کلام آتش پر اعتراضات : ایک جائزہ
یہ حقیقت ہے کہ آتش کا تعلق اصلاح زبان کے ایک عہد سے ہے ۔ اردو یا کسی بھی زبان میں اصلاح زبان کے عہد کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پرانے الفاظ و تراکیب متر و ک ہوتے جاتے ہیں او ر ان کے مقام پر نئے اور قریب الفہم الفاظ داخل ہوتے جاتے ہیں ۔ اسی طریقے سے پرانی اشیا جس طریقے سے معدوم ہوتی جاتی ہیں ان کے اسما بھی متروکات میں داخل ہوجاتے ہیں، اورزندگی میں جس رفتار سے نئی چیزیںداخل ہوتی ہیں ان کے اسما بھی زبان کا جزو بنتے جاتے ہیں ۔ بید ر شاہی عہد سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک اردو زبان اور اردو شاعری نے جس طرح خود کو نکھارا ہے وہ سفید و سیاہ کی مانند ہمیں واضح نظر آتا ہے ۔ اب بھی ہر پچاس برس میں نئی زبان واسلوب سے اردو زبان خود کو ملبوس کررہی ہے ۔ ایسے میں آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ شعوری و غیر شعوری، تحریکی وعدم تحریکی بنا پرپرانے الفاظ و تراکیب منسوخ ہوتے جاتے ہیں۔ جب اردو شاعری دکن سے شمال میں قدم رکھتی ہے تو اچانک نئے انداز واسلوب سے خود کو مزین کرتی ہے پھر عہد بعہد اس میں صیقل کاری جاری رہتی ہے ۔ آخر کار ناسخ کا عہد آتا ہے جہاں اردو زبان قواعد کے ساتھ دیگر عناصرمیں بھی خود کو پختہ کرتی ہے ۔ لیکن وہیں کچھ ایسے شعرا بھی تھے جنہوں نے اس وقت کے اصول و ضوابط کو قبول تو کیا لیکن ساتھ میں اپنے تئیں ایک نئی روش کی بھی طرح ڈالی، انہی میں سے ایک آتش ہیں۔ لیکن آتش کے ساتھ شروع سے ہی ایک اعتراضیہ جملہ یہ جڑجاتا ہے کہ ان کے یہاں متروکات کا استعمال کافی ملتا ہے۔ جب میں نے آتش کا عمومی مطالعہ شروع کیا تو ان کے امتیازات سب سے نمایاں نظر آرہے تھے۔ کیونکہ جب لکھنؤکی فضا محض لسانی اور فنی پیچیدگیوں میں اپنا ہنر آزمارہی تھی اس وقت آتش اس سے متاثر تو ضرور ہوتے ہیں لیکن بہت ہی جلد وہ اپنی راہ الگ منتخب کر لیتے ہیں اور ان کی شاعری مابعد کے لیے موضوعاتی ، لسانی و اسلوبیاتی سطح پر نئی راہ دکھاتی ہے ۔ لیکن ان پر بد قسمتی سے الفاظ کے غیر موزوں استعمال کا الزام لگ جاتا ہے جو آج تک جاری ہے ۔
غیر موزوں الفاظ و تراکیب ، محاوروں اور ثقیل الفاظ کے استعمال کا الزام جس مضبوطی کے ساتھ آتش پر لگتاآرہا ہے ، ویسے اعتراضات میر ، سودا، ذوق ، نظیر اور جوش و فراق پر تواتر کے ساتھ لگتے ہوئے کہیں نہیں دیکھا گیا ہے۔جب کہ ہر ایک کے یہاں آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور مل جائے گا لیکن پھر بھی صر ف آتش کے ساتھ ہی یہ کیوں مخصوص ہوگیا ، اس کا جواب آپ کو مضمون کے آخر میں ضرور ملے گا ۔ہم سبھی جانتے ہیںکہ اپنے زمانے میں ناسخ کی زبان دانی کا سکہ چل رہاتھا اور لکھنؤ کا مزاج طے کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے ۔ زبان کی تراش و خراش کے لیے نئی روش کے امام کہلائے، ان کے متبعین کی تعداد اتنی تھی کہ ان کے لیے اسکول کا لفظ استعمال ہوا۔ وہیں آتش کے متبعین کی تعد اد میں بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ بہت حد تک زبان و بیان اور موضوعات میں دونوں یکساں نظر آتے ہیں لیکن دونوں کی شناخت وہاں جدا ہوتی ہے جہاں یہ دونوں اپنی الگ الگ راہ اختیار کرتے ہیں ۔ ناسخ معاملہ بندی ، خارجیت اور عربی و فارسی تراکیب کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں آتش داخلیت ، آساں و سہل زبان نیزدہلوی رنگ کے کھیون ہار کے طور پر اپنی شناخت قائم کرکے میر کی روش کو آگے بڑھاتے ہیں ، جس کی اتباع بعد میں شاگردان ناسخ نے بھی کی ہے۔
ایسے میں آتش پراس زمانہ کے چلن کے حساب سے زبان و محاورات پر سوالات قائم کیے جانے لگے ، کیونکہ معنوی اور ترسیلی طور پر آتش کا مقابلہ اس میں ممکن نہیں تھا ، تو مولانا محمد حسین آزاد سے لے کر پروفیسر محمد ذاکر تک کے یہاں کلام آتش پر اعتراضات کا ایک نہ ایک پیراگراف آپ کو مل ہی جائے گا ۔ زیر تحریر مقالہ کے لیے مطالعہ میں سب سے پہلے مونوگراف ہاتھ میں آیا تو وہاں ایک جملہ پڑھنے کو ملا کہ ’’ آتش اپنی غزل میں ایسے عامیانہ الفاظ بھی استعمال کرجاتے ہیں جنہیں عموما شاعرانہ زبان بالخصوص غزل میں استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جارہا تھا ۔ ‘‘ آگے ان عامیانہ الفاظ کاعلم تو ہوگیا لیکن ذہن اس بات کے لیے متفکر ہوا کہ آخر اس خیال کا مبداء یقینا کہیں ماقبل میں ضرور ہوگا ۔(مبداء اس مقالہ کے آخر میں جاکر مل جاتا ہے ) اس کے لیے ترتیب وار ماضی کی جانب لوٹنے لگا تو سب سے پہلے ڈاکٹر شعیب راہی کا تحقیقی مقالہ ’’خواجہ حید ر علی آتش لکھنوی :حیات اور شاعری‘‘ کے عنوان سے ملا جو بعد میں کتابی شکل میں ڈالٹن گنج بہار سے 1982 میں شائع ہوا ۔ اس میں وہ ایک عنوان ’’ آتش کے معترضین پر ایک محاکمہ ‘‘ قائم کرتے ہیں ۔ جس کے پہلے پیراگراف میں وہ کچھ اس طر ح رقم طراز ہیں :
’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ آتش کی علمی استعداد انشا، مصحفی اور ناسخ کے مقابلے میں خام تھی اور ان کے کلام میں زبان ، بیان اور فن کے اعتبار سے کچھ خامیاں نظر آتی ہیں ۔ اردو کے تمام بڑے شعرا عصر قدیم سے لے کر دور جدید تک سب کے یہاں یہ خامیاں ملیں گی ۔ لیکن ان کی بنیاد پر ان کے کلام کی عظمت نہیں گھٹائی جاسکتی ، یہی حال آتش کا ہے ۔‘‘
لیکن یہاں ڈاکٹر شعیب راہی اعتراضات خود سے قائم نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ چند اعتراضات عبدالباری آسی کے تذکرہ معرکہ سخن (۱۹۳۲ء)سے لیتے ہیں ۔ جہاں آسی ؔ ان اعتراضات سے اختلاف کرتے ہیں اور اتفاق بھی ۔ شروع کے نو اعتراضات محمد حسین آزاد کے شامل کرتے ہیں پھر چا ر اعتراضات خود کے شامل کرتے ہیں ۔ اس کے بعد انسخ کے آتش پر اکیس اشعار میں اعتراضات ہیں جن کا جواب اس تذکرہ میں مولوی محمد آغا علی کے شامل ہیں لیکن ہر جواب اعتر اض میں آسی اپنی گفتگو کرتے ہوئے سبھی جوابات کی نفی کرتے ہیں سوائے ایک کے جس میں وہ صاد کرتے ہیں ۔
اس کے بعد میر ی نظر مولانا خواجہ محمد عبد الرؤف عشرت لکھنوی کی کتاب ’’اصلاح زبان اردو ‘‘ مطبوعہ ۱۹۱۹ کی جانب جاتی ہے جس کے سرورق میں ہی یہ جملہ تحریر ہے ’’ متروک الفاظ کا مفید و دلچسپ بیان فصیح و غیر فصیح محاورات کی تحقیق عہد ناسخ سے امیر مینائی کے ترک شدہ الفاظ و محاوارت کا مکمل بیان‘‘ اس میں متروکات کی فہرست میں صرف آتش ہی نہیں بلکہ ناسخ ، غالب ،مومن ، داغ، امیر مینائی ، جلال لکھنوی بھی شامل ہیں ۔ لیکن شاید عشر ت لکھنوی صفیر بلگرامی سے یا ان کی کتاب جلوہ خضرسے واقف نہیں تھے جس کی اشاعت عشر ت لکھنوی کی کتاب سے تقریبا پینتیس برس قبل ۱۸۸۵ میں ہی نورالانوار آرہ بہار سے عمل میں آگئی تھی ۔ یہ کہانی یہیں نہیں رکتی ہے بلکہ پہنچتی ہے محمد حسین آزاد کی شہرہ آفاق تصنیف ’’آب حیات ‘‘ تک ،جہاں وہ لکھتے ہیں ’’شیخ صاحب کے معتقد خواجہ صاحب کے بعض الفاظ پر بھی گفتگو کرتے ہیں‘‘ ان کے یہاں اُن بعض الفاظ کی تعداد بیس سے زائد ہے اور یہ کہانی آج تک جاری ہے ۔
ان اعتراضات کا تفصیلی ذکر سب سے پہلے پروفیسر محمد ذاکر صاحب کی کتاب ’’خواجہ حیدر علی آتش مونوگراف ‘‘سے شروع کرتے ہیں ،جس میں ان کا کہنا ہے کہ آتش عامیانہ زبان استعمال کرتے ہیں ۔ وہ الفاظ مع اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ تریا چرتر
عبث کرتا ہے واعظ میرے آگے ذکر حوروں کا
سنی میں نے بہت تریا چرتر کی کہانی
۲۔ ٹھیکرے
دو آنکھیں چہرے پر نہیں تیرے فقیر کے
دو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لیے
۳۔ پرچھتی
اس بادشاہ حسن کی منزل میں چاہیے
بال ہماکی پرچھتّی دیوار کے لیے
۴۔ رفل
اتنی شکار گاہ جہاں میں ہے آرز و
ہم سامنے ہوں اور تمہاری رفل چلے
۵۔ ساکھو
صحر اکو بھی نہ پایا بغض و حسد سے خالی
ساکھوجلا ہے کیا کیا پھولا جو ڈھاک بن میں
۶۔ گاتی
پسینے کو آتش ِ شیدا کے گاتی باندھ کر
دلربائی ختم کی اس جان جاں نے گات میں
۷۔ چپی
پسینے کو آتشِ شیدا کے گاتی باندھ کر
پائے حبیب کے رہے خدمت گزار ہاتھ
۸۔ تھوکیں
مستی سے ان لبوں کی تعلق جنھوں کو ہے
تھوکیں کبھی نہ سوسنِ آزاد کی طرف
ان اشعار میںمخصوص الفاظ پر نظر ڈالیں تو ’’تریا چرتر ‘‘ ضرب المثل ہے ۔پور ا ضرب المثل کچھ اس طرح ہے ’’ تر یا چرتر نہ جانے کوے ، خصم مار کے ستی ہوے ‘‘ (عورت کے مکر و فریب کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ، خاوند کو قتل کرکے ستی ہوجاتی ہے )
ٹھیکر ے ، آنکھ کے مقام پربولا گیا ہے ۔ بالکل زود فہم ہے ۔اور تصوف کی زبان میں دیکھیں تو جہاں غرورو تکبر سے پر ہیز سکھایا جاتا ہے وہاں یہ لفظ عدم فخر کے لیے لایا گیا ہے ۔ اجسام کے لیے بھی ایسے اشعار بخوبی مل جاتے ہیں قوت باز و اور ظاہری حسن و جمال کو ایک کمزور سے کمزور تر شے بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔
پرچھتی : مشرقی یوپی میں سرپت اور سیٹھے گھر بنانے کے لیے آج بھی بہت ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے ، توکچے مکان کی دیوار پر پانی کی حفاظت کے لیے جو استعمال کیا جاتا ہے اسے پرچھتی کہاجاتا ہے ۔ جس چیز کا استعمال متروک ہوجاتا ہے وہ لفظ بھی معدوم ہوجاتاہے ۔
رفل : رائفل سے ہے ۔اس زمانے میں انگریز کے ساتھ ہندوستان رائفل آیا تھا اور اس جدید لفظ کو انہوں نے اپنے شعر میں استعمال کیاہے۔ شمس الرحمن فاروقی آتش کے اس شعر کے حوالے سے بہت ہی سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں حتی کہ قابل ذکر شاعر کی فہرست سے نکالنے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے مضمون ’’ صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ ظاہر ہے کہ مشاعرے یا کسی بھی سنجیدہ محفل میں یہ اشعار سناتے وقت آتش یا ظفر کو شرم تو نہ آئی ہوگی ۔(ظفر کا شعر : عاشق کو جب دکھائی فرنگی پسر نے توپ : پایا نہ وہ کچھ کہنے کہ بس فیر ہوگئی ) ممکن ہے لوگ خوشدلی سے ہنس پڑے ہوں لیکن تمسخر یا ٹھٹھے کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ یہ بھی درست ہے کہ آتش اورظفر کے ہم عصر اگران دوصاحبان کو قابل ذکر شاعر سمجھتے ہوںگے تواِن یا اِن جیسے دوسرے اشعار کے بل بوتے پر تو نہ سمجھتے ہوںگے ۔ پھر بھی صاحب ذوق شاعروں اور سننے والوں نے اشعار کو قبول تو کیا ہی ۔ ورنہ یہ ان کے دیوان میں کیوں ہوتے ۔ لسانی اصول کا سہارالیجیے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ صاحب یہ اشعار تو زبان کا انتہائی ترقی پسندانہ استعمال کررہے ہیںکیونکہ انگریزی کے الفاظ Rifle اور Fireجو کچھ ہی دن پہلے ان صاحب کے ماحول میں داخل ہوئے ہوںگے ، ان اشعارمیں براجمان ہیں ۔ لیکن ان سب باتوںکے باوجود دونوں شعر انتہائی پست اور لچر ہیں ۔ ان کی پستی کی وجہ جاننے کے لیے ہم عصر صاحبان ذوق کی دہائی دینا فضول ہوگا ۔ وجہ ظاہر ہے ۔ صاحب ذوق قاری (اگر کوئی ایسی چیز ہے ) شعرکی خوبی یا خرابی نہیں متعین کرسکتا۔‘‘ (شعر ، غیر شعر اور نثر:ص ۱۷۳)
محولہ بالا پیراف گراف پر میں کچھ کلام نہیں کرسکتا ،لیکن کچھ الفاظ ضرور ہیں جو محل نظر ہیں ۔ فاروقی صاحب کی اس بحث پر نہ پڑتے ہوئے آتش کے شعر کی جانب پھر لوٹتے ہیں او ر اس کو تصوف اور خود سپردگی کے مضمو ن سے دیکھیں تو ایک جدید انداز نظر آتا ہے ۔
ساکھو:سکھوا ساگوان کو کہتے ہیں ۔ ڈھاک ایک پیڑ کا نام ہے اسی سے محاورہ ’ڈھاک کے تین پات ‘ جسے جھارکھنڈ میں پلاس کہا جاتا ہے۔
گاتی باندھنا:دوپٹے کو سینے اور کمر سے باندھنا، جیسا کہ آج بھی دیہاتوں میں کام کرتی ہوئی عورتیں ایسا کرتی ہیں۔ اسی سے گات ہے ،جو عورت کے سینے کے ابھار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ کو مصحفی اور عرفان صدیقی نے بھی استعمال کیا ہے ۔
چپی : چپی چپ سے ہی مشتق ہے ، معنوی اعتبار سے ایک خاص کیفیت کا اظہار کرتا ہے ، جہاں جبر کا بھی دخل ہوتا ہے ۔
تھوکیں : ہاں اس لفظ کی کراہیت تو ہے لیکن شاعری میں معنوی اظہار کے لیے یہ لازم نہیں کہ ادائے مفہوم کے لیے اس لفظ سے پرہیز کیا جائے ، آج کے زمانے میں اس سے بھی برا لفظ استعمال ہوتا ہے ، شاید اسے کراہیتی شاعری میں شمار کرسکتے ہیں ۔
ذاکر صاحب نے آتش کے یہاں کچھ ایسی چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جس کا ذکر ماقبل کی کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے اور وہ ہے غریب نامانوس عربی الفاظ کا شعر میں استعمال ۔ اب ان الفاظ کی جانب بھی رخ کرتے ہیں کہ وہ کیسے الفاظ ہیں۔
۱۔ مقوس
جانب چر خ’ مقوس ‘ آہ ہوتی ہے رواں
یہ کماں اک دن نشانہ ہے ہمارے تیر کا
موقو س قوس دار کو کہتے ہیں اگلے مصرع میں کماں سے اس کی توضیح بھی پیش ہے ۔
۲۔ اجلس ، قم
فائق ہو غضب پر کر م اس بت کا الٰہی
اجلس وہ دل آرام کہے قم سے زیادہ
حکمیہ جملے میں قم اپنی تمام تر تہذیبی و علمی وسعت کے ساتھ جس طرح اظہار کرتا ہے وہ اپنی اثر آپ رکھتا ہے اسی کے مناسبت سے اجلس کہا گیا ہے ۔
۳۔ عظام رمیم
اک مشت استخواں پر اتنا نہ غرور کر
قبریں بھری ہوئی ہیں عظام رمیم سے
غزل کا مضمون دیکھیے اور اس میں مستعمل ’’عظام رمیم ‘‘ ( بوسیدہ ہڈیاں ) کی قرآنی ترکیب پر غور کیجیے تب آپ کو سمجھ میں آجائے گا یہ کس پائے کا شعر ہے ، اس کا بیانیہ کس قدر مضبوط ہے۔ اسی مناسبت سے ماقبل میں ٹھیکرے استعمال ہوا ہے۔
۴ جمّازہ
ایک دن دعوت جمّازۂ لیلی ہوگی
اس لیے بیچ میں مجنوں ہے یہ ،ہر سو کانٹے
یہاں پر آتش تیز رو اونٹینوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے لیلی کی مناسبت سے اسی تہذیب کا لفظ جمازہ استعمال کیا ہے ۔
پروفیسر محمد ذاکر نے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھا یا ہے لیکن وہ آتش کے شعری مرتبت کے سامنے ان الفاظ و تراکیب پر جرح نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’یہ آتش کے کلام میں حاوی کیفیت نہیں ہے ۔ بحیثیت مجموعی ان کی زبان ایسی ناہمواریوں سے پاک ہے ۔ ‘‘
آتش کے عہد کے بعد آج ان کے مستعمل الفاظ میں ایسا محسوس ہورہا ہے، اگر اسی عہد میں جاکر اس کو سوچیں تو آتش بہت ہی واضح زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ہے کیونکہ آج سے پچاس بر س قبل جو زبان ہمارے ادبا استعمال کرتے تھے وہ آج بدلی ہوئی ملتی ہے تو جو زبان دو صدی قبل آتش نے استعمال کی تھی ان میں سے زیادہ سے زیادہ پچا س الفاظ اور چند ترکیبیں ایسی ہیں جن پر معترضین اعتراض کرتے ہیں جبکہ بقول جالبی وہ بعد میں بھی مستعمل رہی ہیں، ایسے میں آتش کی زبان پر اعتراض محض اعتراض ہی ہے ۔ ہاں ان اعتراضات کاذکر اس لیے بھی ضرور ی ہے کہ آج کے زمانہ میں زبان کی بے راہ روی جس طریقے سے پھیل چکی ہے اس متعلق بھی سوچا جائے اور غور کیا جائے کہ محاوراتی زبان میں ہی تخلیق عمل میں لایا جائے ۔اب تک آتش کے کلام پر جو بھی اعتراضات وارد ہوئے ہیں اور جوابات لکھے گئے ہیں ان میں سے اکثر مختلف کتب سے پیش کیے جاتے ہیں ۔
حلوہ ٔبے دود
لعل شکر بار کا میں بوسہ کیونکر نہ لوں
کوئی نہیں چھوڑتا حلوۂ بے دود کو
اعتراض آزاد حلوائے بے دود چاہیے تھا۔
عبدالباری آسی: حلوہ لکھنا صحیح نہیں ۔ یہ لفظ حلوا الف کے ساتھ ہے ۔ جو مضاف ہونے کی حالت میں (ی) کی صورت میں لکھا جائے گا ۔اہل فارس حلوائے بے دود کا اطلاق شیریں میووں پر کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ وہ بغیر آگ کے دھویں کے صرف گرمی آفتاب سے پکتے ہیں ۔ حلوائے شہید ، حلوائے مغزی ، حلوائے پشمیں وغیرہ سب الف اورے سے لکھے جائیں گے بصورت ہائے ہوز ترکیب غلط قرار دی جائے گی ۔
( اب موجودہ حالت یہ ہے کہ حلوہ اردو میں ہ سے ہی مر وج ہے اسے غلط العام یا اردو کا اپنا املا سمجھ سکتے ہیں :حمزہ)
بیگم
دختر رز میری مونس ہے مری ہمدم ہے
میں جہانگیر ہوں یہ نور جہاں بیگم ہے
اعتراض آزاد: بیگم تر کی لفظ ہے اہل زبان گاف پر پیش بولتے ہیں اور زبان فارسی کا قاعد بھی یہی چاہتا ہے۔
آتش: ہم ترکی نہیںِ بولتے ہیں تر کی بولیں گے تو بیگُم کہیں گے ۔
صفیر بلگرامی: بیگم بکسر کاف فارسی زن عمدہ، وفتح کاف فارسی بمعنی امیرمن۔ از لغات تر کی وغیاث بہر حال پیش ہو یا زیر۔ محاورے میں یہ لفظ بفتح کاف فارسی مستعمل ہے اور محاورہ کے باب میں جناب آزاد کے سید انشا نے دریائے لطافت میں لکھے ہی دیا ہے’’ مخفی نماند کہ ہر لفظے کہ در اردو مشہور شد عر بی باشد یا فارسی یا ترکی یا سریانی یا پنجابی یا عر بی از روی اصل غلط باشد یاصحیح آن لفظ لفظ اردو است ۔اگر موافق اصل مستعمل صحیح است و اگر خلاف اصل است ہم صحیح است صحت و غلطیِ آن موقوف بر استعمال پذیرفتن در اردو است زیرا کہ ہر چہ خلاف اردو است غلط است۔گو در اصل صحیح باشد بہ و ہر چہ موافق اردو است صحیح باشد گو در اصل صحت نداشتہ باشد‘‘۔ اب مؤلف عرض کرتا ہے کہ اسی کا نام تصرفات عوام ہے جس کا استعمال خواص تک جائز ہو جاتا ہے۔ میرے دانست میں تو بیگُم یا بیگِم کوئی نہیں بولتا سوائے بیگم کے۔ اس صورت میں یہ محاورہ مقبول انام ہو گیا۔ پھر آتش کے باندھنے پر تامل کسی واسطے ہے۔
عبدالباری آسی:آتش کا جواب صحیح ہے کیونکہ اہل ہند کا یہی محاورہ ہے اور کلام اساتذہ میں بھی بضم کاف فارسی نہیں دیکھا گیا ہے ۔ علاوہ اس کے مصنف غیاث اللغات لکھتے ہیں ’’ بیگم بکسر کاف فارسی زن عمدہ ، وفتح کاف فارسی بمعنی امیر ۔ من لغات ترکی‘‘ اگر بفرض محال اس کو بالضم مان لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ قدما میں اختلاف توجیہ کو بڑا عیب نہیں سمجھتے تھے ۔ آتش ،ناسخ، غالب وغیرہ کے زمانہ تک یہ جائز تھا ۔ غالب کا یہ شعر ملاحظہ ہو :
دل لگا کر آپ بھی غالب مجھی سے ہوگئے
عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے
صاحب ، رب ، سب وغیرہ کا ہم قافیہ رکھا گیا ہے ۔حالانکہ صاحب بکسرہائے حطی ہے ۔ حالانکہ صاحب بکسر ہائے حطی صحیح ہے اور ہائے حطی غلط ہے ۔
نمش
اس خواں کی نمش کف مار سیا ہے
اعتراض آزاد: نمشک صحیح ہے نمش غلط
جواب آتش :جب فارس جائیںگے تو ہم بھی نمشک کہیںگے یہاں سب نمش کہتے ہیں تو نمش ہی شعر میںلکھنا چاہیے ۔
عبدالباری آسی:میرے نزدیک آتش کا جواب صحیح ہے اس لیے کہ لفظ اگرچہ بفتحتین ہے اور بعض جگہ بجائے کاف تائے قرشت بھی پائی گئی ہے ۔مگر مہند ہوکر نمش رہ گیا ہے اس لیے سیکڑوں الفاظ اردو میں رائج ہے ۔
پیشگی
پیشگی جو دل کو دے لے وہ اسے تحصیلے
ساری سرکاروںمیں ہے عشق کی سرکار جدا
اعتراض آزاد: پیشگی ترکیب فارسی ہے مگر فارسی والوں کے استعمال میں نہیں ۔
جواب آتش: یہ ہمارا محاورہ ہے
عبدالباری آسی: اس میں شک نہیں کہ پیشگی لفظ فارسی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اہل ایران کی زبانوں پر اس معنی میں نہ ہو مگر یہ وہ فارسی ہے جو اہل ہند کی بنائی ہوئی ہے ۔اس لیے اس کے استعمال میں کئی نقصان نہیں اردو میں بکثر ت اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں اور اساتذہ نے استعمال کیا ہے ۔
مطالع
لکھے ہیں سرگزشت دل کے مضموں یک قلم اس میں
تماشہ قتل گہ کا ہے مطالع میرے دیوان کا
اعتراض: مطالع غلط ہے ، مطالعہ مفاعلت کا مصدر ہے جس میں تائے مصدری ہونا ضروری ہے ۔
عبدالباری آسی: اعتراض صحیح ہے مطالعہ باب مفاعلۃ سے مصدر ہے جس میں تائے مصدری کا ہونا ضروری ہے ۔
گرگ بغل
کشاکش دم کی مار آستیں کا کام کرتی ہے
دل بے تاب کو پہلو میں ایک گرگ بغل پایا
اعتراض: مار آستیں فارسی مرکب ہے گرگ بغل کے لیے فارسی کی سند چاہیے۔
آسی: مار آستیں کی صحت میں تو کوئی شک ہی نہیں ، مگر گرگ بغل کوئی محاورہ نہیں ۔ گرگ آشتی ، گرگ آشنائی ،گرگ باراں دیدہ ، گرگ مست ، گرگ فسوں گر ، گرگ سیمیں وغیرہ محاورے پائے گئے مگر گرگ بغل کہیں نہیں پایا گیا البتہ گر گ در پیرہن داشتن ایک محاورہ ہے جو ناجنس سے صحبت رکھنے کے معنی میں مستعمل ہے شاید آتش کے خیال میں یہی ہو ۔ اگرایسا ہے تو یہ بھی تصرف فی المحاورہ ہے ۔
صفیر بلگرامی: فارسی محاورہ گرگ در پیرہن داشتن موجود ہے۔
صایب
ناساز کاری ہست در خوئے گلعذاراں
کو یوسفے کہ گرگے در پیرہن ندارد
اور یہ کنا یہ صحبت نا جنس سے ہے (دیکھو بہارعجم)۔ پس گرگ بغل سے اور اس سے کتنا تفاوت ہے۔ جو اعتراض مانا جائے، اور بالفرض اگر فارسی کا محاور ہ نہ سمجھا جائے تو بھی لغوی معنی لینے سے ٹھیک معنی ہو جائیں گے یعنی جیسے کہیں بغل میں گرگ بیٹھا ہوا ہے اس سے ڈرنا چاہیے۔
چار ابرو
چار ابرو میں ترے حیراں ہیں سارے خوشنویس
کس قلم کا قطعہ ہے یہ کاتب تقدیر کا
اعتراض: چار ابرو بمعنی چہرہ لیا ہے ۔ اور محاورہ میں چار ابرو کا لفظ بغیر صفائی کے نہیں آتاجس سے مراد یہ ہے کہ ابر و اور ریش و بردت کو صفا چٹ کردیں وہ بے نواؤں اور قلندروں کے لیے خاص ہے نہ کہ معشوق کے لیے ۔
آسی: اعتراض بالکل صحیح ہے۔ چار ابرو چہرہ کے معنی میں نہیں آتا ہے ۔ البتہ چار ابرو کا صفایا بولاجاتا ہے ۔
صفیر بلگرامی: یہ فارسی کا محاور د خاص معشوق کے لیے ہے ۔
غنی
عشق افزون می شود چون حسن می گردد زیاد
تا تو چار ابرو شدی چشمم ز شوقت گشت چار
صایب
بلا است عاشقی نو خطان
ز چار موجۂ در یا نجات ممکن نیست
اس صورت میں اعتراض اٹھ گیا۔ افسوس اس زمانے کے لوگ جس فن میں دخل دینا چاہتے ہیں اس فن کی کتابوں کو نہیں دیکھتے فقط سنی سنائی پر یقین کر لیتے ہیں۔ شاید چارا برو کا صفایاہندی آزادوں کا محاورہ ہو۔
خوشی
بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے
اعتراض آسی: خوش کے بجائے خوشی لکھا ہے ۔ یہ محاورہ ضرور ہے مگر بالکل عوام اور اسافل کا محاورہ ہے ۔
صفیر بلگرامی: خوشی پھر نا بر امحاورہ نہیں جیسے کہتے ہیں خوشی خوشی جاؤ یعنی خوش خوش جاؤ اسی طرح خوشی خوشی پھرو اور خوشی بمعنی مطلق خوش کے محاور واردو میں مستعمل ہے۔
نسیم دہلوی
نہ زندگی سے خوشی ہوں نہ موت سے راضی
نہ اختیار میں دل ہے نہ اختیار میں روح
لعب بازی
لعب بازی کی بھی حسرت نہ رہی اے آتش
میرے اللہ نے بازیچۂ تن مجھ کو دی
اعتراض آزاد: لعب بازی خلاف محاورہ ہے۔
صفیر بلگرامی: یہ محاور وفارسی ہے لعب بافتن۔
زلالی بہ پیشا پیش رخش فتنہ می تاخت
برُمح موی لعب عشوہ می باخت
اس صورت میں لعب بازی کہا تو کیا مضا ئقہ ہوا، اور اس کو لعب و بازی بھی کہہ سکتے ہیں۔ واو عطف کا تب کی غلطی سے رہ گیا ہوگا۔
بھلا دیکھیں تو گو بازی میں سبقت کون کرتا ہے
ادھر ہم بھی ہیں تو سن پر اُدھر تم بھی ہو تو سن پر
البتہ گو بازی مکروہ محاورہ ہے مگر حاجب ہو تو کیا کریں
مراعات النظیر
سودائی جان کر تری چشم سیاہ کا
ڈھیلے لگاتے ہیں مجھے دیدے غزال کے
اعتراض آزاد: اس صنعت مراعات النظیر کو تکلیف زائد سمجھتے ہیں۔
صفیر بلگرامی: صنعت مراعات النظیر کو تکلیف زائد کہنا تمام ایشیائی شاعری کو معطل کر دینا ہے، یعنی ایشیا کی شاعری غیر مذاق والوں کے لیے تمام تر تکلیف ہے تو ان کے مذاق کے خیال سے تو وزن کے اقسام اور قافیہ اور ردیف بھی تکلیف زائد ہے۔ یہ ہندوستان سے لندن کی دوڑ مارنا کیا معنی۔ صاحب قضیہ زمین بر سرزمین جس جگہ کی زبان کی بحث کرتے ہو اسی زبان کے اصول کی رو سے حسن وقبح نکالو۔ شاعری میں دخل دینا اور خوض و فکر سے جان چرانا، اور اپنی ہی معلومات پر بھروسہ کر کے مطابقت چاہنا۔ سوال از آسمان و جواب از ریسمان کہلاتا ہے۔ یہ ایشیائی شعرا کو تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ان کے ذہن کو صیقل کا مزا دکھاتی ہے۔ یہ صنعت، صنائع معنوی میں داخل ہے۔ مجمع الصنایع میں لکھا ہے کہ صنعت مراعات النظیر کو تناسب بھی کہتے ہیں یعنی منشی یا شاعر چند چیز میں ایسی جمع کرے کہ با ہم مناسبت رکھتی ہوں اور یہ صنعت عربی اور فارسی میں بے حد و نہایت جاری ہے۔
بیہڑ
بلند و پست عالم کا بیاں تحریر کرتا ہے
قلم ہے شاعروں کا یا کوئی رہرو ہے بیہڑ کا
صفیر بلگرامی: ’’بیہڑ‘‘ کا لفظ اگر دہلی میں مستعمل نہیں تو اس پر اعتراض کیا ہے لکھنؤ والے کب کہتے ہیں کہ ہم وہی بولیں گے جو دہلی والے بولتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ناسخ و آتش نے لکھنو کی بھا کا لے کر اردو کو درست کیا ہے اس میں جو کوئی لفظ دہلی وغیرہ کا مل جائے تو مل جائے ورنہ کچھ ضرور نہیں ۔اور چونکہ میان دو آب کی بھا کا میں چنداں تفاوت نہیں تو ایسے الفاظ چند ہی نظر آئیں گے جو دہلی اور لکھنو کا فرق دکھا ئیں۔ اسی طرح جناب میرا نیس صاحب مرحوم نے فرمایا تھا۔ ’’نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھار سے‘‘۔ اس پر دہلی والوں نے اعتراض کیا کہ کچھار محاور ہ نہیں۔ جناب مرحوم نے فرمایا ہمارا محاورہ ہے اس میں کیا کسی کا اجارہ ہے۔
جمع
رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم چاہیے
عالم ارواح سے صحبت کوئی دم چاہیے
اعتراض آزاد: جناب آزاد لکھتے ہیں کہ متاخرین لکھنو اور دہلی کے فارسی جمع کو بے اضافت یا صفت کے نہیں لاتے مگر یہ باندھتے ہیں۔
صفیر بلگرامی : مؤلف عرض کرتا ہے کہ متاخرین دہلی سے جناب آزاد کی کیا مراد ہے۔ اگر جناب داغ سے مراد ہے اور واقعی متاخرین میں ایک انہیں کا دم ہے تو آتش کے وقت سے اور ان سے مقابلہ کیا اور اگر ذوق ومومن کے زمانے سے مراد ہے تو وہ اس عیب سے ہرگز خالی نہیں۔ معروف جو۱۲۴۲ھ میں مرے، کہتے ہیں۔
مئے کے پینے سے تو ہر چند نبا ہی توبہ
پر مغاں سے وہ خجل ہوں کہ الہی توبہ
احسان جنہوں نے ۱۲۶۷ھ میں بعدِ آتش انتقال کیا، کہتے ہیں۔
پہنچ اے اجل کہ لب پر اٹکا ہے کام جاں کا
حامی ہے کون تجھ بن آفت رسید گاں کا
جناب ذوق جنہوں نے ۱۲۷۱ھ میں وفات پائی آتش کے نو برس بعد فرماتے ہیں
طلسم طرفہ تر آنسو نے میرے مردماں باندھا
کہ ہے اک اک گرہ میں حاصل صد بحر وکاں باندھا
صابر دہلوی جنھوں نے چند سال ہوئے بنارس میں انتقال کیا، کہتے ہیں۔
ول میں بھی دی جگہ تو کدورت کے ساتھ دی
رکھتے ہیں خاک میں ہی ملائے بتاں مجھے
صفت جمع
عہد طفلی میں بھی تھامیں بسکہ سودائی مزاج
بیڑیاں سنت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں
اعتراض آزاد: صفت کو اس طرح موصوف کی مطابقت کے لیے جمع کرنا اب خلاف فصاحت سمجھتے ہیں۔
صفیر بلگرامی : یہ محاورہ دہلی کا تصدق ہے اور اب بھی وہاں عوام میں جاری ہے۔
بل بے
خانہ خراب نالوں کی بل بے شرارتیں
بہتی ہیں پانی ہو ہو کے سنگین عمارتیں
اعتراض آزاد: آج کل کے لوگ بل بے کو بھی متروک سمجھتے ہیں مگر خواجہ صاحب فرماتے ہیں۔
صفیر بلگرامی : خواجہ صاحب کیا آجکل کے لوگوں میں ہیں ۱۲۶۳ھ میں مرچکے۔ جناب ذوق نے نو برس بعد۱۲۷۱ھ میں انتقال کیا۔ بہ نسبت آتش کے یہ آجکل میں شمار ہو سکتے ہیں اور فرماتے ہیں:
بل بے وحشت اب تلک بھی شاخ آہو کی طرح
پیچ کھاتا ہے دھواں میرے چراغ گور کا
موسا
ہوا ہوں موسا لاغر میں
پڑے ہیں آنکھوں میں حلقے
طپش دہلوی: دیکھیے موسا کیا کر یہہ لفظ ہے۔
صفیر بلگرامی : بے شک جیسے اسا تذۂ دہلی بھی باندھتے ہیں۔
ذوق
ہم تم ساعدو اپنا کسی کو نہیں پاتے
تم پاتے ہو ہم کو تو چھری کو نہیں پاتے
مومن
کیا گلے ہوتے گر اوروں پہ بھی رحم آجاتا
شکر صد شکر کہ میر ا ساتر ادل نہ ہوا
ذوق
ہوا حمدِ خدا میں دل جو مصروفِ رقم میرا
الف الحمد کا سا بن گیا گو یا قلم میرا
مومن
نہ جاؤں گا کبھی جنت میں، میں نہ جاؤں گا
اگر نہ ہوئے گا نقشہ تمھارے گھر کا سا
یہ ہر کا ’سا‘ نعمائے لطیف سے بھرا ہوا ہے، انصاف کیجیے۔
ضعف تالیف
سامنا تجھ سے جو اے ناوک فگن ہو جائے گا
چوکڑی کو بھول کر تودا ہرن ہو جائے گا
اعتراض طپش دہلوی: اس میں کس درجہ ضعف ِتالیف ہے کیسی سست ترکیب ہے ایسا تو بچے بھی نہیں کہتے۔
صفیر بلگرامی : ضعفِ تالیف ایرادِ کلام بر خلافِ استعمال فصحا کو کہتے ہیں۔ پس اس میں کون سا لفظ بر خلافِ استعمال فصحا ہے۔ اس کے سب الفاظ صحیح اور محاورے درست ہیں ترکیب بھی سست نہیں۔ کس لیے اس کو اخلال کہتے ہیں اور اخلال وہ خلل ہے جو ترکیبِ کلام میں واقع ہو بسبب ترکیب کرنے اُس لفظ کے جو مناسب اُس مقام کے ہو۔ حالانکہ آتش کا شعر اس عیب سے خالی ہے اور اگر چشمِ انصاف بند نہ کرلی جائے تو دہلی کے اساتذہ کے صد ہا شعر اس عیب سے بھرے ہیں۔ دیکھیے مومن خان کے اس شعر میں اخلال موجود ہے۔
روزِ محشر آپ کے اس تشنہ دیدار کا
حلقِ تشنہ تر نہ خر اور حوضِ کوثر خشک ہو
قافیہ تنگ
کیا شعر کہوں قافیہ ہے تنگ زباں کا
اعتراض طپش دہلوی: سبحان اللہ زبان کا قافیہ ہم نے یہیں تنگ سنا ہے۔
صفیر بلگرامی: قافیہ تنگ شدن ۔عاجز شدن در گفتار و کردار۔ از برہان و سراج وغیاث۔
اب میں کہتا ہوں کہ جب گفتار میں عاجز ہونے کو بھی قافیہ تنگ ہونا بولتے ہیں تو گفتارعین کام زبان کا ہے بدرجۂ اولیٰ درست ہے اور اعتراض سست۔
بالا بلند
عاشقوں سے جھک کے کب ملتا ہے
اعتراض طپش دہلوی: بالا بلند کیا بلا ہے اس کے کیا معنی۔ سرو بالا اور قد بالا تو اہل زبان باندھتے ہیں مگر بالا اور بلند آج ہی سنا ہے۔
صفیر بلگرامی: اچھا اب اس کی مثال بھی مجھ سے سن لیجیے کیونکہ کتاب دیکھنے کی آپ کو عادت نہیں یار غبت نہیں یا فرصت نہیں۔ افسوس جس لفظ کوطفل دبستان تک جانتے ہیں اُس پر اعتراض۔ یہ زبردستی نہیں تو کیا ہے۔ سنیے یہ محاورہ فارسی ہے گلستان سعدی میں ہے (و دیگر بر ادر انش بلند بالا و خو بروے)
علی حزیں
بالا بلند عشوہ گرِ سروِ نازِ من
کوتاہ کرد قصۂ عمرِ درازِ من
فیضی فیاضی :
دلِ ما مایل بالا بلندی ست
نباشد ہمّتِ کوتاہِ ما را
حافظ:
زدست کوتہِ خود زیر بارم
کہ از بالا بلنداںشر مسارم
اور ظہوری اس پر بھی بڑھاتے ہیں اور بالا در از فرماتے ہیں
ز بالا درازاں مشو تیز چنگ
کہ رُمحت کند کوتہی روز جنگ
میر تقی میر بھی اردو میں باندھ گئے ہیں
آرزو اُس بلند بالا کی
کیا بلا میرے سرپہ لائی ہے
خلاصہ یہ ہے کہ بالا بمعنی قد اور بلند بمعنی اونچا ہے یعنی اونچا قد اور یہ اسم صفت ہے۔ اب میں عرض کرتا ہوں کہ سمجھ کر اوردیکھ کر اعتراض کرنا چاہیے نہ کہ عام فریبی اور ایک نامی شاعر کی استادی میں داغ لگانے کے لیے جو کچھ چاہا لکھ دیا یہ قابلوں اور ناموروں کا کام نہیں۔
یار ِجانی
بھر آیا زخمِ دل منہ چومتے ہی یارِ جانی کا
اعتراض طپش دہلوی: یار جانی خلافِ تہذیب بلکہ متروک اور مترود ہے استادانِ دہلی کے کلام میں یہ بے تہذیبی نہ دیکھیے گا۔
صفیر بلگرامی: ہیں یہ کیسی تحقیق؟ فارسی سے اردو اور دہلی سے لکھنؤ تک کے کلام میں موجود ہے ذرا سیر تو کیا کیجیے۔ دیکھیے فارسی والے کہتے ہیں
ملا وحشی:
بہ یارانِ جانی ومے خوش بر آور
کہ عیش است خوش بزم ِیارانِ جانی
حزیں:
رخ تازہ بہ اشکِ ارغوانی دارم
از دولتِ عشق کامرانی دارم
خونِ دل و اشکِ دیدہ و آہِ جگر
اینہا ہمہ از تو یار جانی دارم
اب اردو والے دہلوی فرماتے ہیں ذرا دیوان ان کے سامنے رکھ کر دیکھیے۔
مومن
کہاں تک رشکِ دشمن یارِ جانی
کہاں تک مہرباں نامہربانی
نسیم دہلوی
لڑکپن میں یہ ضد ہے جانی تمھاری
ابھی دیکھنی ہے جوانی تمھاری
کھلی ہے آنکھ جوش ِانتظارِ یارِ جانی ہے
بشکل دیدۂ زنجیر خوابِ پاسبانی ہے
یہ متاخرین دہلی میں ہیں یہ بھی یادر ہے۔ اب لکھنؤ میں آئیے۔
جناب تسلیم لکھنوی
ہوا کیوں سن کے برہم یارِ جانی
بتا اے نامہ بر! تو نے کہا کیا
مناسب ہے مگر اے یارِ جانی
بتا دے کچھ مجھے اپنی نشانی
نہیں معلوم جناب طپش اب بھی اس محاورہ کو متروک اور متردد کہیں گے یا کیا؟ باقی رہیں دہلی کے کلام کی بے تہذ یبیاں۔ تتبع کرنے والے سے وہ بھی پوشید ہ نہ ر ہیں گے یہ اعتراضات اودھ اخبار چہارم اگست ۱۸۷۵ء کے تھے جن کا جواب دیا گیا۔
جسد
تعلق روح سے مجھ کو جسد کا نا گوارا ہے
زمانے میں چلن ہے چاردن کی آشنائی کا
اعتراض طپش دہلوی: مصرع اول میں جسد لغت عربی جو ناحق ٹھونسا گیا مخلِ فصاحت ہے۔ سوا اس کے ناگوارا بھی آج ہی سنا ہے۔ (ناگوار) اور (گوارا) البتہ محاور ہ ہے۔
صفیر بلگرامی : اس شعر پر دو اعتراض جمے ہیں۔ ایک لغت عربی ٹھونسنے کا دوسرا نا گوارا کے غیر محاورہ ہونے کا۔ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ روح وجسد کا تعلق تو ہمیشہ سے ہے یہ ٹھونسا کہاں گیا ہے۔ اگر کہاجائے کہ جسد عوام الناس نہیں سمجھتے اس کی جگہ بدن کا لفظ ہونا چاہیے تھا تو جواب یہ ہے کہ فصیح محاور ہ روح کا جسد کے ساتھ ہے اور بہار عجم میں لکھا ہے کہ جسد بروزنِ رصد تن، اجساد جمع۔ آنچہ بر تن پوشند آنرالباس گویند و آنچہ بر روح پوشیدہ شود لایق بحال وے آنست کہ آنراجسد گویند۔
نظامی
تنیدہ تنش در رصد ہاے دور
بروحانیاں بر جسدِ ہاے نور
دوسرے اعتراض کا جواب: نا گوارا خاص محاور ہ فارسی ہے، بہار عجم میں ہے گوار، گوارا، گواران، ناگوار، نا گوارا، ناگواران، خوشگوار، خوشگواران سب صحیح ہیں۔
طالب آملی
یکی راست شہد سخن نا گوارا
یکی راست در غایت خوشگوارے
سرو آزاد
مسی سے ان لبوں کی تعلق جنھوں کو ہے
تھوکیں کبھی نہ سوسن آزاد کی طرف
اعتراض طیش دہلوی:سرو آزاد تو ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں مگر سوسن آزاد حضرت آتش کا ایجاد ہے۔
صفیر بلگرامی: حضر ت آتش نہیں حضرت حافظ کا ایجاد ہے
اے صبا بندگیٔ خواجہ جمال الدیں کُن
کہ جہاں پُر سمن و سوسنِ آزادہ کنی
سقوط عین
رجوع اپنے دلِ روشن سے کر آتش جو مضطر ہو
اعتراض طیش دہلوی: سقوطِ عین، عینِ خطا ہے۔
صفیر بلگرامی: سبحان اللہ یہ فقر ہ جناب مولوی صاحب کی معلومات پر دلالت کرتا ہے۔ اس مصرع میں سقوط عین کہنا عینِ خطا ہے۔ جناب رجوع کا عین الف سے وصل ہو کر صحیح ہو گیا اور الف کے ساتھ حروف کا وصل ہونا فارسی اور اردو میں شائع ہے۔
دیکھیے سقوطِ عین اس کو کہتے ہیں جو ولایتیوں کے شعر میں ہے۔
خواجہ با قر شیرازی
مرا پندِ خردمنداں بحال خودنمی آرد
بایں افسانہ با مجنون عشق عاقل نمی گردد
ناصر علی سہرندی
اے رگِ جان بہار ایں ہمہ بے رحمی چیست
خاک از مقدمِ تو خون شدن عادت داردب
عاقل دہلوی
تا توانی تختہ بندِ یک مقام عاقل مباش
خاک برسرمی کند در خانۂ آئینہ آب
جو کچھ
پھندا یا یار کے گھر میں یہ کام کیا کم تھا
جو کچھ کہ ہمتِ عالی جناب سے ہوتا
اعتراض طیش دہلوی: جو کچھ کی رکاکت ملاحظہ ہو۔
صفیر بلگرامی : اب آپ اعتراض سے تھک گئے، اچھا مومن خان کے کلام کی رکاکت ملاحظہ ہو۔
وہ جفا کش ہیں اے فلک کہ کیا
اس ستمگر نے انتخاب ہمیں
’’کہ کیا‘‘ کی رکاکت کیا کم ہے۔
فی الواقعی
جاں بخش لب کا یار کے رتبہ بلند ہے
فی الواقعی مقام مسیحا بلند ہے
اعتراض آسی: فی الواقع کی جگہ فی الواقعی غلط ہے۔
جمیل جالبی : ع فی الواقعی ہے یارتری ترک جری آنکھ
ع عقل سے ہوتا ہے فی الواقعی جاہل خالی
ع فی الواقعی مقام مسیحا بلند ہے
اگر فی الواقعی ایک بار استعمال میں آتا تو کہا جا سکتا تھا کہ آتش بھول سے اسے استعمال کر گئے ہیں لیکن التزاماً اسے تین مختلف غزلوں کے تین مختلف شعروں میں استعمال کر کے یہ بتا دیا ہے کہ بول چال کی زبان میں اہل زبان اسے فی الواقعی ہی بولتے ہیں اور انھوں نے اسے اسی طرح استعمال کیا ہے۔
ساکن
شمع رو نے میرے الٹاجوسر محفل نقاب
ایک پر ایک ہوا ساکن محفل بہاری
اعتراض انسخ:ساکن محفل خلاف محاورہ ہے سند چاہئے۔ اگر ساکن کی جگہ صاحب کہتے تو مضائقہ نہ تھا۔
جواب مولوی آغا علی: ساکن محفل کہاں کے محاورے کے خلاف ہے۔ اگر لکھنو کے محاورے کے خلاف کہتے ہیں توغلط ہے اس واسطے کہ خواجہ سے مسلم الثبوت کے کلام میں یہ موجود ہے جو کچھ خواجہ صاحب فرماگئے ہیں اس میں اہل لکھنؤ کو بجز تسلیم کے مقام عذر نہیں۔ اگر ساکن محفل آپ کے محاورے کے خلاف ہے تو ہو۔ اردو کو اس سے کچھ سر کار نہیں۔
یہ مقصد ہے کہ سا کن محفل دہلی کے محاورے کے خلاف ہے تو ہم کہیں گے کہ بہتر۔ لکھنؤ اور دہلی کے بہت سے محاورات میں اختلاف ہے۔ یہ تو جواب تھا۔ اب دوستانہ گزارش سنیے کہیں آپ ساکن محفل کی جگہ صاحب محفل دہلی یا لکھنو کی پابندی میں نہ کہہ بیٹھیے گا۔ ورنہ ہنسے جائیے گا۔ ہماری زبان میں صاحب محفل بانی محفل کو کہتے ہیں۔ نہ شریک محفل کو۔ اور یہی اہل دہلی سے بھی سنا ہے۔
جواب آسی: میرے نزدیک معترض کا اعتراض بالکل صحیح ہے۔ ساکن محفل کسی طرح صحیح نہیں۔ اگر ساکن محفل اہل محفل کا مرادف بھی قرار دیا جائے تب بھی ہر نکتہ اور ہر بات کا ایک عمل ہوتا ہے۔ ایک ہی لفظ ایک جگہ فصیح ہوتا ہے اور دوسری جگہ غیر فصیح۔ معترض نے جو اصلاح کی ہے کہ ساکن کی بجائے صاحب ہوتا۔ یہ بھی بالکل غلط ہے۔ اور اس میں مجیب کے حق میں فیصلہ ہو سکتا ہے۔
زائدہ
کیا کاٹے گا پھوڑا ہے مرے دل کا بہت سخت
زائیدہ رویٔ کا ہی یہ سیماب کا پھاہا
اعتراض انسخ:مصرع ثانی کی بندش بسبب لفظ زائیدہ کے کس قدر عمدہ اور دلچسپ ہے۔
جواب مولوی آغا علی: زائیدہ جائز ہے سودا کا یہ شعر ہے کہ:
غم کا ہے پسر خواندہ اور درد کا بالیدہ
مضمون جو طبیعت میں سودا کی ہے زائیدہ
جواب آسی: میرے خیال میں یہ جواب بھی۔ جواب از رسمیان کی شان رکھتا ہے۔ کیو نکہ معترض یہ نہیں کہا کہ لفظ زائیدہ غلط ہے۔ بلکہ اس کا خیال ہے کہ دوسرا مصرع سست اور غیر دلچسپ ہے۔ میرے نزدیک سیماب کا پھا ہا بھی ایک عجیب غریب چیز ہے کیونکہ اس وقت تک مرہم سیماب سنا تھا۔ سیماب کا پھاہا نہیں سنا تھا۔یاپھا ہے کاروئی کا زائیدہ ٹھہرانا بھی نہایت رکیک سی بات ہے۔
چھ کاف
زار ہوں ایسا کسی کو میں نظر آتا نہیں
عشق میں گھل کر کمر کا یار کی مو ہوگیا
اعتراض انسخ: مصرع ثانی کی خرابی بندش بیان نہیں ہو سکتی۔ علاوہ بریں ایک صنعت یہ ہے کہ ایک مصرع میں چھ کاف موجودہیں۔ شاید چہل کاف کے جواب میں یہ مصرع کہا گیا ہے۔
جواب آسی: اگر چہ شعر کو چست نہیں کہہ سکتے مگر ظاہرا کوئی قباحت نہیں۔ چھ کاف اگر جمع ہوئے ہیں تو یہاں مصرع میں تنافر نہیں پیدا ہوتا۔ واضح ہو کہ صرف حروف کا ایک جگہ جمع ہونا نہ فصاحت کو مانع ہے اور نہ ثقالت پیدا کرتا ہے۔ ہزاروں مثالیںاسی قسم کی موجود ہیں۔
انتظار
ہجر کی شب میں زبس ہے اشتیاق روز وصل
رات بھر رہتی ہیں آنکھیں انتظار آفتاب
اعتراض انسخ: لفظ انتظار بجائے منتظر غلط ہے۔
جواب مولوی آغا علی : تحریف کا تب پر اعتراض کرنا سنت استاد ہے پھر اس سنت پر آپ کیونکرنہ قائم رہیں۔ مصرع صحیح یوں ہے۔
رات بھر رکھتی ہیں آنکھیں انتظار آفتاب
جواب آسی: اگر مجیب صاحب نے کسی نسخہ میں اس مصرع کو اسی طرح دیکھا ہے جیساکہ وہ بیان کرتے ہیں تو یقینی اعتراض غلط ہے۔ ورنہ صحیح۔ مگر مطبوعہ نسخوں میں یوں ہی ہے تو یہ کہنا کہ یہ تحریف کا تب ہے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس طرح تو ہر ایک اعتراض کو ٹالا جا سکتا ہے۔
(لیکن مجھے مطبع نولکشور ، اردو اکیڈمی سندھ کراچی ودیگر کئی نسخوں میں تو مجھے آفتاب قافیہ کے ساتھ صرف ایک ہی غزل ملی اور اتفاق سے اس میں یہ شعر مذکور نہیں تھا ۔ لیکن مرتضی حسین فاضل کی مرتب کردہ کلیات آتش میں ایک دوسری غزل آفتاب قافیہ کے ساتھ ملتی ہے جس میں یہ شعر بھی مولوی آغا علی کے مطابق ہی درج ہے ۔اور اس غزل کو انہوں نے گزشتہ تین قدیم نسخوں سے حاص کیا ہے جس میں بہت ہی اجمال سے انہوں نے لکھا کئی اشعار میں اختلاف متن کی بات بھی کہی ہے ۔حمزہ)
لیلیٔ محمل
عشق کا صدمہ نہیں اٹھ سکنے کا معشوق سے
پہلے مجنوں سے کرے گی لیلیٔ محمل قضا
اعتراض انسخ: لیلیٔ محمل کی ترکیب مہمل ہے لیلی محمل نہیں کہتے تو شعر درست ہوتا ۔
جواب مولوی آغا علی : دونوں ترکیبوں سے فائدہ تخصیص یکساں حاصل ہوتا ہے۔ اور بحیثیت ترکیب لیلی محمل میں کوئی غلطی نہیں۔
جواب آسی: میرے نزدیک جواب صحیح ہے
بے خویش
نعمت گل ہی نہیں جامہ سے اپنے باہر
کون دیوانہ وہ تیرا ہے جو بے خویش نہیں
اعتراض انسخ:بے خویش کے لفظ سے فصاحت ٹپکتی ہے اور اس قدر ٹپکی کہ شعر خالی ہو گیا۔ بیخود کی جگہ بے خویش نہ دیکھا نہ سنا۔
جواب مولوی آغا علی : اس کی مثالیں ملاحظہ ہوں۔
ع تو بیخویش شو تا بہ خیشت کشند
ع چو بیخویش گشت آنچہ کرد از خدا ست
خسر و شیرین امیر خسرو
بیخویش ز گفتگوی خویشاں
و طعنہ چو زلف خود پریشاں
میر تقی میر
از خویش رفتہ اُس بن رہتا ہے میر اکثر
کرتے ہو بات کس سے وہ آپ میںنہیں ہے
آن خواجہ را در نیم شب بیداری ٔ پیدا شدہ
تا روز بر دیوار ہا بے خویشتن سر میزند
غمزہ ٔبدمذہب
عشوہ وغمزہ بدمذہب ناز و انداز
واسطے تیرے گنہگاروں کے جلاد ہیں سب
اعتراض انسخ : عشوہ اور غمزہ کی صفت میں سلف سے کسی نے آج تک بد مذہب نہیں کہا۔
جواب مولوی آغا علی :غمزہ کی صفت کا فر بد کیش ہزار جگہ اساتذہ کے کلام میں موجود ہے۔ اگر کافراور بدکیش کی جگہ پر بد مذہب لکھا جائے تو کیا قباحت ہے۔ یہ کچھ ضروری نہیں کہ اگر کوئی لفظ اساتذہ قدیم کے استعمال میں نہ آیا ہو تو اسے اساتذہ جدید بھی نہ صرف کریں۔ دیکھنا چاہیے کہ یہ فصیح ہے یاغیر فصیح اور فصحاء کے روز مرہ میں داخل ہے یانہیں۔ بہت سے الفاظ ایسے ہیں کہ جو اساتذہ قدیم کے استعمال میں تھے۔ بہت ایسے بھی ملیں گے جواب داخل نظم و نثر کیے گئے ہیں۔
جواب آسی: میرے خیال میں اگر غمزہ بد مذہب اس لحاظ سے صحیح ہو سکتا ہے کہ اس کی جگہ بدکیش اور کافر لکھا گیا ہے۔ تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ باپ اور دادا کوطال عمرہ یا نورچشم لکھنا جائز نہ ہو۔ اس میں شک نہیں کہ غمزہ کی صفت کا فراور بدکیش کی گئی ہے۔ اور وہ درست ہے۔ مگر ایجاد میں الفاظ کی مناسبت و نامناسبت دیکھنا بہت ضروری ہے۔
خود نامہ بر
قاصد کی طرح قتل جو کرتے تو خوب تھا
ہونا تھا خط شوق کا خود نامہ بر مجھے
اعتراض انسخ: خط کا نامہ بر ہوا یعنی چہ۔ یہ من قبیل شب لیلتہ القدر ہے
جواب مولوی آغا علی : جناب مولوی صاحب خط کا نامہ بر ہوا میں کیا نقص ہے۔ یہ تو آپ کے فرمانے کی بات تھی۔ نامہ بر اسم فاعل ترکیبی۔ عام طور پر بمعنی قاصد مستعمل ہے۔ چنانچہ آپ کے رہنمائے اول میاں جرات فرما گئے ہیں۔
جنھوں کا نامہ پہنچتا ہے اس ستمگرتک
انھیں کا کا شکے(کہ) جرات بھی نامہ بر ہوتا
آپ نے اس ترکیب کو شب لیلتہ القدر کس وجہ سے تصور کیا۔
جواب آسی: معلوم ہوتا ہے کہ مجیب صاحب معترض کے اعتراض کو سمجھے ہی نہیں جس کا منشا یہ ہے کہ قاصد کو وہ قتل کر دیتا ہے اچھا ہوتا کہ میں اپنا خط آپ لے جاتا۔ تاکہ وہ اس قاصد کے بجائے مجھے قتل کردیتا۔ مگر کہتے ہیں کہ خط کا نامہ بر ہونا مجھے چاہیے تھا۔ یہ فقرہ بالکل بے معنی ہے۔ گویا نامہ کوئی شخص ہے جس کے نامہ بر آپ ہوتے ۔ اگر نامہ براسم فاعل ترکیبی ہے۔ تو اسی صورت سے لیلۃ القدر بھی ایک علم ہے۔ اس کے بعد شب لیلتہ القدر کہنے میںکیا تامل ہے۔ اور جب یہ درست ہے تو مغز تخم کدو کے بیج بھی بے ضرر قابل استعمال ہیں۔ خیال میں نہیں آتا کہ یہ فقرہ کیونکر درست ہوگا۔ کہ میں اپنے خط کا نامہ بر ہوں۔
درو د یوار کے گوش
کنج تنہائی میں بھی چلا کے رو سکتا نہیں
لوگ کہتے ہیں در و دیوار کے بھی گوش ہے
اعتراض انسخ: لوگ کہتے ہیں کہ دیوار کے بھی گوش ہے یوں نہیں کہتے کہ ’’درودیوار کے بھی گوش ہے‘‘
جواب مولوی آغا علی : واقعی یہ قول بالکل صحیح ہے۔ اور آتش نے بھی ایسا ہی کہا ہے جیسا لوگ کہتے ہیں شاعر کی خطا نہیں یہ خطا آپ کی ہے۔ کہ آپ شعر کو صحیح نہ پڑھ سکے۔ درو دیوار نہ پڑھے بلکہ ’’ڈرو دیوار کے بھی گوش ہے‘‘ پڑھیے۔
جواب آسی: یہ بالکل ویسا ہی مسئلہ ہے جیسا کہ ایک مرتبہ پہلے لکھا جاچکا کہ اپنی ضرورت کے موافق جہاں جیسا چاہا بتادیا اور غریب کاتب کی غلطی بتادی۔ اگر بالفرض آتش نے یہی کہا تھا تو بھی مہمل ہے۔’’ دیوار گوش دارد فہمیدہ لب بجنباں‘ کا اس سے بدتر ترجمہ کیا ہوگا۔
ابرو
کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میں
کبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں
اعتراض انسخ: اس شعر میں ابرو کا لفظ مضاف الیہ واقع ہوا ہے۔ ایسے حال میں ابرو کے واؤ کا گر جانا ہر گز درست نہیں
جواب مولوی آغا علی : ان باتوں کی پابندی خواجہ اور شیخ کے وقت سے شروع ہوئی۔ متقدمین پابند نہ تھے۔ اساتذہ قدیم کے کلام میں نظائر جا بجا موجودہیں اگر ان کے ابتدائی کلام میں بہ ندرت یہ نقص رہ گیا تو اس فروگزاشت پر غفلت کا احتمال نہیں ہو سکتا۔
جواب آسی: اعتراض صحیح ہے جس کامجیب کو بھی اقرار ہے۔
پنجہ قصاب
دیکھتے ہیں زور اپنے ہاتھ کا وہ آجکل
خون عاشق مل کے پنجہ کرتے ہیں قصاب سے
اعتراض انسخ:پنجہ سے اور قصاب سے کیا نسبت ہے۔ شاید لکھنو میں قصاب لوگ ہی پنجہ کرتے ہیں۔
جواب مولوی آغا علی : پہلے آپ کو اپنے استاد سے اس اعتراض کا جواب لینا چاہئے ۔
دل ہوا خوں دیکھ کر دست حنائی کو ترے
پشت خاراے شوخ پنجہ بن گیا قصاب کا
ان سے پوچھے کہ یہاں پنجہ قصاب کو کیوں تکلیف دی ہے۔ وہی ہمارا بھی جواب ہے
جواب آسی: یہ جواب صحیح نہیں۔ شعر یقینا مہمل ہے۔ جواب میں جو سند اًنساخ کا شعر پیش کیا گیا ہے وہ اس شعر سے بالکل جدا ہے۔ نساخ کے شعر میں صرف ایک تشبیہ ہے۔ برعکس اس کے آتش کا شعر محتاج توجیہ ہے۔ نساخ کے شعر کا مطلب یہ ہے تم نے جو مہندی ملی تو دست حنائی کا پشت خارتک اثر ہوا۔ وہ بھی سرخ ہوکر پنجہ قصاب معلوم ہوتا ہے۔ اور آتش کے یہاں یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کا زور دیکھتے ہیں اور قصائیوں سے پنجہ لڑاتے ہیں۔ نہ معلوم یہ کیوں کہا ہے۔ بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے لہذا معترض کا اعتراض صحیح ہے۔
لامکاں
لامکان یار کو لکھتا ہوں خط شوقیہ
نہیں رہتے ہیں تباہی میں کبوترکس دن
اعتراض انسخ: لامکان یار کی ترکیب درست نہیں۔
جواب مولوی آغا علی :یہ ترکیب درست کیوں نہیں، عدم تصریح سے معلوم ہوتا ہے۔ آپ مصرع اول کی ترکیب سمجھے ہی نہیں ۔
جواب آسی: معلوم ہوتا ہے کہ مجیب صاحب خود اعتراض کا منشاء نہیں سمجھے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف لا مکاں لکھنے سے کام نہیں چلتا۔ بلکہ لامکانی لکھنا چاہیے۔ جیسے خلد مکانی عرش آشیانی وغیرہ بغیر یائے نسبت کے یہ لکھنا غلط اور بے معنی ہے۔
ایمان کلام اقدس :
خوش بیاں لاتے ہیں ایمان کلام اقدس
کلمہ پڑھتے ہیں وہ جوسنتے ہیں جو قرآں تیرا
اعتراض انسخ: ایمان کلام اقدس لانے کی ترکیب نئی ہے۔ اور خلاف محاورہ ہے۔
جواب مولوی آغا علی : کلام مستند محتاج سند نہیں جو لوگ لکھنو کی زبان میں شعر کہتے ہیں ان کے واسطے یہی سندہے۔
جواب آسی: میرے نزدیک اعتراض صحیح ہے۔ جواب صرف خوش عقیدگی کا ایک نمونہ ہے اس سے تو یہی بہتر تھا کہ یہاں بھی کہہ دیتے کہ مصرع یوں تھا ’’ خوش بیاں لاتے ہیں ایمان بہ کلام اقدس‘‘۔ تو پھر کوئی اعتراض باقی نہ رہتا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایمان کلام اقدس لکھنؤ کے کس کوچہ کی زبان ہے جو مجیب نے بے تکلف مذکورہ بالا فقرے کہہ دیے۔
دم ہوا
مردہ تھے دیکھے سے تیرے یار زندہ ہو گئے
جان میں جان آگئی دم میں ہمارے دم ہوا
اعتراض انسخ: دم ہوا بھی کیا خوب۔
جواب مولوی آغا علی : اس کی خوبی میں کیا شک اہل زبان کا کلام ہے غیر کو یہاں محال دم زدن نہیں مصرع میرؔ اپنی آگاہی کے واسطے ملاحظہ کیجئے :
ہوں ہزاروں دم الہی میر کے اک دم کے بیچ
جواب آسی: مجیب سے جو مصرع سندمیں پیش کیا ہے بالکل خلاف محل ہے۔ یہاں دم میں دم آیا ہونا چاہیے۔ میر کا اصل شعریہ ہے:
رونق آبادی ملک سخن ہے اس تلک
ہوں ہزاروں دم الہی میر کے اک دم کے بیچ
معنی یہ ہے کہ اے خدا میرکی عمر میں برکت دے اور آتش کے یہاں محاورہ بالکل دوسرے معنی میں ہے۔ یعنی قرار آیا۔ ہوش آیا وغیرہ۔ لہندااعتراض قائم ہے۔ اور جواب غلط۔
حلق میں ذکر
ہمارے حلق میں دن رات ذکر پاک حضرت ہے
خدانے کی ہے یہ تسبیح خاک پاک سے پیدا
اعتراض انسخ: حلق میں ذکر ہونا یہ کہاں کا محاورہ ہے۔
جواب مولوی آغا علی : جناب یہاں حلق نہیں خلق بر خاکے مجمہ پڑھئے۔
جواب آسی: اگر در اصل حلق ہے تو کوئی جواب کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اور اگر خلق بخائے معجمہ ہے تو بھی معنی کچھ قابل اطمینان نہیں مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ ہماری خلقت یا ہماری فطرت ہی میں ذکر پاک ہے۔ یہ کوئی مضمون نہیں اگر خلق مانا جائے تو بھی یہاں خلقت کا محل ہے۔ دوسرے خدانے یہ تسبیح پیدا کی ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے۔
خوش طالع
دفتر عشق بھی کیا دفتر خوش طالع ہے
نظری فرد نہیں ا س میں کوئی صاد ہیں سب
اعتراض انسخ: دفتر کو خوش طالع کہنا درست نہیں
جواب مولوی آغا علی : مقیمائے فمی (فقرہ) ’’شان تخت فیروز بختش بلند کہ سایہ اش تا بر عرش افتادہ رفعتنش برکرسی نشست ‘‘ملاحظہ کیجیے کہ جب تخت کو فیروز بخت کہنا درست ہے تو دفتر کو خوش طالع کہنا کیوں درست نہیں۔
جواب آسی: میرے نزدیک خوش طالع صرف انسان کی تعریف لکھنا صحیح ہے۔ دفر کو خوش طالع کہنا صحیح نہیں ہے۔ جو مثال سند جواب میں پیش کی گئی ہے۔ اول تو اسکا محل اور مقام صحیح نہیں لکھاگیا۔ دوسرے ہرزبان کی انشا کی بالکل جداصورت نہ بھی ہو تب بھی بہت سی باتیں مختلف ہوتی ہیں۔
خال کوتاہ
زلف خوبان دراز لازم ہے
خال کوتاہ و مختصر ہے خوب
اعتراض انسخ: خال کی صفت کو تاہ درست نہیں۔ کیونکہ کوتاہ ضد دراز ہے۔
جواب مولوی آغا علی: جامہ کوتاہ اور معنی کو تاہ بھی بولتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا قول تحقیق کے خلاف ہے جامۂ کو تاہ کو چراغ ہدایت میں دیکھیے اور معانی کو تاہ کو شعر ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔ سلیم
مرامعانی کوتاہ دلپسند نباشد
چو کر نمی شنوم تا سخن بلند نباشد
جواب آسی: میرے نزدیک جواب سوال سے بالکل جدا ہے۔ جامہ کوتاہ قصہ کوتاہ سخن کوتاہ معانی کوتاہ کا جواز خال کوتاہ جدا ہے اس کو جائز نہیں کر سکتا۔
مشکیںستارہ
پڑی ہے خال رخ یار پر نظر دیکھیں
اثر ہے اپنا یہ مشکیں ستارہ کیا کرنا
اعتراض انسخ: مشکیں ستارہ غلط ہے۔
جواب مولوی آغا علی :اہل بصیرت نے اپنے ہزار ہا ستارے دیکھ ڈالے ۔عبد القادر بیدل :
خال رخش فسانۂ روز تباہ کیست
این سرمگیں ستارہ بخت سیاہ کیست
جواب آسی: اگر چہ مشکیں ستارہ کی مثال پیش نہیں کی جاسکی۔ مگر یہ صحیح ہے۔ میں نے بھی کہیں ضرور دیکھا ہے۔ مگر افسوس کہ شعر یاد نہیں۔
فرعوں
شرط ہے رتبہ ٔمردان خدا کا انصاف
ڈوبا فرعوں وہیں موسی وہیں پایاب اترا
تل کیا بنایا یا ر نے روئے صبیح پر
فرعوں کو تخت عاج کے اوپر بٹھا دیا
اعتراض انسخ: فرعون کے واؤ کے ماقبل اگر عین مضموم ہوتا تو فرعون کو بر وزن فعلن استعمال کرسکتے۔ چونکہ عین مفتوح ہے اس لیے فرعون کو بروزن فعلن لانا جائز نہیں
جواب مولوی آغا علی : فرعون کو بر وزن فعلن ناجائز تصور کرنا عین خطا بلکہ خطاے عین ہے۔ کیونکہ اگر آپ نظر رکھتے ہوتے تو ایسا نہ فرماتے۔ نظیر ملاحظہ کیجئے۔
نظامی
نظامی زارغنون آواز دادہ
ز پردہ سحر فرعوں سازدادہ
جواب آسی: فرعوں کو بے اعلان نون لانا اردو میں کسی طرح اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ اگرچہ اس کی مثالیں اور بھی بہت سی مل سکتی ہیں۔
صفیر بلگرامی : اگر چہ اظہار نون مطابق محاورہ مناسب تھا۔ مگر ضرورت میں ایسی باتوں پر خیال نہیں کیا جاتا جیسے آزردہ دہلوی نے جان کے نون کو ظاہر نہ کیا
اچھا ہوا نکل گئی آہ حزیں کے ساتھ
اک قہر تھی، بلا تھی، قیامت تھی، جاں نہ تھی
تو
ذرے ہماری خاک کے برباد تو رہیں
ہوں گے کبھی تو روزن دیوار کے پسند
اعتراض انسخ: تو کی تکرار بہت خوب۔ اور مصرع ثانی کی تو نے تو ایسے مقام عالی پر جگہ پائی ہے کہ کیا کہنا۔
جواب مولوی آغا علی : افسوس آپ ان دونوں لفظوں کے معنی کا فرق بھی نہیں سمجھ سکتے دیکھیے اسی اختلاف معنی کی وجہ سے جرات نے بھی اس لفظ کو مکر ر صرف کیا ہے۔
کیا کہیے ہمیں تیرے تغافل نے تو مارا
لے اب تو خبر اے بت بیداد ہماری
اہل ذوق شعر خواجہ صاحب میں جو تکرار واقع ہوتی ہے اُسے بہ نسبت شعر جرات کی تکرار کے زیادہ پسند کریں گے۔
جواب آسی: مثال میں جو شعر پیش کیا گیا ہے وہ شعر باوجود تکرار خواجہ آتش کے شعر سے زیادہ فصیح ہے ۔ خواجہ صاحب کے شعر کے مصرع ثانی میں تو نہایت بری جگہ واقع ہوا ہے جس سے سخت مذموم تعقید پیدا ہو گئی ہے۔
مندرجہ بالا اعتراضات و جواب اعتراضات کو یہیں منقطع کیا جاتا ہے۔ (ماقبل کے سارے اعتراضات و جوابات مختلف کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں اس لیے ان کو بعینہ رکھا گیا ہے۔ مآخذ میں مذکورہ کتابوں کی مدد سے اصل متن تک بخوبی پہنچا جاسکتا ہے) ان مثالوں کو دینے کی ضرورت صرف اس لیے تھی کہ اس زمانے میں جب آتش نے اپنی راہ الگ منتخب کی تو پچاس برس بعد بھی الفاظ و تراکیب کے حوالے سے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا ،جبکہ بعد کے محققین نے ان اعتراضات کا بھر پور جواب بھی دیا ۔ اگرچہ بعض اعتراضات کو درست بھی ٹھہرایا گیا ہے ۔
چند الفاظ پر مولانا خواجہ محمد عبد الرؤف عشر ت لکھنوی نے بھی اعتراضات کیے ہیں ان کا بھی ذکر کیا کیا جاتا ہے ۔
اندھیاری
رخ پر اس زلف کے چھٹنے سے ہوا دل کو یقیں
چاندنی سے بڑا مرتبہ ہے اندھیاری کا
ایسے موقع پر اندھیا ری کا استعمال ترک ہوتا جاتا ہے اندھیری صحیح ہے ۔ اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔
اندر
کیا انتظار یار کی حالت بیاں کروں
رہتی ہے جان آنکھوں کے اندر تمام رات
اندر کا استعمال اب ترک ہوگیا ہے اس محل پر(میں ) بولتے ہیں ۔ اندر کا استعمال بعض موقع پر فصیح بھی ہے جیسے عورتوں کی زبان اندر والا نہیں مانتا یعنی دل نہیں مانتا ۔
اندھیاری
بے یار فرش گل میری آنکھوں میں خار تھا
لوٹا کیا میں کانٹوں کے اوپر تمام رات
ایسے موقعوں پر اوپر اب متر وک ہے صرف پر مستعمل ہے
المضاف
زہر پرہیز ہوگیا مجھ کو
درد رماں سے المضاف کیا
المضاف بجائے المضاعف بالکل غلط ہے ، احتراز چاہیے ۔
اندھیاریاں
اے خط اس کے گورے گالوں پر تو نے کیا کیا
چاندنی راتیں یکایک ہوگئیں اندھیاریاں
اندھیاری اندھیاریاں غیر فصیح ہے
اگلانا
ہے یہ امید قوی زلف رسائے یار سے
گنج چھینے مہرے اُگلائے دہان یار سے
اُگلنا مصدر متعدی ہے اس کا متعدی المتعدی (اگلوانا ) صحیح ہے ، اگلانا غیر فصیح اور غیر صحیح ہے
بن
دام میں لاکر کیا جب بن چھری ان سے حلال
باغباں بھی ہوگیا عاشق میرے صیاد کا
ایسے موقعوں پر بے فصیح ہے بن متروک ہے
بازار عشق میں سے
دل دے کے بوسۂ لب لعلیں کیا خرید
بازار عشق میں سے یہ آکر لیا دیا
بغل میں مار کے لے جانا
دل کو بغل میں مار کے لے تو چلے ہیں چوک
کہتی ہے کیا نگاہ خریدار دیکھیے
مار کے لے جانا غیر اور متروک ہے دبا کے لے جانا فصیح ہے
بھاریاں
عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج
بیڑیاں منت کی بھی پہنی تو میں
بھاری کی جمع بھاریاں غیر فصیح اور متروک ہے ، بھاری مستعمل ہے اور وہی جمع کے بھی معنی دیتا ہے۔
برہمن نہ ہو
آتش جو بوسہ لے لے اس کا برا نہ مان
عاشق ہے اے صنم یہ ترا بر ہمن نہ ہو
برہمن نہ ہو خلاف فصحا ہے اس محل پر (برہمن نہیں ) استعمال ہونا چاہیے ۔ (برہمن نہ ہو ایسے موقع پر کہا جاتا ہے جب سامنے سے کوئی کوئی آدمی جنیولگائے اورقشقہ لگائے آرہا ہے کہ دیکھنا کہیں برہمن نہ ہو )
پھلڑا
نوش بے صرفہ کرے خون گنہگاران عشق
پھول سے رنگیں پھلڑا یہ تری شمشیر کا
پھلڑا متروک غیر فصیح ہے (تلوار کا پھل) بولتے ہیں
پسارنا
گلگوں نظر سے اشک خونیں اتارتے ہیں
گلچیں ہمارے آگے دامن پسارتے ہیں
پسارنا متروک ہے فصحا پھیلانا بولتے ہیں
پچھلے پہرے
روانہ ہوتا ہے پہلو سے پچھلے پہرے یار
چراغ صبح سے کرتا ہوں بیشتر خاموش
پہر اسم زمان ہے اس میں ے کا اضافہ بہتر نہیں ہے ۔
پیئے سے
ہوتی ہے دہن میں نشہ کے دونی ہوائے وصل
کیا ہجر میں شراب پیئے ہو غم غلط
پینے سے کہنا چاہیے
حورا
غم نہیں کوئے بتاں میںجو نہیں جا خالی
باغ فردوس میں ہے پہلوئے حورا غلط
حور کی جمع غیر فصیح مستحسن الترک ، حور مستعمل ہے
صفا
صفا ہوا نہ ریاضت سے نفس امارہ
کوئی نجاست سگ کا ازالہ کیا کرتا ہے
صاف صاف کے معنی میں اب استعمال نہیں کیا جاتا ہے ۔
کفارہ
رنگ زرد لب خشک و مژہ خود آلود
کشتۂ عشق ہیں ہم یہ ہے کفارا اپنا
کفارہ بہ تشدید صحیح ہے ۔( کفارا الف سے ہے اور ایسا بہت ہوتا ہے ، تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا قافیہ میں تجنیس تام لاز ہے خواہ اس کے لیے حروف اصلی کی پرواہ نہ کی جائے)
کٹانا
کسی خوشی سے دوڑ کر عاشق کٹاتے ہیں گلا
نقش ِ حب اے ترک جوہر ہے تری شمشیر کا
کٹاتے ہیں غیر فصیح کٹواتے ہیں صحیح کیونکہ اس کا متعدی المتعدی کٹوانا ہے کٹانا نہیں
میاں
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا چھیڑ کر جو کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈھتے پھرتے ہوکیا جاتا رہا
میاں متروک ہے
مطالع
لگے ہیں سرگزشت دل کے مضموں سر بسر اس میں
تماشا قتل گہ کا ہے مطالع میرے دیوان کا
مطالعہ درست ہے ۔
نہورانا
تواضع دشمن جاں کی زیادہ قتل کرتی ہے
خم شمشیر معشوقوں کا نہورانا ہے گردن کا
نہورانا متروک ہے جھکا نا صحیح ہے
نہ ہووے
حیف کی جاں ہے نہ ہووے نرم چرب اس کی زباں
پرورش پایا ہوا یہ آدمی ہے شیر کا
نہ ہووے مترو ک ہے نہ ہو مستعمل ہے
نے
مژگانِ یار تیر ہیں ابرو کمان ہے
نے اس کماں کا مثل نہ اس تیرکا جواب
نے متر وک ہے نہ مستعمل ہے
وصلت
فراق انجام کار آغاز وصلت میں بلا شک ہے
بہت رویا میں روح تن کو جب مشتاق پایا
وصلت میں تا زائد ہے اس لیے بعض فصحا نے ترک کردیا صرف وصل باندھتے ہیں
یاں
وہ حد کم ظرف ہیں جو ایک ساغر میں بہکتے ہیں
نہیں قطرہ بھی یاں ہنگام نوشانوش میں دریا
یاں نزد فصحائے لکھنو متروک اور غیر فصیح ہے لیکن فصحائے دہلی جائز رکھتے ہیں ۔‘‘
اتفاق سے ان میں سے بہت سے الفاظ اب بھی شعری زبان میں مستعمل ہیں ۔ان الفاظ میں آخر سوالات قائم کیوں ہورہے ہیں؟ کوئی تو وجہ رہی ہوگی ان وجوہات کی تلاش میں ضرور جائیں گے ، اسی پیش رفت میں جب آگے بڑھا تو علامہ شو ق نیموی کی کتاب اصلاح مع ایضاح میں نظر پڑی تو وہاں بھی مجھے آتش کے چند الفاظ پر اعتراضات ملے جن میںسے ایک کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
انکھڑیاں
اون انکھڑیوں میں اگر نشہ شراب آیا
سلام جھک کے کروںگا اگر حجاب آیا
لیکن جوش نے بھی آنکھ کے معنی میںہی اسی لفظ کوکچھ اس طرح استعمال کیا ہے ۔
کیوں فلک مجبور ہوں آنسو بہانے کے لیے
انکھڑیاں ہوں جو دلوں میں ڈوب جانے کیلئے
اور آتش سے ماقبل میر کا شعر بھی ملاحظہ فرمائیں
سو اب موج دریا کو ہے پیچ و تاب
پھرے تھیں جو وے انکھڑیا ں آب میں
ان کے علاوہ اور بھی کئی شعرا نے اس لفظ کو آنکھ کے معنی میں استعمال کیا ہے ۔
اب اگر جمیل جالبی کے یہاں نظر ڈالیں تو ان کے یہاں معاملہ بر عکس نظر آتا ہے ۔ اب تک جتنی چیزیں خلاف محاورہ تھیں وہ ساری چیزیں اردو کی خوبصورتی میں داخل ہوجاتی ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’آتش کی ان تراکیب کے مزاج میں اردو پن شامل ہے۔ ان میں وہ گہری فارسیت نہیں ہے جو غالب کی تراکیب میں ملتی ہے اور نہ وہ بھاری پن ہے جو تاریخ کی تراکیب میں ملتا ہے۔ یہ تراکیب شعر میں روانی و برجستگی پیدا کرتی ہیں اور معنی و مفہوم کو جامعیت کے ساتھ بیان کرنے کی قوت دیتی ہیں۔ یہ تراکیب اردو زبان کے مزاج سے قریب تر ہیں۔‘‘
(تاریخ ادب اردو ، جمیل جالبی ، مجلس ترقی ادب لاہور، 2008 ،ص :742)
آتش کے متر وکات کے حوالے سے وہ آگے لکھتے ہیں :
’’آتش نے وہ قدیم الفاظ بھی استعمال کیے جو ناسخ اور ان کے شاگردوں نے ترک کر دیے تھے اور وہ ہندی الاصل الفاظ جو عام و خاص کی زبان پر جاری اور اردو زبان کا حصہ تھے ‘‘
(تاریخ ادب اردو ، جمیل جالبی ، مجلس ترقی ادب لاہور، 2008 ،ص :742)
اس کے بعد مثال کے طور پر مندر جہ ذیل الفاظ مع مصرعے رقم کرتے ہیں ، یہاں پر میں صرف الفاظ ہی رقم کررہا ہوں :
مو، کرنچی، پر چھا کرنا، نہوڑانا، جٹی، جھنگوانا، واں، یاں، گھونٹ گھونٹنا، پتانا، چھکے اڑنا، کھٹکا، چٹکا، ٹھڈی، پنھانا، ٹٹ پونجیے، ساکھ ڈھاک، ٹٹی۔ اوٹ، کلگی (کلغی)، ڈاب، بھتنے،سوج، نیوتا، پرچھانواں، مِسی، دھڑی، لکھوٹا، دھکدکی،نیارے،گٹھا، تریا، چتر، چکھی، پچنا، گاتی، گدڑی، ٹھیکرے، پر چھتی، ڈھئی،بکھیڑیے،چھلا وا،مرمٹوں وغیرہ
ان ہی الفاظ پر ماقبل میں آپ کو اعتراضات سننے کو ملے تھے ، لیکن جس طریقے سے زمانہ آگے بڑھتا ہے اور زبان میں وسعت آتی ہے پھر ایک دانشور اس میں اپنی کیارائے دیتا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ جمیل جالبی لکھتے ہیں :
’’ان مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آتش اپنی زبان ِشاعری کا رشتہ عام بول چال کی زندہ زبان سے برقرار رکھتے ہیں اور وہ ان الفاظ کو اپنی غزل میں اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ اس سے نہ صرف تاریخ کے طرزسے برقرار جدید کی نفی ہوتی ہے بلکہ ایک نیار جحان بھی سامنے آتا ہے۔ ناسخ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد، جن میں علی اوسط رشک اور خواجہ وزیر وغیرہ شامل ہیں، آتش کی طرح ٹکسالی اور بول چال کی زبان کے الفاظ اپنی شاعری میں پھر سے استعمال کرنے لگتے ہیں جس سے شاعری میں اردو پن پیدا ہو جاتا ہے اور فارسیت کا غلبہ ختم ہونے لگتا ہے۔‘‘
(تاریخ ادب اردو ، جمیل جالبی ، مجلس ترقی ادب لاہور، 2008 ،ص :743)
آتش کے حوالے سے کئی ناقدین نے متروکات لفظ کا استعمال کیا ہے ۔ آخر متروکات کس چیز کا نام ہے ، اس کا اطلاق کن الفاظ پر ہوتا ہے ۔ اب تک مذکور تمام الفاظ میں جو اَعلام ہیں کیا وہ متروکات ہوسکتے ہیں ؟ صفات کی جو کیفیات استعمال کی گئی ہے کیا وہ متروکات ہیں ؟ یا وہ تراکیب جوآتش کی غزلوں میں مستعمل ہیں اور اتفاق سے وہ خلاف محاورہ واقع ہوئے ہیں تو وہ متروکا ت ہیں؟ اس کے لیے مدلل کتب کی تلاش میں لگا تو سب سے پہلے بر جموہن دتاتریہ کیفی کی کتاب ’’منشورات ‘‘ ملی جس میں ایک طویل مضمون متروکات کے حوالے سے ہے ۔ اس کے بعد نوراللغات کا مقدمہ ، پھر باضابطہ ’’ لغت متروکات ِزبان اردو ‘‘ کراچی یونی ورسٹی کی ملی جس میں انہوں نے بہت ہی طویل تجزیہ پیش بھی پیش کیا ہے ۔ وہاں اتفاق سے ایک ذیلی سرخی ملی ’’نوراللغات کے وہ متروک الفاظ جو آج بھی مستعمل ہیں‘‘ اتفاق سے وہیں پر وہ الفاظ بھی ملے جنہیں آتش نے استعمال کیا ہے ،جیسے اندھیاری ، اندر ، انکھڑیاں ،دھرنا ، سندیسہ ، صفاوغیر ہ ۔ تب مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ناقدین کے یہاں آتش کے حوالے سے متروکات کی روایت یہاں سے ملتی ہے ۔یعنی صاحب نوراللغات نے آتش کے حوالے سے یہ نظریہ قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔
خیر متروک الفاظ کا معاملہ آسان نہیں ہے پرانے لفظ وہی متروک ہوتے اور مر جاتے ہیںجن کا تعلق اعلام سے ہوتا ہے اور نئے لفظ نئے اعلام کے ساتھ داخل ہوتے جاتے ہیں۔ کوئی بھی لفظ اچانک نہیں مرتا ہے بلکہ نسلاً بعد نسلٍ وہ سفر کرتا ہے۔ اگر دادا کے زمانہ سے کوئی لفظ متروک ہورہا ہے تو پوتے تک پہنچتے پہنچتے وہ خارج از استعمال قرار پاتا ہے ۔ اور جو لفظ ہم استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بھی متروک نہیں ہوسکتے ہیں ۔ متروکات کے سلسلے میں ’’لغت متروکات زبان اردو ‘‘ میں ایک بہت ہی دلچسپ جملہ پڑھنے کو ملا ، آپ کی خدمت میں بھی پیش ہے:
’’الفاظ متروک اور معدوم نہیں ہوتے، جس طرح توانائی کبھی ضائع نہیں ہوتی وہ اپنا رنگ، روپ اور شکل تبدیل کر لیتی ہے اسی طرح لفظ بہروپ بھر لیتے ہیں پھر حالات بدلتے ہی نقاب الٹ کر اپنا چہرہ دکھا دیتے ہیں۔ الفاظ ققنس کی طرح اپنی خاکستر سے دوبارہ جی اٹھتے ہیں ان کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے، موت عجیب الشان اور حیات نو نہایت عجیب تر۔‘‘
آتش کے حوالے سے یہی بات اس مضمون کے حوالے سے کہی جاسکتی ہے کہ آتش تعصب کا شکار ہوگئے ، جب کہ آتش نے فکری، موضوعاتی ، لفظی و اسلوبیاتی سطح پر نئی طرح ڈالی ہے ۔
مآخذ و مراجع
1 اصلاح زبان اردو ، عشرت لکھنوی ، نول کشور پریس لکھنؤ۔ 1919
2 مقدمہ کلام آتش ، خلیل الرحمن اعظمی ، انجمن ترقی اردو علی گڑھ ، 1959
3 منشورات ، برج موہن دتاتریہ کیفی ، انجمن ترقی اردو دہلی،1968
4 بہار ہند ، محمد مرتضی عاشق (مچھوبیگ )لکھنوی
5 کلیات آتش ، اردو اکیڈمی سندھ کراچی ، 1963
6 تذکرہ جلوہ خضر ، صفیر بلگرامی، صفیر بلگرامی اکاڈمی ، کراچی ،2011
7 اصلاح مع ایضاح ، شوق نیموی ، اتر پردیش اردو اکادمی ، لکھنؤ، 1982
8 قواعد المنتخب ، جلال لکھنوی ، مناظر پریس لکھنؤ، 1304ھ