیں یہ کہہ کرمرتد کرالیا کہ ’’ تمہارے باپ دادا سب ہندو تھے ۔ مسلمانوں نے آکر تم کو زبردستی مسلمان بنایا ہے اور تمہاری چوٹیاں کاٹیں۔‘‘ اس پر مولانا کی خوبصورت تقریر ملاحظہ فرمائیے جس سے آپ کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ انہیں سحبان الہند کیوں کہاجاتا تھا:

’’ آج اس گاؤں میں آکر اور ایک بہادر قوم کے سپوتوں سے مل کر میں بے انتہا خوش ہوا ہوں ۔ ملکانہ قوم دنیا کی چند بہادر قوموں میں سے ایک ہے ۔ یہ قوم ہندوستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ تمہارے باپ دادا نے ہمیشہ ہندوستان کی حفاظت کی ہے ۔ دشمنوں سے کبھی ہار نہیں مانی ہے ۔ اور بھئی ! مجھے ان لوگوں پر بڑی حیرت ہوتی ہے جو تمہارے باپ دادوں کو تمہارے منھ پر بزدل اور ڈر پوک کہتے ہیں اور تم جو ان سورماؤں کی اولاد ہو سنتے ہواور برا نہیں مانتے ہو۔ لوگ تمہیں آکر بہکاتے ہیں کہ تمہارے باپ دادوں کو مسلمانوں نے مار مار کر زبردستی مسلمان بنایا تھا اور ان کی گردنیں پکڑ پکڑ کر چوٹیاں کاٹ ڈالی تھیں ۔ کیا واقعی تمہارے باپ دادا ایسے ہی کمزور اور ڈرپوک تھے ۔ مجھے یقین نہیں آتا دیکھوبھئی ! یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ۔دھوکہ دیتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمہارے باپ دادا سے کوئی آنکھ بھی نہیں ملا سکتا تھا ۔وہ اسلام کو ایک اچھا اورسچا دین سمجھ کر اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے تھے ۔کیا اب تم اپنے سچے دین کو چھوڑ کر تمہارے باپ دادوں کی روحوں کو صدمہ نہیں پہنچارہے ہو ؟‘‘ 

کہتے ہیں تقریر ختم ہونے کے بعد ازسر نو لوگ اسلام میں داخل ہوگئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے جب آپ کے اندر اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور شیریں بیانی پائی تو سحبان الہند کا خطاب دیا اور حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی ؒ ہمیشہ آپ کو اعلیٰ حضرت کہہ کر خطاب فرمایا کرتے تھے ۔

اس زمانہ میں آریوں میں قدآور مناظر موجو د تھے۔ پنڈت رام چندر جی کا نہ صرف دہلی بلکہ ہندوستان بھر میں چرچا تھا ۔مو لانا نے ان سے بھی مناظرے کیے اور مولانا کی خطابت سب پر غالب رہی ۔مفتی کفایت اللہ بھی زبر دست مناظر تھے۔ اپنے زمانے میں انہوں نے قادیانیوں کے خلاف شاہجہاں پور سے ایک رسالہ ’’ البرہان ‘‘ بھی جاری کیا تھا،لیکن مولانا احمد سعید کو وہ مناظر کے روپ میں پیش کرتے اور خود معاون رہتے تھے ۔مو لانا کو شاید جوانی میں ہی اپنی شیر یں بیانی کی وجہ سے ’’ سحبان الہند ‘‘ کہا جانے لگا تھا ۔ مو لانا راسخ دہلوی کے شاگر دتھے تو زبان و ادب میں کھرے تھے مزید برآں یہ کہ وہ خود دہلی کے روڑے تھے اور کر خنداری زبان پر قدرت کاملہ حاصل تھی اس لیے ان کی تقریر اور محاوراتی زبان کے سامنے مخالف خود بخود پست ہوجاتا تھا۔ انہوں نے دہلی شہر میں کئی مناظرے پنڈت رام چندر جی سے کیے تواجنبیت کی بات ہی نہیں تھی، دونوں کاروباری تھے۔ مولانا تارکشی کا کام کر تے تھے اور پنڈت جی سنار تھے۔ تو ایک مناظرہ میں پنڈت جی کہتے ہیں : ’’مولوی جی یہ دلیل ہے دلیل چاندی یا تانبے کا تار نہیں جس کو آپ کھینچ تان کر بڑھا لیں اور اپنے مطلب کا بنا لیں ۔ یہ دلیل ٹس سے مس نہ ہوگی‘‘ مو لانا کہتے ہیں ’’میری دلیل برہانِ قطعی ہے یہ سونے کی ڈلی نہیں ہے یہ فولاد ہے یہ آپ کی کھٹ کھٹ سے نہیں پچکے گی ‘‘ ۔

ایک مناظرے میں وحی کے بالواسطہ و بلا واسطہ نازل ہونے پر گفتگو ہوتی ہے ۔مولانا مناظر ے میں کھل کر یہ بات کہاکرتے تھے کہ ’’جو کچھ ہے استاد کا فیض ہے ۔ میری تقریر میں زبان میری ہے اور دماغ استاد کا ہے۔‘‘ 

سیاسی و ملی خدمات 

۲۸؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو امرتسر میں جمعیۃ کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مو لا نا عبدالباری فرنگی محلی نے کی ، اسی دن دو پہر کو دوسرا اجلاس مفتی کفایت اللہ کی صدارت میں منعقد ہوتا ہے ۔ اسی روز اول سے مولانا احمد سعید صاحب جمعیۃ کے ناظم عمومی مقرر کیے گئے اور ۱۹۴۰ء تک مسلسل وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد وہ کل ہند جمعیۃ کے نائب صدر اور حلقہ دہلی کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد ۱۹۵۷ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ کے صدر بنائے گئے اور وفات تک اس پر فائز رہے ۔مدرسہ امینیہ میں جو مفتی صاحب کا کمرہ خاص تھا اسی میں شروع میں جمعیۃ کے تمام امور انجام پاتے رہے۔ ہندوستان بھر کے تمام علماء کی فہر ست کرنا اور ان کو مطلع کر نا ایک عظیم کام تھا جس کو ان دونوں اکابر نے بڑی عرق ریزی سے انجام دیا ۔اس پر آشوب دور میں جب مسالک کے شعلے بہت ہی تند وتیز تھے مسجدیں مسالک کے تحت تقسیم ہوچکی تھیں ایسے میں تمام علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دینا خداوند ِ قدوس وقضاو قدر نے مو لانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امر تسری، مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے لیے مختص کر رکھی تھی۔ اس کے بعد شہر شہر قریہ قریہ گھوم گھوم کر جمعیۃ کو روشناس کر انا، اس کی سیاسی ضرورت و اہمیت کو عوام کے ذہنوں میں جاگزیں کرانا، اس کو چلانے کے لیے مالی اعانت کی اپیل کرنا، لیڈروں سے سیاسی معاملات میں باتیں کرنا، دفتر کے پائی پائی کا حساب رکھنا، ساتھ ہی ہند وبیرون ِ ہند علماء سے خط و کتابت کر نا وغیرہ۔

تحریک خلافت کے ذیل میں جمعیۃ کا قیام عمل میں آیا جس سے ملک کے علماء جڑتے چلے گئے جس کے بعد ملک کی سیاست میں بہت ہی تیزی سے بھونچال آیا، رولٹ ایکٹ کی ناراضگی کا جواب کئی طریقوں سے دیا جا نے لگا، عدم تعاون تحریک کے ساتھ گاندھی جی میدان ِ آزادی میں آتے ہیںجس پر سب سے زیادہ مسلمان عمل پیرا ہوتے ہیں اور جیل بھرو تحریک میں بھی علماء پیش پیش رہتے ہیں۔ مولا نا احمد سعید ان تحریکا ت کے سلسلے میں پہلی مر تبہ اکتوبر ۱۹۲۱ء میں گر فتار ہوکر میاں والی جیل پہنچتے ہیں جہاں ایک سال کی سزا کاٹتے ہیں ۔ دوسری با ر ۱۹۳۰ء میں دہلی اور گجرات کی جیل میں دوسال کی سزا کاٹتے ہیں ۔تیسری بار ۱۹۳۲ء میں ایک سال کی سزا دہلی اور ملتان میں کاٹتے ہیں اور یہیں پر فتح الباری کے آخری حصہ کادرس اپنے استاد مفتی کفایت اللہ سے لی۔چوتھی بار ۱۹۴۰ء میں کچھ عرصہ کے لیے اعظم گڑھ میں قید کیے گئے۔پانچویں بار ۱۹۴۲ء کی تحریک آزادی میں تین سال کے لیے دلی، لاہور ، فیروز پور اور ملتان جیل میں نظر بند رہے ۔ اس موقع پر ان کے دولڑکے محمدسعید اور مظہر سعیدبھی جیلوں میں ساتھ ساتھ رہے ۔اس گرفتاری میں مولانا کے ہمراہ ڈاکٹر مختار احمد انصاری ، عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، بیرسٹر آصف علی، لالہ دیش بندھو گپتا ، لالہ جگل کشور کھنہ ، مولانا داؤد غزنوی، لالہ شنکر لال ، پنڈت نیکی رام شرما ، منشی عبدالقدیر ، سید جلال الدین اور حافظ فیاض احمد جیسے جانباز مجاہدین آزادی تھے ۔

۴۷ء کا بلوہ اور مولانا کی خدمات

تقسیم ہند کے موقع پر دہلی اور پنجاب کے مسلمانوں پر جو کچھ بھی بیتی اس مو قع پر مولانا احمد سعید دہلوی اور مو لانا حفظ الرحمان سیوہاروی نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ہندوستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش ایک سنہری باب ہیں۔اس تعلق سے کئی کارنامے ’’ مختصر تذکرہ خدمات جمعیۃ ‘‘ میں مذکور ہیں ۔ملاواحدی جو اردو ادب کے ایک اہم نثر نگار گزرے ہیں وہ مولانا احمد سعید کے دوست بھی تھے وہ لکھتے ہیں: 

’’ ستمبر ۱۹۴۷ ء کی ایک بھیانک رات تھی ۔ کر فیو کے باوجود کسی نے کنڈی کھٹکھٹائی اور پکارا واحدی صاحب ! میں مکان کی دوسری چھت میںتھا جہاں مردانہ تھا ۔ میرے بڑے لڑکے مجتبیٰ واحدی نیچے اترے اور انھوں نے اطلاع دی کہ لالہ دیس راج ہیں ۔ دیس راج میونسپل کمیٹی کے ساتھی تھے ۔ علاقہ کا مسلمان ممبر میں تھا اور ہندو ممبر وہ ۔ میں نے مجتبیٰ سے کہا بلالو۔ دیس راج صاحب بولے آپ ہی آئیے ۔ خیر ! میں گیا تو متعدد موٹریں کھڑی تھیں ۔لالہ دیس راج نے کہا کہ یہ مسز کر پلانی ہیں صدر انڈین نیشنل کانگریس کی دھرم پتنی۔ یہ مسٹر شانتی سوروپ آہوجہ ہیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۔ مسزکر پلانی نے سوال کیا ’’ اس محلے میں تو امن ہے ؟‘‘ میں نے کہا ’’ ہاں اس محلے میں تو ابھی امن ہے مگر امن ٹوٹنے کا ہر آن امکان ہے ‘‘ ۔ مسٹر آہوجہ بولے ’’ مہاتما گاندھی کو اطلاع ملی کہ یہاں خطرہ محسوس کیا جارہا ہے ۔ آپ صاف صاف بتائیے کہ خطرہ کا ’’ وہم ‘‘ کیوں ہے ؟ مسز کر پلانی مہاتماجی سے کیا کہیں ؟ میں نے کہا ’’ برابر کے محلے زد میں آچکے ہیں اس وجہ سے اطمینان نہیں ہے ۔ مولانا احمد سعید صاحب کا گھر قریب ہے ان سے اور پوچھ لیجیے ۔ ممکن ہے کہ وہ کچھ اور زیادہ بتاسکیں ‘‘ چنانچہ مولانا سے پوچھا گیا ۔ انہوں نے بھی وہی فرمایا جو میں نے کہا تھا ۔ صرف اتنا اضافہ کر دیا کہ ’’ مسٹر آصف علی اور مفتی کفایت اللہ کا محلہ آپ کے انتظامات کا منتظر ہے ‘‘ ۔ آہوجہ صاحب نے کہا ’’آپ اور آپ کے ساتھی ڈاکٹر انصاری کی کوٹھی میں چلے جائیں ۔ وہ خالی ہے ۔ وہاں مطلب خطرہ نہیں رہے گا ۔ کوٹھی کی حفاظت محلے کی حفاظت کی نسبت آسان ہے ‘‘ ۔ مولانا نے فرمایا ’’ محض اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان پچانی کون سی اچھی بات ہے ۔ آپ بچا سکتے ہیں تو محلے کے نہیں شہر بھر کے مسلمانوں کو بچائیں آج کل ساتھی اورغیر ساتھی کا فرق محال ہے ۔‘‘ 

ایک دوسری جگہ ملا واحدی لکھتے ہیں: 

’’ ۱۹۴۷ء کے ہنگامے میں مولانا احمد سعید ، مولانا حفظ الرحمن ، حافظ عزیر حسن بقائی اور جعفری صاحب کا وفد روزانہ مولانا ابوالکلام آزاد ، پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی کے پاس جایا کر تا تھا جو تینوں کو بتایاکرتا تھا کہ مسلمانوں پر کل کیا گزری ۔ ایک دن گاندھی جی مسلمانوں کے پاس تشریف لے آئے ۔ کونے کونے کے مسلمان سمٹ کر مولانا احمد سعید کے علاقہ میں جمع ہوچکے تھے ۔ دلی اور محلے مسلمانوں سے تقریباً خالی تھے ۔ مہاتما جی کا جلسہ مسٹر آصف علی والے مکان کوچہ چیلان میں منعقد کیا ۔ مولانا احمد سعید نے تقریر شروع فرمائی۔ دوچار لفظ بولے ہوںگے کہ لفظوں کی جگہ آنسو بہنے لگے اور مولانا کی جگہ مولانا حفظ الرحمن نے تقریر کی تکمیل فرمائی ۔‘‘ 

الغرض دلی کے اجڑنے اور مسلمانوں پر جاں سوز مظالم کی داستانیں ہر جانب سے مولانا کے دل کو چیر رہی تھیں ۔ مولانا جان کوخطرے میں رکھ کر کوچہ چیلان سے نکلتے تھے اور سچیوالیہ تک جاتے اور سردار پٹیل کی ناراضگی کو مول لیتے ہوئے نیتاؤں سے مل کر مسلمانوں کی دردناک صورتحال کو بتاتے ۔ مولانا سیاست دانوں کی تمام باتوں ، مشوروں اور آفروں کو درکنار کرتے ہوئے پرانی دہلی میں ہی مسلمانوں کے ساتھ مقیم رہے اور کسی صورت بھی ذمہ داری سے مفر نہیں ہوئے ۔ان سب کے باوجود آخری عمر میں انہیں سیاسی شکست کا سامنا کر نا پڑا ۔۱۵ دسمبر ۱۹۵۸ کومولانا اور ڈاکٹر مرزا احمد علی کے درمیان راجیہ سبھا کے لیے مقابلہ ہوا جس میں آپ صرف دو ووٹ سے ہار گئے ۔ اس کے بعد وہ کہا کر تے تھے کہ چودھری برہم پرکاش نے الیکشن میں مجھے زبردستی پھنسا دیا جس کی وجہ سے یہ ذلت اٹھانی پڑی ۔

تقویٰ وامانت داری 

مولانا کی زندگی کی اٹھان ہی وعظ گوئی سے ہوئی تو آپ جان سکتے ہیں کہ وہ تقویٰ کے معاملے میں کس قدر محتاط رہے ہوں گے ۔ تو کل علی اللہ ان کی زندگی میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اسی لیے انہوںنے کاروبار پر قناعت کی پھر تعلیم میں لگے تو وعظ و ذکر کی محفلوں میں ملنے والی رقم سے ہی گزارا کیا پھر جب فراشخانہ کی مسجد میں تر جمہ قرآن پاک و تفسیر سنانے لگے توزندگی چل نکلی۔ خلافت تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے جب نظام حیدرآباد نے ان کا وظیفہ بند کیا توذرا بھی نہیں گھبرائے اور مدرسہ امینیہ کے مدرس کے طور پر ہی خود کو کاربند رکھا ۔ جمعیۃ کے ناظم عمومی بننے کے بعد بھی مو لانا کا معمول تھا کہ وہ فراش خانہ کی مسجد سے قرآن پاک کاترجمہ کر کے جمعیۃ کے دفتر میں آتے تو اپنی جیب سے نکال کرپیسے دیتے اور آواز دے کر کہتے ’’ میاں عبدالحق چائے تو بنالو‘‘ ۔وہ دوپہر کو آفس میں ہی رہتے اور کھانا گھر سے منگواکر تناو ل فرماتے ۔

آزادیٔ وطن کے بعد مولانا چاہتے تو بہت سی سرکاری مراعات حاصل کر سکتے تھے ۔ مولانا آزاد اور پنڈت نہرو ان کے قریبی دوست تھے ۔ مگر ان کی طبیعت میں جو توکل تھا وہ اتنااعلیٰ تھا کہ کبھی بھی گوارہ نہیں کیا کہ جب مسلمانوں میںقلمدان تقسیم ہورہے تھے مولانا بھی کچھ کہتے ۔یہی نہیں بلکہ ایک بار پنڈت نہرو نے اپنے سکریٹری جان متھائی کو مولانا کے پاس بھیجا تھا کہ تین سو روپے ماہوار وظیفے کے کاغذات پر دستخط کر دیں لیکن مولانا نے انکار کر دیا ۔ مو لانا و دیگر اکابر کا موقف تھا کہ اپنے وطن عزیز کی آزادی کے لیے جد وجہد کرنا ان کا مذہبی فریضہ تھا اور مذہبی فریضہ کی ادائیگی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ۱۹۴۰ ء میں جونپور میں جمعیۃ کاسالانہ اجلاس عام ہوا ۔ اس کی مجلس استقبالیہ کے سربراہ مولانا علی اعلیٰ تھے (جو جماعت اہل حدیث کے رکن بھی تھے) یہ مو لانا کے دوستوں میں سے تھے ۔ اجلا س ختم ہونے کے بعد مصارف کے بل پورے نہیں ادا ہو پارہے تھے ۔ اس طرف مولا نا احمد سعید کی توجہ مبذول کرائی ۔اس وقت جمعیۃ کے فنڈ میں بہت ہی کمی تھی تو مولانا احمد سعید نے اپنی اہلیہ کے زیورات میں سے ایک دو چیزیں گروی رکھ کر بل کی ادائیگی کرائی تھی۔

 مولانا اور دہلوی تہذیب 

 مولانا احمد سعید دہلوی کو تہذیب دہلی کی آخر ی نشان کہا جائے تو شاید کم مضائقہ ہوگا ۔ انہوں نے جس وقت آنکھیں کھولیں تو انگریزوں کی ٹاپوں سے کان ٹکرائے اور ہلکی ونرم آواز کے بجائے سڑکوں پر موٹروں کی دوڑتی ہوئی آواز ٹکرائی لیکن حویلیاں اب بھی اپنی چہار دیواری میں اس تہذیب کو ایک طر ح سے سنجوئے ہوئے تھیں جسے ہم دہلوی تہذیب کہتے ہیں اور تقسیم کے بعد مولانا اس کی آخری نشانی کے طور پر یاد کیے گئے ۔ زبان و ادب کا معاملہ یہ تھا کہ دس سال کی عمر سے ہی بچوں کے مشاعرہ میں شرکت رہی ، زبان ایسی بامحاورہ پائی تھی کہ واعظ بے مثال کہلائے ، زبان میں مزاح کا پہلو غالب تھا کہ مناظرہ میں سامعین کو اپنی جانب کھنچ لیتے ، شاعری میں تو راسخ کے شاگرد تھے ہی البتہ نثر میں ملاواحدی کے بے تکلف دوست۔ الغرض دہلی زبان کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ یہاں سارے شہر کی زبان ایک نہیں رہی ہے بلکہ یہاں عورتوں کی ، مزدوروں کی ، کبوتر بازوں کی ، بازار کی اور کر خنداروں کی زبانیں الگ الگ رہی ہیں تو مولانا کی جو ہنسی ٹھٹھول کی محفلیں ہوتی تھیں وہاں ان سب کا بھر پور مظاہرہ ہوتا تھا ۔ ان کے مردانہ مکان میں ہر روز محفل سجتی تھی جو نصف شب تک جاری رہتی تھی ۔ اس میں ہر طبقہ و خیال کے لوگ موجود رہتے ۔ دانشوروں سے لے کر کر خنداروں تک آپ کی محفل میں ہوتے ۔آپ کے دوست و احباب میں غوری پہلوان تھا او ر پنڈت نہرو بھی ، گنڈے دار ،مزدور یونین کے صدر ، عطرفروش ، مرغے والے آپ کے احباب میںسے تھے ۔ آپ کی محفلوں کا ایک خوشہ چین ابھی بھی باحیات ہے او ر وہ پنڈت آنند کمار زتشی گلزار دہلوی ہیں ۔

تقسیم کے فساد کے بعددہلی کی تاریخ سے بہت ساری چیزیں مٹ رہی تھیں جن کو آپ رسومات بھی کہہ سکتے ہیں اور روایات بھی جیسے لال قلعہ کا مشاعرہ جو ماضی قریب میں چار پانچ سال پہلے تک لال قلعہ کے اندر ہوا کرتا تھا اب باہر ہوتا ہے ۔ اس مشاعر ہ کا چرا غ سلطنت مغلیہ کے ساتھ بجھ چکا تھا ۔ ۱۹۵۲ ء میں اس ادبی روایت کو دوبارہ قائم کر نے کا سہرا مولانا احمد سعید دہلوی کے ہی سر جاتا ہے ۔وہ اس پہلے مشاعرہ کے صدر بھی تھے۔ اس کے مہمان خصوصی پنڈت نہرو تھے اور شاعروں میں آج کے نمائندہ شاعر گلزار دہلوی بھی ۔مولانا صدر تھے اور مشاعر ہ کا صدر شاعرہی ہوتا ہے ۔ جوش پاکستان نہیں گئے تھے وہ بھی شریک مشاعرہ تھے ۔ اس زمانہ میں جو ش نے اپنی عادت کے موافق علماء اور مذہبی معاملات کے خلاف اشعار پڑھے تو مشاعر ہ میں ہنگامہ ہوگیا ۔ ہنگامہ کے پیش نظر مولانااٹھ کر چلے گئے اور اپنی غزل بسمل شاہجہاں پوری سے پڑھوائی ۔وہ غزل یہ ہے:

لوگو جب میت مری لے کر چلے 

میرے ارماں نوحہ گر بن کر چلے 

زندگی سے اپنی گھبرا کر چلے 

گھر سے آئے تھے پلٹ کر گھر چلے 

ایسے آنے سے نہ آنا خوب تھا

شام آئے شب سے پہلے گھر چلے 

تیرے صدقے اے شہ لطف و کر م

ہاتھ خالی آئے دامن بھر چلے 

ساقیاظاہر ہو یوں شانِ کر م 

میکدے سے جو چلے پی کر چلے 

مقصد اپنا ہوگیا پورا اسیرؔ

مرنے آئے تھے کسی پر مر چلے 

 اسی طریقے سے فسادات کے بعد دہلی میں تعزیہ داری کی رسم ختم ہوچکی تھی ۔ ۵۲۔۱۹۵۱میں دوبارہ نکلوانے میں انہوں نے ذاتی طور پر دلچسپی لی۔ اگر چہ مولانا رسوم پرستی کے خلاف تھے اور منبر پر ہوتے ان سب پر خوب تقریریں کر تے تھے مگر تنہائی میں جب کسی باشعور فرد کے ساتھ ہوتے تو ان کا انداز جدا ہوتا تھا وہ رسومات کو عقائد پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔بزرگوں کے مزارات اور صوفیا کے بر گزیدہ طبقے سے بڑی عقید ت تھی اور ان کے مزاج میں رنگارنگی غالبا  اسی وجہ سے تھی ۔جب کبھی اجمیر اپنے داماد اور بڑی لڑکی سے ملنے جاتے تو گھر سے درگاہ تک ننگے پاؤ ں حاضری کو جایا کر تے ۔ سلطان جی کی ستر ہویں میں رات کے آخری پہر میں اپنے بے تکلف ساتھیوں کے ساتھ چکر لگانا اپنے لیے ضروری جانتے ۔ مولانا اگر چہ خانقاہی نہیں تھے لیکن بزرگوں سے عقید ت دہلوی تہذیب کا ایک حصہ تھا ، تو جب بھی وہ اداس ہوتے اور انہیں رونے کا جی چاہتا تو کسی گانے والے (قوال )کو ساتھ لے کر خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر حاضری دیتے۔ (یہاں سے ان کو گہری انسیت تھی ، ان کے استاد مفتی کفایت اللہ کو بھی تھی اسی لیے دونوں کی آخری آرام گاہ یہیں پر ہے ) 

درگاہ خواجہ نظام الدین سے انسیت کا ذکر کہیں نہیں ملتا البتہ خواجہ حسن نظامی اور ان کے گھرانے سے قریبی تعلقات تھے ۔ خواجہ صاحب کانگریسی نہیں تھے بلکہ ایک حدتک کانگریسیوں سے شدت کی پرخاش تھی پھر بھی جب کوچہ چیلان جاتے تو ملا واحدی ، آصف علی ، جعفری صاحب سے ملتے ہوئے مولانا احمد سعید سے ضرور ملتے اور کھانے و کھلانے کا دور چلتا ۔

تصانیف 

مولانا احمد سعید دہلوی نے اس عہد میں اپنی تقر یر وں سے الگ شناخت بنائی جب مو لانا ابوالکلام آزاد اور مو لانا محمد علی جوہر کی تقریروں سے ہند وستان گونج رہا تھا ایسے میں انہوں نے خود کو سحبان الہند ثابت کروایا ۔ان کی خطابت زبان و بیان اور شاعری کی وجہ سے پر جو ش ہوا کر تی تھی ۔ وعظ و نصیحت پر مغز اور اثر پذیر ہوتی ۔ آواز میں سوز تھا اس لیے حاضرین ہمہ تن گوش ہوکر ان کی باتیں سنتے اور اثر قبول کرتے ۔اسی طرح ان کی تحریریں بھی سلیس اورشگفتہ ہوتیں۔ وہ سیاست میں بھی سر گرم عمل تھے ، جمعیۃ کا بھی کام دیکھتے اور تدریس کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ان سب کے باوجود انہوں نے تقریباً بیس مذہبی و اصلاحی کتابیں لکھیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ 

(۱ ) جنت کی کنجی (۲) دوزخ کا کھٹکا  (۳) مشکل کشا (۴) خدا کی باتیں (۵) رسول کی باتیں (۶) دین کی باتیں (۷) پر دہ کی باتیں (۸) شوکت آرا بیگم  (۹) ازبلا (۱۰) جنت کی ضمانت ( ۱۱) ماہ رمضان (۱۲) صلوٰۃ و سلام (۱۳) عرش الٰہی کا سایہ (۱۴) تقاریر احمد سعید (۱۵) پہلی تقریر سیر ت (۱۶ ) دوسری تقریر سیرت (۱۷) رسول اللہ کے تیس معجزات (۱۸) مکاتیب احمد سعید (۱۹ ) ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں (۲۰) تفسیر کشف الرحمن ۔

آخری الذکر کارنامہ مولانا کا سب سے اہم اور وقیع علمی خدمت ہے ۔ اس کام کو انہوں نے اٹھارہ برس کی مسلسل محنت اور جانفشانی کے بعدمکمل کیا ۔ اس کی ابتدا ء انہوں نے ۱۹۳۸ء میں کی تھی جو ۱۹۵۶ ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچی ۔وفات کے بعد اس تفسیر کو ان کے لڑکے حافظ سعید نے ۱۹۶۲ء میں کشف الرحمان کے عنوان سے ندوۃ المصنفین سے شائع کرایا ۔اس تفسیر کو اس وقت کے کبار علماء نے دل کھول کر سراہا ۔ یہ تفسیر پاکستان سے بھی شائع ہوئی ۔انیس ہاشمی دہلوی کی اس تفسیر کی اشاعت کے متعلق کچھ الگ رائے ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

 ’’دسمبر ۱۹۶۹ء میں جب کشف الرحمن کا نسخہ چھپ کر تیا ر ہوا تو مولانا کے بڑے بیٹے مولانا محمد سعید محروم اپنے والد کو یہ نسخہ دکھانے لائے تو مولانا نے اس نسخہ کو غور سے دیکھا ۔ یہ عصر کا وقت تھا اور مولانا نمازعصر سے فارغ ہوکر بیٹھے ہوئے تھے اسی روز مغرب کے بعد مولانا خالق حقیقی سے جاملے ۔ گویا مولانا کو انتظار تھا کہ کشف الرحمان کہ کشف الرحمان کا تیار شدہ نسخہ اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں اور وہ خدانے انہیں دکھا دیا ۔‘‘

 (ان کے علاوہ یہ بات مجھے کنہی اور صاحب کی تحریروں میں نہیں ملی اکثر نے وفات کے بعد کا ذکر کیا ہے) 

طباعت سے متعلق وہ ایک بات اور بیان کر تے ہیں کہ مولانا نے جب تفسیر کا کام مکمل کر لیا تو ان کے پاس پیسے نہیں تھے چنانچہ انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کو جنوبی افریقہ خط لکھا ۔ جن میں سے کسی صاحب نے مولانا کو قرض کے طور پر پچیس ہزار روپے دیے اور تفسیر کی طباعت کا کام مکمل ہوسکا ۔ انیس ہاشمی دہلوی کا یہ دعویٰ ممکن ہے کہ درست ہو لیکن گزشتہ صفحات میں تقویٰ و امانت داری کے ذیلی عنوان کے تحت میں جو باتیں لکھی گئی ہیں ان میں مجھے شک ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ تفسیر وفات کے بعد ندوۃ المصنفین سے شائع ہوئی ہے پھر ایسی کیا ضرورت تھی (واللہ اعلم )

سفر آخرت 

 مولانا اپنی آخری زندگی میں کئی موذی امراض کے شکار ہوگئے تھے جیسے بواسیر، مسوں میں کھجلی ،گیس ، مستقل نزلہ ، سر دی لگنا اور راتوںکو نیند نہ آناوغیرہ ۔ ان حالات میں خیر یت پوچھنے والوںکو خود ہی کہا کرتے تھے کہ آخر زندگی کب تک ساتھ دے گی ، صبح ہوتی ہے تو شام کا بھروسہ نہیں اور شام ہوتی ہے تو صبح کا بھر وسہ نہیں ۔مذکورہ امراض کی معیت میں ۴؍ دسمبر ۱۹۵۹ ء کو مو لانا کی زندگی کا آخری دن تھا جب آپ نے اپنے معمولات کے مطابق دن بھر کے تمام کام انجام دیے اور مغرب کی نماز کے بعد بیت الخلا گئے ، واپس آکر بیٹھے اور ہاتھ میں اخبار لیے پھر ایک لڑکے کو جو اتفاق سے تنہا تھا بلائے اور کہے ’’ جابے محمد سعید کو بلا کر لا میری طبیعت خراب ہورہی ہے ‘‘ یہ سنتے لڑکا مولانا کے لڑکے کو بلانے گیا اور مو لانا بیٹھے ہی بیٹھے پلنگ کی عرض میں لیٹ گئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی ، آخر ی دیدار کے لیے ہجوم بڑھتا ہی چلا گیا ۔ پنڈت نہرو بھی اپنے بزرگ ساتھی کے دیدار کے لیے آئے اور دیر تک سرہانے کھڑے رہے ۔ دوسرے روز جنازہ مہرولی لے جا یا گیا جہاں مولانا نے اپنی زندگی میں ہی مفتی کفایت اللہ کے قریب اپنی آرام گاہ تیار کرلی تھی ۔ اگر مولا نا کی یہ جگہ مخصوص نہیں ہوتی تو وہ جامع مسجد کے سامنے مولانا آزاد کے قریب ہی دفن کیے جاتے ۔خیر مولا نا کو مہرولی میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ کے باہر ظفر کے محل کے قریب حضرت مفتی کفایت اللہ ؒ کے دائیں جانب دفنا یا گیا ۔

جسم احمد سعید فانی تھا 

نام احمد سعید باقی ہے 


تکلیف ہوتی ہے !

  تکلیف ہوتی ہے ! (اداریہ مژگاں اپریل ۔جون 2026) اردو زبان وادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر بات کی جائے تو اس صدی کے آغاز سے ہی اس میں لگات...